Nishist.com

Nishist.com بلوچستان سے متعلق خبروں،تجزیوں اور کالمز کے لیے لائک کریں "نشست" پیج

آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان: 8 ستمبر کو گوادر سے چمن تک احتجاج کا اعلانکوئٹہ  آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان نے اعلان کیا ہے ...
04/09/2025

آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان: 8 ستمبر کو گوادر سے چمن تک احتجاج کا اعلان

کوئٹہ
آل پارٹیز کانفرنس بلوچستان نے اعلان کیا ہے کہ 8 ستمبر کو گوادر سے چمن تک بھرپور احتجاج کیا جائے گا، اس دوران تمام بڑی شاہراہیں، ٹرانسپورٹ اور ریلوے اسٹیشن بند رہیں گے۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ "دھماکے ہمیں خاموش نہیں کر سکتے، ہماری جدوجہد ہر حال میں جاری رہے گی۔"

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ "ہم ایک اشارے پر پورے تھانے جلا سکتے ہیں، عوامی طاقت کو کوئی نہیں روک سکتا۔"

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اصغر خان اچکزئی نے کہا کہ "اس ملک میں چوکیدار مالک بن بیٹھا ہے، عوام اپنے حقوق کے لیے مزید خاموش نہیں رہیں گے۔"

کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل اور قربانیوں کو مزید نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور پرامن جمہوری جدوجہد ہر صورت جاری رہے گی۔

02/09/2025

تردیدی بیان
آج کےالمناک واقع میں آغا موسی جان بالکل خیرحافیت
سے ہیں جبکہ لیبرسیکرٹری موسٰی بلوچ معمولی زخمی ہے
ذرائع بی این پی

02/09/2025

🚨 ہنگامی اطلاع 🚨
کوئٹہ سریاب روڈ دھماکے میں زخمی افراد کو خون کی فوری ضرورت ہے۔
جو خون دینا چاہتے ہیں وہ براہِ کرم فوراً سول اسپتال ٹراما سینٹر پہنچ جائیں۔

02/09/2025

02 ستمبر 2025
*بی این پی جلسہ دھماکہ سول ہسپتال شعبہ حادثات و ٹراما سینٹر اپڈیٹ*

*بی این پی جلسہ دھماکہ دھماکے کے 29 زخمی سول ہسپتال شعبہ* *حادثات و ٹراما سینٹر لاے گٸے ایم ڈی ٹراما سینٹر ڈاکٹر ارباب کامران اور ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر ہادی کاکڑ کی نگرانی میں شعبہ حادثات میں زخمیوں کو ابتداٸی طبی امداد کی فراہمی کے بعد مزید علاج کے لیے ٹراما سینٹر منتقل کردیا گیا*

*بی این پی جلسہ دھماکہ دھماکے کے زخمی افراد کے نام*
1.نادر
2.محمد صادق
3.سراج احمد
4.نصیب اللہ
5.بشیر
6.علی اکبر
7.محمد اسحاق
8.احمد نواز
9.شاہ فیصل
10.فرحان
11.محمد مراد
12.عرفان
13.روت پرویز
14.وقار
15.مدد خان
16.شبیر احمد
17.نور احمد
18.فاروق
19.اعجاز
20.میر باز خان
21.موسی
22.عبدالطیف
23.کاشف
24.بسم اللہ
25.بصیر
26.نواب
27.کلیم اللہ
28.رسول بخش
29.ضامران

*بی این پی جلسہ دھماکہ میں شہدا۶ کے نام*
1.اسحاق
2.نجیب اللہ
3.شان
4.حنیف
5.مدد خان

جاری کردہ
ڈاکٹر وسیم بیگ
میڈیا کوارڈنیٹر
محکمہ صحت بلوچستان

‏سریاب کوئٹہ میں بی این پی کے جلسۂ عام کے اختتام پر سردار اختر مینگل کی گاڑی پر ٹارگٹ دھماکہ کیا گیا، جس سے درجنوں کارک...
02/09/2025

