AR Voice

Directions

AR Voice I'm Abdul Rahman Khilji, a journalist, content creator, and freelancer dedicated to sharing good news, correction videos, and inspiring stories.

I believe in the power of positive storytelling and empowering others through knowledge and information.

17/09/2026

ویسے تو کوئٹہ جانا معمول کی بات ہے، مگر جب دوستوں کے ساتھ ہوں تو کوئٹہ میں کسی ہوٹل میں کھانے کا پروگرام بھی بن ہی جاتا ہے۔

15/09/2026

ٹک ٹاک اڈہ پشین۔۔
پشین بازار کے خوبصورت اور مصروف مناظر کے درمیان آخر یہ اڈہ ٹک ٹاک نام پر کیوں مشہور کیوں ہے؟

پشین۔چمن۔میزئی اڈہ کا سفر میزئی اڈہ: بازار کافی لمبا تھا اور وقت بھی کم تھا، جبکہ شہر کے ڈینٹسٹ سے ملنا ضروری تھا۔ اس لی...
14/09/2026

پشین۔چمن۔میزئی اڈہ کا سفر
میزئی اڈہ: بازار کافی لمبا تھا اور وقت بھی کم تھا، جبکہ شہر کے ڈینٹسٹ سے ملنا ضروری تھا۔ اس لیے پیدل چلنے کے بجائے رکشہ/زرنج میں جانا پڑا۔
عام سا سفر، عام سی خوراک، کبھی تھکن، کبھی مشکلات…
لیکن دل میں ایک مقصد ہو تو انسان یہ سب برداشت کر لیتا ہے۔
جوانی ہے، ہمت ہے تو گھر سے نکلیں، سفر کریں، مشکلات دیکھیں، محنت کریں اور اپنے مقصد کے لیے بھاگ دوڑ کریں۔
ہر سفر آرام کے لیے نہیں ہوتا، کچھ سفر اپنا مستقبل بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔
آج تھوڑی تکلیف برداشت کرلیں، تاکہ کل زندگی کچھ آسان ہو جائے۔

سنجاوی کے لیے فخر کا لمحہسنجاو8 کے دو باصلاحیت نوجوان ڈاکٹر محمد نسیم اور ڈاکٹر اظہر زمان نے پبلک سروس کمیشن کا تحریری ا...
10/09/2026

سنجاوی کے لیے فخر کا لمحہ
سنجاو8 کے دو باصلاحیت نوجوان ڈاکٹر محمد نسیم اور ڈاکٹر اظہر زمان نے پبلک سروس کمیشن کا تحریری امتحان پاس کر لیا۔ اللہ تعالیٰ مزید کامیابیاں عطا فرمائے۔۔

10/09/2026

اگر ہر شخص صرف اپنی اصلاح کر لے اور دوسروں کی برائی کرنا چھوڑ دے، تو پورا معاشرہ خود بخود بہترین اور خوبصورت بن جائے گا۔
پشتو۔۔
که هر سړی صرف خپل ځان بدل کړي او د نورو برائي پریږدي، نو ټولنه به پخپله بدله او ښایسته شي.

08/09/2026

شام کا حسین منظر — کشمیر پوائنٹ مری۔۔
پہاڑ، ٹھنڈی ہوا اور دور تک جگمگاتی روشنیاں…
مری کی شام ہی کچھ اور ہے۔۔۔

ایک خواب کی تکمیل، ایک نئے سفر کا آغاز۔۔ کام شروع کرتے نہیں اور ہمارے 100 بہانے۔۔یہ تصویر 21 اگست 2026 کی رات کی ہے۔ کئی...
05/09/2026

ایک خواب کی تکمیل، ایک نئے سفر کا آغاز۔۔
کام شروع کرتے نہیں اور ہمارے 100 بہانے۔۔
یہ تصویر 21 اگست 2026 کی رات کی ہے۔ کئی دنوں سے مسلسل کام میں مصروف تھا اور اس رات بہت تھکا ہوا تھا۔ اس یادگار لمحے کو محفوظ کرنے کے لیے پیارے بھائی حبیب کو موبائل تھمایا اور کہا: ’’بس اسی حالت میں کچھ تصاویر بنا دو۔‘‘

