06/06/2026
بلوچستان: کوئٹہ ہسپتال بھی غیر محفوظ؟ کوئٹہ سیول اسپتال میں انسانیت کو جھنجھوڑ دینے والا واقعہ
لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر دوران ڈیوٹی تیزاب گردی انسانیت کے خلاف جرم، شفاف تحقیقات اور اصل ملوث کردار کو سخت سزا کا مطالبہ
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب گردی: انسانیت، قانون اور معاشرتی اقدار کے خلاف ایک گھناؤنا جرم
کوئٹہ کے سنڈیمن سول ہسپتال میں دورانِ ڈیوٹی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکے جانے کا واقعہ انتہائی افسوسناک، دل دہلا دینے والا اور انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔
ایک خاتون ڈاکٹر، جس نے برسوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد طب کے شعبے میں اپنی جگہ بنائی، آج اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داری ادا کرتے ہوئے ایسے وحشیانہ حملے کا شکار ہوئی جس کے اثرات زندگی بھر اس کے ساتھ رہیں گے۔
یہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے تحفظ، ڈاکٹر برادری کے وقار اور قانون کی حکمرانی کے تصور پر حملہ ہے۔ اگر ہسپتال جیسے حساس اور عوامی خدمت کے مراکز میں بھی خواتین اور طبی عملہ محفوظ نہیں، تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
تیزاب گردی ان جرائم میں شمار ہوتی ہے جو صرف جسم کو نہیں بلکہ انسان کی شخصیت، اعتماد اور مستقبل کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ ایسے جرائم کے مرتکبین نہ صرف ایک فرد بلکہ پورے معاشرے کے امن اور اخلاقی اقدار پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے واقعات کو کسی بھی صورت معمول کا جرم سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل، شفاف، غیر جانبدارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں۔ اگر اس جرم میں ایک سے زائد افراد، سہولت کار یا منصوبہ ساز ملوث ہیں تو انہیں بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انصاف صرف ملزم کی گرفتاری سے مکمل نہیں ہوتا بلکہ اس وقت مکمل ہوتا ہے جب واقعے کے تمام پہلوؤں کو بے نقاب کر کے ہر ذمہ دار شخص کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جائے۔
ریاست اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ متاثرہ ڈاکٹر کو بہترین طبی سہولیات، قانونی معاونت اور مکمل تحفظ فراہم کریں۔ ساتھ ہی یہ بھی یقینی بنایا جائے کہ مستقبل میں کسی خاتون، ڈاکٹر یا شہری کو اس قسم کی بربریت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر حملہ دراصل اس سوچ کا عکاس ہے جو خواتین کی کامیابی، خودمختاری اور معاشرے میں ان کے فعال کردار کو برداشت نہیں کر پاتی۔ ایسی سوچ کے خلاف صرف قانونی کارروائی ہی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔
چند سوالات جو جنم لے رہے ہیں:
(1) یہ شخص کیسے یہاں آیا اور یہاں انتظار کرتا رہا جب موقع پا لیا تو لیڈی ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینک دیا؟
(2) اس کو تیزاب کس پکڑایا؟
(3) وہاں کی سیکورٹی کس نے ہٹائی اور اگر موجود تھی تو کہاں گئے؟
(4) اس شخص کے پستول میں اگر 20 گولیاں بھی ہو تو وہ تو ختم ہوتے ان کو پولیس نے کیوں قتل کیا؟
(5) قتل کرنے سے اصل کردار کو چھپایا گیا؟
(6) اسپتال انتظامیہ کہاں تھی اور اسپتال اتنا غیر محفوظ کیوں ہے؟
(7) اس شخص کو پکڑے کے بجائے قتل کیوں کیا؟
(8) اس شخص کے ساتھ کونسا با اثر شخص ملا ہوا ہے؟
(9) ڈاکٹر ماہ نور ناصر کو سیول اسپتال کے بجائے آریا اسپتال کیوں منتقل کی گئی؟
(10) کیا اس بار باری ڈاکٹروں کی ہیں؟
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا دی جائے، متاثرہ ڈاکٹر کو مکمل انصاف فراہم کیا جائے، اور ہسپتالوں سمیت تمام عوامی اداروں میں خواتین اور طبی عملے کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ انصاف میں تاخیر نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے معاشرے کے اعتماد کو مجروح کرے گی۔
PTM NEWS.