Mastung Times

Mastung Times Mastung Times

20/02/2026

*مستونگ/پریس کانفرنس*

*کلی غلام پڑینز مستونگ کے رہائشی محمد عمر شاہوانی نے سراوان پریس کلب مستونگ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بیٹے محمد یونس شاہوانی کی گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات بیان کیں۔۔۔ انہوں نے کہا کہ ان کا بیٹا تقریباً ایک سال قبل گھر سے نکلا تھا جس کے بعد سے وہ تاحال واپس نہیں آیا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی ہے۔۔۔*

*انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر ان کا بیٹا محمد یونس شاہوانی کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے وہ اور ان کا خاندان ہرگز ذمہ دار نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کا محمد یونس سے کوئی تعلق ہوگا۔۔*

پولیس اغواء کیس پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا سخت نوٹس، آئی جی اور ڈی آئی جی کو فوری شفاف تحقیقات کا حکمکوئٹہ: کوئٹہ میں پو...
18/01/2026

پولیس اغواء کیس پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا سخت نوٹس، آئی جی اور ڈی آئی جی کو فوری شفاف تحقیقات کا حکم

کوئٹہ: کوئٹہ میں پولیس کے مبینہ اغواء، غیر قانونی حراست اور بعد ازاں کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کے ذریعے نوجوانوں کو زخمی کرنے کے سنگین معاملے پر وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے سخت نوٹس لے لیا ہے وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے آئی جی پولیس بلوچستان اور متعلقہ ڈی آئی جی کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور اگر پولیس اہلکار ملوث پائے جائیں تو ان کے خلاف مثالی کارروائی عمل میں لائی جائےوزیرِ اعلیٰ نے واضح ہدایت کی کہ تحقیقات میں کسی دباؤ، اثر و رسوخ یا وردی کا لحاظ نہ رکھا جائے اور حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے یا اختیارات کے ناجائز استعمال کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی حکومت بلوچستان نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاندان کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا اور اگر دھمکیوں یا دباؤ کے شواہد ثابت ہوئے تو اس پر بھی الگ کارروائی کی جائے گی وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ پولیس کا کام شہریوں کا تحفظ ہے، اغواء یا ماورائے قانون کارروائیاں نہیں، اور ایسے واقعات حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی کے خلاف ہیں واقعے کی تحقیقات کے نتائج جلد سامنے لانے اور ذمہ دار اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دینے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے

16/01/2026
میرے بھائی اور اس کے دوست کو ایس ایچ او شالکوٹ نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر 47 روز تک لاپتہ رکھا گیا اور بعد از...
16/01/2026

میرے بھائی اور اس کے دوست کو ایس ایچ او شالکوٹ نے غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر 47 روز تک لاپتہ رکھا گیا اور بعد ازاں کراچی میں کل رات کو مبینہ پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچا کر فائرنگ کے ذریعے زخمی کیا گیا

میرے بھائی کی جی ایل آئی گاڑی کوئٹہ میں ایس سی آئی ڈبلیو سے بیلف ٹیم کے ذریعے برآمد کی تھی

