26/11/2025
قصہ ایک دودھ فروش کا
پرانے محلے میں ایک دودھ فروش تھا، نام تو اس کا نعیم تھا مگر لوگ دل ہی دل میں اسے “دودھیا” کہتے۔ صبح کی ہوا میں اس کے برتنوں کی کھنک ایک طرح کی امید جگاتی، مگر برتنوں کے اندر کی حقیقت کچھ اور تھی۔ وہ خفیہ طور پر دودھ میں پانی کی باریک دھارا ملاتا—ایسی خاموشی سے جیسے اپنی ہی نیت سے نظریں چرائے۔
چند مہینوں تک اس کی کمائی بڑھتی رہی۔ گاہک بڑھتے گئے، داد بھی ملی، اور وہ اس خوش فہمی میں ڈوبتا گیا کہ اس کی یہ چال کبھی پکڑی نہیں جائے گی۔
پھر ایک صبح ایک بوڑھی خاتون اس کے پاس آئی۔ ہاتھ میں وہ پیالہ تھا جس میں اس نے اپنے پوتے کے لیے دودھ لیا تھا۔ بچے کی طبیعت رات بھر خراب رہی۔ اس نے نرم مگر کانچ جیسی شفاف آواز میں کہا:
“بیٹا، دودھ اگر رزق ہے تو پانی اس کی کمزوری نہیں بننا چاہیے۔ رزق کمزور ہو جائے تو لوگ بھی کمزور پڑ جاتے ہیں۔”
یہ جملہ نعیم پر یوں گرا جیسے دروازے پر لگی کوئی پرانی زنجیر اچانک ٹوٹ جائے۔ اس دن اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی ملاوٹ چند قطرے نہیں، ایک ذمہ داری کی شکست تھی۔ شام کو جب اس نے حساب کھولا تو کمائی بہت تھی، مگر دل پر ایک ایسی کمی تھی جسے کوئی عدد پوری نہ کر سکتا۔
اگلی صبح اس نے پانی کی ڈولچی کنارے رکھی اور صاف دودھ بیچا۔ گاہکوں نے فوراً فرق محسوس کیا—ذائقہ گواہی دے رہا تھا۔ کچھ نے شکایت نہیں کی، کچھ نے حیرانی ظاہر کی، مگر آہستہ آہستہ اعتماد لوٹ آیا۔ اس کی آمدنی پہلے سے کم رہی، مگر وہ خود کو پہلے سے ہلکا اور سچا محسوس کرنے لگا، جیسے اندر کا کوئی بوجھ آخرکار پگھل کر بہہ گیا ہو۔
وقت گزرتا گیا، لوگ پھر اس کے نام کے ساتھ عزت جوڑنے لگے۔ محلے کے بچوں کے لیے وہ ایک طرح کا بھروسے کا ستون بن گیا۔ اور نعیم نے جان لیا کہ ملاوٹ سے آنے والا نفع ریت کی دیوار ہے—جس میں پہلی ہی تیز ہوا سوراخ کر دیتی ہے۔
یہ واقعہ آج بھی محلے کی گفتگو میں کہیں نہ کہیں موجود ہے، ایک ایسے چراغ کی طرح جو دوسروں کو یاد دلاتا ہے:
رزق میں سچائی ملائی جائے تو برکت بنتی ہے؛ پانی ملایا جائے تو آزمائش۔