16/03/2026
لاپتہ فیصل طارق اور ساتھیوں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا قابلِ مذمت، اہلِ خانہ
27 فروری سے فیصل طارق،حزب اللہ اور ڈرائیور شاہ زیب بگٹی لاپتہ ہیں، بغیر ثبوت الزامات لگانا افسوسناک اور غیر ذمہ دارانہ عمل ہے
خبر / بیان:
فیصل طارق کے اہلِ خانہ نے ایک غیر سنجیدہ شخص کی جانب سے فیصل طارق اور ان کے ساتھیوں کے خلاف کیے جانے والے بے بنیاد اور جھوٹے پروپیگنڈے کی شدید مذمت کی ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق 27 فروری سے فیصل طارق سے کسی بھی قسم کا رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس وقت وہ اپنے ساتھی حزب اللہ بابر اور ڈرائیور شاہ زیب بگٹی کے ہمراہ تھے، جن کے بارے میں بھی گزشتہ 16 دن سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
خاندان کا کہنا ہے کہ جب تینوں افراد لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں کوئی مستند معلومات موجود نہیں، ایسے میں بغیر کسی ریکارڈ، ثبوت یا سفر کی تفصیلات کے الزامات عائد کرنا انتہائی افسوسناک، غیر ذمہ دارانہ اور قابلِ مذمت عمل ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق فیصل طارق نے ہمیشہ قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر زندگی گزاری ہے اور ہر قسم کے قانونی و احتسابی عمل کا سامنا کیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بغیر کسی ثبوت کے ان پر الزامات لگانا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ خاندان کی تکلیف اور ذہنی اذیت میں مزید اضافہ کرنے کے مترادف ہے۔
خاندان نے سوال اٹھایا کہ جب فیصل طارق کا اپنے اہلِ خانہ سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہے تو یہ غیرزمہدار شخص آخر کن ذرائع سے معلومات حاصل کر رہے ہیں اور کس بنیاد پر الزامات لگا رہے ہیں؟
اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی کو فیصل طارق یا ان کے ساتھیوں پر کسی قسم کا الزام ہے تو اسے قانون کے مطابق عدالت میں پیش کیا جائے، کیونکہ جبری گمشدگی آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر بعض افراد جبری گمشدگی کے خلاف آواز اٹھانے کی ہمت نہیں رکھتے تو کم از کم جھوٹے پروپیگنڈے سے گریز کریں اور متاثرہ خاندان کو مزید اذیت میں مبتلا نہ کریں۔
Ahwal e Quetta