کوئٹہ: کوئٹہ سے مبینہ طور پر اغواء کیے گئے نوجوانوں کے بھائی اور والد نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچستان پولیس اور شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائیوں کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر 47 روز تک لاپتہ رکھا گیا اور بعد ازاں کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے کا ڈرامہ رچا کر فائرنگ کے ذریعے زخمی کیا گیا پریس کانفرنس میں متاثرہ بھائی نے بتایا کہ 27 نومبر کو ان کے بھائیوں کو کوئٹہ سے اٹھایا گیا، جس کے بعد مختلف تھانوں، ایف آئی اے اور ایس سی آئی ڈبلیو (SCI&W) کے دفاتر کے چکر لگائے گئے لیکن پولیس نے ان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی کو غیر قانونی طور پر حراست میں رکھنا آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہےانہوں نے انکشاف کیا کہ 6 دسمبر کو بھائی کی جی ایل آئی گاڑی کوئٹہ میں ایس سی آئی ڈبلیو سے بیلف ٹیم کے ذریعے برآمد کی گئی، تاہم اس کے باوجود نوجوانوں کو عدالت میں پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی کسی مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
متاثرہ بھائی کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز بلند کی اور پریس کانفرنس کا اعلان کیا تو انہیں پولیس کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ ان کے مطابق ان کے پاس پولیس اہلکاروں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی وائس ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس بھی موجود ہیں، جو کسی بھی فورم پر پیش کیے جا سکتے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلہ ظاہر کر کے ان کے بھائیوں کو فائرنگ سے زخمی کیا گیا، جو ایک منصوبہ بند کارروائی معلوم ہوتی ہے تاکہ اصل حقائق کو چھپایا جا سکےپریس کانفرنس میں انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ، آئی جی پولیس بلوچستان، وفاقی محتسب اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ اس پورے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، ملوث پولیس افسران کو معطل کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرہ خاندان کو تحفظ فراہم کیا جائےآخر میں انہوں نے کہا کہ اگر انہیں اور ان کے خاندان کو کسی قسم کا نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس افسران پر عائد ہوگی۔

کوئٹہ کے مبینہ اغواء کا سنگین معاملہ شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او خیر محمد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغواء کیے گئے دو نوجوانو...
16/01/2026

کوئٹہ کے مبینہ اغواء کا سنگین معاملہ شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او خیر محمد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغواء کیے گئے دو نوجوانوں کو 47 دن بعد کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کرکے زخمی حالت میں منظرِ عام پر لایا گیا

کوئٹہ: شالکوٹ تھانے کے ایس ایچ او خیر محمد کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغواء کیے گئے دو نوجوانوں کو 47 دن بعد کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے کے دوران فائرنگ کرکے زخمی حالت میں منظرِ عام پر لایا گیا، جس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور شفافیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں ذرائع کے مطابق نوجوانوں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا گیا، جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ نوجوانوں کے جسموں پر تشدد اور گولیوں کے واضح نشانات موجود ہیں، جبکہ ان کے خون آلود کپڑے، بڑھی ہوئی داڑھی اور خستہ حالت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں طویل عرصے تک غیر قانونی حراست میں رکھا گیااہم بات یہ ہے کہ ان نوجوانوں کے بھائی نے چند روز قبل کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے پولیس افسران پر اغواء اور غیر قانونی حراست کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پریس کانفرنس کے فوراً بعد متاثرہ خاندان کو مبینہ طور پر پولیس کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں متاثرہ خاندان کے پاس پولیس کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کی وائس ریکارڈنگز اور اسکرین شاٹس بھی موجود ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہیں خاموش رہنے اور معاملہ میڈیا پر نہ لانے کے لیے دباؤ میں رکھا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی جی ایل آئی گاڑی 45 روز قبل کوئٹہ میں ایس سی آئی ڈبلیو (SCI&W) سے بیلف ٹیم نے برآمد کی تھی، جس کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ نوجوان کسی غیر قانونی کارروائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ تاہم ان کی بازیابی میں تاخیر اور بعد ازاں کراچی میں مبینہ مقابلے کی کہانی نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا ہےاہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ نہ تو نوجوانوں کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کسی قانونی کیس کا اندراج سامنے آیا۔ خاندان نے چیف جسٹس آف پاکستان، آئی جی پولیس بلوچستان اور انسانی حقوق کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی آزاد، شفاف اور جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور ملوث پولیس افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائےواقعے نے ایک بار پھر بلوچستان میں مبینہ جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت حراست اور پولیس مقابلوں کے نام پر قانون شکنی کے الزامات کو تقویت دی ہے۔

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)تھانہ شالکوٹ کے ایس ایچ او (SHO) خیر محمد سمالانی کا غیر قانونی طور پر شہریوں کو اٹھانا اور لاپتہ کرن...
10/01/2026

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)تھانہ شالکوٹ کے ایس ایچ او (SHO) خیر محمد سمالانی کا غیر قانونی طور پر شہریوں کو اٹھانا اور لاپتہ کرنے کا سلسلہ ختم نا ہوسکا

