22/08/2026
معصوم بچے کا قتل: کوئٹہ کے شہری انصاف کے منتظر
`تحریر سردار حمید خان`
*کوئٹہ میں چھ روز قبل لاپتہ ہونے والے معصوم بچے کی بوری بند لاش کی برآمدگی نے پورے شہر کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے جس کے دل میں انسانیت اور احساس موجود ہے۔ ایک معصوم بچے کو اس بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارنا اور پھر لاش کو بوری میں بند کرکے پھینک دینا معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی اور سفاکیت کی ایک انتہائی دردناک تصویر ہے۔اس المناک واقعے کے بعد بچے کے اہلخانہ جس کرب اور اذیت سے گزر رہے ہیں، اسے الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ والدین کے لیے اولاد کا غم دنیا کا سب سے بڑا دکھ سمجھا جاتا ہے، اور جب ایک معصوم بچہ اس طرح ظلم کا نشانہ بنے تو پورا معاشرہ خود کو سوالوں کے کٹہرے میں محسوس کرتا ہےکوئٹہ کے شہریوں میں اس واقعے پر شدید غم و غصہ اور تشویش پائی جا رہی ہے۔ ہر شہری کی زبان پر ایک ہی سوال ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جنہوں نے ایک معصوم بچے کے ساتھ ایسی درندگی کی؟ ان ملزمان کو کب قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ اور کیا متاثرہ خاندان کو بروقت انصاف مل سکے گا ایسے حالات میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کیس کو معمول کا مقدمہ سمجھنے کے بجائے انتہائی حساس اور اہم معاملے کے طور پر لیں۔ شفاف، غیر جانب دار اور تیز رفتار تحقیقات کے ذریعے ملزمان تک پہنچنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہےعوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کیس کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے تفتیش ایس سی آئی ڈبلیو کی ایس ایچ او نظام ترین صاحب کے سپرد کی جائے اور ان کی قیادت میں ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی جائے، جو تمام شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر ممکنہ پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لےضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس جدید تفتیشی طریقوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اصل ملزمان تک جلد پہنچے اور انہیں گرفتار کرکے قانون کے سامنے پیش کرے۔ عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ تحقیقات محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ اس کیس کے ذمہ داروں کو واقعی قانون کی گرفت میں لایا جائے گاڈی آئی جی کوئٹہ عمران شوکت صاحب سے بھی شہریوں کی دلی اپیل ہے کہ وہ اس دردناک واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تفتیش کی خود نگرانی کریں اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں۔ ایک معصوم بچے کی جان چلی گئی، ایک خاندان ہمیشہ کے لیے اجڑ گیا۔ اب ریاست اور قانون کی ذمہ داری ہے کہ اس بچے کے خون کو انصاف فراہم کیا جائے۔ قاتل چاہے کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو، اسے قانون کے کٹہرے تک پہنچانا ضروری ہے۔اس معصوم بچے کے لیے انصاف صرف ایک خاندان کا مطالبہ نہیں، پورے کوئٹہ کی آواز ہے۔ایل بی این