AR Voice

AR Voice I'm Abdul Rahman Khilji, a journalist, content creator, and freelancer dedicated to sharing good news, correction videos, and inspiring stories.

I believe in the power of positive storytelling and empowering others through knowledge and information.

یومِ آزادی، ہم اور شہداء: ماضی کی حسین یادوں سے آج کے سوگوار لمحوں تک**ایک وقت تھا جب 13 اگست کی صبح طلوع ہوتے ہی، رات گ...
14/08/2026

یومِ آزادی، ہم اور شہداء: ماضی کی حسین یادوں سے آج کے سوگوار لمحوں تک**
ایک وقت تھا جب 13 اگست کی صبح طلوع ہوتے ہی، رات گئے تک ہم یومِ آزادی کی تیاریوں میں مصروف رہا کرتے تھے۔ سکول کو سبز ہلالی پرچموں، جھنڈیوں اور قومی رنگوں سے دلہن کی طرح سجاتے، اور تمام اساتذہ سمیت شاگرد بھی ہمارے ساتھ اسی جوش و جذبے سے اس کام میں شریک ہوتے تھے۔ ہر طرف ایک الگ ہی رونق اور میلے کا سا سماں ہوتا تھا۔
یہ 2010ء کا دور تھا جب دکی اور لورالائی سے لوگ آکر سنجاوی میں ڈھول باجے کے ساتھ اتن کرتے تھے۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کا بازار میں رش ہوتا اور ایک زبردست کاروبار کا سماں ہوتا تھا۔ لوگ سنجاوی، زندرہ اور زیارت کی سیر کے لیے اسی راستے سے گزرتے اور خوشیاں منایا کرتے تھے۔ پھر بعد کے سالوں میں ان رونقوں میں کافی کمی آتی چلی گئی۔
یہ 2014 اور 2015 کا سنہری زمانہ تھا۔ 2017ء سے 2019ء تک سنجاوی کے مختلف سکولوں میں ہونے والے پروگراموں میں ہم بڑے شوق اور ولولے سے شرکت کرتے رہے۔ اس دن والدین بڑے فخر سے اپنے بچوں کی انگلیاں تھامے انہیں تیار کرکے لاتے، خاص طور پر 14 اگست کے لیے نئے کپڑے سلوائے جاتے، بچے سبز و سفید لباس پہنتے اور سکولوں میں قومی ترانوں، تقاریر اور ملی نغموں سے ایک خوبصورت سماں بن جاتا۔
البتہ 2020 کے بعد بھی ہم نے بازاروں اور سکولوں میں 14 اگست کی وہ رنگینیاں دیکھ کر دل خوش ہو جاتا تھا۔ سبز ہلالی پرچم، بچوں کے چہروں پر خوشی، والدین کا اپنے بچوں کو پروگراموں میں لانا اور ہر طرف وطن سے محبت کا اظہار—یہ سب ایک خوبصورت روایت بن چکا تھا۔
مگر اس سال 2026ء میں منظر یکسر بدل گیا۔ آج کل تو ویسے بھی کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں، مگر اس بار سنجاوی نے 14 اگست کا استقبال سبز جھنڈیوں اور ملی نغموں سے نہیں، بلکہ لاشوں سے کیا۔ 13 اگست ہی کو ہمارے علاقے میں جنازے اٹھے اور پورا سنجاوی سوگ میں ڈوب گیا۔ آج سنجاوی اور زیارت کی فضاؤں میں غم اور کرب کا ایسا سماں ہے کہ نہ کسی کے دل میں جشن منانے کا شوق باقی ہے اور نہ کسی ہاتھ میں پرچم اٹھانے کا حوصلہ۔
* جو بچے کبھی 14 اگست کے لیے نئے کپڑے پہن کر گھروں سے نکلتے تھے، آج انہی گھروں میں سوگ کی چادر بچھی ہے۔ وہ حالات خراب ہونے کے ڈر سے گھر سے نکلنے سے گھبراتے ہیں۔
* جو بازار کبھی سبز ہلالی پرچموں سے سجتے تھے، آج وہاں ایک گہری خاموشی ہے۔
* جو سکول کبھی ملی نغموں سے گونجتے تھے، آج وہاں خوشی کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔
اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ذمہ داران صرف یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ "آپریشن جاری ہے۔" مگر جن گھروں کے چراغ بجھ گئے، ان کی تاریکی ان کھوکھلی تسلیوں سے دور نہیں ہو سکتی۔ ایک عام شہری کا سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر کب تک؟ اور کب وہ دن واپس آئے گا جب ہمارے بچے اور بڑے خوف کے بجائے خوشی منائیں گے۔
مگر یہ کڑوے اور صبر آزما حالات بھی اللہ کے فضل سے گزر جائیں گے۔ اللہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور سنجاوی سمیت پورے زیارت کو دوبارہ امن، محبت، سکون اور خوشیوں کا گہوارہ بنائے۔۔۔ آمین۔