اب تک ایس ایچ او (SHO) خیر محمد سمالانی نے 4 سے زائد لوگو کو غیر قانونی طور اپنے ذاتی لاکپ میں بند کررکھا ہے

جبکہ دو افراد کا تعلق ضلع مستونگ سے ہیں جن کو 27 نومبر کو سونا خان کے مقام سے اٹھاکر لاپتہ کردیا ہے اب تک 45 دن گزر گئے ہیں مگر ابھی تک کوئی ایف ائی آر (FIR) درج نہیں کیاگیا ہے

جبکہ دو افراد کو کوئٹہ کے علاقے خروٹ آباد سے اٹھایا ہے مگر 8 دن گزر نے کے باوجود ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر (FIR) درج نہیں کیا گیا ہے

اس سے قبل بھی عدالت کی جانب سے تھانہ شالکوٹ پر چھاپہ ماراگیا تھا جہاں ایس ایچ او (SHO) تھانہ شالکوٹ خیر محمد سمالانی کے غیرقانونی لاکپ سے عمران نامی شخص کو بازیاب بھی کرایا گیا تھا

شہریوں کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او (SHO) تھانہ شالکوٹ خیر محمد سمالانی کا قانون کا ناجائز استعمال کرنے اور قانون کو ہاتھ میں لینے کا کی ہرگز اجازت نہیں ہیں

*مستونگ(پ ر )براہوئی اکیڈمی**رجسڑڈمستونگ برانچ کی زیرہتمام ایک روزہ ادبی سیمینارمکتبہ ابابکی میں منعقدکی گئی اس ادبی سیم...
15/12/2025

