Balochistan24

Directions Website Contact the business

Balochistan24 Balochistan’s Premier Multimedia Web TV
A Voice for the People of Balochistan
Sharing News, Stories, and Perspectives. www.balochistan24.com
(19)

نوابوں اور سرداروں کے خلاف تقریر پر مولانا کی علی مدد جتک کو شاباشی، ماتھا چومنے کی تصویر وائرل
17/10/2026

نوابوں اور سرداروں کے خلاف تقریر پر مولانا کی علی مدد جتک کو شاباشی، ماتھا چومنے کی تصویر وائرل

مند میں غریب ڈرائیور کی پک اپ نذرِ آتش، خاندان کے روزگار کو نقصان پر رکن اسمبلی کا اظہارِ افسوسرپورٹ | بلوچستان 24 کوئٹہ...
17/10/2026

مند میں غریب ڈرائیور کی پک اپ نذرِ آتش، خاندان کے روزگار کو نقصان پر رکن اسمبلی کا اظہارِ افسوس

رپورٹ | بلوچستان 24

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کی ایک خاتون رکن نے مند سے تربت کے درمیان سامان کی ترسیل کرنے والے غریب ڈرائیوروں کی گاڑیاں جلانے کے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات محنت کش خاندانوں کے روزگار اور معاشی تحفظ کو متاثر کر رہے ہیں۔

اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مند کے علاقے تھمک سے تربت تک سامان پہنچانے والے متعدد غریب افراد پک اپ گاڑیوں کے ذریعے روزگار کماتے ہیں۔ یہ ڈرائیور مند بارڈر سے اشیائے خوردونوش اور دیگر سامان تربت پہنچاتے ہیں اور ملنے والے کرائے سے اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کرتے ہیں۔

خاتون رکن اسمبلی نے ایک بزرگ ڈرائیور کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق اس کی پک اپ گاڑی کو مبینہ طور پر آگ لگا دی گئی، جس سے گاڑی اور اس میں موجود سامان جل گیا۔ ان کے مطابق متاثرہ ڈرائیور کی چار بیٹیاں ہیں اور وہ خود گاڑی چلا کر اپنے خاندان کا پیٹ پالتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرنے والے غریب شہریوں کا کیا قصور ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ کسی محنت کش کی گاڑی کو نقصان پہنچانا صرف ایک شخص کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کے پورے خاندان کو معاشی مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔

رکن اسمبلی نے نہتے شہریوں، ان کی گاڑیوں اور روزگار کو نشانہ بنانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کسی بھی جدوجہد کا قابلِ دفاع عمل نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے بلوچ عوام پر زور دیا کہ وہ ان واقعات کا جائزہ لیں اور محنت کش خاندانوں کے تحفظ کے لیے آواز اٹھائیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے مسلح عناصر سے ہتھیار ڈالنے اور ریاست پاکستان کے سامنے سرنڈر کرنے کا مطالبہ کیا۔

گاڑی جلانے کے واقعے، حملہ آوروں کی شناخت اور دیگر تفصیلات کی آزادانہ تصدیق تاحال ضروری ہے۔

خضدار کے قریب 5.9 شدت کا زلزلہ، بلوچستان لرز اٹھارپورٹ |  بلوچستان 24بلوچستان کے ضلع خضدار کے قریب ہفتہ 17 اکتوبر کو صبح...
17/10/2026

خضدار کے قریب 5.9 شدت کا زلزلہ، بلوچستان لرز اٹھا

رپورٹ | بلوچستان 24

بلوچستان کے ضلع خضدار کے قریب ہفتہ 17 اکتوبر کو صبح 10 بج کر 7 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلے کی شدت 5.9 اور گہرائی 25 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔

زلزلے کا مرکز خضدار سے 48 کلومیٹر شمال مغرب میں تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق تاحال جانی و مالی نقصان کی مصدقہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

پشتونوں کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا؟ محمود اچکزئی کا سوالرپورٹ | بلوچستان 24قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے باڑہ می...
17/10/2026

پشتونوں کو قربانی کا بکرا کیوں بنایا؟ محمود اچکزئی کا سوال

رپورٹ | بلوچستان 24

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے باڑہ میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کے پھیلاؤ، افغانستان میں روسی مداخلت اور پشتون علاقوں میں فوجی کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کیا۔

