24/07/2026
جرائم کے خلاف کھڑے ہونے والے افسران کو اکثر بے بنیاد الزامات، پروپیگنڈے اور سوشل میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی محنت اور کردار کا فیصلہ افواہوں سے نہیں بلکہ اس کی کارکردگی اور قانون کے مطابق ہوتا ہے۔
رئیس عدنان سجاد نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں جس جذبے، ذمہ داری اور عزم کا مظاہرہ کیا ہے، وہ قابلِ تحسین ہے۔ امن و امان کے قیام، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی اور عوام کے تحفظ کے لیے دن رات کی جانے والی محنت کسی سے پوشیدہ نہیں۔
یہ افسوسناک ہے کہ کچھ عناصر ذاتی مفادات یا دیگر وجوہات کی بنا پر سوشل میڈیا کو کردار کشی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس کوئی قابلِ اعتبار ثبوت یا شکایت ہے تو اس کے لیے قانون، عدالت اور متعلقہ ادارے موجود ہیں۔ سوشل میڈیا پر الزام تراشی نہ انصاف ہے اور نہ ہی کسی مہذب معاشرے کی روایت۔
انصاف نیوز جو ایک پیج ہے سوشل میڈیا پر جس پر موبائل چور لڑکا جو فتح پور کمال سے تعلق رکھتا ہے جو موبائل چوری میں پکڑا گیا جس میں تفشیش کے بعد اس پر تفیشی افسر نے مقدمہ درج کیا جس کو بچانے کے لیے اس کے ہی بھائی نے ایک انصاف نیوز کے نام سے پیج بنایا ہوا ہے اس کے حق میں پوسٹ لگا دی اور اس کو بچانے کے لیے ایک ایماندار پولیس والوں پر الزام لگا کر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے کوئی بھی چور یا کریمنل افراد خود کو صحیح اور پولیس کو غلط ثابت کرنے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہتے ہیں نا
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو ہمت، استقامت اور حفاظت عطا فرمائے جو قانون کی بالادستی، امن اور عوام کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔
یاد رکھیں:
سوشل میڈیا کا شور وقتی ہوتا ہے، لیکن خدمت اور کردار ہمیشہ اپنی گواہی خود دیتے ہیں۔
انصاف ثبوت سے ہوتا ہے، پروپیگنڈے سے نہیں۔