08/08/2026
معاشی دہشت گردی اور قانون کی دہری پالیسی
یہ تصویر کسی بیان یا تقریر کی محتاج نہیں، بلکہ سندھ کے موجودہ نظام اور پولیس گردی کا کھلا اشتہار ہے۔
جہاں ریاست بڑے بڑے لینڈ مافیا، ڈرگ مافیا اور شہر کو نوچنے والے بااثر مجرموں کے سامنے بے بس نظر آتی ہے، وہاں ایک غریب محنت کش پشتون کے دیسی ہوٹل کے تخت الٹنے کے لیے پوری نفری پہنچ جاتی ہے۔
یہ کوئی راؤ انوار نہیں ہے جس نے 444 بے گناہوں کا خون بہایا اور نظام اسے سزا دینے میں ناکام رہا، یہ ایک عام شہری ہے جو حلال رزق کما کر اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے۔
بھٹو کے دعوے اور سندھ حکومت کی حقیقت
"روٹی، کپڑا اور مکان" کا نعرہ لگانے والے اور بھٹو کے نام پر دہائیوں سے راج کرنے والے حکمرانوں کی اصل حقیقت یہ تصویر واضح کرتی ہے۔
غریب کو مکان دینا تو دور کی بات، اس سے روٹی کمانے کا ذریعہ بھی چھینا جا رہا ہے۔
سندھ حکومت کی سرپرستی میں چلنے والا یہ انتظامیہ کا لٹھ صرف کمزور اور محنت کش طبقے پر چلتا ہے۔
ایک طرف شہر امن و امان کی بدترین صورتحال کا شکار ہے، سڑکوں پر سرعام قتل و غارت گری اور سٹریٹ کرائم جاری ہیں، لیکن پولیس ان جرائم کو روکنے کے بجائے غریبوں پر معاشی دہشت گردی مسلط کرنے میں مصروف ہے۔
پشتون محنت کشوں کو نشانہ بنانے کا عمل
پشتونوں نے ہمیشہ محنت اور ایمانداری سے ملک کے ہر کونے کو آباد کیا اور معاشی پہیہ چلایا، لیکن افسوس کہ انہیں مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ ان کی زندگیوں کو اس قدر تلخ بنا دیا گیا ہے کہ قانون کے رکھوالے ہی ان کے سب سے بڑے معاشی دشمن بن کر سامنے آ رہے ہیں۔
جب تک بااثر مجرموں کو چھوڑ کر صرف غریب اور دیہاڑی دار طبقے کو نشانہ بنایا جاتا رہے گا، تب تک اس نظام کو "انصاف" یا "جمہوریت" کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ناانصافی اور دہری پالیسی کے خلاف آواز بلند کی جائے۔
یاد رہے کہ
اگر آج پی ٹی ایم صوبہ سندھ کے صوبائی کوآرڈینیٹر نور اللہ ترین کراچی میں ہوتے تو پھر یہ راؤ انوار اور بھٹو کے بقایاجات سندھ پولیس والے کسی پشتون کی طرف صرف آنکھ اٹھا کر دیکھتے تو ہم مان لیے جاتے مگر افسوس کیا وہاں باقی پشتون نہیں ہیں؟
کیا وہاں دیگر پشتونوں کی تمام قوم پرست پارٹیاں کراچی میں موجود ہے؟
موجود ہے مگر مجال ہے کہ اس ظلم پر کوئی ایک الفاظ تک بولے کیونکہ پھر بھٹو کے پیداوار کے ساتھ سیاسی رشتے خراب ہونگے وہ خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔
ان پشتونوں کو بھی شرم آنا چاہیے جو یہاں بھٹو کے جھوٹے گیت گاتے ہیں۔