Daily News Pakistan

Daily News Pakistan Welcome to page where we dive deep into the culture, history, and untold stories from around the world. Tune in for fresh episodes and insightful cont

Join us as we explore unique perspectives, inspiring conversations, and fascinating events.

ہرمجدون/آرمیگڈون کیا ہے اور یہ کب ہوگی؟؟؟اس تصویر میں ایک جگہ ایک تخت پر ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی جا رہی ہے لیکن کیا ...
08/24/2026

ہرمجدون/آرمیگڈون کیا ہے اور یہ کب ہوگی؟؟؟

اس تصویر میں ایک جگہ ایک تخت پر ملکہ برطانیہ کی تاج پوشی کی جا رہی ہے لیکن کیا آپ اس پتھر کی اہمیت کو جانتے ہیں۔۔؟؟
یہ مقدس پتھر وہ ہے جس پر بٹھا کر حضرت داؤد علیہ السلام کی تاج پوشی کی گئی تھی۔ اسی لیے اسے تخت داؤد کہا جاتا ھے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے ھیکل سلیمانی تعمیر کیا تو یہ پتھر دوسری مقدس اشیاء کے ساتھ ھیکل سلیمانی میں رکھا گیا۔ جب سنہ ء 70 میں رومیوں نے فلسطین پر حملہ کیا تو لاکھوں یہودیوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ ھیکل سلیمانی کو بھی گرا کر تباہ کر دیا ، ٹائٹس نے یہ پتھر بھی ساتھ لیا اور اسے روم میں لا کر رکھ دیا۔ روم کے بعد یہ پتھر آئرلینڈ لایا گیا، آئرلینڈ سے سکاٹ لینڈ لایا گیا ، آئرش اور سکاٹش بادشاہ اسی مقدس پتھر پر بیٹھ کر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے تھے۔ اسکاٹ لینڈ سے یہ پتھر انگلینڈ لایا گیا ، انگلینڈ میں بھی برطانوی بادشاہ اسی تخت داؤد پر تاج پوشی کی رسم ادا کیا کرتے ھیں۔ یہ پتھر اس وقت ویسٹ منسٹر ایبے، برطانوی پارلیمنٹ کے ساتھ چرچ میں موجود ہے۔
اس پتھر کی اگلی منزل کہاں ہے۔۔ کوئی نہیں جانتا۔
یہودی اس تخت داؤد کو اس کی اپنی پرانی جگہ یعنی تیسری بار تعمیر کئے جانے والے ھیکل سلیمانی میں دوبارہ رکھنا چاھتے ھیں۔ یہودیوں کے عقیدے کے مطابق اسی تخت داؤد پر ان کا مسیحا آ کر بیٹھے گا اور ساری دنیا پر حکومت کرے گا۔ وہ مسیحا جسے ھم مسلمان دجال کے نام سے جانتے ھیں۔۔۔
عیسائیوں کا عقیدہ ھے کہ اس تخت پر ان کے مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام آ کر بیٹھیں گے۔
یہ تو آپ کو بھی علم ھوگا کہ اس ھیکل کے تمام حصے یہودیوں نے تیار کر رکھے ھیں صرف ان کو نصب کرنا باقی ھے۔ یہ ھیکل عین اسی جگہ تعمیر کیا جائے گا جہاں اس وقت مسجد اقصیٰ موجود ھے ، اس مقصد کے لئے گنبد صخریٰ اور مسجد اقصیٰ کو شہید کیا جائے گا۔ اور یہ بھی آپ نے سنا ھوگا کہ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کو خفیہ طریقے سے مشینری استعمال کرکے کمزور کر دیا ھے۔
کیا یہ سب آسان ھوگا۔۔؟
ہرگز نہیں۔۔ جب مسجد اقصیٰ جو کہ مسلمانوں کا قبلہ اول ھے گرائی جائے گی تو کمزور اور بکھرے ھونے کے باوجود مسلمان اٹھ کھڑے ھونگے۔ چاھے کوئی سنی ھو ، شیعہ ھو ، وھابی ھو یا دیوبندی ھو اپنے قبلہ اول کی شہادت کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے اس معاملے میں آج بھی تمام مسلمان متحد ھیں۔ نتیجے میں آخری عالمی جنگ شروع ھوگی جس کے بارے نبی کریم ﷺ کی پشین گوئیاں موجود ھیں۔ وہ اتنی خوفناک جنگ ھوگی کہ حدیث پاک میں ھے کہ اس جنگ میں اتنی خونریزی ھوگی کہ زمین لاشوں سے اٹ جائے گی۔ ایک پرندہ زمین پر خالی جگہ کی تلاش میں اڑے گا لیکن اسے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ملے گی جہاں انسانی لاشیں نہیں ھونگی۔ حتی کہ وہ تھک کر گرے گا تو جہاں گرے گا وھاں بھی لاشوں کا ڈھیر ھوگا۔