یہ شہر ہے؛ یہاں ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ کوئی آپ کے کام آئے نہ آئے، کم از کم آپ کی زندگی میں مداخلت نہیں کرتا۔
البتہ گاؤں میں لوگ کام بھی آتے ہیں اور آپ کے معاملات میں مداخلت کرکے ان پر تجزیہ کرنا بھی اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اسی حوالے سے ایک واقعہ یاد آگیا۔ ایک دن کزن کی کال آئی۔ میں کسی کام میں مصروف تھا۔ پوچھا: ’’آپ کی تنخواہ کتنی ہے؟‘‘ میں نے بتا دی، حالانکہ شاید نہیں بتانی چاہیے تھی۔ پھر کہا گیا: ’’اپنی تنخواہ کا میسج بھیج دیں۔ فلاں فلاں مان نہیں رہے، کہتے ہیں اس کی تنخواہ تو کم ہے۔‘‘
میں نے کال کاٹ دی۔
بس، یہی ہمارے گاؤں کی ایک جھلک ہے۔ بھائی، میری تنخواہ کم ہو یا زیادہ، آپ کو اس سے کیا؟ اور دوسروں کی تنخواہوں پر تجزیہ کرنا آخر اتنا ضروری کیوں ہے؟
کچھ خواب ایسے ہوتے ہیں جنہیں انسان صرف دیکھتا نہیں بلکہ برسوں اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے۔ کبھی حالات انہیں دبا دیتے ہیں، کبھی وسائل کی کمی راستہ روک دیتی ہے اور کبھی خود انسان سوچنے لگتا ہے کہ شاید یہ خواب پورا نہ ہو سکے، لیکن اگر دل میں خواہش زندہ رہے تو انسان کسی نہ کسی راستے سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہ تحریر بھی کسی کامیابی کا دعویٰ نہیں، بلکہ نو سال کے اس سفر کی ایک جھلک ہے جس میں مشکل دن بھی آئے، وسائل کم بھی پڑے، کئی بار راستہ مشکل بھی لگا، لیکن سفر رکا نہیں۔

ہماری سوسائٹی میں اکثر یہ باتیں سننے کو ملتی ہیں کہ "بس ایک اچھی سرکاری نوکری مل جائے، پھر کاروبار شروع کروں گا"، "مارکیٹ میں بڑے بڑے لوگ بیٹھے ہیں، لاکھوں کے بغیر کام نہیں چلتا"، "اچھی جگہ نہیں مل رہی"، یا پھر "اگر کام نہ چلا تو کیا ہوگا؟" حقیقت یہ ہے کہ ایسے سوالات اور خدشات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ اگر انسان ہر چیز کے مکمل ہونے کا انتظار کرتا رہے تو شاید شروعات کبھی نہ ہو۔ زندگی نے یہی سکھایا کہ راستے ہمیشہ پہلے سے تیار نہیں ہوتے، بعض راستے قدم اٹھانے کے بعد بنتے ہیں۔

سن 2017 میں ڈینٹل ٹیکنیشن کے طور پر اپنے علاقے سے عملی کام شروع کیا۔ حالات بہتر نہیں تھے اور 2019 تک مالی صورتحال بھی بہت اچھی نہیں تھی۔
اسی برے حالات کا فایدہ اٹھاتے ہوئے گریجویشن مکمل کرنے کیلئے کوئٹہ جانا پڑا، یونیورسٹی آف بلوچستان کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں داخلہ لیا اور اخراجات پورے کرنے کے لیے یونیورسٹی کے باہر ایک چھوٹا سا کلینک شروع کیا۔ کبھی کام ہوتا تھا اور کبھی حالات ایسے ہوتے کہ اگلے دن کے اخراجات بھی مشکل لگتے تھے۔ یہی کورونا کا مشکل دور بھی تھا، لیکن کسی نہ کسی طرح کام اور کوشش جاری رہی۔

