Balochistan24

Balochistan24 Balochistan’s Premier Multimedia Web TV
A Voice for the People of Balochistan
Sharing News, Stories, and Perspectives.
(1)

پنجاب میں کاروبار کے لیے پانچ کروڑ مگر بلوچستان کا نوجوان کس آس پر جیے؟تحریر: مرتضیٰ زیب زہری کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائیں ا...
09/01/2026

پنجاب میں کاروبار کے لیے پانچ کروڑ مگر بلوچستان کا نوجوان کس آس پر جیے؟

تحریر: مرتضیٰ زیب زہری

کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائیں اور پرنس روڈ کے گرم چائے خانے جہاں نوجوان سیاسی بحثوں میں اکثر الجھے دکھائی دیتے ہیں وہاں آج کل موضوع بحث سیاست سے زیادہ ایک اشتہار ہے۔

یہ اشتہار پنجاب حکومت کا ہے جو سوشل میڈیا پر بار بار ان نوجوانوں کی نظروں سے گزر رہا ہے۔

اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے پانچ کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے دے رہی ہے۔

کوئٹہ کے ایک کیفے میں بیٹھے 26 سالہ سلیم نے اپنی موبائل اسکرین سے نظریں ہٹائیں تو ان کے چہرے پر مایوسی واضح تھی۔

ڈبل ماسٹرز کی ڈگری ہونے کے باوجود وہ بے روزگار ہیں۔

سلیم جیسے ہزاروں نوجوانوں کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال ہے کہ اگر ایک صوبے میں ریاست ماں بن کر نوجوان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے سرمایہ دے سکتی ہے تو معدنیات سے مالا مال بلوچستان میں نوجوان صرف نوکری کی درخواستیں لے کر کیوں پھر رہے ہیں۔

بلوچستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی کی ہے جو نوجوانوں پر مشتمل ہے۔

یہ وہ بڑی افرادی قوت ہے جو کسی بھی خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے مگر یہاں یہ قوت مواقع نہ ہونے کے سبب زنگ آلود ہو رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔

جب پی ایچ ڈی اسکالر چپڑاسی کی نوکری کے لیے درخواست دینے پر مجبور ہو جائے تو سمجھ جانا چاہیے کہ معاملہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی المیے کا بھی ہے۔

اس سارے منظرنامے میں جو سب سے بڑی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے وہ صوبے کا اپنا کوئی بینک نہ ہونا ہے۔

پنجاب کے پاس دی بینک آف پنجاب ہے جو وہاں کی حکومت کے ویژن کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے بینک آف خیبر اور سندھ کے لیے سندھ بینک موجود ہے۔

مگر رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا اپنا کوئی مالیاتی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں۔

دی بینک آف بلوچستان کے قیام کا خواب کئی برسوں سے سرکاری فائلوں میں قید ہے۔

اسمبلی سے بل بھی پاس ہوئے اور وزراء نے اعلانات بھی کیے لیکن عملاً کچھ نہ ہو سکا اور یہ ادارہ کاغذوں سے نکل کر کبھی زمین پر نہ آ سکا۔

ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اگر آج بلوچستان کا اپنا بینک فعال ہوتا تو صوبائی حکومت کو کسی نجی بینک کی منت سماجت نہ کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کر سکتی تھی۔

ذرا تصور کریں کہ اگر یہاں کے نوجوانوں کو
سرمایہ مل جائے تو وہ کیا کچھ نہیں کر سکتے۔

بلوچستان کی آب و ہوا لائیو اسٹاک یعنی بھیڑ بکریوں کی فارمنگ کے لیے بہترین ہے۔

اگر جدید مشینری اور سرمایہ ہو تو یہ نوجوان گوشت اور اون کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔

اسی طرح چاغی اور دیگر اضلاع کے پہاڑ قیمتی پتھروں سے بھرے پڑے ہیں۔

سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پتھر کوڑیوں کے بھاؤ خام حالت میں بک جاتے ہیں۔

اگر نوجوانوں کو قرض ملے تو وہ کٹنگ اور پالشنگ کے یونٹ لگا کر اسی پتھر کی قیمت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔

گوادر اور ساحلی پٹی کے ماہی گیر آج بھی پرانے جال اور ٹوٹی کشتیوں کے سہارے سمندر میں اترتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کے لیے انہیں صرف حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔

پنجاب حکومت کے اشتہار میں ایک اور اہم نقطہ ریکوری کا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ
نوجوانوں نے 99 فیصد قرضے واپس کیے ہیں۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں پر اعتماد کیا جائے تو وہ مایوس نہیں کرتے۔

بلوچستان میں اکثر وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن ناقدین کے مطابق اصل مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔

جب سالانہ بجٹ بنتا ہے تو اربوں روپے سڑکوں اور عمارتوں کے لیے تو مختص کر دیے جاتے ہیں لیکن نوجوانوں کو کاروبار کروانے یا ہیومن ریسورس کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا۔

سلیم جیسے نوجوان آج بھی کوئٹہ کے چائے خانوں میں بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کبھی ان کی صوبائی حکومت بھی بینک آف بلوچستان کو فعال کر کے ان کی پشت پناہی کرے گی یا وہ ہمیشہ دوسرے صوبوں کے اشتہارات دیکھ کر صرف حسرت ہی کرتے رہیں گے۔

امام اور خدام مساجد کے لیے معاوضہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان کب پنجاب جیسے منصوبے کا اعلان کریں گے ؟تحریر: مرتضیٰ زیب زہریبصد ا...
09/01/2026

امام اور خدام مساجد کے لیے معاوضہ:وزیر اعلیٰ بلوچستان کب پنجاب جیسے منصوبے کا اعلان کریں گے ؟

تحریر: مرتضیٰ زیب زہری

بصد احترام میں ان قاری اور امام مسجد کا نام لیے بغیر ایک سبق آموز کہانی سنانے کی جسارت کروں گا کہ کس طرح ہمارے علمائے کرام مشکل ترین مالی حالات میں بھی دین کی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹتے اور اپنی خودداری کا سودا نہیں کرتے۔

بلوچستان کے ایک مشہور شہر میں ایک مسجد کے عالم دین روزی روٹی کے لیے ایک تندور پر بیٹھتے تھے اور صبح فجر کی نماز کے بعد سے عشاء کی نماز تک وہ امام صاحب صرف پانچوں وقت کی نمازوں کی امامت کے لیے مسجد کا رخ کرتے اور باقی تمام وقت تندور پر سخت مشقت کرتے تھے جس کی انہیں انتہائی معمولی اجرت ملتی تھی۔

امامت کی تنخواہ کا دارومدار محلے کے چندے پر تھا جو موجودہ بدترین مہنگائی کے دور میں انتہائی کم تھی اور کرایے کا مکان گھر کے اخراجات اور راشن وغیرہ کا بوجھ اٹھانا ان کے لیے ناممکن ہوتا جا رہا تھا مگر ان کی زبان پر کبھی شکوہ نہیں آیا۔

ان کے بقول معاشرے کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ اگر میں تنخواہ بڑھانے کی بات کروں گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ ملا اب پیسوں کا شوقین ہو گیا ہے اس لیے میں منہ بھی نہیں کھول سکتا چاہے گھر میں فاقوں کی نوبت ہی کیوں نہ آ جائے۔

یہ معاملہ اس ایک عالم دین کا نہیں بلکہ ہر جگہ صورت حال ایسی ہی ہے کیونکہ مدارس بھی زیادہ تر چندے پر چلتے ہیں اور کوئی حکومتی معاونت یا سرپرستی حاصل نہیں ہے۔

بطور قوم ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اسکولوں کو بچوں کی دنیاوی تعلیم کے عوض ہزاروں روپے فیس اور اخراجات دیتے ہوئے خوش ہوتے ہیں مگر جب بات دین کی آتی ہے تو ہم بچوں کو قرآن پاک پڑھانے والے قاری سے مفت پڑھانے یا انتہائی کم فیس پر راضی ہونے کی آس لگائے بیٹھتے ہیں۔

خوشی کا موقع ہو یا شادی ہو یا پھر بچے کی پیدائش کے
بعد اس کے کان میں اذان دینے کا معاملہ ہو اور یہاں تک کہ اموات کے دوران مردے کے غسل اور کفن دفن کے وقت بھی ہمیں یہی عالم دین یاد آتے ہیں اور کسی دینی مسئلے میں

فتویٰ لینے کے لیے بھی ہم انہی کے پاس بھاگتے ہیں۔
مگر افسوس کہ نجی محفلوں میں ہم انہیں حلوہ والا ملا اور پتا نہیں کن کن القابات سے نوازتے ہیں حالانکہ اسلام میں ان کا مقام بہت بلند ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور انبیاء نے درہم و دینار کا وارث نہیں بنایا بلکہ انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے۔

اس قدر بلند رتبہ رکھنے والی ہستیوں کو ہم نے معاشرے میں معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیا ہے کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کے لیے بھی پریشان رہتے ہیں۔

پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کے ایک ویڈیو کلپ کو دیکھنے کے بعد میں یہ تحریر لکھنے پر مجبور ہوا کیونکہ گزشتہ دنوں ایک تقریب میں پنجاب حکومت نے دی بینک آف پنجاب کے تعاون سے صوبے کی اسی ہزار مساجد کے اماموں اور خدام کو سرکاری وظیفہ دینے کے فیصلے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔

مریم نواز کی وہ تقریر رقت آمیز تھی کیونکہ وہ علمائے دین کو یہ کہہ رہی تھیں کہ اب کوئی عالم دین چندہ نہیں مانگے گا بلکہ ان کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اب ریاست پر عائد ہوتی ہے اور اس اقدام نے چند لمحوں کے لیے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید ہمارا ملک واقعی ایک فلاحی ریاست کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔

اس ویڈیو سے معلوم پڑا کہ اسی ہزار مساجد میں سے ستر ہزار مساجد کے علماء نے درخواستیں جمع کروائی ہیں جن کو ماہانہ پچیس ہزار روپے وظیفہ دیا جائے گا اور پنجاب حکومت نے اس عظیم الشان اقدام پر سالانہ بیس ارب روپے مختص کیے ہیں۔

بلوچستان میں بھی محکمہ اوقاف موجود ہے جو مساجد کی تعمیر و مرمت کے فنڈز تو فراہم کرتا ہے مگر ان مسجدوں کو آباد رکھنے والے عالم دین کا کسی کو خیال نہیں ہے۔

پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی حال ہی میں جاری کردہ پہلی اکنامک سینسز رپورٹ اگست دو ہزار پچیس کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان میں مساجد کی کل تعداد کا تخمینہ تقریباً چھتیس ہزار لگایا گیا ہے۔

بلوچستان حکومت کو بھی اب جاگنا ہوگا اور ایسا ہی فلاحی منصوبہ شروع کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے علمائے دین اپنی سفید پوشی کے باعث کسی کو اپنا مالی حال نہیں بتا پاتے مگر شاید وہ بھی اب وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ وہ کب ایسا تاریخی اقدام کریں گے۔

’ریاست نے گلے لگا لیا ‘: مایوس رکشہ ڈرائیور اور وزیراعلیٰ کی جذباتی ملاقات جس نے سب کے دل جیت لیےتحریر:مرتضیٰ زیب زہریبد...
07/01/2026

’ریاست نے گلے لگا لیا ‘: مایوس رکشہ ڈرائیور اور وزیراعلیٰ کی جذباتی ملاقات جس نے سب کے دل جیت لیے

تحریر:مرتضیٰ زیب زہری

بدھ کی شام کوئٹہ کے سوشل میڈیا حلقوں میں دو مختلف ویڈیوز زیرِ گردش رہیں۔ ایک میں مایوسی اور غصے کی انتہا تھی تو دوسری میں ریاست کی جانب سے ’دادرسی‘ کا منظر۔۔

یہ کہانی عبدالنبی مینگل نامی ایک لوڈر رکشہ ڈرائیور کی ہے جنہوں نے مبینہ طور پر ٹریفک پولیس کے رویے سے تنگ آ کر سرِ عام اپنی روزی روٹی کے واحد ذریعے یعنی رکشے کو آگ لگا دی، اور پھر اس کے نتیجے میں وزیراعلیٰ ہاؤس کے دروازے ان پر کھل گئے۔