(یہ جنگ ھر صورت ھو کر رھے گی اس آخری جنگ کا ذکر تمام مذاھب کی کتابوں میں ، ھرمجدون، آرماگیڈن حتی کہ ھندوؤں کی کتابوں میں مہا یدھ کے نام سے موجود ھے۔۔ یہودی اور عیسائی اس جنگ کے لئے مکمل تیار ھیں ان کی ایک نیٹو فوج پوری تیاری کی حالت میں ھے جبکہ مسلمان ابھی تک اپنے مسئلوں میں الجھے ھوئے ھیں۔ یا ان کو عیاشیوں بدمعاشیوں فرقہ پرستیوں میں الجھا دیا گیا ھے۔لیکن اس آخری جنگ کے موقع پر سب مسلمانوں کو ایک ھونا پڑے گا۔
اس وقت مذھبی جماعتوں کے آپس کے "مومن کافر" کے جھگڑے چل رھے ھیں۔ نوجوان نسل شیلا کی جوانی اور منی کی بدنامی کے اسباب تلاش کر رھی ھے۔ اور فیس بک کی نسل کا حال دیکھنا ھو تو کسی سنی لیونی شکیلہ یا شکیرا کے پیجز پر دیکھ لیجئیے لاکھوں فینز ان کی ھر روز نئے پوز کی فوٹوز پر فدا ھو رھے ھیں۔ مسلمان قوم کو ان چیزوں میں الجھا کر دین سے دور کرکے وہ لوگ اپنے اصل مشن پر
پوری توجہ سے کام کر رہے ہیں۔)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے۔ تم لوگ جزیرة لعرب کے لوگوں سے جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے اسے فتح کر دے گا پھر تم اہل فارس کے خلاف جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ اسے بھی فتح کر دے گا پھر تم اہل روم کے خلاف جہاد کرو گے اللہ اسے بھی فتح کر دے گا پھر تم دجال کے خلاف جہاد کرو گے اور اللہ اسے بھی فتح کر دے گا ۔

﴿ مسلم ﴾

اس حدیث شریف میں درج ذیل چار فتوحات کا ذکر کیا گیا ہے۔

1۔ جزیرة العرب۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں مختلف غزوات مقدسہ کے بعد جزیرة العرب فتح ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ہی پوری ہوگئی ۔ یا د رہے کہ جزیرة العرب کے مفتوحہ علاقہ درج ذیل تھے۔۔۔
مکہ، مدینہ ، جدہ، طائف ، حنین ، رابغ ، ینبوع ، خیبر ، مدائن ، تبوک ، دومتہ الجندل ، ایلہ ، یمامہ ، بحرین ﴿ الحساء ﴾ عمان ، حضر موت ، صنعا ، حمیر اور نجران۔۔۔
جزیرةالعرب متعدد غزوات کے نتیجہ میں فتح ہو ا لیکن حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختصار کے ساتھ صرف جزیرة العرب کی فتح کا ذکر فرمادیا۔

2۔ فارس کی فتح ۔

عہد فاروقی رضی اللہ عنہ میں مختلف لڑائیوں کے بعد فارس بھی فتح ہوا ۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی بھی عہد صحابہ میں پوری ہو گئی ۔ یا د رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک سے پہلے فارس اور روم ہی دنیا کی دو بڑی طاقتیں تھیں ۔