*مستونگ(پ ر )براہوئی اکیڈمی*
*رجسڑڈمستونگ برانچ کی زیرہتمام ایک روزہ ادبی سیمینارمکتبہ ابابکی میں منعقدکی گئی اس ادبی سیمینارکوبیادباباےبراہوئی حضرت علامہ نورمحمدپروانہ ڈاکٹرایم صلاح الدین مینگل مولاناعبدالخالق ابابکی علامہ جوہربراہوئی شہنشاہ غزل غالبِ براہوئی محمداسحاق سوز عنوان سےمنعقدکیاگیا۔اس سیمینار کی صدارت براہوئی اکیڈمی رجسڑڈپاکستان کی مرکزی چیرمین پروفیسرڈاکٹرسوسن براہوئی نےکی مہمان خاص براہوئی زبان کی نامورادیب شاعراستادرحیم ناز تھےاعزازی مہمان آماچ ادبی مستونگ کے صدرحاجی شاہ بیگ شیدا دُشتل ادبی دیوان کے صدررحیم صیاد دےٹک ادبی دیوان مستونگ کے صدربہاول نسیم بنگلزئی ایلم کاروان کے چیرمین زاکرزیب براہوئی اکیڈمی ڈیرہ مرادجمالی کے صدرگل میرگل مکتبہ ابابکی کےچیرمین مولوی محموداحمدابابکی تھے*
*یہ سیمیناردونشست پرمشتمل تھے پہلےنشست کی اسٹیج کےفرائض ایلم اخبارکےچیف ایڈیٹرمحمدعظیم زاکربراہوئی نےاداکی جبکہ دوسری نشست محفلِ مشاعرہ کی نشست تھاجسکےصداربراہوئی اکیڈمی مستونگ برانچ کی صدرحسین شہزادنےکی مہمان خاص ہدایت فدا تھےاعزازی مہمانوں میں براہوئی انجمن ادبی اروان کےناطق امید شاشان ادبی کاروان کےغلام نبی صیادسوزادبی دیوان کےصدرحاجی مجیدخیرکھیرترادبی دیوان* *حضدارکےخلیل تعبان سنبھال ادبی کاروان کےعلی رضاءآماچ ادبی دیوان کےصدیق انجم تھےجبکہ اسٹیج کےفرائض رحیم صیادنےادا کی دیگرشعراء کرام کےنام اسطرح ہیں نبی بخش انجم حافظ ظفرمنصور احسان براہوئی ظہوراَزرَق اعجازعاجزشاکرچلتنی اسداللّٰہ مولوی محموداحمدابابکی* *محمدزاہدحقانی خیرجن براہوئی محمدفرازمینگل قلاتی عرفان کاتب محمدادریس اکمل براہوئی جمال الدین محمدجواد امیرخمزہ فتح محمدشاد محمدعظیم زاکرغلام مرتضی قمرحمادگل حفیظ صاعد سعدعلی کریم بخش سول بخش عاجز حسرت نزیرمنان جان فریدالفت اسلم زامرالیاس جان کبیرعاجز زبیرعادل شبیرانجم عبدالحیات منصوربراہوئی حمیدعزیزآبادی عبداللّٰہ جوہرپروفیسرعامرجان وحیدساجدبہاول نسیم* *مولاناعدالباسط فاروق فدا ارشدی خیربخش صابرناصرردیسی عصمت لہڑی ہدایت اسپرسجادعظیم شیخ باقی وقاص عادل علی رضاء یارجان راہی حافظ نعمت براہوئی صلاح الدین شہزاد بدل خان عبدالرشید امین جان اللّٰہ بخش شاہوانی سیدغریب شاہ انجم خلیل بسمل ہدایت عجیب گلزار علی* *ساگرخالداحمدفضل سنگری طاہررندناصرپردیسی علی جان فراز راحیل ثانی اےجی بلوچ نعمان گل نورزیب حافظ وحیدمزمل احمد سمیع اللّٰہ محمدیحیی گل جان گل صالح شاہوانی منیراحمدعبدالغنی گل میرگل آفتاب رند منصورگل اوردیگرنےاپنےاشعارکرزریعےانہیں عقیدت پیش کی جبکہ مقالہ نگاروں میں علامہ حضرت نورمحمدپروانہ پرلکھنےوالوں میں حافظ ظفرمنصوررسول بخش عاجز پروفیسرمحمدعامرصاحب نےاپنےمقالہ پڑھےایڈوکیٹ صلاح الدین مینگل کی شخصیت پربہاول نسیم بنگلزئی اروگل میرگل نےاپنےمقالہ پڑھےاوعلامہ عبدالخالق ابابکی کی شخصیت* *پرمولانامحموداحمدابابکی مجتبی قمرنےاپنی لکھی ہوئی تحقیقی مقالہ پڑھے اورخراج تحسین پیش کی علامہ جوہرپرمقالہ والوں میں محمداسلم بنگلزئی فتح* *محمدشاداوراعجازعاجز جبکہ شہنشاہ غزل غالب ِ براہوئی محمداسحاق سوز براہوئی کی شخصیت ظفراحمدجان سوز شاہین بارانزئی حاجی عبدالحیات منصوربراہوئی رحیم صیاد نثارانجم عزیزآبادی فتح محمدشادنےاپنی عقیدت احترام کےساتھ خراج تحسین پیش کی*
*مقرین اورمقالہ نگاروں نےاپنےہیروزکوخراج تحسین پیش کرتےہوے کہاکہ علامہ نورمحمدپروانہ کی زندگی ایک روشن ستارے کی طرح عیان ہیں وہ اپنی زندگی براہوئی زبان وادب اورراج کی خدمت میں گزاراصحافت سیاست ادب میں ان کوکوئی ثانی نہیں اسی طرح ایڈوکیٹ ایم صلاح الدین مینگل نےاپنی علمی ادبی اورقانونی اداوارکوبراہوئی زبان کی ترقی وترویج کیلےوقف کی تھی وہ 30سال تک اکیڈمی کےچیرمین رہےجوکہ تقریباسینکروں شعراءاورادباءکی کتابیں چھاپ کرحلقہ ادب میں عیان کردی مولاناعبدالخالق محمداسحاق سوزاورجوہربراہوئی کےکتابوں کااطاطہ کرتےہیں توتقریباسوسےزاہدکتاب بنتےہیں آج ہم سب شعراء اورادباء مل کرانہیں خراج تحسین پیش کررہےاورشعراءنےانہیں منظوم خراج تحسین پیش کی*

