14/08/2026
یومِ آزادی، ہم اور شہداء: ماضی کی حسین یادوں سے آج کے سوگوار لمحوں تک**
ایک وقت تھا جب 13 اگست کی صبح طلوع ہوتے ہی، رات گئے تک ہم یومِ آزادی کی تیاریوں میں مصروف رہا کرتے تھے۔ سکول کو سبز ہلالی پرچموں، جھنڈیوں اور قومی رنگوں سے دلہن کی طرح سجاتے، اور تمام اساتذہ سمیت شاگرد بھی ہمارے ساتھ اسی جوش و جذبے سے اس کام میں شریک ہوتے تھے۔ ہر طرف ایک الگ ہی رونق اور میلے کا سا سماں ہوتا تھا۔
یہ 2010ء کا دور تھا جب دکی اور لورالائی سے لوگ آکر سنجاوی میں ڈھول باجے کے ساتھ اتن کرتے تھے۔ موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کا بازار میں رش ہوتا اور ایک زبردست کاروبار کا سماں ہوتا تھا۔ لوگ سنجاوی، زندرہ اور زیارت کی سیر کے لیے اسی راستے سے گزرتے اور خوشیاں منایا کرتے تھے۔ پھر بعد کے سالوں میں ان رونقوں میں کافی کمی آتی چلی گئی۔
یہ 2014 اور 2015 کا سنہری زمانہ تھا۔ 2017ء سے 2019ء تک سنجاوی کے مختلف سکولوں میں ہونے والے پروگراموں میں ہم بڑے شوق اور ولولے سے شرکت کرتے رہے۔ اس دن والدین بڑے فخر سے اپنے بچوں کی انگلیاں تھامے انہیں تیار کرکے لاتے، خاص طور پر 14 اگست کے لیے نئے کپڑے سلوائے جاتے، بچے سبز و سفید لباس پہنتے اور سکولوں میں قومی ترانوں، تقاریر اور ملی نغموں سے ایک خوبصورت سماں بن جاتا۔
البتہ 2020 کے بعد بھی ہم نے بازاروں اور سکولوں میں 14 اگست کی وہ رنگینیاں دیکھ کر دل خوش ہو جاتا تھا۔ سبز ہلالی پرچم، بچوں کے چہروں پر خوشی، والدین کا اپنے بچوں کو پروگراموں میں لانا اور ہر طرف وطن سے محبت کا اظہار—یہ سب ایک خوبصورت روایت بن چکا تھا۔
مگر اس سال 2026ء میں منظر یکسر بدل گیا۔ آج کل تو ویسے بھی کوئی یہاں آنے کو تیار نہیں، مگر اس بار سنجاوی نے 14 اگست کا استقبال سبز جھنڈیوں اور ملی نغموں سے نہیں، بلکہ لاشوں سے کیا۔ 13 اگست ہی کو ہمارے علاقے میں جنازے اٹھے اور پورا سنجاوی سوگ میں ڈوب گیا۔ آج سنجاوی اور زیارت کی فضاؤں میں غم اور کرب کا ایسا سماں ہے کہ نہ کسی کے دل میں جشن منانے کا شوق باقی ہے اور نہ کسی ہاتھ میں پرچم اٹھانے کا حوصلہ۔
* جو بچے کبھی 14 اگست کے لیے نئے کپڑے پہن کر گھروں سے نکلتے تھے، آج انہی گھروں میں سوگ کی چادر بچھی ہے۔ وہ حالات خراب ہونے کے ڈر سے گھر سے نکلنے سے گھبراتے ہیں۔
* جو بازار کبھی سبز ہلالی پرچموں سے سجتے تھے، آج وہاں ایک گہری خاموشی ہے۔
* جو سکول کبھی ملی نغموں سے گونجتے تھے، آج وہاں خوشی کی کوئی آواز سنائی نہیں دیتی۔
اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ ذمہ داران صرف یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ "آپریشن جاری ہے۔" مگر جن گھروں کے چراغ بجھ گئے، ان کی تاریکی ان کھوکھلی تسلیوں سے دور نہیں ہو سکتی۔ ایک عام شہری کا سوال اپنی جگہ موجود ہے: آخر کب تک؟ اور کب وہ دن واپس آئے گا جب ہمارے بچے اور بڑے خوف کے بجائے خوشی منائیں گے۔
مگر یہ کڑوے اور صبر آزما حالات بھی اللہ کے فضل سے گزر جائیں گے۔ اللہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور سنجاوی سمیت پورے زیارت کو دوبارہ امن، محبت، سکون اور خوشیوں کا گہوارہ بنائے۔۔۔ آمین۔