اہل فارس کا مذہب آتش پرستی تھا اور یہ مجوسی کہلاتے تھے ۔ اسلام سے پہلے سلطنت فارس میں درج ذیل علاقے شامل تھے ۔ جزیرة العرب
[تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔]
اور یمن ، حیرہ ، ہمدان ، کرمان ، رے ، قزوین ، بخارا ، بصرہ ، قادسیہ ، اصفہان ، خراسان ﴿ اب افغانستان﴾ تبریز ، آذر بائیجان ، ترکمانستان ، سمر قند ، ترمذ اور وسط ایشیا ء کی بعض دیگر ریاستیں بھی سلطنت فارس میں شامل تھیں ۔

فارس کے بادشاہ ،، کسریٰ ،، کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشا د مبارک ہے کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا ۔
(مسلم)

جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ جب کسریٰ کی سلطنت ٹوٹ جائے گی تو پھر مجوسیوں کی دوبارہ ویسی سلطنت بنے گی نہ ہی کوئی کسریٰ کہلایا جاسکے گا ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسا ارشاد فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔

3۔ روم کی فتح۔

حدیث شریف میں تیسرے نمبر پر روم کی فتح کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جس طرح جزیرة العرب کی فتح متعدد غزوات کا نتیجہ تھی اور فارس کی فتح کے لیے بھی مسلمانوں کو کئی جنگیں لڑنا پڑیں اسی طرح روم کی فتح سے پہلے بھی مسلمانوں کی عیسائیوں سے کئی جنگیں ہوں گی جن میں سے بہت سی ہو چکی ہیں آج بھی ہو رہی ہیں اور بہت سی آئندہ بھی ہوں گی جو بالآخر روم کی فتح پر منتج ہوں گی۔

ان شاء اللہ۔

بعض اہل علم کے نزدیک دوسری اور تیسری صدی ہجری میں جب مسلمانوں نے یورپ کے بعض ممالک فتح کئے اس وقت اٹلی بھی فتح ہوا ، روم کی فتح سے وہی فتح مراد ہے، لیکن حدیث شریف کا سیاق و سباق اس موقف سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ حدیث شریف میں واضح طور پر یہ پیش گوئی موجود ہے کہ روم کی فتح کے فوراً بعد دجال کا ظہور ہوگا، جس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث شریف میں جس فتح کا ذکر ہے وہ قیامت کے قریب ظہور دجال سے قبل ہوگی۔

یاد رہے کہ رسول اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانہ مبارک میں فارس کی طرح روم بھی دنیا کی دوسری بڑی طاقت تھی جس کا مذہب عیسائیت تھا لہٰذا حدیث شریف میں روم کی فتح سے مراد فقط روم شہر کی فتح نہیں بلکہ پوری عیسائی دنیا کی فتح مراد ہے ،، روم ،، کا لفظ محض عیسائیت کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے ۔ عہد نبوی میں سلطنت روم درج ذیل علاقوں پر مشتمل تھی ۔

یورپ کی بعض ریاستیں اور ترکی ، شام ، مصر ، لبنان ، عمان، فلسطین ، اردن ، قبرص ، سدوم اور روس۔۔۔۔
روم کی فتح سے پہلے مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں میں احادیث می صرف ایک اور جنگ کا ذکر ملتا ہے اگرچہ اس جنگ کے وقت اور جگہ کا
سو فیصد تعین کرنا ناممکن نہیں تاہم قرآن و حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنگ فتح روم سے کچھ عرصہ پہلے شام کے پہاڑی علاقوں میں ہوگی کیونکہ فتح روم کے فوراً بعد دجال ظاہر ہوگا اور حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی قیادت میں اس کے خلاف جہاد شروع ہو جائےگا ۔