15/12/2025

ورلڈ چیمپئن شپ موبائل
گیمز بلوچستان کے ذیشان شاہوانی عرف مرشد کی شاندار کامیابی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وو میپ کریئیٹرز مقابلے میں زبردست کامیابی، ذیشان شاہوانی عرف مرشد نے پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کرکے ایورڈ اپنے نام کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوجوان ٹیلنٹ نے ڈیجیٹل گیمنگ میں بلوچستان کی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنکاک/کوئٹہ(نیوز ڈیسک) پی ایم جی سی ورلڈ چیمپئن شپ PUBG موبائل گیمز 2025 میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان ضلع مستونگ دشت سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت نوجوان ذیشان شاہوانی (المعروف مرشد) نے وومیپ کریئیٹرز کیٹیگری میں نمایاں کامیابی حاصل کر کے عالمی سطح پر پاکستان اور بالخصوص بلوچستان کا نام روشن کرکے ایورڈ اپنے نام کردیا۔ اس بین الاقوامی مقابلے میں دنیا بھر سے ماہر گیمرز اور میپ کریئیٹرز نے شرکت کی، جہاں ذیشان شاہوانی (المعروف مرشد) نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں، تکنیکی مہارت اور منفرد آئیڈیاز کے ذریعے ججز اور شرکاء کی توجہ حاصل کی۔ ذیشان شاہوانی (عرف مرشد ) کی اس کامیابی کو بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزاء مثال قرار دیا جا رہا ہے، جو محدود وسائل کے باوجود ڈیجیٹل اور ای اسپورٹس کے میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف ذیشان شاہوانی (المعروف مرشد) کی محنت اور لگن کا نتیجہ ہے بلکہ اس سے پاکستان میں ای اسپورٹس اور گیم ڈیولپمنٹ کے فروغ کی نئی راہیں بھی کھلیں گی۔
عوامی و سماجی حلقوں نے ذیشان شاہوانی (المعروف مرشد) کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ایسے باصلاحیت نوجوانوں کی سرپرستی کریں گے تاکہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل مقابلوں میں مزید نمایاں مقام حاصل کر سکے۔ اس موقع پر ذیشان شاھوانی( المعروف مرشد ) خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

کوئٹہ نو اکلی میں جعلی ادویات کی پیکنگ فیکٹری پر چھاپہ مالک سمیت 6 افراد گرفتارنو اکلی میں ڈرگ ٹاسک فورس اور ایف آئی اے ...
30/11/2025

کوئٹہ نو اکلی میں جعلی ادویات کی پیکنگ فیکٹری پر چھاپہ مالک سمیت 6 افراد گرفتار

نو اکلی میں ڈرگ ٹاسک فورس اور ایف آئی اے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے جعلی ادویات کی پیکنگ فیکٹری پر چھاپہ مارا، جس کے دوران فیکٹری کے مالک محمد طاہر سمیت چھ افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملازمین میں نذیر، عبداللہ، محمد یوسف، محمد جاوید اور عزیز الرحمن شامل ہیں۔

یہ فیکٹری مغل آباد شاکر کالونی میں ایک رہائشی مکان میں قائم تھی جہاں جعلی، غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ ادویات تیار اور پیک کی جاتی تھیں۔ جعلی ادویات اندرون ملک اور پڑوسی ممالک کو سپلائی کی جاتی تھیں۔

چھاپے کی سربراہی ڈرگ انسپکٹر علی احمد اچکزئی اور ایف آئی اے کے افسر نے کی۔ کارروائی کے دوران لاکھوں روپے مالیت کی جعلی ادویات، کیپسول، اسٹریپس اور خام مال قبضے میں لے کر فیکٹری کو سیل کر دیا گیا۔

ادویات کے نمونے ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری بھجوادیے گئے ہیں اور رپورٹ موصول ہونے پر ملزمان کے خلاف ڈرگ کورٹ میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے انکشاف کیا کہ وہ کوئٹہ کے بڑے میڈیکل اسٹورز کو بھی جعلی ادویات سپلائی کرتے رہے ہیں، جن کے خلاف جلد کریک ڈاؤن کیا جائے گا

کوئٹہ(رپورٹچیف آف سراوان و بزرگ سیاستدان نواب محمد اسلم خا رئیسانی سے سراوان ہاؤس کوئٹہ میں ملک پسند خان علیزئی کی سربرا...
03/11/2025

