17/03/2023
چین نے رواں ہفتے نام نہاد آکس معاہدے کے سرکاری اعلان پر متوقع ناراضگی کے ساتھ اپنا رد عمل بھی ظاہر کیا ہے۔
آکس معاہدے کی تفصیلات سوموار کے روز سان ڈیاگو میں منظر عام پر آئیں، جس کے مطابق بحر ہند اور بحر الکاہل کے علاقے میں چینی فوج کی توسیع کا مقابلہ کرنے کے لیے آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکہ نے ایک دور رس دفاعی اور سلامتی اتحاد قائم کیا ہے۔
اس سہ فریقی اتحاد کے بارے میں بیجنگ نے سنگین الزامات لگائے ہیں اور اس اتحاد کو ’خطرناک راستے پر گامزن ہونا، عالمی برادری کے خدشات کو نظر انداز کرنا‘ اور یہاں تک کہ ’ہتھیاروں کی نئی دوڑ اور جوہری پھیلاؤ کا خطرہ پیدا کرنا‘ قرار دیا ہے۔
جب سے امریکی کانگریس کی رہنما نینسی پلوسی نے گذشتہ موسم گرما میں تائیوان کا اپنا متنازع دورہ کیا، اس وقت سے چین نے مغربی اقدامات پر اسی قدر شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔
چین دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور اس کے پاس دنیا کی سب سے بڑی فوج اور بحریہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ مغربی بحرالکاہل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ’محصور‘ محسوس کرنے لگا ہے۔
صدر شی جن پنگ نے حال ہی میں اعلان کیا کہ چین اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کرے گا اور اس کی وجہ آنے والے برسوں میں قومی سلامتی سے متعلق بنیادی خدشات ہیں۔
ایسی صورتحال میں یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جب برطانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک نے رواں ہفتے یہ کہا کہ سامنے ایک خطرناک دہائی ہے اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کی ضرورت ہے۔
تو پھر آخر ہم اس مقام تک کیسے پہنچے اور کیا دنیا چین اور امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بحرالکاہل میں ایک تباہ کن تنازعے کے قریب پہنچ رہی ہے؟
مغرب نے چین کے بارے میں غلط اندازہ لگایا۔ برسوں تک مغربی ممالک کی خارجہ وزارتوں نے ایک بھولا بھالا مفروضہ بنا رکھا تھا کہ چین کی اقتصادی آزادی، معاشرے اور سیاسی آزادی کا باعث بنے گی۔
جب مغربی ملٹی نیشنل کمپنیاں مشترکہ منصوبے قائم کرنے لگیں اور کروڑوں چینی شہری اعلیٰ معیار زندگی سے لطف اندوز ہونے لگے تو یقیناً یہ دلیل سامنے آئی کہ چینی کمیونسٹ پارٹی (سی سی پی) آبادی پر اپنی گرفت ڈھیلی کر دے گی اور کچھ معمولی جمہوری اصلاحات کی اجازت دے گی اور اس طرح چین نام نہاد ’اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام‘ کا مکمل رکن بن جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا