16/02/2023
ولی خان بتایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ ایک انگریز میرا انٹرویو کرنے آیا، چونکہ میرا پنجاب جانے کا پروگرام پہلے سے طے تھا اور میں پنجاب بذریعہ ریل گاڈی جا رہا تھا اور میرے پاس وقت نہیں تھا۔ گورے نے کہا کہ میں بھی ایک ساتھ ریل گاڑی میں بیٹھ کر دوران سفر آپ کا انٹرویو ریکارڈ کرونگا۔ میں نے کہا ٹھیک ہے۔ ھم دونوں ایک ساتھ ایک ڈبے میں سوار ہوکر روانہ ہوئے۔
راستے میں ایک مال گاڑی ماربل کے پتھروں سے لدی اسٹیشن پر کھڑی تھی تو گورے نے پوچھا کہ اسکو کدھر لے جایا جا رھا ہے ؟؟
میں نے کہا کہ یہ پشاور سے پنجاب لے جا رہے ہیں کیونکہ کارخانے ادھر ہے۔ گورے نے کہا کیا بجلی وھاں زیادہ پیدا ھوتی ھے ؟
میں نے کہا نہیں بجلی بھی یہاں سے جاتی ھے
گورہے نے کہا کہ اتنا دور کیوں ؟ کیا وہاں لیبر کی فراوانی ھے؟؟
میں نے کہا کہ لیبر بھی یہیں سے (پشتون) جاتا ھے۔
تو گورے نے کہا کہ عجیب لوگ ہو، کارخانے یہاں پشاور میں کیوں نہیں بناتے ؟؟؟ ماربل یہاں کی بجلی ادھر کی لیبر ادھر کا
تو میں نے کہا کہ جب یہی بات میں کرتا ہوں تو پھر یہ ریاست مجھے غدار کہتی ہیں۔
گورے نے کہا یہ بات اپ اپنی قوم کو سمجھاو
تو میں نے کہا کہ میری قوم ریاست کا "ٹومی" ھے۔ رہاست مجھے غدار کہتی ھے یہ میرے لئے معمولی بات ھے، میری قوم تو مجھے مسلمان بھی نہیں سمجھتی۔