Difa E Islam

Difa E Islam This page has been created to protect and defend Islamic beliefs and Islamic values. All Muslims should follow and like this page. Ahmad Raza Churahi

Appropriate replies to the objections of anti-Islamic elements will be broadcast on this page.

ایک "روشن خیال" صاحب نے پوچھا :آخر ایک عورت کس طرح گھریلو زندگی کی پابندیوں پر راضی ہوسکتی ہے؟؟!!!یہ تو انسانیت کی تذلیل...
11/02/2026

ایک "روشن خیال" صاحب نے پوچھا :

آخر ایک عورت کس طرح گھریلو زندگی کی پابندیوں پر راضی ہوسکتی ہے؟؟!!!

یہ تو انسانیت کی تذلیل ہے۔۔۔۔
آپ کو حیرانی نہیں ہوتی؟

میں نے عرض کی :

جس طرح "روشن خیال ماڈرن عورت'
اشیاء (products) بیچنے کے لئے ۔۔۔۔
خوشی خوشی اشتہاروں میں اپنے حسن کی نمائش ، اپنے اعضاء کی پیمائش اور اپنے جسم کی قیمت کی لگا کر ۔۔۔۔

ساری نسوانیت کی بے عزتی کروانے پر راضی ہے۔

اور آپ جیسے روشن خیالوں کو یہاں حیرانی بھی نہیں ہوتی ۔۔۔۔

روشن خیال ماڈرن عورت کو بھی عجیب نہیں لگتا۔۔۔۔

تو اسی طرح ۔۔۔۔

ہمیں بھی گھریلو زندگی کی پابندیوں پر راضی عورت پر ۔۔۔۔

نہ تو حیرانی ہوتی ہے ۔۔۔۔

اور نہ ہی ہماری مسلمان خواتین کو یہ عجیب لگتا ہے۔

منقول

اور اس کی ابتداء مولویوں کے کھسرے حافظ صفوان سے کریں
11/02/2026

اور اس کی ابتداء
مولویوں کے کھسرے حافظ صفوان سے کریں

ترک اداکار بولنت اینال، جنہوں نے مشہور تاریخی ڈرامہ “پایۂ تخت: سلطان عبدالحمید” میں سلطان عبدالحمید ثانیؒ کا کردار ادا ک...
03/02/2026

ترک اداکار بولنت اینال، جنہوں نے مشہور تاریخی ڈرامہ “پایۂ تخت: سلطان عبدالحمید” میں سلطان عبدالحمید ثانیؒ کا کردار ادا کیا، ایک موقع پر اپنے جذبات کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب وہ عام زندگی میں کچھ گلیوں اور راستوں سے گزرتے ہیں تو بعض اوقات ایسے بزرگ افراد ان کے پاس آ جاتے ہیں جن کی عمر ان کے والد یا چچا کے برابر ہوتی ہے۔ وہ احترام سے ان کا ہاتھ چومتے ہیں، ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور کانپتی آواز میں کہتے ہیں:
“مولانا سلطان…”
یہ صرف ایک اداکار کے لیے خراجِ تحسین نہیں بلکہ درحقیقت ایک تاریخ کے زندہ ہو جانے کا منظر ہے۔
سلطان عبدالحمید ثانیؒ (پیدائش: 21 ستمبر 1842ء – وفات: 10 فروری 1918ء) سلطنتِ عثمانیہ کے 34ویں خلیفہ تھے۔ انہوں نے 1876ء سے 1909ء تک ایک نہایت نازک دور میں خلافت کی باگ ڈور سنبھالی، جب مسلمان دنیا اندرونی سازشوں، بیرونی استعمار، اور صیہونی دباؤ کا شکار تھی۔ سلطان عبدالحمیدؒ نے نہ صرف خلافت کو ٹوٹنے سے بچایا بلکہ فلسطین کی سرزمین فروخت کرنے سے انکار کر کے تاریخ میں ایک غیرت مند حکمران کے طور پر اپنا نام ثبت کر دیا۔
ان کی زندگی میں انہیں معزول کیا گیا، قید میں رکھا گیا، اور برسوں تک ان کے خلاف منفی پروپیگنڈا ہوتا رہا، مگر قدرت کا نظام دیکھیے کہ ان کی وفات کے سو برس بعد بھی ان کا نام دلوں میں زندہ ہے۔ آج جب ان کی سیرت کو ڈراموں، کتب اور تحقیق کے ذریعے دوبارہ پیش کیا گیا تو وہی محبت، وہی آنسو، وہی عقیدت پھر سے جاگ اٹھی۔
سچ ہی تو ہے کہ
اللہ جسے چاہے عزت دے، اور جس کی چاہے یادوں کو زندہ کر دے۔
یہ سلطان عبدالحمیدؒ کی شخصیت نہیں، بلکہ ان کے اخلاص، بصیرت اور امت سے محبت کا ثبوت ہے کہ ایک صدی گزر جانے کے بعد بھی لوگ انہیں “مولانا سلطان” کہہ کر یاد کرتے ہیں۔
واقعی،
سبحان اللہ!
اللہ نے ایک مظلوم خلیفہ کی محبت کو زمانے کی گرد سے نکال کر پھر دلوں میں زندہ کر دیا۔
تحریر:محمد سہیل

