09/01/2026
پنجاب میں کاروبار کے لیے پانچ کروڑ مگر بلوچستان کا نوجوان کس آس پر جیے؟
تحریر: مرتضیٰ زیب زہری
کوئٹہ کی یخ بستہ ہوائیں اور پرنس روڈ کے گرم چائے خانے جہاں نوجوان سیاسی بحثوں میں اکثر الجھے دکھائی دیتے ہیں وہاں آج کل موضوع بحث سیاست سے زیادہ ایک اشتہار ہے۔
یہ اشتہار پنجاب حکومت کا ہے جو سوشل میڈیا پر بار بار ان نوجوانوں کی نظروں سے گزر رہا ہے۔
اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حکومت نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے پانچ کروڑ روپے تک کے بلاسود قرضے دے رہی ہے۔
کوئٹہ کے ایک کیفے میں بیٹھے 26 سالہ سلیم نے اپنی موبائل اسکرین سے نظریں ہٹائیں تو ان کے چہرے پر مایوسی واضح تھی۔
ڈبل ماسٹرز کی ڈگری ہونے کے باوجود وہ بے روزگار ہیں۔
سلیم جیسے ہزاروں نوجوانوں کے ذہن میں صرف ایک ہی سوال ہے کہ اگر ایک صوبے میں ریاست ماں بن کر نوجوان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے سرمایہ دے سکتی ہے تو معدنیات سے مالا مال بلوچستان میں نوجوان صرف نوکری کی درخواستیں لے کر کیوں پھر رہے ہیں۔
بلوچستان کی 60 فیصد سے زائد آبادی کی ہے جو نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
یہ وہ بڑی افرادی قوت ہے جو کسی بھی خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے مگر یہاں یہ قوت مواقع نہ ہونے کے سبب زنگ آلود ہو رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقیاتی پروگرام کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ بلوچستان میں غربت کی شرح خطرناک حد تک زیادہ ہے۔
جب پی ایچ ڈی اسکالر چپڑاسی کی نوکری کے لیے درخواست دینے پر مجبور ہو جائے تو سمجھ جانا چاہیے کہ معاملہ صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی المیے کا بھی ہے۔
اس سارے منظرنامے میں جو سب سے بڑی کمی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے وہ صوبے کا اپنا کوئی بینک نہ ہونا ہے۔
پنجاب کے پاس دی بینک آف پنجاب ہے جو وہاں کی حکومت کے ویژن کو عملی جامہ پہنا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کے لیے بینک آف خیبر اور سندھ کے لیے سندھ بینک موجود ہے۔
مگر رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا اپنا کوئی مالیاتی ادارہ سرے سے موجود ہی نہیں۔
دی بینک آف بلوچستان کے قیام کا خواب کئی برسوں سے سرکاری فائلوں میں قید ہے۔
اسمبلی سے بل بھی پاس ہوئے اور وزراء نے اعلانات بھی کیے لیکن عملاً کچھ نہ ہو سکا اور یہ ادارہ کاغذوں سے نکل کر کبھی زمین پر نہ آ سکا۔
ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اگر آج بلوچستان کا اپنا بینک فعال ہوتا تو صوبائی حکومت کو کسی نجی بینک کی منت سماجت نہ کرنی پڑتی بلکہ وہ اپنے ادارے کے ذریعے نوجوانوں کو بلاسود قرضے فراہم کر سکتی تھی۔
ذرا تصور کریں کہ اگر یہاں کے نوجوانوں کو
سرمایہ مل جائے تو وہ کیا کچھ نہیں کر سکتے۔
بلوچستان کی آب و ہوا لائیو اسٹاک یعنی بھیڑ بکریوں کی فارمنگ کے لیے بہترین ہے۔
اگر جدید مشینری اور سرمایہ ہو تو یہ نوجوان گوشت اور اون کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچا سکتے ہیں۔
اسی طرح چاغی اور دیگر اضلاع کے پہاڑ قیمتی پتھروں سے بھرے پڑے ہیں۔
سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پتھر کوڑیوں کے بھاؤ خام حالت میں بک جاتے ہیں۔
اگر نوجوانوں کو قرض ملے تو وہ کٹنگ اور پالشنگ کے یونٹ لگا کر اسی پتھر کی قیمت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
گوادر اور ساحلی پٹی کے ماہی گیر آج بھی پرانے جال اور ٹوٹی کشتیوں کے سہارے سمندر میں اترتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی کے لیے انہیں صرف حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت کے اشتہار میں ایک اور اہم نقطہ ریکوری کا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ
نوجوانوں نے 99 فیصد قرضے واپس کیے ہیں۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں پر اعتماد کیا جائے تو وہ مایوس نہیں کرتے۔
بلوچستان میں اکثر وسائل کی کمی کا رونا رویا جاتا ہے لیکن ناقدین کے مطابق اصل مسئلہ وسائل کا نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔
جب سالانہ بجٹ بنتا ہے تو اربوں روپے سڑکوں اور عمارتوں کے لیے تو مختص کر دیے جاتے ہیں لیکن نوجوانوں کو کاروبار کروانے یا ہیومن ریسورس کی ترقی کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ سامنے نہیں آتا۔
سلیم جیسے نوجوان آج بھی کوئٹہ کے چائے خانوں میں بیٹھے یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا کبھی ان کی صوبائی حکومت بھی بینک آف بلوچستان کو فعال کر کے ان کی پشت پناہی کرے گی یا وہ ہمیشہ دوسرے صوبوں کے اشتہارات دیکھ کر صرف حسرت ہی کرتے رہیں گے۔