University wibes

University wibes I have expertise in these field
Medical Laboratory Scientist
Medication
Photo editing
Flex design
Software or hardware solution.

If anyone want any guidance in these field I'm available for you.💐

25/05/2026

Taha Shah Asad Shoukat Ch Abuzar Hamza Ali

🥀 ایمزون کا جنگل‏ایمزون کا جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے یہ جنگل دن...
24/05/2026

🥀 ایمزون کا جنگل

‏ایمزون کا جنگل ساڑھے پانچ کروڑ سال پرانا ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے یہ جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے، جس میں سرفہرست برازیل ہے۔اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع کلومیٹر ہے.اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات میں ہوں اور موسلا دھار بارش برسے تو تقریبا 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گآ۔زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں

دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں

یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔ یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذار رہے ہیں

اسکے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے

یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میں مرجائے

ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائی 7ہزار کلومیٹر ہے،

دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں

ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں

یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں

یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائی جاتی ہیں

مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں

Japan has designed the world's first successful flying car
22/05/2026

Japan has designed the world's first successful flying car

22/05/2026
🌺 جھیل لیک نیٹروندنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جو حقیقت سے زیادہ کسی ڈراؤنی کہانی یا پراسرار فلم ک...
18/05/2026

🌺 جھیل لیک نیٹرون

دنیا عجائبات سے بھری پڑی ہے
لیکن کچھ جگہیں ایسی ہیں جو حقیقت سے زیادہ کسی ڈراؤنی کہانی یا پراسرار فلم کا منظر لگتی ہیں۔

افریقہ کے ملک تنزانیہ میں واقع ایک جھیل ایسی ہی ہے—ایک ایسی جھیل جو اپنے قریب آنے والے جانوروں کو گویا “پتھر” بنا دیتی ہے۔

اس جھیل کا نام ہے لیک نیٹرون

پہلی نظر میں یہ جھیل کسی عام جھیل کی طرح لگ سکتی ہے، مگر اس کا پانی سرخ، نارنجی اور کبھی کبھی گلابی رنگ میں نظر آتا ہے

جیسے کسی نے اس میں خون یا کوئی عجیب کیمیکل ملا دیا ہو۔ سورج کی روشنی میں یہ رنگ اور بھی خوفناک انداز اختیار کر لیتے ہیں، اور جھیل کے کناروں پر موجود مردہ جانوروں کی لاشیں اسے مزید پراسرار بنا دیتی ہیں۔
کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
جو بھی جانور اس جھیل کے پانی کے قریب جاتا ہے، اکثر وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

اور سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان مردہ جانوروں کے جسم وقت کے ساتھ گلنے سڑنے کے بجائے سخت ہو کر ایسے لگتے ہیں جیسے وہ پتھر کے مجسمے ہوں۔

یہ منظر اتنا عجیب ہے کہ دیکھنے والے کو یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ سب حقیقت ہے، کوئی افسانہ نہیں۔

لیک نیٹرون کی حقیقت کیا ہے؟
لیک نیٹرون کا یہ “پتھر بنانے” والا اثر دراصل کسی جادو یا پراسرار طاقت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سائنس اس کے پیچھے ایک دلچسپ اور خطرناک حقیقت بیان کرتی ہے۔

اس جھیل کے پانی میں سوڈیم کاربونیٹ اور دیگر نمکیات کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ جھیل کا درجہ حرارت بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، جو بعض اوقات 60 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ پانی نہ صرف کھارا ہے بلکہ انتہائی گرم اور کیمیائی طور پر بھی خطرناک ہے۔

جب کوئی جانور اس پانی کے ساتھ رابطے میں آتا ہے، تو اس کے جسم کی نمی تیزی سے ختم ہو جاتی ہے اور اس کے ٹشوز میں موجود مادے خشک ہو کر سخت ہونے لگتے ہیں۔

اس عمل کو ایک حد تک ممی فکیشن کہا جا سکتا ہے، جس میں جسم گلنے کے بجائے خشک ہو کر محفوظ ہو جاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ وہاں موجود مردہ جانور دیکھنے میں ایسے لگتے ہیں جیسے وہ پتھر کے بنے ہوں، حالانکہ حقیقت میں وہ خشک شدہ لاشیں ہوتی ہیں۔

یہ جھیل اتنی خطرناک کیوں ہے؟
لیک نیٹرون کی خطرناک فطرت کی کئی وجوہات ہیں

انتہائی الکلائن پانی
جھیل کا پی ایچ لیول 10.5 سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جو کہ عام پانی کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے۔
یہ جلد اور آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

زیادہ درجہ حرارت
گرم پانی جانوروں کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر چھوٹے پرندے اور جانور اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

کیمیائی مادے
اس میں موجود نمکیات اور کیمیکلز جسم کے خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس سے جانور جلد ہی مر جاتے ہیں۔

کیا سب جانور اس جھیل سے متاثر ہوتے ہیں؟
یہ بات حیران کن ہے کہ جہاں یہ جھیل بہت سے جانوروں کے لیے موت کا سبب بنتی ہے، وہیں کچھ جاندار اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو چکے ہیں۔

مثال کے طور پر، فلیمنگو پرندے اس جھیل کے کناروں پر بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ یہ پرندے اس خطرناک ماحول میں نہ صرف زندہ رہتے ہیں بلکہ یہیں اپنے انڈے بھی دیتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جھیل میں موجود خطرناک کیمیکلز دوسرے شکاری جانوروں کو دور رکھتے ہیں، جس سے فلیمنگو کو ایک محفوظ ماحول مل جاتا ہے۔ یوں یہ جھیل ایک طرف تو موت کی علامت ہے، لیکن دوسری طرف زندگی کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بھی۔

دنیا کی توجہ اس جھیل کی طرف کیسے گئی؟
لیک نیٹرون عالمی سطح پر اس وقت مشہور ہوئی جب ایک فوٹوگرافر نے یہاں کی تصاویر دنیا کے سامنے پیش کیں۔ ان تصاویر میں مردہ جانور ایسے دکھائی دیتے تھے جیسے وہ کسی مجسمہ ساز نے بڑی مہارت سے پتھر میں تراشے ہوں۔

یہ تصاویر دیکھ کر دنیا بھر کے لوگوں میں حیرت اور خوف کی لہر دوڑ گئی۔ بہت سے لوگوں نے اسے کسی پراسرار طاقت یا لعنت سے جوڑ دیا، جبکہ کچھ نے اسے قدرت کا ایک عجیب شاہکار قرار دیا۔

کیا یہ واقعی “پتھر بنا دیتی ہے”؟
یہ جملہ سننے میں جتنا خوفناک لگتا ہے، حقیقت اس سے تھوڑی مختلف ہے۔

یہ جھیل دراصل جانوروں کو فوراً پتھر میں تبدیل نہیں کرتی، بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے جسم کو محفوظ کر دیتی ہے، جس سے وہ سخت اور خشک ہو جاتے ہیں۔

یعنی یہ ایک سست عمل ہے، نہ کہ کوئی جادوئی تبدیلی۔ لیکن چونکہ نتیجہ دیکھنے میں بالکل ویسا ہی لگتا ہے جیسے پتھر کا مجسمہ، اس لیے یہ تصور عام ہو گیا ہے کہ جھیل جانوروں کو “پتھر بنا دیتی ہے.

🫣🤯😱
16/05/2026

🫣🤯😱

Address

Raiwind

Telephone

+923044979026

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when University wibes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to University wibes:

Share

Category