Balochistan News Network

Balochistan News Network A News Channel
Through this news channel (BNN) which you will be able to watch and read news all over Balochistan.

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین بی این پی کے  رہنما نزیر بلوچ نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سوراب کے نومنتخب ...
10/05/2026

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین بی این پی کے رہنما نزیر بلوچ نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سوراب کے نومنتخب صدر منیر آزاد ایڈووکیٹ کو دلی مبارک باد پیش کی ہے۔
نزیر بلوچ نے کہا کہ وکلاء برادری کسی بھی مہذب معاشرے میں انصاف، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے تحفظ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سوراب کی نئی منتخب قیادت اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے انسانی حقوق کے فروغ، عدلیہ کی آزادی، آئین و قانون کی عملداری، اور غریب و نادار سائلین کو بروقت اور مؤثر قانونی معاونت کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حالات میں وکلاء پر یہ اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں انصاف کے قیام، مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ، اور قانونی اداروں پر عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ نزیر بلوچ نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی نومنتخب کابینہ کی مثبت کاوشوں کی مکمل حوصلہ افزائی اور ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے تاکہ سوراب میں انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
انہوں نے منیر آزاد ایڈووکیٹ اور ان کی پوری ٹیم کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ذریعے وکلاء برادری اور عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین،بی این پی کے رہنما نزیر بلوچ نے بی این پی کے بانی رہنما و سیاسی کارکن محم...
04/05/2026

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق مرکزی چیئرمین،بی این پی کے رہنما نزیر بلوچ نے بی این پی کے بانی رہنما و سیاسی کارکن محمد غوث بلوچ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کہ ہے اللہ پاک مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ و لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے ۔
انہوں نے محمد غوث بلوچ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمد غوث بلوچ ایک محنت کش سیاسی کارکن تھے جہنوں نے کھٹن حالات کے باوجود ہمیشہ پرامن جدوجہد کو تقویت بخشی و زندگی بھر پارٹی و تحریک کے ساتھ مخلص رہے انکی جدوجہد تمام سیاسی کارکنوں کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔

بلوچستان میں سیاسی اختلاف کو سیکیورٹی مسئلہ بنانا غیر دانشمندانہ اور جمہوری روایات کے منافی ہے: نزیر بلوچبلوچستان اسمبلی...
23/01/2026

بلوچستان میں سیاسی اختلاف کو سیکیورٹی مسئلہ بنانا غیر دانشمندانہ اور جمہوری روایات کے منافی ہے: نزیر بلوچ

بلوچستان اسمبلی اگر متحرک ہوتی تو اساتذہ اپنے مطالبات کے لئے سڑکوں پر نشان عبرت نہ بنا دئیے جاتے ۔ نزیر بلوچ

کوئٹہ،
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سیاسی اختلافِ رائے، احتجاجی عمل اور عوامی مسائل کو سیکیورٹی کے تناظر میں دیکھنا، یا پورے صوبے کو نام کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر یرغمال بنانا نہ صرف غیر دانشمندانہ ہے بلکہ یہ سیاسی، انتظامی اور بلوچستان کی مثبت جمہوری روایات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں اساتذہ کے پُرامن احتجاج کو جس انداز میں کاؤنٹر انسرجنسی کے خود ساختہ دانشوروں اور عمل درآمدی گروہ نے بلیک میلنگ قرار دے کر دبانے کی کوشش کی، اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ موجودہ برائے نام اسمبلی عوامی خواہشات اور خیالات سے مکمل طور پر کٹ چکی ہے اور محض اپنی مراعات اور تنخواہوں کے تحفظ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔

نزیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں جاری سیاسی اور انسانی المیے کو وقتی ردعمل یا چند واقعات کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے تاریخی حقائق، مقامی رسم و رواج اور زمینی مسائل کو سامنے رکھ کر سنجیدہ سیاسی فہم کے ساتھ حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر حکومتی رِٹ اس حد تک کمزور ہوچکی ہے کہ اساتذہ کو اپنے جائز مطالبات، خصوصاً تنخواہوں میں اضافے کے لیے احتجاج پر سڑکوں پر گھسیٹا جائے، تو یہ تشویش ناک امر ہے کہ مستقبل میں بڑے عوامی احتجاجوں کو کس جارحانہ حکمتِ عملی سے نمٹنے کی سوچ رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ عوامی سطح پر غیر مقبول اور تنہائی کا شکار ہوچکا ہے، اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے ہر احتجاج، سیاسی عمل یا تنظیم سازی کو ریاست مخالف یا بلیک میلنگ قرار دیا جا رہا ہے۔ حالانکہ مسائل کو سیاسی تدبر، مکالمے اور آئینی اداروں کے ذریعے خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
اگر بلوچستان اسمبلی واقعی عوامی نمائندہ ادارہ ہوتی اور ملازمین کے مسائل پر سنجیدگی سے متحرک کردار ادا کرتی، تو اساتذہ کرام کو سڑکوں پر گھسیٹ کر عبرت کا نشان بنانے کی نوبت کبھی نہ آتی۔ یہ طرزِ عمل نیا نہیں، بلکہ گزشتہ برس بھی تعلیمی اداروں کے ہاسٹلز سے طلبہ کو زبردستی نکال کر خوف کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔
عوامی بیداری سے خوف اور یکطرفہ بیانیہ سازی بلوچستان کے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انجمن سازی، مکالمے اور باشعور طبقات کی آواز کو سنا جائے اور مسائل کا حل سیاسی و جمہوری طریقے سے نکالا جائے، کیونکہ جبر اور یکطرفہ پالیسیوں سے مسائل کم ہونے کے بجائے مزید سنگین ہو رہے ہیں۔