یہاں ہم فتح روم اور اس سے کچھ عرصہ پہلے ہونے والی جنگ کا خلاصہ بیان کر رہے ہیں۔

سقوط روم سے پہلے جنگ۔

مسلمان اور عیسائی دونوں مل کر کسی مشترکہ دشمن سے لڑائی کریں گے اور انہیں فتح حاصل ہوگی ۔ دونوں آپس میں مال غنیمت تقسیم کریں گے اور اس کے بعد دونوں ایک ٹیلوں والی جگہ پر پڑاو ڈالیں گے جہاں ایک عیسائی کمانڈر کھڑا ہوکر اعلان کرے گا ،، صلیب غالب ہوئی ،، ایک غیرت مند مسلمان کمانڈر اٹھ کر اسے تھپڑ مارے گا ،اس بات پر جھگڑا بڑھ جائے گا جس کے نتیجہ میں عیسائی صلح کا معاہدہ توڑ دیں گے اور مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے اسی ( 80) عیسائی ممالک کا اتحاد قائم کریں گے۔ گھمسان کی جنگ ہوگی جس میں مسلمانوں کا سارا لشکر شہید ہو جائے گا اور عیسائیوں کو فتح ہوگی۔

سقوط روم ۔

معرکہ روم ہی وہ آخری جنگ عظیم ہے جس کے بعد قیامت کی بڑی علامتوں کا ظہور شروع ہو جائے گا۔۔۔ معرکہ کی تفصیل یہ ہے کہ شامی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ایک جنگ ہوگی جس میں مسلمانوں کو فتح ہوگی اور وہ عیسائیوں کے مردوں اور عورتوں کو اپنا غلام بنا لیں گے ۔ لشکر ، شامی مسلمانوں سے انتقام لینے کے لیے شام پر حملہ آور ہوگا۔۔۔ شام کے شہر حلب کے قریب اعماق یا دابق کا مقام میدن جنگ بنے گا۔
جنگ سے پہلے مدینہ منورہ سے مسلمانوں کا ایک لشکر شامی مسلمانوں کی مدد کےلیے (اعماق یا دابق) پہنچے گا تو عیسائی کمانڈر مدنی لشکر کے کمانڈر سے کہے گا تم شامی لشکر سے الگ رہو انہوں نے ہماری عورتوں اور مردوں کو غلام بنایا ہے لہٰذا ہم صرف انہی سے لڑنا چاہتے ہیں ،، مدنی لشکر کا کمانڈر کہے گا،، واللہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اکیلے کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوگی ۔ مسلمانوں کا ایک تہائی لشکر جنگ میں قتل ہو جائے گا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں بہتر ین شہادت کا درجہ پائیں گے۔۔۔ ایک تہائی لشکر میدان جنگ سے ڈر کر بھاگ جائے گا اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں فرمائیں گے۔۔ باقی تہائی لشکر فاتح ہوگا جسے اللہ تعالیٰ ہر طرح کے فتنوں سے محفوظ رکھیں گے۔ شام میں عیسائیوں کو شکست فاش دینے کے بعد مسلمان عیسائیوں کے روحانی مرکز ،، روم ،، پر چڑھائی کریں گے۔۔۔ بری اور بحری دونوں محاذوں پر جنگ ہوگی ۔ بحری محاذ پر قسطنطنیہ (استنبول کا پرانا نام) کے مقام پر جنگ ہوگی۔ ا س جنگ میں ستر ہزار مسلمان شریک ہوں گے ۔ استنبول کے مقام پر اسلام اور عیسائیت کا یہ آخری معرکہ نصرت الہٰی کا عظیم شاہکار ہوگا۔ اس جنگ میں ہتھیار استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی۔ مسلمان پہلی مرتبہ نعرہ تکبیر ،، لا الہ الا اللہ،
اللہ اکبر ،، بلند کریں گے تو شہر پناہ کی ایک دیوار گر پڑے گی ۔ دوسری مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو دوسری دیوار گر پڑے گی تیسری مرتبہ نعرہ تکبیر بلند کریں گے تو شہر مفتوح ہو جائےگا۔۔۔
(یاد رہے کہ ترکی اس وقت مسلمانوں کے قبضہ میں ہے لیکن مستقبل میں کسی وقت یہ عیسائیو ں کے قبضہ میں چلا جائےگا او مسلمان اسے دوبارہ فتح کریں گے)۔
دوسری طرف بری محاذ پر روم میں ایسی خوں ریز جنگ ہوگی کہ ماضی میں ایسی خوں ریز جنگ کبھی نہیں ہوئی ہوگی۔ مسلسل چار روز جنگ ہوگی ۔ پہلے تین دن مسلمانوں کو شکست ہوگی ہر روز جنگ میں حصہ لینے والے سارے کے سارے لشکر قتل ہوتے جائیں گے، چوتھے روز مجاہدین کا لشکر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے فتح یاب ہوگا اس جنگ میں 99 فیصد لوگ مارے جائیں گے میدان جنگ دور دور تک لاشوں سے اٹ جائے گا حتی کہ اگر ایک پرندہ لاشوں کے اوپر اڑنا شروع کر دے تو اسے موت آجائے گی لیکن لاشیں ختم نہیں ہوں گی۔

