02/03/2020
ظلم کے خلاف جدید ہتھیار کا استعمال
یہ جدید ہتھیار کوئی جدید میزائل یا جدید ٹھینک یا جدید طیارہ نہیں جو ہر کسی کے پاس نہیں ہے.بلکہ یہ ایک ایسی ہتھیار ہے جو آجکل ہر کوئی تقریباً 24 گھنٹوں میں سے 6 یا 7 گھنٹےاستعمال کرتا ہے.
تو
ظلم کے خلاف ہر کسی کے پاس ایک ایسی ہتھیار ہے جن کو استعمال کرتے ہوئے آپ کسی بھی ظالم کو پوری دنیا میں ظالم ,جابر اور دہشتگرد دکھا سکتے ہیں.
یعنی یہ ایک آئنہ ہے اور ہر کسی کا اپنا اصلی روپ ایسے دکھا سکتا ہے کہ پوچھو مت.
جب میں گل خان تھا
اس میں میرا کوئی قصور نہیں اس کا قصوروار مارک زیرک ہے.جس نے اس وقت فیسبوک ایجاد نہیں کیا تھا.
تو جب میں گل خان تھا میڈیا پر مجھے وزیرستان دہشتگردوں کا ٹھکانہ دیکھاتا.وہ وزیرستان جسکی خوبصورتی کا نظیر دنیا میں نہیں ملتی.
میڈیا پر دیکھاتا کہ آج وزیرستان میں دہشتگردوں کو مار دیا لیکن اسکی نہ تصویر نہ کوئی ٹھوس ثبوت .ہم اُس وقت بڑے فخر سے کہتے کہ ہمارا پاک فوج دنیا کی نمبر ون فوج اور پتہ نہیں ہم سکول میں جب آتے تو سبق پڑھنے کی بجائے اسکی تعریفیں کیا کرتے تھے.....
مارک زیرک نے ایک ایسی ہتھیار ایجاد کر دی جِسے ہر کسی کا چہرا ایسے ہی دکھاتا ہے جیسا وہ ہے. مطلب جتنا اس کا چہرا کالا ہے اتنا ہی کالا دیکھاتاہے.سوشل میڈیا جب نہیں تھا تو یہاں ریاست موبائل کا کیمرہ استعمال کرنے کی بجائےDSLR کا استعمال کرتا تھا. اور اپنے کالے چہرے کو سفید دیکھانے کی کوشش کرتا اور یہ اب زیادہ نہیں چلے گا.
تو آج ہی اس ہتھیار کو اپنے جیب سے نکالے اور اس کا صحیح استعمال کرے. کم از کم ظالم کے خلاف جو بولتا ہے اسکی آواز کو تو شیر کرسکتے ہو.