PTM ALI KHAIL

PTM ALI KHAIL PTM:Ali Khail Kilasaifullah update (it's your official page)
PTM: Pashtun Tahafuz Movement
PTM:Human Right Movement

بلوچستان: کوئٹہ ہسپتال بھی غیر محفوظ؟ کوئٹہ سیول اسپتال میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پ...
06/06/2026

بلوچستان: کوئٹہ ہسپتال بھی غیر محفوظ؟ کوئٹہ سیول اسپتال میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ
لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر دوران ڈیوٹی تیزاب گردی انسانیت کے خلاف جرم، شفاف تحقیقات اور اصل ملوث کردار کو سخت سزا کا مطالبہ
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی: انسانیت، قانون اور معاشرتی اقدار کے خلاف ایک گھناؤنا جرم

کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکے جانے کا واقعہ انتہائی افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔
ایک خاتون ڈاکٹر، جس نے برسوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد طب کے شعبے میں اپنی جگہ بنائی، آج اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے وحشیانہ حملے کا شکار ہوئی جس کے اثرات زندگی بھر اس کے ساتھ رہیں گے۔

یہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے تحفظ، ڈاکٹر برادری کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تصور پر حملہ ہے۔ اگر ہسپتال جیسے حساس اور عوامی خدمت کے مراکز میں بھی خواتین اور طبی عملہ محفوظ نہیں، تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔

تیزاب گردی ان جرائم میں شمار ہوتی ہے جو صرف جسم کو نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، اعتماد اور مستقبل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے جرائم کے مرتکبین نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے امن اور اخلاقی اقدار پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے واقعات کو کسی بھی صورت معمول کا جرم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں۔ اگر اس جرم میں ایک سے زائد افراد، سہولت کار یا منصوبہ ساز ملوث ہیں تو انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انصاف صرف ملزم کی گرفتاری سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب واقعے کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کر کے ہر ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔

ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ ڈاکٹر کو بہترین طبی سہولیات، قانونی معاونت اور مکمل تحفظ فراہم کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں کسی خاتون، ڈاکٹر یا شہری کو اس قسم کی بربریت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ دراصل اس سوچ کا عکاس ہے جو خواتین کی کامیابی، خودمختاری اور معاشرے میں ان کے فعال کردار کو برداشت نہیں کر پاتی۔ ایسی سوچ کے خلاف صرف قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
چند سوالات جو جنم لے رہے ہیں:
(1) یہ شخص کیسے یہاں آیا اور یہاں انتظار کرتا رہا جب موقع پا لیا تو لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینک دیا؟
(2) اس کو تیزاب کس پکڑایا؟
(3) وہاں کی سیکورٹی کس نے ہٹائی اور اگر موجود تھی تو کہاں گئے؟
(4) اس شخص کے پستول میں اگر 20 گولیاں بھی ہو تو وہ تو ختم ہوتے ان کو پولیس نے کیوں قتل کیا؟
(5) قتل کرنے سے اصل کردار کو چھپایا گیا؟
(6) اسپتال انتظامیہ کہاں تھی اور اسپتال اتنا غیر محفوظ کیوں ہے؟
(7) اس شخص کو پکڑے کے بجائے قتل کیوں کیا؟
(8) اس شخص کے ساتھ کونسا با اثر شخص ملا ہوا ہے؟
(9) ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو سیول اسپتال کے بجائے آریا اسپتال کیوں منتقل کی گئی؟
(10) کیا اس بار باری ڈاکٹروں کی ہیں؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے، متاثرہ ڈاکٹر کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے، اور ہسپتالوں سمیت تمام عوامی اداروں میں خواتین اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انصاف میں تاخیر نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرے گی۔
PTM NEWS.



















نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو لاپتہ ہوئے 207 دن گزر چکے ہیں، مگر ان کے اہلِ خانہ آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہ...
06/06/2026

نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کو لاپتہ ہوئے 207 دن گزر چکے ہیں، مگر ان کے اہلِ خانہ آج بھی اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ہر گزرتا دن اس سوال کو مزید گہرا کر رہا ہے:
نوراللہ ترین اور حنیف پشتین کہاں ہیں؟
جبری گمشدگی کسی ایک فرد کا نہیں، پورے خاندان کا دکھ ہوتی ہے۔ ان کے اہلِ خانہ کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے پیاروں کے بارے میں جان سکیں اور انصاف حاصل کریں۔ �



04/06/2026

ایمل والی کو کس نے فون کیا کے آپ خیبر جرگے کی مخالفت کرو؟ کس کے کہنے پر خیبر جرگے کی ناکامی کا پلان بنایا؟ تفصیل کحچھ دیر بعد،