2022 میں گریجویشن کے بعد سرکاری نوکری ملی، مگر تقریباً چار ماہ تک تنخواہ نہیں ملی۔ دوسری طرف ڈینٹل لیب کھولنے کا خواب تھا، لیکن یہ خواب میرا شوق نہیں بلکہ میرا مجبوری تھی،کیونکہ کبھی تمہیں مجبوری کے حالت میں کچھ کام خواب بناکر کرنے ہوتےہیں، اور نہ چاہتے ہوئے وہی کام تمہارے کامیابی کی سیڑھی بن جاتی ہے۔
لیکن سرمایہ موجود نہیں تھا۔ آخرکار تنخواہ ایڈوانس میں لکھوا کر اور کچھ رقم ادھار لے کر تقریباً کئی لاکھ روپے کا انتظام کیا گیا۔ اسی رقم سے بنیادی سامان خریدا، کلینک اور گھر کے ضروری کام کیے اور لیب کی بنیاد رکھی۔ اس وقت یہ شروعات بہت بڑی نہیں تھی، لیکن خواب کو زندہ رکھنے کے لیے ایک قدم ضرور تھا۔ اللہ کے فضل سے تقریباً ایک سال کے اندر قرض بھی واپس ہوگیا۔
اور کام بھی بہتری کی طرف گامزن تھا۔
پھر فروری 2024 میں اسی کلنک میں ایک چھوٹا سیٹ اپ کھولا اور ڈینٹل سپلائی کے کام کا آغاز کیا۔ مقصد یہ تھا کہ دوردراز علاقوں میں کام کرنے والے ڈینٹسٹ حضرات کو ضروری میٹریل ان کے قریب دستیاب ہو، تاکہ معمولی چیزوں کے لیے بھی بار بار کوئٹہ نہ جانا پڑے۔ سرمایہ محدود تھا، اس لیے مختلف طریقوں سے رقم کا انتظام کرکے کام شروع کیا گیا۔ راستے میں مشکلات بھی آئیں، غلطیاں بھی ہوئیں، لیکن ہر تجربے کے ساتھ کچھ نیا سیکھنے کو ملا۔

یکم اپریل 2026 کو پشاور انٹرنیشنل ڈینٹل ایکسپو میں شرکت کا موقع ملا۔ ملک کے مختلف حصوں سے آنے والے امپورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور مینوفیکچررز سے ملاقات ہوئی اور مارکیٹ کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا۔ وہاں یہ احساس مزید مضبوط ہوا کہ بڑے کاروبار بھی کبھی نہ کبھی ایک چھوٹی سی شروعات سے ہی شروع ہوئے تھے۔
پھر اٹھارہ اگست دو ہزار چھبیس کو کوئٹہ میں نئے سیٹ اپ کا عملی آغاز ہوا۔ انیس اگست کو دکان کا معاہدہ ہوا، اسی دن الماریاں لگانے کا کام شروع کیا گیا اور بیس اگست تک بنیادی سیٹ اپ تیار ہوگیا۔ اس موقع پر کئی سال پہلے کے وہ دن یاد آئے جب وسائل بہت کم تھے اور مستقبل واضح نہیں تھا۔ آج سامنے ایک چھوٹا سا سیٹ اپ تھا، لیکن اس کے پیچھے کئی سال کی محنت، انتظار اور کوشش موجود تھی۔ اس سفر میں بھائی حبیب کا ساتھ بھی اہم رہا، جو مشکل وقت میں شانہ بشانہ کھڑا رہا۔