**ایک کپ سبز چائے اور دل پر لگی باتیں**کچھ دن پہلے عصر کے وقت میں اپنے کلینک میں بیٹھا تھا اور بس واک کے لیے نکلنے ہی وا...
12/08/2026

**ایک کپ سبز چائے اور دل پر لگی باتیں**
کچھ دن پہلے عصر کے وقت میں اپنے کلینک میں بیٹھا تھا اور بس واک کے لیے نکلنے ہی والا تھا کہ ایک جاننے والے صاحب آ گئے۔ رسمی حال احوال کے بعد میں نے سبز چائے پیش کیی۔ چائے کے گھونٹ کے ساتھ باتوں کا سلسلہ شروع ہوا تو گفتگو ایک ایسے موڑ پر آ گئی جس نے دل کو چھو لیا۔
وہ صاحب مطالعے اور ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ بولے:
"میں نے سیاست اور فضول کی بحثوں سے بہت پہلے خود کو الگ کر لیا ہے۔ اب جب بھی موقع ملتا ہے، کچھ اچھا پڑھ لیتا ہوں تاکہ دل اور ذہن کو سکون ملے۔"
پھر انہوں نے نہایت سادہ لیکن دل کو لگتی ہوئی بات کہی:
"ہم اکثر کہتے ہیں کہ فلاں میری قوم کا ہے، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں کون کس کے برابر ہے اور کون کس کا سچا قریبی، یہ بہت الگ بات ہے ۔"
انہوں نے اپنی ہی مثال دیتے ہوئے کہا:
"میں فلاں قوم سے ہوں، لیکن کیا محض اس نام کی وجہ سے میں کسی نواب یا سردار کا برابر بن سکتا ہوں؟
کبھی نہیں کیا محض اس قوم کی وجہ سے میں ان پہاڑوں اور زمینوں کا مالک بن سکتا ہوں؟ کبھی نہیں
ان زمینوں اور پہاڑوں کا مالک تو وہ سردار ہے، میں نہیں! سرداروں اور امیروں کے تعلقات اور ناطے بھی اپنے جیسے نوابوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں اپنی ذات کا تو کہتے ہیں، لیکن اپنے برابر کبھی نہیں سمجھتے۔"
وہ آگے بولے:
"سرمایہ دار کا ناطہ سرمایہ دار سے ہے اور مجھ جیسے عام انسان کے سچے دوست اور قریبی لوگ بھی بس عام سے ہی ہوتے ہیں۔ صرف ایک قوم کا ہونا کسی کو آپ کے دل کے قریب نہیں کر دیتا۔"
میں نے سوچا واقعی
"اگر کوئی غریب کسی بڑے امیر خاندان کے پاس اپنے بیٹے کے رشتے کی بات لے کر جاؤں، تو وہ صرف یہ دیکھ کر ہاں نہیں کریں گے کہ ہماری قوم ایک ہے۔ وہ سب سے پہلے اپنا اور میرا معیارِ زندگی دیکھیں گے!"
ان کی بات سن کر مجھے اپنا ایک دوست یاد آ گیا۔ وہ اپنے بھائی کے لیے رشتے کی تلاش میں پریشان تھا۔ ہم نے اس سے کہا :
"تمہارے وہ جو قریبی دوست ہیں، ان سے ان کی بیٹی کے رشتے کے لیے بات کیوں نہیں کرتے؟"
وہ دوست مسکرایا اور بولا:
"میری ماں بھی یہی کہتی ہے، لیکن سچ یہ ہے کہ وہ لوگ ہمیں اپنے برابر تو کیا، خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتے۔

