22/08/2026
پہاڑوں کا سونا، زمین کے لاشیں: اسلام آباد کی کانفرنسیز اور بلوچستان کی سچی تصویر
تحریر: بشیر براھوی نمایندہ براھوی پوائنٹ دوحہ قطر
اسلام آباد کے پُرآسائش ایوان میں ایک بار پھر وہی پرانا ڈرامہ دہرایا گیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے حالات پر گفتگو کے لیے ایک اور عالی شان کانفرنس بلائی، جہاں روایتی چہروں، نمائشی رہنماؤں اور اسلام آباد کے اشاروں پر ناچنے والے چند نام نہاد سیاسی اکابرین کو جمع کر کے یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ حکومت کو بلوچستان کا بڑا درد ہے۔ وہی گرد آلود بیانیے دہرائے گئے، وہی پرانے دعوے کیے گئے اور وزیراعظم نے بظاہر بڑے فخر سے فرمایا: "بلوچستان ایک امیر ترین صوبہ ہے، اس کے پہاڑوں کے اندر بے شمار معدنیات، سونا، تانبا اور فولاد چھپا ہوا ہے۔"
یہ جملہ سن کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ 78 سال سے اسلام آباد کی نظر صرف بلوچستان کے پہاڑوں پر جمی ہوئی ہے، لیکن افسوس کہ انہی پہاڑوں کے سائے میں بسنے والے انسان کبھی ان ایوانوں کی ترجیح نہ بن سکے۔ مقتدر طبقے کو پہاڑوں کا سونا، تانبا اور آئل و گیس تو صاف نظر آتی ہے، لیکن ان پہاڑوں کے دامن میں ننگے پاؤں پھرتا وہ براہوئی اور بلوچ بچہ نظر نہیں آتا جس کے پاس پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔
وسائل پر نظر، انسان سے بے نیازی
حکمرانوں کو چاغی کا سونا اور ریکوڈک کے خزانے تو نظر آتے ہیں، لیکن انہیں وہ براہوئی اور بلوچ نظر نہیں آتا جو روزانہ علاج، تعلیم یا روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے اور علاقے کی سنگلاخ، خون آشام سڑکوں پر حادثات کا شکار ہو کر جان دے دیتا ہے۔ ان کو وہ ماؤں اور بہنوں کی سسکیاں نظر نہیں آتیں جو پچھلے 20، 20 سالوں سے اپنے پیاروں کی تصاویر ہاتھوں میں اٹھائے، پریس کلبوں کے باہر دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھی اپنے لاپتہ بیٹوں اور بھائیوں کا انتظار کر رہی ہیں۔
اسلام آباد میں جن لوگوں کو "بلوچستان کا نمائندہ" بنا کر بٹھایا جاتا ہے، وہ حقیقت میں بلوچستان کے عوام کے نمائندے ہیں ہی نہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا انتخاب عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ اقتدار کی راہداریوں میں ہوتا ہے۔ ان مصنوعی نمائندوں کی موجودگی میں براہوئی اور بلوچ عوام کے حقیقی مسائل کا حل ممکن ہی نہیں۔ یہ کانفرنسیں محض ایک لالی پاپ ہیں، ایک ایسا سیاسی دکھاوا جو گزشتہ سات دہائیوں سے اس خطے کے لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔
اصل سوال اور تلخ حقیقت
سوال یہ ہے کہ اگر بلوچستان واقعی اتنا امیر ہے، تو وہاں کا انسان اتنا غریب اور بے بس کیوں ہے؟ اگر وہ سونا اور تانبا براہوئی اور بلوچ کا ہے، تو اس کی قیمت براہوئی اور بلوچ کو لاپتہ لاشوں، خوف اور بدحالی کی صورت میں کیوں ادا کرنی پڑتی ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ جب تک آپ بلوچستان کو صرف "معدنیات کا ڈھیر" سمجھیں گے اور وہاں کے انسان کو "شہری" تسلیم کرنے سے انکاری رہیں گے، کوئی کانفرنس کامیاب نہیں ہو سکتی۔ بلوچستان کا مسئلہ معدنیات کا نہیں، انسانی حقوق، انصاف، عزت اور حقِ حاکمیت کا ہے۔
وقت کی پکار
اگر حکمران واقعی بلوچستان کے مسئلے کو حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، تو انہیں اسلام آباد کے مصنوعی ایوانوں سے نکل کر کوئٹہ، تربت، گوادر اور خضدار کے گلی کوچوں میں جانا ہوگا:
پہاڑوں سے معدنیات نکالنے سے پہلے براہوئی اور بلوچ عوام کے دلوں سے زخم اور خوف نکالنا ہوگا۔
لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کر کے قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنا ہوگا۔
جعلی نمائندوں کو مسلط کرنے کا سلسلہ بند کر کے حقیقی عوامی قیادت اور سوچ کا احترام کرنا ہوگا۔
بلوچستان کی شاہراہوں کو قتل گاہوں سے نکال کر محفوظ بنانا ہوگا اور صوبے کے وسائل کا پہلا حق وہاں کے عوام کو دینا ہوگا۔
اگر اب بھی یہ نہ سمجھا گیا اور سچی گفتگو کے بجائے نمائشی کانفرنسوں کے ذریعے وقت گزارا گیا، تو یاد رکھیں کہ مظلومیت کا یہ سمندر ایک دن تمام مصنوعی بندھنوں کو بہا لے جائے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ اسلام آباد اپنے رویے پر نظرثانی کرے—کیونکہ بلوچستان صرف معدنیات کے پہاڑ نہیں، جیتے جاگتے اور درد محسوس کرتے انسانوں کا نام ہے!