لیکن یہیں سے ایک نئی ذمہ داری بھی شروع ہوتی ہے، کیونکہ سیٹ اپ بن جانا کامیابی نہیں بلکہ کامیابی کی طرف ایک قدم ہے۔ اب اصل مقصد اسے اعتماد، بہتر سروس، مناسب ریٹس، معیاری میٹریل اور مستقل محنت کے ساتھ آگے لے جانا ہے۔ آج صرف اتنا کہا جا سکتا ہے کہ کوئٹہ میں ایک خواب کا ایک مرحلہ پورا ہوا ہے، باقی کامیابی ابھی آنے والے وقت میں دیکھنی ہے۔

اس پوری بات کا مقصد اپنی تعریف کرنا نہیں، بلکہ صرف یہ کہنا ہے کہ شروع کرنے کے لیے ہمیشہ بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن ہمت ضرور چاہیے۔ اگر وسائل کم ہیں تو چھوٹا شروع کریں، اگر دکان نہیں ہے تو جہاں ممکن ہو وہاں سے شروع کریں، اگر گاہک کم ہیں تو ایک گاہک سے شروع کریں، اور اگر تجربہ نہیں ہے تو سیکھتے ہوئے آگے بڑھیں۔ ضروری یہ نہیں کہ پہلا قدم کتنا بڑا ہے، ضروری یہ ہے کہ پہلا قدم اٹھایا جائے۔
اگر آپ بڑے شہر میں اپنے کاروبار کا آغاز کرتےہیں، تو تمہارے لئے بہت سارے راستے کھول جاتےہیں، آپ کسٹمر سے ڈیل کرے اور مارکیٹ سے وہی سامان لاکر ان کے حوالے کرے، کم کمائیں، مناسب ریٹ دیں، پھر دیکھے کاروبار چلتاہے یا نہیں۔
کیونکہ بہانے ہمیشہ موجود رہیں گے، لیکن وقت واپس نہیں آتا۔ کامیابی ابھی دور ہو سکتی ہے، راستے میں مزید مشکلات بھی آسکتی ہیں، مگر کوشش جاری رہے تو کم از کم یہ افسوس نہیں رہتا کہ موقع موجود تھا اور ہم نے قدم نہیں اٹھایا۔

آج یہ تصویر میرے لیے کسی بڑی کامیابی کی تصویر نہیں، بلکہ ایک ایسے خواب کی تصویر ہے جو برسوں دل میں رہا اور اب آنکھوں کے سامنے ایک چھوٹی سی حقیقت بن کر کھڑا ہے۔ آگے کیا ہوگا، یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ابھی سفر جاری ہے، منزل باقی ہے۔
آخر میں اتنا کہوں گا۔
اگر آپ جوان ہے، کام کے قابل ہے، تو ہمت کرے، دن، رات ایک کرے، ایک مضبوط کاروبار بنائے، اور کل جب آپ کمزور اور بوڑھے ہوں گے، تو یہ آپ اور آپ کے بچوں کیلئے ایک مضبوط سہارہ ہوگا۔
اگر آپ جاب کیلئے اپنی زندگئ برباد کروں گے، پہلی بات اس دور میں سرکاری جاب ملنا انتہائی مشکل کام ہے، البتہ اگر مل بھی جائے، تو وہ آپ کے بنیادی ضروریات پوری کریں گے، مگر تمہیں وہ ہتھکڑیاں ڈال کر اسی کے اردگرد گھماتے رہیں گے، اور مہینے کے آخر میں آپکے پاس ضروری اخراجات کے پیسے بھی نہیں ہوں گے۔ والسلام

زیادہ دوست نہیں، مخلص دوست رکھیں۔اکیلے رہنے کی عادت آپ کو ہر کسی کا محتاج نہیں بننے دیتی۔
04/09/2026

زیادہ دوست نہیں، مخلص دوست رکھیں۔
اکیلے رہنے کی عادت آپ کو ہر کسی کا محتاج نہیں بننے دیتی۔

جب آپ کا گزر کسی دوست کے علاقے سے ہو اور آپ اس سے ملے بغیر گزر جائیں، تو یہ دوستی میں اچھی روایت نہیں ہوتی۔29 اگست کو تق...
04/09/2026

