15/01/2026
آج پچھلے تین چار دنوں کی ذلت نے مجھے ایک گہرا سبق سکھایا ہے۔ یہ وہ احساس ہے جو انسان کو اندر تک ہلا دیتا ہے، اور اسے اپنی زندگی کے فیصلوں پر دوبارہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ بعض اوقات انسان کو سچائی آرام میں نہیں بلکہ تکلیف میں نظر آتی ہے۔
ان دنوں میں مجھے شدت سے یہ احساس ہوا کہ اللہ پاک نے جو برکت کاروبار میں رکھی ہے، وہ نوکری میں اس طرح نہیں ہوتی۔ نوکری میں انسان اپنی محنت دیتا ہے، مگر اس کی عزت اور اختیار اکثر دوسروں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ ایک لفظ، ایک رویہ یا ایک فیصلہ انسان کی خودداری کو مجروح کر سکتا ہے۔
ان ذلت بھرے لمحات کے بعد مجھے یہ سمجھ آیا کہ انسان کو صرف روزی نہیں بلکہ عزت کے ساتھ رزق چاہیے۔ جب آدمی اپنے قدموں پر خود کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اندر اعتماد، حوصلہ اور سکون پیدا ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔
کاروبار میں مشکلات ضرور ہیں، مگر اس میں خودداری بھی ہے۔ یہاں انسان اپنے فیصلے خود کرتا ہے، اپنے رب پر بھروسا کرتا ہے اور محنت کے بدلے میں برکت کی امید رکھتا ہے۔ یہ راستہ آسان نہیں، مگر یہ راستہ انسان کو جھکنے سے بچا لیتا ہے۔
میں یہ نہیں کہتا کہ نوکری غلط ہے، مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ جس نے کاروبار میں اللہ کی برکت کو محسوس کر لیا، وہ ذلت کے احساس کو دوبارہ قبول نہیں کرتا۔ اصل کامیابی وہ ہے جس میں عزت بھی ہو اور سکون بھی