مسلمان روم کی فتح کے بعد ابھی مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے کہ انہیں دجال کے خروج کی خبر مل جائے گی اور وہ ہر چیز کو چھوڑ چھاڑ کر شام کی طرف دوڑ پڑیں گے جو کہ دجال کے خلاف معرکو ں کا میدان ہوگا ۔ ظہور دجال سے قبل سیدنا امام مہدی کی خلافت قائم ہو چکی ہو گی لہٰذا اسقوط روم کا معرکہ انہی کی قیادت میں سر ہوگا۔

4۔ قتل دجال۔

سقوط روم کے فوراً بعد یہودیوں کا بادشاہ ۔۔۔ دجال ۔۔۔ ظاہر ہوگا۔۔۔
ساری دنیا کے یہودی کافر اور منافق اس کے ساتھ مل جائیں گے صرف ایران کے شہر اصفہان سے ستر ہزار یہودی اس کے لشکر میں شامل ہوں گے ۔ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا ۔ اللہ تعالیٰ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حفاظت کے لیے فرشتوں کا پہرہ مقرر فرما دیں گے ۔ مکہ مدینہ کے علاوہ دجال ساری دنیا میں چکر لگائے گا جب شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے گا تو وہاں ،، غوطہ ،، کے مقام پر مسلمانوں کے ساتھ اس کا خوں ریز معرکہ ہوگا ۔ ابھی دجال دمشق میں ہی موجود ہوگا کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام آسمان سے نزول فرمائیں گے۔ دجال کا تعاقب کریں گے اور ،، لد ،، کے مقام پر اسے اپنے نیزے سے قتل کریں گے۔ یہ ہیں وہ چار فتوحات جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک سے لے کر سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کے جہاد تک ہونے والی تمام جنگوں پر محیط ہیں دو فتوحات کا تعلق عہد صحابہ اور تابعین سے ہے اور دو فتوحات قیامت کے بلکل قریب کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔۔۔

مستند حوالہ جات:

📖 1۔ اسلامی حوالہ (حدیث)
صحیح مسلم — کتاب الفتن و اشراط الساعة
رسول اللہ ﷺ نے دجال کے ظہور، معرکۂ روم اور حضرت عیسیٰؑ کے نزول و قتلِ دجال کی خبر دی:
“پھر دجال نکلے گا… اور عیسیٰ ابن مریم نازل ہو کر لُد کے دروازے پر اسے قتل کریں گے۔”
(صحیح مسلم، حدیث: 2937)
✡️ 2۔ یہودی حوالہ (عبرانی صحائف)
کتابِ دانی ایل — عہدِ قدیم (Tanakh)
یہودی عقیدے میں آخری زمانے کی عظیم جنگ اور مسیحا کی عالمی حکومت کا ذکر:
“اور اُس وقت میکائیل کھڑا ہوگا… اور ایسی مصیبت کا زمانہ ہوگا جو کبھی نہ ہوا تھا… اور تیری قوم نجات پائے گی۔”
(دانی ایل 12:1)
✝️ 3۔ عیسائی حوالہ (بائبل)
مکاشفۂ یوحنا — نیا عہدنامہ
آرماگیڈن کی آخری جنگ اور مسیح کی آمدِ ثانی کا بیان:
“اور اُن کو اُس جگہ جمع کیا جو عبرانی میں ہرمجدون کہلاتی ہے۔”
(مکاشفہ 16:16)

دلچسپ و عجیب تاریخ

ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کی خوفناک داستان۔۔۔۔ ✍️آج بادشاہ کی سالگرہ ہے اورمغل روایات کے مطابق انھیں تولا جانا ہے۔ اس ...
08/24/2026