جب آپ کا گزر کسی دوست کے علاقے سے ہو اور آپ اس سے ملے بغیر گزر جائیں، تو یہ دوستی میں اچھی روایت نہیں ہوتی۔

29 اگست کو تقریباً شام کے 5 بج چکے تھے۔ میں مسلم باغ سے خانوزئی کی طرف جا رہا تھا اور ابھی تقریباً 30 منٹ کا سفر باقی تھا۔ میں نے یونیورسٹی کے ہاسٹل وقت کے اپنے روم میٹ، اسماعیل صاحب، کو فون کیا اور کہا:
"آپ کی طرف آ رہا ہوں، اگر ممکن ہو تو شہر میں ملتے ہیں۔ اگر آپ مصروف ہیں یا دور آنا پڑے گا تو زحمت نہ کریں۔"
اسماعیل صاحب خانوزئی میں گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں۔ جب میں خانوزئی پہنچا اور نماز پڑھنے کے بعد انہیں فون کیا تو بتایا کہ میں بازار میں ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ کہاں ہیں، میں بھی اڈے کے قریب ہی تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ وہاں پہنچ گئے اور حسبِ روایت چائے کا آرڈر کیا۔
کچھ دیر گپ شپ کے بعد میرا ارادہ تھا کہ شہر میں چند ڈاکٹرز سے ملاقات کروں، لیکن جب وہاں گیا تو زیادہ تر ڈینٹسٹ کلینکس بند تھے۔ پھر اسماعیل صاحب کے پاس چلا گیا اور وہیں رات گزارنے کا فیصلہ کیا۔
اسماعیل صاحب کا گھر شہر سے تقریباً 8 کلومیٹر دور ہے۔ موسم کافی ٹھنڈا تھا اور شہر سے باہر ایک پُرسکون جگہ پر دوست کے ساتھ رات گزارنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ سادہ سا ماحول، رات کی خاموشی اور اسماعیل صاحب کی اچھی مہمان نوازی نے اس رات کو یادگار بنا دیا۔
اسماعیل صاحب نے بہت عزت اور خلوص کے ساتھ مہمان نوازی کی۔ صبح میرے ساتھ میرے وزٹ کے لیے بازار تک آئے، اور اس وقت تک میرے ساتھ رہے جب تک مجھے پشین جانے والی ویگن میں بٹھا نہ دیا۔
اس ملاقات کی ایک اور اچھی بات یہ ہوئی کہ مجھے پشین جانے کے لیے ایک نیا راستہ دیکھنے کا موقع ملا۔
مختصر سی ملاقات تھی، لیکن پرانی دوستی کی یادیں تازہ ہوگئیں۔۔۔ شکریہ اسماعیل صاحب

28/08/2026

قلعہ سیف اللہ کا کم عمر، مگر انتہائی چالاک اور کاروباری سوچ رکھنے والا بچہ!
میں ہوٹل میں ناشتہ کر رہا تھا کہ بچہ آیا اور بولا:
"صاحب! بوٹ پالش کر دوں؟"
میں نے کہا: "میرے بوٹ پالش نہیں ہوتے۔"
کہنے لگا: "پھر کپڑے سے صاف کر دوں گا، اگر صحیح صاف نہ ہوئے تو پیسے نہیں دینا۔ میں جھوٹ نہیں بولتا، جھوٹ بولنے والے کو اللہ عذاب دیتا ہے۔"

اس کی باتوں میں معصومیت بھی تھی اور کاروباری ذہانت بھی۔ میں نے اسے بوٹ صاف کرنے دیے۔

باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ اس کا باپ کام نہیں کرتا اور وہ مہاجر ہیں۔

دل افسردہ ہوا کہ اتنی کم عمر میں بچے کو روزگار کی فکر ہے۔ بچوں کے ہاتھ میں کتاب ہونی چاہیے، مزدوری کا کپڑا نہیں۔ آخر ایسے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا؟

یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں، ہمارے معاشرے کے لیے ایک سوال ہے۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AR Voice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share