محمود خان اچکزئی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد دنیا بھر سے جنگجوؤں کو پاکستان لایا گیا، انہیں تربیت دی گئی اور اسلحہ و وسائل فراہم کیے گئے۔ ان کے مطابق اس صورتحال کا ذمہ دار پشتون عوام کو قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان کے بقول اس جنگ میں پشتونوں نے بھی بھاری جانی نقصان اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ خطے میں جاری بدامنی کا خاتمہ ہو اور امن قائم کیا جائے۔ خطاب کے دوران انہوں نے خیبر، چارسدہ اور باڑہ سمیت مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں پر بھی تنقید کی۔

محمود خان اچکزئی نے پشتون علاقوں کے وسائل اور زمینوں کے حوالے سے کہا کہ مقامی آبادی اپنے وطن اور وسائل پر زبردستی قبضہ قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے پانی، پتھر اور دیگر قدرتی وسائل پر مقامی لوگوں کے حق پر زور دیا۔

ان کے اس خطاب میں دہشت گردی کے پس منظر، پشتون عوام کی مشکلات اور علاقے کے وسائل پر اختیار جیسے اہم سیاسی و سکیورٹی معاملات زیرِ بحث آئے۔ ان کے الزامات پر متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنا بھی ضروری ہے۔

جہانزیب مینگل کی کالعدم تنظیموں کو للکار مانیٹرینگ ڈیسک ’’لڑنے کا شوق ہے تو جگہ، میدان اور وقت بتائیں، مینگل کمزور ہیں، ...
17/10/2026

جہانزیب مینگل کی کالعدم تنظیموں کو للکار

مانیٹرینگ ڈیسک

’’لڑنے کا شوق ہے تو جگہ، میدان اور وقت بتائیں، مینگل کمزور ہیں، بے غیرت نہیں‘‘

رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل کا اسمبلی فلور پر دوٹوک مؤقف، وزیراعلیٰ سے گھر پر حملے کے معاملے کا نوٹس لینے کا مطالبہ

کوئٹہ: رکن بلوچستان اسمبلی میر جہانزیب مینگل نے اسمبلی کے فلور پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آزادی پسند ہونے کے نعرے لگانے والوں کو لڑنے کا اتنا ہی شوق ہے تو وہ اپنی جگہ، میدان اور وقت بتائیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’اگر مینگل پیچھے ہٹ جائیں تو آپ کہیے گا، ہم کمزور ہیں، بے غیرت نہیں ہیں۔‘‘

میر جہانزیب مینگل نے اپنے خطاب میں اپنے گھر میں والدہ اور بہنوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سے معاملے کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر اور خاندان کی تاریخ قربانیوں سے وابستہ ہے اور وہ اس معاملے پر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

رکن بلوچستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ میر لونگ خان کی قربانیاں ان کے لیے اہمیت رکھتی ہیں اور وہ ان قربانیوں کی روایت کو آگے بڑھائیں گے۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں اور ضروری اقدامات کریں۔

میر جہانزیب مینگل کے اس خطاب میں اپنے خاندان کے تحفظ، عزت اور تاریخی قربانیوں کا حوالہ نمایاں رہا۔ تاہم، گھر سے متعلق واقعے کی مکمل تفصیلات اور اس پر حکومتی مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

بلوچستان میں ظلم کی انتہا: جب غریب اپنے گھر بچانے کے لیے قرآن اٹھا کر سڑک پر نکل آئےتحریر: عابد علی عابدبلوچستان میں غری...
16/10/2026

بلوچستان میں ظلم کی انتہا: جب غریب اپنے گھر بچانے کے لیے قرآن اٹھا کر سڑک پر نکل آئے