1960ء میں لی گئی یہ تصویر محض ایک یادگار فوٹو نہیں بلکہ برصغیر اور عالمِ اسلام کی تاریخ کے دو عظیم ادوار کے باہمی اتصال ...
11/01/2026

1960ء میں لی گئی یہ تصویر محض ایک یادگار فوٹو نہیں بلکہ برصغیر اور عالمِ اسلام کی تاریخ کے دو عظیم ادوار کے باہمی اتصال کی خاموش گواہی ہے۔ تصویر میں نظامِ حیدرآباد میر عثمان علی خان اپنی بہو شہزادی دُرِ شہوار کے ہمراہ نظر آتے ہیں۔ ایک طرف دکن کی صدیوں پر محیط حکمرانی کا آخری باب لکھنے والا وہ حکمران جسے اپنے وقت کا امیر ترین انسان کہا جاتا تھا، اور دوسری طرف خلافتِ عثمانیہ کے آخری سلطان عبدالمجید ثانی کی صاحبزادی، جن کی رگوں میں ایک زوال پذیر مگر باوقار سلطنت کی تاریخ دوڑ رہی تھی۔

میر عثمان علی خان وہ شخصیت تھے جنہوں نے جدید تعلیم، انتظامی اصلاحات اور اردو زبان کو ریاستی وقار عطا کیا۔ جامعہ عثمانیہ، دکن کی معاشی خوشحالی اور مذہبی رواداری ان کے دور کی نمایاں نشانیاں رہیں۔ 1948ء میں ریاست حیدرآباد کے انضمام کے بعد اگرچہ ان کی سیاسی حیثیت ختم ہو گئی، مگر ان کا شخصی وقار، علمی خدمات اور تاریخی مقام قائم رہا۔ 1960ء تک وہ ایک ایسے بزرگ کی صورت سامنے آتے ہیں جو اقتدار کے ہنگاموں سے نکل کر تاریخ کے سکون میں داخل ہو چکا تھا۔

شہزادی دُرِ شہوار عثمانی دربار کی تربیت یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ اور گہری تہذیبی شعور رکھنے والی خاتون تھیں۔ ان کی شادی شہزادہ اعظم جاہ سے 1931ء میں ہوئی، جسے اُس وقت عالمِ اسلام میں ایک علامتی اتحاد سمجھا گیا۔ عثمانی خلافت کے زوال کے بعد یہ رشتہ اس بات کی علامت تھا کہ سیاسی سلطنتیں مٹ سکتی ہیں مگر تہذیبی رشتے اور تاریخی وقار باقی رہتے ہیں۔ حیدرآباد میں قیام کے دوران شہزادی دُرِ شہوار نے سماجی بہبود، خواتین کی تعلیم اور فلاحی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔

اس تصویر کی اصل معنویت اس کے پس منظر میں چھپی تاریخ ہے۔ ایک ایسی مسلم دنیا جو خلافت کے خاتمے، نوآبادیاتی دباؤ، تقسیمِ ہند اور ریاستوں کے انضمام جیسے صدمات سے گزر چکی تھی، مگر اس کے باوجود اس تصویر میں شکست نہیں بلکہ وقار، تحمل اور تہذیبی تسلسل جھلکتا ہے۔ یہ تصویر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اقتدار ختم ہو سکتا ہے، سرحدیں بدل سکتی ہیں، مگر تاریخ زندہ رہتی ہے—چہرون، رشتوں اور یادوں کے ذریعے۔
عجیب و غریب تاریخ
🖋️

خلافتِ عثمانیہ کے باضابطہ خاتمے کے بعد 3 مارچ 1924ء کو، اور اس کے فوراً بعد ترکی کی سیکولر جمہوریہ کے قیام کے ساتھ، بالخ...
11/01/2026

خلافتِ عثمانیہ کے باضابطہ خاتمے کے بعد 3 مارچ 1924ء کو، اور اس کے فوراً بعد ترکی کی سیکولر جمہوریہ کے قیام کے ساتھ، بالخصوص مصطفیٰ کمال اتاترک (1923–1938) اور بعد ازاں عصمت اینونو (1938–1950) کے ادوار میں یعنی 1920ء، 1930ء اور 1940ء کی تین دہائیوں کے دوران ریاستی پالیسیوں میں سخت سیکولر ازم کو اپنایا گیا۔ اس دور میں مذہبی شناخت اور اسلامی اداروں کو ریاستی نظام سے الگ کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں مساجد اور دینی مقامات کا احترام شدید متاثر ہوا۔
خصوصاً استنبول، جو صدیوں تک خلافتِ عثمانیہ کا دارالحکومت اور اسلامی دنیا کا ایک عظیم مرکز رہا، اپنی تاریخی حیثیت کے باوجود اس تبدیلی سے محفوظ نہ رہ سکا۔ اس شہر کی متعدد مساجد کو جیلوں، فوجی بیرکوں اور سرکاری عمارتوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ بعض مساجد منہدم کر دی گئیں، بعض کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔ جیسے مسجد آیا صوفیہ جسے 1934ء میں مسجد سے میوزیم بنا دیا گیااور بعض کو اسلحہ یا سامان کے گودام میں بدل دیا گیا، جیسا کہ مسجد سلطان محمد فاتح کے بارے میں تاریخی روایات میں آتا ہے۔
یہاں تک کہ جب فنکاروں اور مصوروں کو اپنی پینٹنگز کی نمائش کے لیے مناسب جگہ نہ ملی تو ریاستی سطح پر یہ تجویز دی گئی کہ وہ مسجد سلطان احمد (بلیو مسجد) کے اندر اپنی تصویریں آویزاں کریں—جو اس بات کی علامت تھا کہ اس دور میں مساجد کو عبادت گاہ کے بجائے ایک عام سرکاری عمارت سمجھا جانے لگا تھا۔
زیرِ نظر تصویر اسی الم ناک دور کی عکاس ہے، جس میں استنبول کی ایک مسجد کے اندر چمڑے اور کپڑے کا گودام قائم دکھایا گیا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صدیوں تک سجدوں سے آباد رہنے والی مساجد، دنیاوی استعمال میں لا دی گئیں۔
یہ تاریخ کا ایک تلخ باب ہے، اور ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایسا دور دوبارہ کبھی امتِ مسلمہ پر نہ آئے، اور مساجد ہمیشہ اسی شان و حرمت کے ساتھ آباد رہیں جس کے لیے وہ بنائی گئی تھیں۔
تحریر: محمد سہیل