یہ واقعہ جہاں ایک غریب محنت کش کی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ کیا انتظامیہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اب ’وائرل‘ ہونا ہی واحد راستہ رہ گیا ہے؟

واقعہ کیا تھا؟

منگل کے روز کوئٹہ کی مصروف ترین ائیرپورٹ روڈ پر اس وقت ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور لوگ جمع ہو گئے جب ایک شخص نے غصے کے عالم میں اپنے ہی لوڈر رکشے کو نذرِ آتش کر دیا۔

یہ شخص عبدالنبی مینگل تھے، جو پیشے کے اعتبار سے رکشہ ڈرائیور ہیں۔ عینی شاہدین اور سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز کے مطابق، عبدالنبی کا الزام تھا کہ ٹریفک پولیس کے اہلکار انہیں بلاوجہ تنگ کر رہے تھے اور مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کر رہے تھے۔

جب ان کی برداشت جواب دے گئی تو انہوں نے احتجاجاً اپنے رکشے کو آگ لگا دی۔ کوئٹہ جیسے شہر میں، جہاں متوسط اور نچلے طبقے کے لیے مہنگائی کے اس دور میں باعزت روزگار کمانا پہلے ہی ایک چیلنج ہے، ایک محنت کش کا اپنی ہی سواری کو جلا دینا شہریوں کے لیے گہرے صدمے کا باعث بنا۔

وزیراعلیٰ سے ملاقات اور مکالمہ

سوشل میڈیا پر رکشہ جلانے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد صوبائی حکومت متحرک ہوئی۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عبدالنبی مینگل سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کی جاری کردہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان رکشہ ڈرائیور سے استفسار کرتے ہیں کہ ’آپ کو کون تنگ کرتا ہے اور پریشانی کیا ہے؟

عبدالنبی، جن کے چہرے پر پریشانی اور آنکھوں میں نمی واضح تھی، شکایت کرتے ہیں کہ وہ ٹریفک پولیس اہلکاروں کے رویے سے تنگ ہیں۔

اس پر وزیراعلیٰ فوری ردعمل دیتے ہوئے متعلقہ اہلکار کو معطل کرنے کے احکامات جاری کرتے ہیں اور سخت الفاظ میں تنبیہ کرتے ہیں۔

ملاقات کے دوران ایک جذباتی لمحہ اس وقت آیا جب دادرسی ہونے پر عبدالنبی نے نم آنکھوں کے ساتھ وزیراعلیٰ کے ہاتھ چوم لیے۔

وزیراعلیٰ نے رکشے کے نقصان کے ازالے کے لیے عبدالنبی کی مالی معاونت کی لیکن ساتھ ہی انہیں ایک نصیحت بھی کی جو شاید اس پورے واقعے کا مرکزی نکتہ ہے۔

سرفراز بگٹی نے ڈرائیور کو سمجھاتے ہوئے کہا ”غصہ نہیں کرنا، آج رکشے کو جلایا ہے کل خود کو جلاؤ گے۔“

عوامی ردعمل: تحسین اور تنقید

جیسے ہی رکشہ جلانے کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ویسے ہی وزیراعلیٰ اور ڈرائیور کی ملاقات کی ویڈیو نے بھی انٹرنیٹ پر توجہ حاصل کر لی۔ عوامی ردعمل ملا جلا مگر زیادہ تر مثبت رہا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کی بڑی تعداد نے اسے ’بروقت اقدام‘ قرار دیا۔
حجت علی نامی صارف نے اسے وزیراعلیٰ کا احسن اقدام کہا۔

سعید خان نے تبصرہ کیا کہ ”آپ نے ہم جیسے مظلوموں کا دل جیت لیا ہے۔ “

پائند خان بابر نے لکھا کہ وزیراعلیٰ میں تکبر نہیں ہے اور ان کی یہ خوبی انہیں بھائی ہے۔

تاہم، تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ جہاں عامر علی خان جیسے صارفین نے اس مسئلے کے مستقل حل کی تجویز دی، وہیں تقریباً دس فیصد کمنٹس ایسے بھی تھے جن میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔

کچھ صارفین نے اسے ’محض اداکاری‘ یا سیاسی پوائنٹ سکورنگ قرار دیا۔

ان کا استدلال تھا کہ کیمرے کے سامنے ہونے والی ہمدردی اکثر عارضی ثابت ہوتی ہے۔

کوئٹہ میں ٹریفک پولیس اور عوامی شکایات

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کوئٹہ میں کسی شہری اور ٹریفک پولیس کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہو۔ ماضی میں بھی تاجر برادری اور ٹرانسپورٹرز ٹریفک پولیس کی جانب سے مبینہ بھتہ خوری اور نامناسب رویے کی شکایات کرتے رہے ہیں۔

شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے اور اکثر مقامات پر اہلکار ٹریفک کنٹرول کرنے کے بجائے چالان یا دیگر معاملات میں زیادہ دلچسپی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔

ملاقات کے بعد عبدالنبی مینگل مطمئن دکھائی دیے اور انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ وزیراعلیٰ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے انہیں انصاف اور ان کا حق دلایا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ کو ”غریبوں کا مددگار“ قرار دیا۔

بظاہر عبدالنبی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

انہیں مالی مدد بھی مل گئی اور ذمہ دار اہلکار معطل بھی ہو گیا۔ لیکن تجزیہ کاروں کے نزدیک اصل سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

کیا نظام میں بہتری لائے بغیر محض انفرادی سطح پر داد رسی کافی ہے؟

اور کیا ہر مظلوم کو انصاف حاصل کرنے کے لیے اب اپنی املاک کو آگ لگا کر ویڈیو وائرل کروانا ہوگی؟

یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب آنا ابھی باقی ہے۔

07/01/2026

دنیا کے کس ملک میں پیدائش کے 6 دن بعد بچی کے دانت نکل آئے۔
؟؟؟ تفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻

07/01/2026

رمضان المبارک کا چاند کب نظر آئے گا؟
؟؟؟ تفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻

بلوچستان: اعلیٰ تعلیم کا معیار یہ ہےتفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻
06/01/2026

بلوچستان: اعلیٰ تعلیم کا معیار یہ ہے
تفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻

بلوچستان: عسکری قیادت کا وزیر اعلیٰ پر اعتماد کیا صوبہ ’نئے دور‘ میں داخل ہو رہا ہے؟تحریر: عابد علی عابداسلام آباد میں ڈ...
06/01/2026

بلوچستان: عسکری قیادت کا وزیر اعلیٰ پر اعتماد کیا صوبہ
’نئے دور‘ میں داخل ہو رہا ہے؟

تحریر: عابد علی عابد

اسلام آباد میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس نے جہاں ملکی سلامتی کے کئی اہم پہلوؤں کا احاطہ کیا وہیں بلوچستان کے حوالے سے ان کی گفتگو کو سیاسی اور دفاعی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی کارکردگی کی کھل کر تعریف کرنا صوبائی حکومت کے لیے ایک بڑے ’اعتماد کے ووٹ‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ماضی سے پیوستہ حال سیاسی مبصرین کی رائے

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی میں بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ اکثر اختیارات کی کمی اور وفاق یا اداروں کی جانب سے عدم تعاون کا شکوہ کرتے نظر آتے تھے۔

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کا یہ بیان کہ "وزیر اعلیٰ قیام امن کے لیے بہترین کام کر رہے ہیں" اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ سیٹ اپ میں سول اور عسکری قیادت کے درمیان ’مثالی ہم آہنگی‘ پائی جاتی ہے۔

اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے معاملات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے خود کو محض ایک روایتی سیاستدان کے بجائے ایک منتظم کے طور پر منوایا ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جس نے ریاست کو ان کی پشت پناہی پر قائل کیا ہے۔

ترقی بمقابلہ انسرجنسی نئی حکمت عملی

دفاعی امور کے ماہرین کا تجزیہ ہے کہ بلوچستان میں شورش (Insurgency) کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاست نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی ہے۔