تحریر: عابد علی عابد

بلوچستان میں غریب آدمی کی زندگی آخر کتنی سستی ہے؟ کیا اس کی زمین، اس کا گھر، اس کی عزت اور اس کے بچوں کا مستقبل کسی طاقتور شخص کی مرضی کے تابع ہے؟ کیا اس دھرتی پر انصاف صرف ان لوگوں کے لیے رہ گیا ہے جن کے پاس دولت، اثرورسوخ اور طاقت ہے؟ اوستہ محمد کے قریب گوٹھ نبی بخش ناوڑہ سے سامنے آنے والی احتجاج کی خبر ایسے ہی کئی تلخ سوالات کو جنم دیتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کیٹل فارم کے علاقے میں واقع گوٹھ نبی بخش ناوڑہ کے رہائشی ایک مقامی ٹھیکیدار کی جانب سے مبینہ طور پر بے دخلی کی کوششوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج میں مردوں کے ساتھ خواتین اور چھوٹے بچے بھی شریک تھے۔ مظاہرین کے ہاتھوں میں قرآن پاک تھا اور ان کی زبان پر انصاف کی فریاد۔ یہ منظر محض ایک احتجاج کی تصویر نہیں، بلکہ ان لوگوں کی بے بسی کی علامت ہے جو اپنے گھروں اور زمینوں کے تحفظ کے لیے حکام کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سوچیے، ایک خاندان جس نے نسلوں سے کسی گوٹھ میں زندگی گزاری ہو، جس کے بچوں نے اسی مٹی میں آنکھ کھولی ہو، جس کی روزی روٹی کھیتوں سے وابستہ ہو، جب اسے اپنے گھر سے محروم ہونے کا خوف لاحق ہو تو اس پر کیا گزرتی ہوگی؟ گھر صرف اینٹوں اور مٹی سے بنی چار دیواری کا نام نہیں۔ گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان کے خواب، یادیں، رشتے اور زندگی کی امیدیں آباد ہوتی ہیں۔ زمین صرف ملکیت نہیں، بہت سے دیہی خاندانوں کے لیے یہی ان کی روزی، ان کی پہچان اور ان کے بچوں کے مستقبل کا واحد سہارا ہوتی ہے۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ انہیں طاقت کے بل بوتے پر ان کے آبائی گوٹھ اور زرعی زمینوں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گھروں اور زمینوں کے تحفظ کے لیے دربدر ہیں۔ یہ الزامات سنگین ہیں اور ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ متعلقہ ٹھیکیدار کا مؤقف بھی سامنے آنا ضروری ہے، لیکن ایک بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے: اگر زمین یا ملکیت کا کوئی تنازع ہے تو اسے قانون کے مطابق حل کرنے کے بجائے لوگوں میں بے دخلی کا خوف کیوں پیدا ہو رہا ہے؟

بلوچستان میں سرداری، نوابی اور بااثر طبقوں کی طاقت پر بحث نئی نہیں۔ صوبے کے مختلف علاقوں میں عام شہری اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کی آواز بااثر افراد کے مقابلے میں کمزور پڑ جاتی ہے۔ تاہم یہ مسئلہ صرف کسی ایک سردار، نواب یا ٹھیکیدار تک محدود نہیں۔ اصل مسئلہ وہ طرزِ عمل ہے جس میں کسی شخص کا اثرورسوخ اسے قانون سے بالاتر سمجھنے کا حوصلہ دے، یا کمزور شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ انصاف حاصل کرنے کے لیے اسے بھی کسی طاقتور سہارے کی ضرورت ہے۔

سردار اور نواب ہونا بذاتِ خود کسی کو ظالم نہیں بناتا، جس طرح کسی عہدے یا دولت کا مالک ہونا کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔ کسی بھی بااثر شخص کی اصل ذمہ داری یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے علاقے کے لوگوں کے حقوق، جان و مال اور عزت کے تحفظ میں کردار ادا کرے۔ اگر کسی بااثر فرد یا ٹھیکیدار پر شہریوں کو زبردستی بے دخل کرنے کا الزام لگتا ہے تو اس کا فیصلہ تعلقات، دھمکیوں یا سیاسی اثرورسوخ سے نہیں، شواہد اور قانون کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ احتجاج میں خواتین اور بچے بھی شریک ہوئے۔ بچے کسی زمین کے قانونی کاغذات نہیں سمجھتے، نہ وہ ملکیت کے پیچیدہ تنازعات جانتے ہیں۔ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ ان کا گھر ان کی محفوظ دنیا ہے۔ جب وہ اسی گھر کو بچانے کے لیے سڑک پر کھڑے ہوں تو یہ ریاستی انتظامیہ کے لیے سنجیدہ توجہ کا معاملہ بن جاتا ہے۔ کسی بھی تنازع میں خواتین اور بچوں کو خوف، دباؤ اور عدم تحفظ سے بچانا حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔

