Quetta legendrais

Quetta legendrais ہنستے ہے ہنساتے ہے

پشین شہر کی مشہور تاریخ ساز خدمت گار  نامورخاتون    ( مما) ممی۔   جینیفر جہانزیب قاضی موسیٰ  خاندان وہ کاؤنٹی کیری (Coun...
20/07/2026

پشین شہر کی مشہور تاریخ ساز خدمت گار نامورخاتون ( مما) ممی۔ جینیفر جہانزیب قاضی موسیٰ خاندان
وہ کاؤنٹی کیری (County Kerry) سے تعلق رکھنے والی ایک آئرش کیتھولک کسان کی بیٹی تھیں۔
​وہ آگے چل کر ایک نڈر پشتون قبیلے کی سربراہ بنیں اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم کے سامنے ڈٹ گئیں۔
​جینیفر قاضی موسیٰ (ممی) (1917ء سے 2008ء)
​آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں "برجٹ جینیفر رین" کے نام سے پیدا ہوئیں۔ انہوں نے غربت کی لکیر سے نکلنے کے لیے 1930ء کی دہائی میں لندن میں نرسنگ کی تربیت حاصل کی۔
​1939ء میں آکسفورڈ کی ایک تقریب میں ان کی ملاقات قاضی محمد موسیٰ سے ہوئی، جو بلوچستان کے ایک معزز خاندان سے تعلق رکھنے والے فلسفے کے طالب علم تھے۔
​انہوں نے اسلام قبول کیا، دونوں رشتہ ازدواج میں بندھ گئے اور انہوں نے اپنا نیا نام جینیفر جہانزیب قاضی موسیٰ رکھا۔
​پشین آمد اور قبائلی زندگی
​جنوری 1948ء میں وہ پشین، بلوچستان پہنچیں۔ یہ کچی مٹی کی دیواروں والے گھروں، سخت ترین قبائلی قوانین اور جھلسا دینے والی گرمی کا علاقہ تھا۔
​انہوں نے حالات کو اپنی شرائط پر اپنایا۔ وہ روایتی شلوار قمیض تو پہنتی تھیں لیکن انہوں نے سر ڈھانپنے یا برقع اوڑھنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے جبری پردے کی روایت کی کھلم کھلا مخالفت کی اور شروع ہی سے خواتین کی آزادی اور حقوق کی وکالت کی۔
​پھر 1956ء میں ایک بڑا سانحہ رونما ہوا۔ ان کے شوہر ایک اچانک کار حادثے میں انتقال کر گئے۔
​آئرلینڈ کے محفوظ ماحول میں واپس جانے کے بجائے انہوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے اپنے مرحوم شوہر کا کردار سنبھالا اور موسیٰ خیل قبیلے کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی۔
​ایک انتہائی قدامت پسند اور مرد اساس معاشرے میں، اس آئرش خاتون نے خونی دشمنیاں ختم کروائیں، زمین کے تنازعات حل کیے اور قبائلی امور کو نہایت مہارت سے چلایا۔
​سیاسی سفر اور پارلیمنٹ
​1970ء: وہ پشین کے حلقے سے بلا مقابلہ منتخب ہو کر پاکستان کی پہلی پارلیمنٹ کا حصہ بنیں۔
​آئینی کمیٹی کا حصہ: انہوں نے اسمبلی میں صوبائی خودمختاری کے لیے آواز اٹھائی۔ وہ اس اہم آئینی کمیٹی کی صرف تین خاتون ارکان میں سے ایک تھیں جس نے 1973ء کے آئین کا مسودہ تیار کیا تھا۔
​بھٹو سے تصادم: جب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں کریک ڈاؤن کیا، تو وہ اپنی بات پر ڈٹ گئیں اور ان کے سامنے سینہ سپر ہو گئیں۔ بھٹو نے (زچ ہو کر) یہاں تک شکایت کی تھی کہ وہ بس "بلوچستان کی ملکہ" بننا چاہتی ہیں۔
​ثالث کا کردار: 1970ء کی دہائی کی شورش کے دوران انہوں نے بلوچ مزاحمت کاروں اور وفاقی حکومت کے درمیان مذاکرات کار کے طور پر ایک اہم کڑی کا کام کیا۔
​سماجی خدمات اور آخری ایام
​1980ء کی دہائی میں انہوں نے مقامی لوگوں کو روزگار فراہم کرنے اور سوویت حملے کے باعث بے گھر ہونے والی افغان پناہ گزین خواتین کی مدد کے لیے بلوچستان کی پہلی آئس فیکٹری قائم کی۔
​انہوں نے اپنی زندگی کے 60 سال پشین میں گزارے۔ مقامی لوگ انہیں پیار سے "ممی جینیفر" کہتے تھے۔
​وہ 12 جنوری 2008ء کو وفات پا گئیں۔
​ان کا سفر آئرلینڈ کی ہری بھری چراگاہوں سے شروع ہوا اور پشین کے خشک پہاڑوں پر ختم ہوا، جہاں وہ آخری سانس تک پشتون بلوچ عوام کے حقوق کا دفاع کرتی رہیں۔
​جینیفر جہانزیب موسیٰ۔
جنہیں پشین شہر والے پیارے (ممہ) ممی کہتے تھے
تحریر ۔ سابق مایہ ناز انٹرنیشنل کھیلاڑی
کرنل مجاہد خان ترین

22/06/2026

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Quetta legendrais posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share