M.W.Collections

M.W.Collections ________________________________________________________

22/12/2025
26/11/2025

قصہ ایک دودھ فروش کا

پرانے محلے میں ایک دودھ فروش تھا، نام تو اس کا نعیم تھا مگر لوگ دل ہی دل میں اسے “دودھیا” کہتے۔ صبح کی ہوا میں اس کے برتنوں کی کھنک ایک طرح کی امید جگاتی، مگر برتنوں کے اندر کی حقیقت کچھ اور تھی۔ وہ خفیہ طور پر دودھ میں پانی کی باریک دھارا ملاتا—ایسی خاموشی سے جیسے اپنی ہی نیت سے نظریں چرائے۔

چند مہینوں تک اس کی کمائی بڑھتی رہی۔ گاہک بڑھتے گئے، داد بھی ملی، اور وہ اس خوش فہمی میں ڈوبتا گیا کہ اس کی یہ چال کبھی پکڑی نہیں جائے گی۔

پھر ایک صبح ایک بوڑھی خاتون اس کے پاس آئی۔ ہاتھ میں وہ پیالہ تھا جس میں اس نے اپنے پوتے کے لیے دودھ لیا تھا۔ بچے کی طبیعت رات بھر خراب رہی۔ اس نے نرم مگر کانچ جیسی شفاف آواز میں کہا:
“بیٹا، دودھ اگر رزق ہے تو پانی اس کی کمزوری نہیں بننا چاہیے۔ رزق کمزور ہو جائے تو لوگ بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔”

یہ جملہ نعیم پر یوں گرا جیسے دروازے پر لگی کوئی پرانی زنجیر اچانک ٹوٹ جائے۔ اس دن اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی ملاوٹ چند قطرے نہیں، ایک ذمہ داری کی شکست تھی۔ شام کو جب اس نے حساب کھولا تو کمائی بہت تھی، مگر دل پر ایک ایسی کمی تھی جسے کوئی عدد پوری نہ کر سکتا۔

اگلی صبح اس نے پانی کی ڈولچی کنارے رکھی اور صاف دودھ بیچا۔ گاہکوں نے فوراً فرق محسوس کیا—ذائقہ گواہی دے رہا تھا۔ کچھ نے شکایت نہیں کی، کچھ نے حیرانی ظاہر کی، مگر آہستہ آہستہ اعتماد لوٹ آیا۔ اس کی آمدنی پہلے سے کم رہی، مگر وہ خود کو پہلے سے ہلکا اور سچا محسوس کرنے لگا، جیسے اندر کا کوئی بوجھ آخرکار پگھل کر بہہ گیا ہو۔

وقت گزرتا گیا، لوگ پھر اس کے نام کے ساتھ عزت جوڑنے لگے۔ محلے کے بچوں کے لیے وہ ایک طرح کا بھروسے کا ستون بن گیا۔ اور نعیم نے جان لیا کہ ملاوٹ سے آنے والا نفع ریت کی دیوار ہے—جس میں پہلی ہی تیز ہوا سوراخ کر دیتی ہے۔

یہ واقعہ آج بھی محلے کی گفتگو میں کہیں نہ کہیں موجود ہے، ایک ایسے چراغ کی طرح جو دوسروں کو یاد دلاتا ہے:
رزق میں سچائی ملائی جائے تو برکت بنتی ہے؛ پانی ملایا جائے تو آزمائش۔

25/11/2025

ایمان دار تاجر کی کہانی

ایک شہر میں حمید نام کا ایک تاجر رہتا تھا۔ وہ اپنی سچائی اور ایمانداری کی وجہ سے پورے علاقے میں مشہور تھا۔ اس کی دکان چھوٹی تھی، لیکن اس کا دل بہت بڑا تھا۔ وہ کبھی کسی گاہک سے زیادہ پیسے نہیں لیتا تھا، نہ مال میں ملاوٹ کرتا اور نہ ہی غلط بیانی کرتا۔

ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کی دکان پر آئی۔ اس نے چاول خریدنے تھے، لیکن اس کے پاس پیسے بہت کم تھے۔ اس نے حمید سے کہا:

"بیٹا، میرے پاس اتنے ہی پیسے ہیں… اگر ممکن ہو تو تھوڑے چاول دے دو۔"

حمید نے بغیر کچھ کہے وزن تول کر اس سے زیادہ مقدار کی تھیلی پکڑا دی۔ عورت نے حیرت سے پوچھا:

"بیٹا، میں نے تو اتنے پیسوں کے چاول نہیں خریدے۔"

حمید مسکرا کر بولا:

"ماں جی، وزن میں کمی یا زیادتی انسان نہیں، اللہ دیکھتا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ کے گھر میں بھی برکت ہو۔"

بوڑھی عورت کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ دعا دیتی ہوئی چلی گئی۔

کچھ دنوں بعد ایک معزز اور مالدار شخص حمید کی دکان پر آیا۔ اس نے بتایا کہ وہ اس شہر میں ایک بڑی تجارت شروع کرنا چاہتا ہے اور اسے ایک ایمان دار شراکت دار کی تلاش ہے۔ اس نے پوچھا:

"میں نے آپ کے بارے میں لوگوں سے بہت کچھ سنا ہے۔ کیا آپ میرے ساتھ تجارت کرنا چاہیں گے؟"

حمید نے حیرت سے پوچھا کہ اس نے اس کے بارے میں کیسے سنا۔ تو اس شخص نے جواب دیا:

"جس بوڑھی عورت کو آپ نے زیادہ چاول دے کر رخصت کیا تھا، وہ میری ماں ہے۔ اس نے آپ کی ایمانداری کی بہت تعریف کی۔"

یوں حمید کی ایمانداری نے اُسے خوشحالی کی اونچی منزل تک پہنچا دیا۔ اس کی تجارت بڑھتی گئی، مگر اس کی سچائی ہمیشہ ویسی ہی رہی۔ وہ کہتا تھا:

"رزق میں برکت دولت سے نہیں، ایمانداری سے آتی ہے۔"

---

سبق

ایمان داری کبھی ضائع نہیں جاتی۔ انسان لوگوں کو دھوکا دے سکتا ہے، مگر اللہ کو نہیں۔ سچائی ہمیشہ کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔

Address

Rahimyar Khan

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when M.W.Collections posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share