جنریشن گیپ و جدید صدی کے حقائق سے نابلد حکمران و پالیسی ساز طاقت کو حل قرار دے کر تمام مکاتب فکر کو دیوار سے لگا رہے ہے۔...
11/01/2026

جنریشن گیپ و جدید صدی کے حقائق سے نابلد حکمران و پالیسی ساز طاقت کو حل قرار دے کر تمام مکاتب فکر کو دیوار سے لگا رہے ہے۔نزیر بلوچ سابق چیئرمین بی ایس او
کوئٹہ،
بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما،بی ایس او کے سابق نے چیئرمین نزیر بلوچ نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت اختلاف رائے و احتجاج کی بنیاد پر تمام مکاتب فکر کو دیوار سے لگا رہی ہے 38 کے قریب پروفیسرز کو معطل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت تنقید و اصلاح کی گنجائش کے بجائے طاقت و من مانی پر یقین رکھتی ہے انہوں نے مزید کہ کہ سرکاری پالیسی ساز اور اختیار دار جنریشن گیپ اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کے تقاضوں کو سمجھنے کے بجائے طاقت کے استعمال، روایتی خوشامد پسندی اور اختلافِ رائے کو غداری و دشمنی قرار دے کر بلوچستان میں جاری انسانی المیے کو مزید الجھا رہے ہیں۔ محض الزامات، میڈیا وار اور من گھڑت بیانیے تشکیل دے کر تنقیدی سوچ کو دبانے کی پالیسی وقتی طور پر خاموشی تو پیدا کر سکتی ہے، مگر یہ مسائل کا مستقل حل ہرگز نہیں۔
انہوں نے کہا کہ حقیقی حل مسائل کی سنگینی کو تسلیم کرنے، معاشرے میں پروان چڑھائے گئے منفی رویوں کے خاتمے اور عوامی سطح پر قبولیت پیدا کرنے میں ہے۔ خصوصاً آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں شعور رکھنے والی نئی نسل کو روایتی الزام تراشی سے دبانے کے حربے مزید مسائل کو جنم دیں گے، جن کا خمیازہ آج بلوچستان بھگت رہا ہے۔
گزشتہ کئی عرصے سے بلوچستان میں طلبہ تنظیموں کے خلاف منظم پروپیگنڈہ مہم جاری ہے، تعلیمی اداروں میں سرکلنگ پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں اور تعلیمی مسائل پر تنقیدی شعور کو دبانے کے لیے یکطرفہ الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ بغیر کسی عدالتی فیصلے کے لوگوں کو براہ راست انتہاپسندی کی جانب دھکیلنے کے اثرات حکومتی پالیسیوں کی ناکامی اور عملدرآمد کرنے والے خوشامدی عناصر کے ذاتی مفادات کا نتیجہ ہیں، جو ہر مسئلے کو طاقت کے ذریعے حل کرنے کی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں 90 فیصد نوجوان بیروزگار ہیں، تعلیمی اداروں میں فیسوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور کالے قوانین کے نام پر لوگوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے، جس کے باعث نوجوان شدید عدم تحفظ کا شکار ہو چکے ہیں۔ موجودہ حالات کی بنیادی وجہ سیاسی حقائق سے چشم پوشی اور سردار اختر جان مینگل کے چھ نکات پر عملدرآمد نہ ہونا ہے۔ اگر ان نکات پر سنجیدگی سے عمل کیا جاتا تو حالات کی بہتری کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ نکل سکتا تھا۔
بلوچستان کے وسائل سے متعلق حقائق کو میڈیا مہم کے ذریعے مسخ کرنے کی پالیسی کسی صورت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ خوشامدی عملدرآمدی ٹولہ محض ذاتی مفادات کے لیے طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہر اٹھنے والی آواز اور ہر مثبت سرگرمی کو غیر قانونی قرار دے کر خاموش کرایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان کے ملازمین کے جائز مطالبات پر مذاکرات کرکے حل کی جائے طاقت کے استعمال کی روش بلوچستان کے ہر طبقے کو انسانی المیے و بحران کا شکار کرچکی ہے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نزیر بلوچ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئ...
21/12/2025