اسی طرح کوئی وزیر، بڑا افسر یا سرمایہ دار کسی عام انسان کو کبھی دل سے دوست نہیں بناتا۔ اگر وہ ملتے بھی ہیں تو بس اپنی کسی ضرورت یا مجبوری کے لیے۔ وہ آپ کو کبھی اپنے لیول پر نہیں دیکھ سکتے۔"
میں خاموشی سے چائے کی پیالی تھامے ان کی باتیں سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ اس بات میں کتنا درد اور کتنی سچائی ہے!
واقعی، ہمارے معاشرے کا سچ یہی ہے کہ انسان کا رویہ اور تعلق اپنے جیسے حالات اور اپنے جیسے طبقے کے لوگوں سے ہی جمتا ہے۔
ایک ڈاکٹر کسی بھی قوم کا ہو، وہ دوسرے ڈاکٹر کی بات اور اس کی تھکن کو فوراً سمجھ لیتا ہے۔ ایک استاد دوسرے استاد کے احساس کو محسوس کر لیتا ہے۔ اور ایک عام انسان دوسرے عام انسان کی مجبوری اور دکھ کو سچے دل سے محسوس کرتا ہے۔
دوستی اور سچا تعلق صرف ذات، قوم یا قبیلے کے نام پر نہیں بنتا۔ انسان کے حالات، اس کی سوچ، اس کا کام اور اس کا اندازِ زندگی ہی لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتا ہے۔
وہ صاحب اپنی بات پوری کر کے چلے گئے، واک کا وقت بھی نکل گیا، لیکن سبز چائے کی اس پیالی کے ساتھ ہونے والی گفتگو ابھی تک میرے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی مگر اب تحریری شکل میں لکھ لیا۔
کچھ ملاقاتیں بہت مختصر ہوتی ہیں، لیکن ان میں چھپی باتیں انسان کو اندر تک جھنجھوڑ جاتی ہیں اور دیر تک یاد رہتی ہیں۔

کامیابی دوسروں کو نیچا دیکھانے میں نہیں۔۔۔
12/08/2026

کامیابی دوسروں کو نیچا دیکھانے میں نہیں۔۔۔

خیبرپختونخوا کا علاقہ پنجاب میں شامل۔۔۔
09/08/2026

خیبرپختونخوا کا علاقہ پنجاب میں شامل۔۔۔

اپنی رفتا پر چلنے میں کامیابی ہے۔۔۔
09/08/2026

اپنی رفتا پر چلنے میں کامیابی ہے۔۔۔

آخر کار ہمیں رب کے سامنے لوٹ کر جاناہے۔۔۔
08/08/2026

آخر کار ہمیں رب کے سامنے لوٹ کر جاناہے۔۔۔

مرحوم حاجی سیف اللہ کی اہلیہ محترمہ انتقال کرگئی۔۔۔
08/08/2026

مرحوم حاجی سیف اللہ کی اہلیہ محترمہ انتقال کرگئی۔۔۔

ہر رات اور ہر صبح کچھ لے کر آتی ہے۔۔
07/08/2026

ہر رات اور ہر صبح کچھ لے کر آتی ہے۔۔

خود پر یقین کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔
07/08/2026

خود پر یقین کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔۔۔

سچائی کامیابی کا بنیاد ہے۔۔۔
06/08/2026

سچائی کامیابی کا بنیاد ہے۔۔۔

Address

Quetta

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AR Voice posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share