سلطان عبد الحمید ثانیؒ کی زوجہ محترمہ مشفقہ سلطانؒ عثمانی خلافت کے زوال کے بعد صبر، وقار اور قربانی کی ایک دردناک مثال ب...
11/01/2026

سلطان عبد الحمید ثانیؒ کی زوجہ محترمہ مشفقہ سلطانؒ عثمانی خلافت کے زوال کے بعد صبر، وقار اور قربانی کی ایک دردناک مثال بن گئیں۔ خلافت کے خاتمے (1924ء) اور شاہی خاندان کی جلاوطنی کے بعد، یہ عظیم خاتون انتہائی کسمپرسی کے عالم میں پیرس جا پہنچیں، جہاں انہوں نے تقریباً اسی برس کی عمر تک عام عورتوں کی طرح کپڑے دھونے کا کام کیا، مگر عزتِ نفس اور ایمان پر کبھی آنچ نہ آنے دی۔
سنہ 1952ء میں نیٹو کانفرنس کے موقع پر ترک وزیرِاعظم عدنان مندریس کو جب ان کی خبر ملی تو وہ خود ان سے ملاقات کے لیے آئے۔ روایت کے مطابق وہ ان کے سامنے بیٹھ کر رو پڑے اور درد بھرے لہجے میں کہا:
“ہم آپ سے ملنے میں بہت دیر کر آئے ہیں، ہمیں معاف کر دیجیے… ماں، ہمیں معاف کر دیجیے۔”
بعد ازاں عدنان مندریس مشفقہ سلطانؒ اور ان کی بیٹی عائشہ کو اپنے ساتھ استنبول لے آئے اور انہیں اپنی سرپرستی و حفاظت میں رکھا۔ عدنان مندریس وہی رہنما تھے جنہوں نے 1950ء میں عربی اذان کو دوبارہ بحال کیا، مذہبی آزادیوں کی حمایت کی اور خفیہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا، جس کے نتیجے میں انہیں فوجی بغاوت کے بعد 1961ء میں پھانسی دے دی گئی۔
تاریخ کا دردناک باب یہ ہے کہ ان کی پھانسی کے ایک دن بعد، 18 ستمبر 1968ء کو، سلطانہ مشفقہ سلطانؒ اور ان کی بیٹی عائشہ دونوں جائے نماز پر حالتِ سجدہ میں وفات پا گئیں۔
یہ منظر اس بات کی خاموش گواہی تھا کہ عثمانی خاندان کی یہ باوفا خاتون پوری زندگی صبر، عبادت اور وفاداری کی علامت بن کر جیتی رہیں، اور اسی حال میں دنیا سے رخصت ہوئیں۔
تحریر:محمد سہیل

پرتگال میں ایک گرجا گھر میں 32 سینٹی میٹر چوڑا دروازہ ہےاس سے گزر کر کھانے کے ہال میں جاتے ہیںاب جو زیادہ موٹے ہو جاتے ہ...
10/01/2026

پرتگال میں ایک گرجا گھر میں 32 سینٹی میٹر چوڑا دروازہ ہے
اس سے گزر کر کھانے کے ہال میں جاتے ہیں
اب جو زیادہ موٹے ہو جاتے ہیں وہ یہاں سے گزر بھی نہیں سکتے تو ان کو کھانا بھی نہیں ملتا
اسی لیئے وہاں پر موجود ہر شخص اپنا وزن و موٹاپا برقرار رکھتا ہے
**ایسا دروازہ ہمارے پولیس تھانوں* اور مدارس و مساجد میں بھی ہونا چاہیئے 😅

10/01/2026

*امام پر سجدہ سہو واجب ہوا... تو دیر سے شامل ہونے والا نمازی سجدہ سہو کا سلام پھیرے گا نہیں ؟*

