15/04/2026
غریب عوام کے خون پسینے سے کمائے گئے ٹیکس کے پیسوں پر حکمرانوں کی عیاشی اپنی بدترین اور شرمناک ترین شکل اختیار کر چکی ہے
صوبائی وزیر میر صادق عمرانی کے بیٹے کی شادی میں جس بے حیائی کے ساتھ نوٹوں کی بارش کی گئی دولت کی نمائش کی گئی اور طاقت کا گھمنڈ دکھایا گیا وہ صرف ایک تقریب نہیں بلکہ غریب عوام کے منہ پر طمانچہ ہے
یہ وہی ملک ہے جہاں ایک مزدور اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی دینے سے قاصر ہے جہاں مائیں اپنے بچوں کے علاج کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتی ہیں جہاں نوجوان بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہیں—اور دوسری طرف یہی حکمران عوام کے وسائل کو ذاتی خوشیوں پر بے دردی سے نچھاور کر رہے ہیں
یہ کھلی لوٹ مار اخلاقی دیوالیہ پن اور عوام دشمنی کی بدترین مثال ہے حکومت ایک طرف توانائی بچت، مہنگے پٹرول، دکانوں کی زبردستی بندش اور تعلیمی اداروں کی بندش جیسے ظالمانہ فیصلے مسلط کر کے غریب کا گلا گھونٹ رہی ہے، جبکہ دوسری طرف خود قانون، ضابطے اور اخلاقیات کو جوتی کی نوک پر رکھ کر عیاشیوں میں مصروف ہے
یہ دوہرا معیار نہیں بلکہ کھلی منافقت، ناانصافی اور ریاستی دھوکہ دہی ہے اب یہ معاملہ صرف تنقید کا نہیں بلکہ کھلے احتساب کا تقاضا کرتا ہے
اس شرمناک شاہ خرچی اور مشکوک دولت کے ذرائع کی فوری اور اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائیں متعلقہ وزیر اور ان کے خاندان کے تمام مالی معاملات کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے
اختیارات کے ناجائز استعمال اور عوامی وسائل کی ممکنہ لوٹ مار پر سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے اگر الزامات درست ثابت ہوں تو فوری طور پر عہدے سے برطرفی اور گرفتاری عمل میں لائی جائے
اگر اس کھلی عیاشی اور عوامی تضحیک پر بھی خاموشی اختیار کی گئی تو یہ ریاستی اداروں کی مکمل ناکامی تصور ہوگی اور عوام کو مجبوراً سڑکوں پر نکل کر اپنے حق کے لیے بھرپور احتجاج کرنا پڑے گا
یاد رکھا جائے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر نظام نہیں انقلاب جنم لیتا ہےاور اس کی ذمہ داری انہی حکمرانوں پر عائد ہوگی جو آج خود کو قانون سے بالاتر سمجھ بیٹھے ہیں
رپورٹ
*چیئرمین ینگ جرنلسٹ ڈاکٹر ثناء خان اچکزئی*