‏سریاب کوئٹہ میں بی این پی کے جلسۂ عام کے اختتام پر سردار اختر مینگل کی گاڑی پر ٹارگٹ دھماکہ کیا گیا، جس سے درجنوں کارکن زخمی ہوئے ہیں جن میں شدید زخمی بھی شامل ہیں، پارٹی ذرائع۔

*بلوچ راجی مچی کی پہلی سالگرہ: مزاحمت کی علامت اور اجتماعی بیداری کا استعارہ**"مولانا خلیل اللہ شہاب بلوچ"*آج جب بلوچ را...
29/07/2025

*بلوچ راجی مچی کی پہلی سالگرہ: مزاحمت کی علامت اور اجتماعی بیداری کا استعارہ*

*"مولانا خلیل اللہ شہاب بلوچ"*

آج جب بلوچ راجی مچی کو ایک برس مکمل ہو چکا ہے، یادوں کے دریچے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ وہ شبِ ستم — وہ لمحہ ظلم، جب میرے دو شاگرد سراسیمگی میں میرے سرہانے آ کھڑے ہوئے اور کہا: "استاد جی! مدرسے پر چھاپہ پڑا ہے۔ وہ آپ کے بارے میں پوچھ رہے تھے، لیکن چونکہ آپ موجود نہیں تھے، اس لیے آپ کے بھائی حافظ احسان اللہ اور طالب علم حافظ تنویر احمد کو اٹھا کر لے گئے۔"

یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔ بلوچ سرزمین پر اس نوعیت کی داستانیں اب روزمرہ کا حصہ بن چکی ہیں۔ مگر اس شب کی سیاہی، دن کے اجالے سے زیادہ واضح تھی۔

نیٹ ورک کی عدم موجودگی کے باعث ہم صبح تک بے چینی سے انتظار کرتے رہے۔ سورج کے نکلتے ہی ہم سگنل کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے تاکہ خبر کو ساتھیوں تک پہنچا سکیں۔ جلد ہی معلوم ہوا کہ یہ سارا جبر بلوچ راجی مچی کی حمایت کی "سزا" کے طور پر نازل کیا گیا ہے۔ بلوچستان میں کریک ڈاؤن کی فضا قائم ہو چکی تھی۔ بی وائی سی کے درجنوں کارکن گرفتار ہو چکے تھے، سڑکیں بند، رابطے منقطع، اور معمولاتِ زندگی معطل ہو چکے تھے۔

یہ مزاحمتی مارچ محض ایک احتجاج نہیں تھا، یہ بلوچ قومی شعور کی ازسرِ نو بیداری تھی۔ مستونگ سے گوادر تک، ریاستی اداروں نے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا۔ فائرنگ، شیلنگ، گرفتاریوں اور جھوٹے مقدمات کے ذریعے اسے سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بلوچ قوم نے ہر ریاستی رکاوٹ کو پرامن مزاحمت کے ذریعے عبور کیا — یہ اس قوم کی وہ خصوصیت ہے جو اسے ممتاز بناتی ہے۔

بالآخر، پندرہ دنوں کی مسلسل مزاحمت اور عوامی یکجہتی نے ریاست کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ بلوچ راجی مچی نے صرف احتجاج نہیں کیا بلکہ ایک نظریہ پیش کیا — وہ نظریہ جس میں مزاحمت صرف بندوق سے نہیں، بلکہ اجتماعی شعور، فکری جرأت، اور قومی یکجہتی سے کی جاتی ہے۔

اس راجی مچی کے دوران چار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا، درجنوں زخمی ہوئے، لیکن ان قربانیوں نے بلوچ قوم کے شعور کو مزید پختہ کر دیا۔ یہ جدوجہد، یہ فکری تحریک، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور اُن کی رہنمائی میں کام کرنے والے ان تمام افراد کا طرہ امتیاز ہے جنہوں نے بلوچ قوم کو یہ احساس دلایا کہ خاموشی موت ہے، اور آواز اٹھانا زندگی کی علامت۔