*آواز مبـــــــارکـــــــــ*
*"🎙️مُبلغِ اسلام مفتی محمد اکمل قادری صاحب "*

*ضرور سنیں اور شیئر کرکے باشعور معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔*

10/01/2026

یہ دیکھ کر جو خیال آیا وہ لکھ رہا ہوں۔ جانے کب کی ویڈیو ہے۔

انھوں نے دِین کو بیچا۔ اللہ نے ان کو جہنمیوں کے سامنے ایسا ذلیل کیا کہ دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ صرف شروعات ہیں۔ امت کو بیچنے والے اس دنیا میں اپنے وہن کو اپنا ناسور بنتا دیکھیں گے۔
بے قصور مسلمانوں کا خون نہ انھیں زمین پر عزت کا سانس لینے دے گا اور نہ ہی آخرت میں ان کا حساب آسان ہوگا۔

دنیا کی محبت میں گرفتار ہونے والوں کی یہی اوقات ہے کہ ایک تھرڈ کلاس غنڈہ بھی ہاتھ صاف کیے بغیر مائیک لینے کو تیار نہیں۔ اللہ نے تمھیں ذلیل کرنا شروع کر دیا ہے۔

سیف اللہ خالد

08/01/2026

پاکستان کو ترقی کرنے کیلئے لبرل ہونا پڑے گا۔ شراب کی اجازت ہونی چاہیئے ، جو پینا چاہے اسکو اجازت ہونی چاہیئے
فواد

خلافتِ عثمانیہ کا عظیم اعلانِ جہاد  1914ءسنہ 1914ء میں جب پہلی عالمی جنگ بھڑک اٹھی، تو خلافتِ عثمانیہ نے اسلام اور اپنے ...
07/01/2026

خلافتِ عثمانیہ کا عظیم اعلانِ جہاد 1914ء
سنہ 1914ء میں جب پہلی عالمی جنگ بھڑک اٹھی، تو خلافتِ عثمانیہ نے اسلام اور اپنے وجود کے دفاع میں ایک تاریخی فیصلہ کیا۔ روس، برطانیہ اور فرانس جیسی استعماری طاقتیں خلافت کے خلاف صف آراء ہو چکی تھیں۔ ایسے نازک وقت میں خلیفۃ المسلمین سلطان محمد پنجم رشاد خان نے امتِ مسلمہ کو ایک عظیم اور فیصلہ کن پیغام دیا۔ اسی اعلان کے ساتھ پورے عثمانی علاقوں میں مساجد کے میناروں سے علما کی آوازیں گونج اٹھیں:
"اے مسلمانو! جان لو کہ ہماری ریاست روس، انگلستان اور فرانس کی حکومتوں کے ساتھ جنگ میں داخل ہو چکی ہے، جو اسلام کے سخت ترین دشمن ہیں۔ حضرت امیرالمؤمنین تمہیں جہاد کی دعوت دیتے ہیں!"
یہ اعلان صرف ایک جنگی اعلان نہ تھا، بلکہ پوری امت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی صدا تھی۔
استنبول سے لے کر دمشق، بغداد، قاہرہ، مدینہ اور یروشلم تک ایک ہی نعرہ گونجنے لگا:
"لبّیک یا خلافت!"
بوڑھے، جوان، علما، طلبہ، کسان اور تاجر لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جان و مال خلافت کے دفاع کے لیے پیش کر دیے۔
یہ وہ لمحہ تھا جب خلافتِ عثمانیہ نے صرف اپنی سرحدوں نہیں بلکہ پوری اسلامی شناخت کے تحفظ کے لیے تاریخ کا سب سے بڑا عالمی محاذ کھولا۔
تحریر:محمد سہیل

11/10/2025

آج مرزے ملعون کی ضمانت پھر خارج ہوگئی ہے الحمدللہ

Address

Chak 119/1L
Rahimyar Khan
64200

Telephone

+923006756480

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Difa E Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Difa E Islam:

Share