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق چیئرمین،بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نزیر بلوچ نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین و بلوچستان میں انسانی حقوق کے علمبردار ماما قدیر بلوچ کے رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انکے لواحقین سے تعزیت و مغفرت کے لئے دعا کی ۔انہوں نے ماما قدیر بلوچ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ نے ایک دہائی سے زائد مسلسل علامتی احتجاجی کیمپ کوئٹہ سے کراچی و اسلام آباد لانگ مارچ کرکے نہ صرف تاریخ رقم کی بلکہ ہمیشہ پرامن جدوجہد کے علمبرار و عملی نمونہ رہے انکے احتجاجی کیمپ نے نہ صرف لاپتہ افراد کے لواحقین کو سہارا و تسلی دی بلکہ انکی قانونی معاونت بھی کی، جبکہ انکی احتجاجی کیمپ کھٹن حالات و جمود کے دور میں سیاسی سرگرمیوں و کیڈر سازی کی سرکل کی شکل اختیار کر گئی ۔ماما قدیر بلوچ کی صبر آزما جدوجہد انسانی حقوق کے تحریک میں ہمیشہ سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ موجودہ حکومت ایک طرف قانون کے عمل داری نوجوانوں کو انگیج کرنے کی بیانات دے رہی یے دوسری جانب اندھے و کالے قوانین کو بھی روند کر بلوچستان میں انسانی حقوق کے صورتحال کو سنگین بناتا جارہا ہے جسکے بلوچستان میں شدید نفرتوں کے تسلسل کے ساتھ سامنے آرہی ہے بلوچستان میں پرامن و قانون کے عمل داری پر یقین رکھنے والے سیاسی کارکنوں کو دیوار سے لگا کر اور پرامن سیاست کو بے وقعت کرکے انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں حالات کو مزید سنگین بنائینگے۔ صوبائی حکومت بیانئے کے جنگ کے زریعے محض نفرتوں کو ہوا دے رہی ہے جبکہ نمود و نمائش کے نام پر صرف مراعات یافتہ و سماج دشمن عناصر کو مزید تقویت دی جارہی یے جنکی وجہ سے بلوچستان پہلے ہی سیاسی سماجی و انتظامی انتشار کا شکار ہے جب تک حقیقی اسٹیک اولڈرز کے زریعے پرامن عمل کا آغاز نہیں کیا جاتا بلوچستان کے حالات میں بہتری ناممکن یے ۔

سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر ب...
20/12/2025

سینئر سیاست دان وسابق سینیٹر نوابزادہ حاجی میر لشکری خان رئیسانی نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کے انتقال پر گہرے رنج وغم کا اظہار،انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے طویل جدوجہد پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ نے پرامن مزاحمت کے ذریعے لاپتہ افراد کیلئے آواز اٹھاتے ہوئے کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک لانگ مارچ کیاانہوں نے اپنی زندگی انصاف اور قومی شعور کی بیداری کے لیے وقف کرکے پرامن مزاحمت جاری رکھتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے قائم کیمپ سے جڑے رہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بلوچستان کے ہر فرد، نوجوان ماؤں بہنوں، بزرگ اور سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے پرامن سیاسی جدوجہد کا حصہ بنیں۔

الوداع ماما قدیر الوداع ماما قدیر
20/12/2025

الوداع ماما قدیر الوداع ماما قدیر

ماما قدیر بلوچ خود تو امر ہو گئے مگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے نہ پر ہونے والا خلاءچھوڑ گئے، سردار اختر جان مین...
20/12/2025

ماما قدیر بلوچ خود تو امر ہو گئے مگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے
حوالے سے نہ پر ہونے والا خلاءچھوڑ گئے، سردار اختر جان مینگل

کوئٹہ:-بلوچستان نیشنل پارٹی کے قائد سردار اختر جان مینگل نے ماما قدیر بلوچ کی رحلت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماما قدیر بلوچ خود تو امر ہو گئے مگر لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے خلاءچھوڑ گئے بلوچ مسنگ پرسن کے حوالے سے طویل پیدل لانگ مارچ ، ثابت قدمی ، لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے چلائی جانے والی تحریک ، ہزاروں دنوں پر محیط کیمپ اور مسلسل جدوجہد پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتا ہوں سول و آمر ادوار میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالے سے ہزاروں دنوں پر مشتمل کیمپ میں بیٹھ کر سراپا احتجاج رہنا ،کوئٹہ سے اسلام آباد طویل پیدل لانگ مارچ کہنے کی حد تک تو دو الفاظ ہیں مگر عملی طور پر بلوچ لاپتہ افراد کے لواحقین کی عملی طور پر آواز بننا بہت ہی مشکل کام ہے بلوچ افراد کی بازیابی کیلئے انہوں نے لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ جن حالات میں جدوجہد کی یقینا تاریخ میں اسے سنہری حروف میں لکھا جائیگا ان کی رحلت سے جو خلاءپیدا ہوا تو وہ کبھی پر نہیں ہو سکتا ماما قدیر بلوچ ثابت قدم ، غیرت مند ،، مستقل مزاج انسان تھے جس پر خراج تحسین کے مستحق ہیں انہوں نے لواحقین سے بھی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومین کو جنت الفروس میں جگہ دے دریں اثناءپارٹی کے مرکزی کابینہ ، سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر نے ان کی رحلت پر گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے-

Address

New Model Town
Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balochistan News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share