آج بھی بلوچ قوم اسی جدوجہد سے گزر رہی ہے۔ چاہے وہ تپتی دھوپ ہو یا برستی بارش، اذیت خانے ہوں یا سیاسی ایوان — بلوچ اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یہ جنگ صرف زمینی قبضے کی نہیں، بلکہ تشخص، آزادی، اور آئندہ نسلوں کے وجود کی ہے۔

بلوچ راجی مچی کی پہلی سالگرہ پر ہم شہداء کو خراج تحسین، زخمیوں کو سلام، اور قوم کے باشعور کرداروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک سال کا نہیں، صدیوں کی جدوجہد کا تسلسل ہے — جو اب ناقابلِ واپسی موڑ پر آ چکی ہے۔

09/07/2025

دکی۔ یاروشہر ندی سے تین نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد،

دکی۔ پولیس ایریا یاروشہر ندی سے تین نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ پولیس ذرائع کی مطابق تینوں لاشوں کو گولیان ماری گئی ہیں لاشوں کو ضروری کاروائی کیلئے ڈی ایچ کیو ہسپتال دکی منتقل کردیا گیا ہے۔

حب، زیشان ظہیر قتل کے خلاف بی وائی سی احتجاج پر پولیس کا حملہ، فائرنگ و گرفتاریاں زیشان ظہیر کے ماورائے عدالت قتل کے خلا...
05/07/2025

حب، زیشان ظہیر قتل کے خلاف بی وائی سی احتجاج پر پولیس کا حملہ، فائرنگ و گرفتاریاں

زیشان ظہیر کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف حب چوکی میں بی وائی سی کے احتجاج کو پولیس نے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے مظاہرین پر فائرنگ کھول دی۔
بی وائی سی لسبیلہ ریجن کے مطابق زیشان ظہیر کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے آج حب چوکی میں ایک پُرامن احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔تنظیم کے مطابق مظاہرین کو زبردستی منتشر کرنے کی کوشش کی گئی اس دوران پولیس سادہ لباس اہلکاروں اور انتظامیہ کی موجودگی میں فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔اس دوران پولیس نے لاپتہ افراد کے لواحقین سمیت متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی نے اس واقعے کو ریاستی جبر قرار دیتے ہوئے اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے، کمیٹی کا کہنا ہے کہ پُرامن احتجاج اور اجتماع کا حق ہر شہری کا آئینی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے تحت تسلیم شدہ حق ہے جسے طاقت کے ذریعے دبانا قابلِ مذمت ہے۔بلوچ یکجہتی کمیٹی نے حب کے ایس ایس پی، ڈپٹی کمشنر اور ایم پی اے علی حسن زہری کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ یہ افسران حب کے علاقے میں جاری ریاستی مظالم کے سہولت کار بنے ہوئے ہیں۔
تنظیم نے انسانی حقوق کی تنظیموں اور بلوچ عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان غیر انسانی اقدامات کے خلاف آواز بلند کریں اور حب میں جاری ریاستی جبر پر فوری توجہ دی جائے۔بیان کے آخر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی لسبیلہ ریجن نے واضح کیا کہ وہ ان ظالمانہ ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوں گے اور پُرامن جدوجہد کے ذریعے انصاف کے حصول کی کوشش جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ زیشان ظہیر کے قتل کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے تحت اس سے قبل بلوچستان کے علاقوں پنجگور، تربت، خاران و نوشکی میں مظاہرے کئے گئے جبکہ چاغی و گردونواح میں ہڑتال رہی۔حب احتجاج پر پولیس حملے سے قبل گذشتہ روز کراچی میں بی وائی سی احتجاج پر سندھ پولیس نے دھاوا بولتے ہوئے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

ذیشان ظہیر بلوچ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لواحقین اور آل پارٹیز کمیٹی کا مطالبہ
03/07/2025

ذیشان ظہیر بلوچ کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے، لواحقین اور آل پارٹیز کمیٹی کا مطالبہ

بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں کو بند کرنا اب معمول بن چکا ہے۔ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ زونکل 2 جولائی بر...
03/07/2025