مظاہرین نے وزیراعلیٰ بلوچستان، آئی جی پولیس اور ڈپٹی کمشنر جعفرآباد سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ یہ اپیل محض ایک سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کی جانی چاہیے۔ انتظامیہ کو موقع پر حقائق معلوم کرنے، زمین کی ملکیت اور متعلقہ قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے، فریقین کے بیانات سننے اور کسی بھی غیر قانونی بے دخلی یا دھمکی کے الزام کی تحقیقات کرنی چاہییں۔ اگر کسی فریق کے پاس قانونی دعویٰ ہے تو اسے متعلقہ قانونی فورم پر ثابت کرنا ہوگا۔ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا ہے تو اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔

ریاست کی ذمہ داری صرف یہ نہیں کہ وہ کسی بڑے تنازع کے بعد امن و امان بحال کرے؛ اس کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ کمزور شہری کو پہلے ہی یہ یقین دلائے کہ اس کے گھر اور زمین کے تحفظ کے لیے قانون موجود ہے۔ اگر کسی خاندان کو انصاف مانگنے کے لیے قرآن پاک اٹھا کر سڑک پر آنا پڑے تو حکام کو اس فریاد کی وجوہات سنجیدگی سے دیکھنی چاہییں۔ مذہبی تقدس اپنی جگہ، مگر شہریوں کو بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاج کی نوبت آنے سے پہلے ہی مؤثر قانونی راستہ میسر ہونا چاہیے۔

یہ بھی ضروری ہے کہ معاملے کو جذباتی نعروں یا کسی پورے طبقے کے خلاف نفرت میں تبدیل نہ کیا جائے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ نہ مظاہرین کی شکایات کو سنے بغیر رد کیا جائے اور نہ کسی پر لگائے گئے الزام کو تحقیقات سے پہلے حتمی حقیقت قرار دیا جائے۔ لیکن غیر جانب داری کا مطلب خاموشی بھی نہیں۔ جب شہری اپنے گھر اور روزگار کے تحفظ کے لیے دہائی دے رہے ہوں تو انتظامیہ کی خاموشی ان کے عدم تحفظ کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

بلوچستان کے دیہی علاقوں میں زمین محض معاشی اثاثہ نہیں، بلکہ زندگی کا مرکز ہے۔ زمین چھننے کا مطلب بہت سے خاندانوں کے لیے روزگار، رہائش اور سماجی تحفظ کا ایک ساتھ خطرے میں پڑ جانا ہے۔ اسی لیے زمین سے متعلق تنازعات کو معمولی معاملہ سمجھ کر مؤخر کرنا درست نہیں۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، بروقت قانونی کارروائی اور شہریوں کے تحفظ کو ترجیح دی جانی چاہیے۔

گوٹھ نبی بخش ناوڑہ کے رہائشیوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کی شکایات کا ازالہ نہ ہوا تو وہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے قومی شاہراہ بند کرنے پر مجبور ہوں گے۔ قومی شاہراہ کی بندش سے عام شہریوں اور کاروبار کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں، اس لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ انتظامیہ فوری مداخلت کرے اور معاملے کو اس مرحلے تک پہنچنے سے پہلے حل کرنے کی کوشش کرے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان اور ضلعی انتظامیہ کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ثابت کریں کہ صوبے میں قانون کی حکمرانی محض ایک نعرہ نہیں۔ اگر مظاہرین کے الزامات درست ہیں تو انہیں تحفظ اور انصاف ملنا چاہیے؛ اگر معاملے میں ملکیت یا معاہدے کا قانونی تنازع ہے تو اس کا فیصلہ شفاف طریقے سے ہونا چاہیے۔ کسی بھی صورت میں طاقت، دباؤ یا خوف کو قانون کا متبادل نہیں بننے دینا چاہیے۔

**بلوچستان کے غریب عوام کو خیرات نہیں، اپنے حقوق کا تحفظ چاہیے۔ انہیں کسی سردار، نواب یا ٹھیکیدار کی مہربانی نہیں، ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔** ریاست کی اصل طاقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کمزور شہری کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، نہ کہ صرف طاقتور کی آواز سنتی ہے۔

