06/09/2026
پاکستان کی وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد میجر جنرل فیصل نصیر کو نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کا نیشنل کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے اور یوں وہ وزارت داخلہ کے تحت سنہ 2008 میں قائم کیے جانے والے اس ادارے کے پہلے فوجی سربراہ بن گئے ہیں۔
واضح رہے کہ نیکٹا کا کام دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف قومی حکمت عملی مرتب کرنا، ایکشن پلان تیار کرنا، مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کو بہتر بنانا اور وفاقی حکومت کو پیش رفت سے آگاہ کرنا ہے۔ نیکٹا کو ماضی میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تشکیل دیے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی نگرانی کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔
اس ضمن میں جاری ہونے والے سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق میجر جنرل فیصل نصیر کی یہ تعیناتی تین سال کے لیے ’سیکنڈمنٹ‘ (یعنی سادہ الفاظ میں ڈیپوٹیشن) کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
میجر جنرل فیصل نصیر اس سے قبل انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے انٹرنل ونگ، جسے ’ڈی جی سی‘ کہا جاتا ہے، کے سربراہ رہے ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ان کی تقرری وفاقی حکومت کی منظوری سے کی گئی ہے اور یہ فوری طور پر نافذ العمل ہو گی اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گی۔
نیکٹا کے قیام کے بعد سے اس ادارے کی سربراہی مجموعی طور پر پولیس سروس کے افسران کے پاس رہی ہے اور ان میں وہ افسران بھی شامل تھے جنھوں نے سویلین خفیہ ایجنسی انٹیلیجنس بیورو (آئی بی) کی بھی باگ ڈور سنبھالے رکھی۔
نیکٹا میں فوجی افسر کو بطور سربراہ لانے کی ضرورت کیوں پڑی؟
پولیس سروس آف پاکستان سے ریٹائر ہونے والے خواجہ خالد فاروق سنہ 2011 سے سنہ 2013 کے درمیان نیکٹا کے سربراہ یعنی نیشنل کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں۔
بی بی سی نیوز اُردو سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ حالیہ تعیناتی سے قبل میجر جنرل فیصل نصیر جس پوزیشن پر تھے، وہ بہت اہم ذمہ داری تھی، جبکہ دوسری جانب نیکٹا کا کوئی خاص اثر دکھائی نہیں دیتا۔