کوئٹہ(رپورٹ
چیف آف سراوان و بزرگ سیاستدان نواب محمد اسلم خا رئیسانی سے سراوان ہاؤس کوئٹہ میں ملک پسند خان علیزئی کی سربراہی میں ایک نمائندہ وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں وڈیرہ رشید لہڑی، وڈیرہ خیر جان ابڑو، میر ندیم رئیسانی، میر اللہ بخش شاہوانی، عبدلرؤف شاہوانی رئیس سجاد، ماسٹر یونس، حاجی اختر، ماما عزیز سارنگزئی، محمد یونس، حاجی محمد حسن، حاجی عبدالرحمن، غلام محمد، گل محمد، عبدالرزاق اور دیگر معزز شخصیات شامل تھیں۔

ملاقات کے موقع پر نوابزادہ پیرہ رئیس خان رئیسانی سمیت مختلف سیاسی و قبائلی رہنما اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔

ملاقات میں علاقائی و سیاسی صورتحال، مستونگ میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
چیف آف سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے شرکائے وفد کے ساتھ کھل کر گفتگو کی اور علاقے کی ترقی و استحکام کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

وفد نے نواب محمد اسلم خان رئیسانی کو بیرونِ ملک سے واپسی پر خوش آمدید کہا اور ان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔

03/10/2025

*چمن میں تعمیر ہونے والا نیا شاہکار روڈ یا خطرناک تجربہ؟*

چمن شہر میں حال ہی میں تعمیر ہونے والا نیا روڈ عوامی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بن چکا ہے۔ یہ سڑک اپنی انوکھی اور "عجیب" ساخت کے باعث نہ صرف حیران کن قرار دی جا رہی ہے بلکہ سوشل میڈیا پر بھی خوب تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
اس سڑک کی سب سے نمایاں اور متنازعہ بات یہ ہے کہ روڈ کے عین درمیان میں بجلی کے کھمبے نصب کیے گئے ہیں، جو کہ نہ صرف ٹریفک کے لیے خطرناک ہیں بلکہ کسی بھی وقت سنگین حادثات کا سبب بن سکتے ہیں۔

مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ ضلع کا سب سے بڑا سرکاری ہسپتال، سول ہسپتال (ڈی ایچ کیو چمن) بھی اسی سڑک پر واقع ہے۔ ایسے میں ایمبولینسز اور ایمرجنسی سروسز کو آمد و رفت میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک ترقی کا نہیں، بدانتظامی کا شاہکار ہے۔"
ایک مقامی رہائشی نے کہا
ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ یہمنصوبہ کس انجینئر نے منظور کیا؟ کیا انسانی جانوں کی کوئی قدر نہیں؟"
تاحال بی اینڈ آر (B&R) ڈیپارٹمنٹ یا متعلقہ حکام کی طرف سے اس غیر معمولی ڈیزائن کی کوئی باقاعدہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ انجینئرز اور ٹھیکیداروں سے جواب طلبی کی جائے۔
عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام، خصوصاً کمشنر کوئٹہ، وزیر اعلیٰ بلوچستان اور وفاقی سطح پر متعلقہ وزارت سے اپیل کی ہے کہ اس سڑک کے ڈیزائن کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، اور بجلی کے کھمبوں کو فوری طور پر روڈ سے ہٹایا جائے تاکہ عوام کو حادثات سے بچایا جا سکے۔

کوئٹہ ۔زیارت سے اغوا کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر کو قتل کردیا گیاکوئٹہ۔اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ڈیڑھ ماہ قبل بیٹے سمیت اغوا کی...
21/09/2025

کوئٹہ ۔زیارت سے اغوا کیے گئے اسسٹنٹ کمشنر کو قتل کردیا گیا

کوئٹہ۔اسسٹنٹ کمشنر افضل باقی کو ڈیڑھ ماہ قبل بیٹے سمیت اغوا کیا گیا تھا

کوئٹہ۔افضل باقی کی لاش ہرنائی کے علاقے زردآلو سے برآمد کرلی گئی۔لیویز ذرائع

Address

Quetta

Telephone

+923333822349

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mastung Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mastung Times:

Share