گوٹھ نبی بخش ناوڑہ کے لوگوں کی فریاد کا جواب صرف ایک بیان یا وقتی یقین دہانی نہیں ہونا چاہیے۔ انہیں اپنے گھروں، زمینوں اور روزگار کے بارے میں واضح قانونی تحفظ اور انصاف ملنا چاہیے۔ کیونکہ جس معاشرے میں غریب کو اپنا گھر بچانے کے لیے سڑک پر آنا پڑے، وہاں سوال صرف ایک گوٹھ کا نہیں رہتا؛ سوال پورے نظامِ انصاف کا بن جاتا ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں نامعلوم مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت ایکسیویٹر مشین کی مدد س...
16/10/2026

بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے گلستان میں نامعلوم مسلح افراد نے پنکئی پولیس چوکی کی عمارت ایکسیویٹر مشین کی مدد سے مسمار کر دی۔

ذرائع کے مطابق تقریباً چار کمروں پر مشتمل پولیس چوکی کی عمارت کا کچھ حصہ گزشتہ روز مسلح افراد نے گرایا تھا، تاہم ایکسیویٹر مشین میں تیل ختم ہونے کے باعث عمارت کو مکمل طور پر مسمار نہیں کیا جا سکا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد آج دوبارہ موقع پر پہنچے اور عمارت کا باقی ماندہ حصہ بھی گرا دیا۔

واقعے کی تاحال سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ حکام کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔

بلوچستان میں 20 پولیس اہلکاروں کا اغوا، سکیورٹی صورتحال پر سوالاترپورٹ: بلوچستان 24 بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم م...
16/10/2026

بلوچستان میں 20 پولیس اہلکاروں کا اغوا، سکیورٹی صورتحال پر سوالات

رپورٹ: بلوچستان 24

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے ایک مسافر وین روک کر 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کیے جانے کا واقعہ پیش آیا ہے۔ واقعے نے صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی انتظامات سے متعلق سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق اغوا کیے گئے اہلکار قلات کے ریکروٹ ٹریننگ سینٹر میں زیرِ تربیت تھے اور ہفتہ وار چھٹی پر اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔ اسی دوران مسلح افراد نے مستونگ کی حدود میں گورگینہ کے مقام پر لنک روڈ پر ان کی مسافر وین کو روک لیا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔

بلوچستان پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اردو نیوز کو بتایا کہ واقعہ جمعے کے روز پیش آیا۔ مذکورہ لنک روڈ قلات اور مستونگ کو نوشکی سے ملاتی ہے اور مختلف علاقوں کے درمیان آمدورفت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کا اس طرح اغوا ہونا سکیورٹی اداروں کے لیے ایک اہم چیلنج ہے۔ واقعے کے حوالے سے اہم سوال یہ ہے کہ مسلح افراد نے اہلکاروں کو کس طرح روکا، انہیں کس سمت لے جایا گیا اور ان کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال پہلے ہی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داریوں کو بڑھاتے ہیں بلکہ عام شہریوں میں بھی تحفظ سے متعلق خدشات پیدا کرتے ہیں۔

تاہم، فراہم کردہ معلومات میں تاحال مغوی اہلکاروں کی بازیابی، اغوا کاروں کی شناخت یا واقعے کے بعد شروع کیے گئے کسی سرچ آپریشن کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ان پہلوؤں پر سرکاری مؤقف اور مزید معلومات کا انتظار ہے۔سخت ہیڈ لائن تنقیدی ۔۔۔

16/10/2026

تاریخ میں درست سمت میں ہوں تو اکیلے نکلنے والے سرفراز بگٹی کا قافلہ بنتا چلا گیا اور آج بی این پی مینگل کے رکن جہانزیب مینگل کو بھی کھل کر کہنا پڑا کہ یہ جو دہشت گرد ہیں وہ فتنہ ال ہندوستان سے ہیں جو وہ کررہے ہیں یہ بلوچیت نہیں ہے

جاری کردہ: ڈی جی پی آر

16/10/2026

اللہ کا شکر ہے اب بلوچستان میں ہر کوئی ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کھل کر بول رہا ہے: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی

Address

Jinnah Road
Quetta Cantonment
87800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan24 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Balochistan24:

Shortcuts

Share