03/03/2026
بلوچستان واحد خطہ جہاں حکمرانوں کی جانب سے نظر انداز لیکن یہاں ہر شعبے میں بے شمار ٹیلنٹٹ موجودہ اگر چہ سرکاری سرفہرستی نہ ہونے کی برابر بلوچستان کے سرزمین سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر ڈاکٹر شیرآفگن رئیسانی نے وہ کارنامہ سرانجام دیا ہے جو کسی کی ذئین میں نہیں تھا وفاقی حکومت اس بارے مجبور ہوکر ان کی تعریف کی جبکہ عوامی حلقوں نے خوش آئند قرار دیا ہے ڈاکٹر شوافگن ریسانی جو کہ بلوچستان ٹی بی پروگرام کے سربراہ یعنی پروجیکٹ کواورڈینیٹر ہے۔نے بہت کم عرصہ میں انقلابی اقدامات لائے۔
1۔بلوچستان میں پہلی مرتبہ تمام ڈسٹرکٹ کے جیلوں میں قید ، قیدیوں کا ٹیسٹ 32 خطرناک بیماریوں کے لیے ٹیسٹ کیا گیا۔جو قیدی کسی خطرناک مرض میں مبطلا تھا اسکا مکمل تسلی بخش علاج کروایا۔
2۔ ٹی بی کی تشخیض جو کہ پھلے 38 فیصد کے لحاظ سے تھا۔مطلب 100 میں سے سینٹر کی کمی اور ٹیسٹ مشینوں کی کمی کی وجہ سے ھم 38 مریضوں کو ڈھونڈ پھاتے۔اب الحمدواللہ 48 فیصد تک بہت کم عرصے تک پہنچ گیے
جو پاکستان لیول پہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں بہت تیزرفتار بہتری پائی گئی۔
3۔مزاحمتی ٹی بی جو کہ ٹی بی کے اول لائن ادویات کو رس پانس نہیں دیتا مطلب وہ ٹی بی کے اول لائن کے ادوایات سے ٹھیک نہیں ھوتا۔پھر انہے سخت اینٹی بائوٹک زیادہ عرصے یعنی"تقریباً دو سال کے لیے دی جاتی ھے۔اس ٹی بی کو MDR یا XDR ٹی بی کہتے ہے میڈیکل کی اسطلاح میں۔ اس خطرنک ٹی بی سے اموات بہت زیادہ ھوتی تھی اور یہ پیھلتا بھی تیزی سے تھا۔کیونکہ اس کی ادوایات مخصوص سینٹر میں پائی جاتی تھی۔اور سینٹر بلوچستان کی سطح پہ دو تھے ۔مریض مخصوص سینٹر تک پہنچ نہیں پاتا۔ اس سے مر یض کے آس پاس کے لوگ بھی متاسر ہوتے۔مریض بھی زندگی کی بازی ہار جاتا اور دیگر افراد بھی اس معووزی مرض میں مبتلا ہو جاتے۔ الحمدواللہ داکٹر شیرآفگن کی خصوصی دن رات کی محنت اور سیکرٹری صحت مجیب پانیزی اوع وزیر صحت بخت کاکڑ کے وژن کے مطابق بہت ایک سال کےبہت قلیل عرصہ میں اس مزاہمتی ٹی بی XDR اور MDR کے مزید 16 سینٹر قائم ہو چکے ھے۔جس سے اس خطرناک ٹی بی کی اموات کی شرح اور اسکے پھیلنے کی شرح میں انتہائی زیادہ کمی آئی ھے۔