#𝐏𝐓𝐌𝐒𝐲𝐦𝐛𝐨𝐥𝐎𝐟𝐏𝐞𝐚𝐜𝐞

ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری طرف جانی خیل کے حالات گزشتہ کئی دنوں سے انتہائی خراب ہیں۔ کرفیو نافذ ہے، بمباری ہو رہی ...
03/06/2026

ایک طرف شمالی وزیرستان اور دوسری طرف جانی خیل کے حالات گزشتہ کئی دنوں سے انتہائی خراب ہیں۔ کرفیو نافذ ہے، بمباری ہو رہی ہے اور فوجی آپریشن جاری ہیں۔

آج بھی صبح میرانشاہ اور بنوں کے ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ نقصان عام عوام اٹھا رہے ہیں، جن کا ان حالات سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ جنگ اور بدامنی ہمارے پشتون وطن کو مسلسل تباہی کی طرف دھکیل رہی ہے۔ گھروں سے بے دخلی، خوف، عدم تحفظ اور جانی نقصانات نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔

آج کوئی بھی محفوظ نہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور اس خونریزی کا فوری خاتمہ کیا جائے۔

01/06/2026

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کے خلاف مقدمہ درج کرنا اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ پشتونخوا وطن کو آج بھی ایک نوآبادیاتی ذہنیت کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ پشتونوں کو نہ صرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ ان کے سیاسی حقوق کو بھی تسلیم نہیں کیا جا رہا۔
پشتون قوم اپنی ہی سرزمین پر استحصال کا شکار ہے، اور اب ان کی سیاسی رائے اور مؤقف کو بھی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔ پشتونوں کی پُرامن سیاسی تحریکوں اور جماعتوں پر پابندیاں لگانا، ان کے سیاسی بیانات پر مقدمات قائم کرنا، اور سیاسی آوازوں کو دبانے کی کوشش کرنا ایک نہایت خطرناک عمل ہے۔
اس طرزِ عمل سے نہ صرف استحصالی پالیسیوں کو دوام ملتا ہے بلکہ عوام کے جمہوری اور سیاسی حقوق بھی مزید محدود ہوتے ہیں۔ سیاسی اختلافِ رائے کو جرم بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

#𝐏𝐓𝐌𝐒𝐲𝐦𝐛𝐨𝐥𝐎𝐟𝐏𝐞𝐚𝐜𝐞
Manzoor Ahmad Pashteen

آفرین پر خپلو ننګیالیو خویندو ویاړ وکړئ💗🌸د پښتون ژغورنې غورځنګ ښځینه څانګه لخواه دی خړ کمر شهيدانو اوم تلین لمانځ غونډه ...
31/05/2026

آفرین
پر خپلو ننګیالیو خویندو ویاړ وکړئ💗🌸
د پښتون ژغورنې غورځنګ ښځینه څانګه لخواه دی خړ کمر شهيدانو اوم تلین لمانځ غونډه په کلی تاجوال کچلاغ کی ترسره شوه
د غورځنګ ملالو خويندو او ميندو خپلو ملی شهيدانو ته د عقیدت او احترام پېرزونې وړاندې کړي
Parwana Wazira

💔 افسوسناک خبر 💔باجوڑ کے علاقے ماموند شاہی تنگی سے انتہائی افسوسناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں ایک مبینہ ڈرون حملے کے ...
21/05/2026

💔 افسوسناک خبر 💔

باجوڑ کے علاقے ماموند شاہی تنگی سے انتہائی افسوسناک اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں ایک مبینہ ڈرون حملے کے نتیجے میں دو کمسن طالب علم شدید زخمی ہوگئے۔

بتایا جا رہا ہے کہ یہ معصوم بچے سکول سے تعلیم حاصل کرکے اپنے گھروں کی طرف واپس جا رہے تھے کہ اسی دوران ان پر ڈرون حملہ ہوا۔ دونوں زخمی بچوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کردیا گیا، تاہم افسوس کی بات ہے کہ دونوں بچے شہید ہوگئے۔

پشاور کی رہائشی ایک گیارہ سالہ بچی کو پشاور سے اغوا کر لیا گیا۔ ایک دو دن بعد سندھ پنجاب کے کچے کے ڈاکوؤں کی طرف سے فون ...
19/05/2026

پشاور کی رہائشی ایک گیارہ سالہ بچی کو پشاور سے اغوا کر لیا گیا۔ ایک دو دن بعد سندھ پنجاب کے کچے کے ڈاکوؤں کی طرف سے فون آتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر اپنی بیٹی کو واپس چاہتے ہو تو پندرہ لاکھ روپے لے کر آؤ۔