اب سیکیورٹی آپریشنز کے ساتھ ساتھ ’ترقیاتی ماڈل‘ کو فرنٹ لائن پر لایا گیا ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے 127 مکمل اور 949 جاری منصوبوں کے اعداد و شمار پیش کرنا تجزیہ کاروں کے نزدیک اس بیانیے کی نفی ہے کہ بلوچستان میں کام نہیں ہو رہا۔

ماہرین معاشیات کا ماننا ہے کہ جب تک عام آدمی کی جیب پر اثر نہیں پڑے گا امن قائم نہیں ہو سکتا اور موجودہ حکومت
اسی اصول پر کام کر رہی ہے۔

ضلعی سطح پر فنڈز اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی
بلوچستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے مبصرین ضلعی سطح پر کوآرڈینیشن کمیٹیوں کے قیام اور فنڈز کی براہِ راست فراہمی کو ایک ’گیم چینجر‘ قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں ترقیاتی فنڈز کوئٹہ کے ایوانوں یا بااثر وزراء کی جیبوں تک محدود رہتے تھے جس سے پسماندہ اضلاع میں محرومی جنم لیتی تھی۔

ہر ضلع کے لیے فنڈز کو ایک ارب سے بڑھا کر تین ارب روپے تک لے جانے کا فیصلہ مبصرین کے مطابق عوامی شکایات کے ازالے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

اس سے یہ تاثر زائل کرنے میں مدد ملے گی کہ وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ ہے۔

سیکیورٹی اور سیاسی گٹھ جوڑ کا خاتمہ

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق بلوچستان حکومت کی جانب سے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اپنی پولیس فورس کو بااختیار بنانا چاہتی ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ ماضی میں بلوچستان میں دہشت گردی اور سیاست کا ایک پیچیدہ گٹھ جوڑ موجود تھا جسے توڑنا ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

تاہم ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ قیادت نے اس ’ریڈ لائن‘ کو عبور کر لیا ہے اور اب جرائم پیشہ عناصر کو سیاسی پناہ گاہیں میسر نہیں ہیں۔

’فتنہ الخوارج‘ اور مذاکرات کا باب

مبصرین کی رائے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے یہ دو ٹوک پیغام کہ "فتنہ الخوارج سے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے" صوبائی حکومت کے لیے بھی پالیسی گائیڈ لائن ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس واضح موقف کے بعد اب صوبائی حکومت کسی ابہام کا شکار ہوئے بغیر ریاست کی رٹ قائم کر سکے گی۔

فیلڈ مارشل کے وژن کا حوالہ دے کر یہ پیغام دیا گیا ہے کہ اب فیصلے ’طاقت‘ اور ’ترقی‘ کے امتزاج سے ہوں گے نہ کہ کمزوری کی بنیاد پر۔

مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ اگر ان اعلانات اور منصوبوں پر اسی رفتار سے عملدرآمد جاری رہا تو بلوچستان میں جاری بے چینی کو ختم کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے تاہم اس کے لیے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ عوامی سطح پر حقائق کو درست تناظر میں پیش کیا جا سکے۔

06/01/2026

وینزویلا پر امریکی حملہ اور
ڈیرہ اللّٰہ یار ؟؟؟ تفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻

05/01/2026

’دسمبر خونی ثابت ہوا‘: ذمہ دار کون؟
تفصیلات پہلے کمنٹ میں 👇🏻👇🏻

05/01/2026

’دسمبر خونی ثابت ہوا‘: ذمہ دار کون؟
تفصیلات پہلے کمنٹ میں
👇🏻👇🏻

2022 کا سیلاب: جعفرآباد کے زخم آج بھی تازہسال 2022 میں جعفرآباد سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آنے والے تباہ کن سیلاب ...
05/01/2026

2022 کا سیلاب: جعفرآباد کے زخم آج بھی تازہ

سال 2022 میں جعفرآباد سمیت بلوچستان کے مختلف اضلاع میں آنے والے تباہ کن سیلاب نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔ سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لاکھوں ایکڑ زرعی زمین اور مکانات تباہ ہوئے، جبکہ متاثرین آج بھی بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔

فوٹوگرافی: عنایت اللہ حر

Address

Jinnah Road
Quetta Cantonment
87800

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan24 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Balochistan24:

Share