بلوچستان میں تعلیمی اداروں اور ہاسٹلوں کو بند کرنا اب معمول بن چکا ہے۔
بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کوئٹہ زون

کل 2 جولائی بروز بدھ، جامعہ بلوچستان کے بوائز ہاسٹل 16 بلاک کے سامنے دو طلباء تنظیموں کے کارکنان کے درمیان ایک معمولی سی لڑائی ہوئی۔ اس معمولی مسئلے کو جواز بنا کر ہاسٹل کے انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں نے بنا کسی آفیشل اعلانیہ کے زبردستی بوائز ہاسٹل کو رات کے 9 بجے مکمل طور پر خالی کروایا، جو کہ تعلیم و طلباء دشمن سازش ہے جس کی ہم بھر پور مزمت کرتے ہیں۔
ایک معمولی مسئلے کی وجہ سے بوائز ہاسٹل کو ایک ایسے وقت میں بند کرنا جب وہاں ایک ہفتے بعد طلباء کے فانل ٹرم کے امتحانات ہونے والے ہیں، باعث تشویش ہے۔ جس سے طلباء تشویش کا شکار ہوکر پریشان ہیں کہ ان کا قیمتی وقت ضائع ہوجائے گا۔
بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی پالیسی کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی اس طرح کے تعلیم دشمن حربے آزمائے گئے ہیں جس کی واضح مثال بولان میڈیکل کالج ہے جسے اسی طرز عمل کے زریعے سات ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا جس سے متعدد طلباء کا وقت ضائع ہوا جو کہ ہمارے لئے نہایت ہی تشویشناک ہے۔
طلباء کو تعلیم حاصل کرنے کیلئے نئے اور تعلیمی سہولتیں فرائم کیے جائیں نا کہ رات کی تاریکیوں میں ان کو در بہ در کرکے ان پر ذہنی دباؤ ڈال کر ان کے مستقبل سے کھیلا جائے۔ حکومتی و ضلعی انتظامیہ کا اب معمول بن چکا ہے کہ ہر چھوٹی و معمولی مسئلے کو جواز بنا کر طلباء پر تشدد کرکے ان پر طاقت کا استعمال کیا جاتاہے۔ جب طلباء و طالبات اپنے جمہوری حقوق کیلئے آواز بلند کریں تو ان پر تشدد کرکے ان کو جیلوں میں ڈالا جاتا ہے۔ ہم بطور طلباء نمائندہ تنظیم اس عمل کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ جامعہ بلوچستان کے بوائز ہاسٹل کو فوری طور دوبارہ کھول دیا جائے تاکہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں سے آئے طلباء بنا کسی مشکلات کے اپنا تعلیمی سفر جاری رکھ سکیں.

24/06/2025

#کوئٹہ
سبزل روڈ نزد کلی شاھوزئی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق

24/06/2025

بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا اجلاس
۔
بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون مصدرہ 2025ء پر غور

بلوچستان اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خزانہ کا ایک اہم اجلاس آج اسمبلی کے کمیٹی روم میں چیئرمین زمرک خان اچکزئی کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں کمیٹی کے اراکین اصغر علی ترین، میر شعیب نوشیروانی، برکت علی رند، فضل قادر مندوخیل، محترمہ صفیہ، سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور سیکرٹری خزانہ عمران زرکون نے شرکت کی۔

اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کی جانب سے کمیٹی کو بھیجے گئے "بلوچستان مالیاتی مسودہ قانون مصدرہ 2025ء" پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ یہ بل کمیٹی کو مزید مشاورت اور تجاویز کی روشنی میں مکمل جائزے کے لیے ارسال کیا گیا تھا تاکہ اس کے تمام پہلوؤں پر غور کیا جا سکے۔

اجلاس کے دوران بل کی اہم شقوں اور دفعات کا مفصل جائزہ لیا گیا، اور کمیٹی اراکین نے اپنی آرا اور سفارشات پیش کیں۔

قائمہ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اراکین کی سفارشات کو شامل کرتے ہوئے مسودہ قانون کو آئندہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

Address

Quetta

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nishist.com posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share