بچی کے گھر والے اپنے قیمتی زیورات اور سامان فروخت کرتے ہیں اور تقریباً دس لاکھ روپے جمع کر لیتے ہیں۔ پھر وہ سندھ کے علاقے خیرپور پہنچتے ہیں۔

ڈاکو مسلسل اس عورت سے رابطے میں رہتے ہیں اور اسے کہتے ہیں کہ فلاں پٹرول پمپ پر بیٹھ جاؤ۔ پھر وہاں بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیاں آتی ہیں اور اسی پٹرول پمپ سے اس ماں کو بھی رقم سمیت اغوا کر لیا جاتا ہے۔

اس کے بعد پہلے اغوا ہونے والی بچی کو ڈاکوؤں کے ایک دوسرے گروہ کے ہاتھ فروخت کر دیا جاتا ہے جبکہ ماں کو ایک اور گروہ اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ اب یہ ڈاکو اس ماں اور بیٹی کے رشتہ داروں سے دو دو کروڑ روپے تاوان طلب کر رہے ہیں۔

یہ ہے اسلامی جمہوری پاکستان کا حال۔

یا تو یہ تمام اغوا کاریاں اور بدامنی اس ریاست کے خفیہ اداروں کی سرپرستی اور رہنمائی میں ہو رہی ہیں، یا پھر وہ اتنے کمزور ہیں کہ انہیں کچھ معلوم ہی نہیں، صرف اپنے اوپر شیروں اور چیتوں کے نام رکھے ہوئے ہیں۔

کیونکہ یہاں خفیہ ادارے نہ چوروں کے پیچھے ہیں، نہ دہشت گردوں کے، نہ منشیات فروشوں کے، نہ اغوا کاروں کے، بلکہ صرف ہماری قوم کے علاقوں میں پی ٹی ایم کے کارکنوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ کبھی نور اللہ ترین اور حنیف پشتون کو اغوا کرتے ہیں، کبھی فرید آفریدی کو لاپتہ کرتے ہیں، کبھی دوسروں کے گھروں پر چھاپے مارتے ہیں یا دھمکیاں دیتے ہیں۔

— شاہ نام خان
#𝐏𝐓𝐌𝐒𝐲𝐦𝐛𝐨𝐥𝐎𝐟𝐏𝐞𝐚𝐜𝐞

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تو ڈرون حملوں میں شہید ہونے والے پختونخوا کے ایک ایک سال کے بچوں کے قتلِ عام کی بھی فکر نہی...
19/05/2026

پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو تو ڈرون حملوں میں شہید ہونے والے پختونخوا کے ایک ایک سال کے بچوں کے قتلِ عام کی بھی فکر نہیں ہے، تو ان پر اور کیا بات کی جائے۔
منظور پشتین













فوج نے کھلے الفاظ میں لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے گھر خالی کرو،اپنی زمین چھوڑ دو، اپنی مٹی چھوڑ دو، اپنی پہچان چھوڑ دو۔ ...
19/05/2026

فوج نے کھلے الفاظ میں لوگوں کو حکم دیا ہے کہ اپنے گھر خالی کرو،اپنی زمین چھوڑ دو، اپنی مٹی چھوڑ دو، اپنی پہچان چھوڑ دو۔ یہ کوئی سیکیورٹی نہیں، یہ کھلی جبری بے دخلی ہے!
سات دن سے کرفیو نافذ ہے، راستے بند، زندگی مفلوج،اور اب لوگ اپنے ہی گھروں سے پیدل نکالے جا رہے ہیں۔ بچے، بوڑھے، خواتین شدید گرمی میں بے یار و مددگار نکلنے پر مجبور ہیں۔
یہی دتہ خیل، یہی وزیرستان، جہاں بار بار آپریشنز کے نام پر پشتونوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا گیا۔ بار بار گھر چھوڑو، بار بار دربدر ہو، بار بار اپنی زندگی صفر سے شروع کرو،کیا یہی ریاست کا انصاف ہے؟
چودہ سال سے چالیس ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار یہاں موجود ہیں، ہر چھٹے فرد کے مقابلے میں ایک فوجی،پھر بھی عوام غیر محفوظ، پھر بھی لوگ بے گھر!
مسئلہ سیکیورٹی نہیں، مسئلہ قبضہ اور وسائل کی لوٹ مار ہے۔
ریاست نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس کے نزدیک پشتون کی جان، گھر، عزت کسی چیز کی کوئی قیمت نہیں۔
شمالی وزیرستان تحصیل دتہ خیل

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PTM ALI KHAIL posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share