ایسٹ انڈیا کمپنی کی لوٹ مار کی خوفناک داستان۔۔۔۔ ✍️
آج بادشاہ کی سالگرہ ہے اورمغل روایات کے مطابق انھیں تولا جانا ہے۔ اس موقعے پر برطانوی سفیر سر ٹامس رو بھی دربار میں موجود ہیں۔تقریب پانی میں گھرے ایک چوکور چبوترے پر منعقد کی جا رہی ہے۔ چبوترے کے بیچوں بیچ ایک دیوہیکل طلائی ورق منڈھی ترازو نصب ہے۔ ایک پلڑے میں کئی ریشمی تھیلے رکھے ہوئے ہیں، دوسرے میں خود چوتھے مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر احتیاط سے سوار ہوئے۔
بھاری لبادوں، تاج اور زر و جواہر سمیت شہنشاہ جہانگیر کا وزن تقریباً ڈھائی سو پاؤنڈ نکلا۔ ایک پلڑے میں ظلِ الٰہی متمکن رہے، دوسرے میں رکھے ریشمی تھیلے باری باری تبدیل کیے جاتے رہے۔ پہلے مغل بادشاہ کو چاندی کے سکوں سے تولا گیا، جو فوراً ہی غریبوں میں تقسیم کر دیے گئے۔ اس کے بعد سونے کی باری آئی، پھر جواہرات، بعد میں ریشم، اور آخر میں دوسری بیش قیمت اجناس سے بادشاہ سلامت کے وزن کا تقابل کیا گیا۔
یہ وہ منظر ہے جو آج سے تقریباً ٹھیک چار سو سال قبل مغل شہنشاہ نورالدین محمد جہانگیر کے دربار میں انگریز سفیر سر ٹامس رو نے دیکھا اور اپنی ڈائری میں قلم بند کر لیا۔ تاہم دولت کے اس خیرہ کن مظاہرے نے سر ٹامس کو شک میں ڈال دیا کہ کیا بند تھیلے واقعی ہیرے جواہرات یا سونے سے بھرے ہوئے ہیں، کہیں ان میں پتھر تو نہیں؟
سوال یہ ہے کہ ایک دور دراز کے چھوٹے سے جزیرے پر مشتمل ملک کا سفیر اس وقت ہندوستان میں کیا کر رہا تھا؟
سر ٹامس رو کی انتھک سفارتی جدوجہد سے ایسٹ انڈیا کمپنی کو سورت میں آزادانہ تجارت کا پروانہ مل گیا
انگلستان کے ساتھ معاہدہ ’شان کے خلاف‘
دراصل سر ٹامس ایک خاص مشن پر ہندوستان آئے تھے۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح جہانگیر سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیں جس کے تحت ایک چھوٹی سی برطانوی کمپنی کو ہندوستان میں تجارتی حقوق حاصل ہو جائیں۔
لیکن جیسا کہ سر ٹامس کی طویل ڈائری سے پتہ چلتا ہے، یہ کام اتنا آسان نہیں ثابت ہوا اور اس سلسلے میں محنتی انگریز سفیر کو سخت پاپڑ بیلنا پڑے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مغل شہنشاہ پوری دنیا میں صرف ایران کے صفوی بادشاہ اور عثمانی خلیفہ کو اپنا مدِ مقابل سمجھتےتھے۔ ان کی نظر میں انگلستان ایک چھوٹا سا بےوقعت جزیرہ تھا، اس کے کسی معمولی بادشاہ کے ساتھ برابری کی سطح پر معاہدہ کرنا ان کی شان کے خلاف تھا۔
تاہم سر ٹامس نے ہمت نہیں ہاری، اور وہ تین سال کی ان تھک محنت، سفارتی داؤ پیچ اور تحفے تحائف دے کر جہانگیر سے تو نہیں، البتہ ولی عہد شاہجہان سے آج سے ٹھیک چار سو برس قبل اگست 1618 میں ایک معاہدے پر دستخط کروانے میں کامیاب ہو گئے جس کے تحت اس کمپنی کو سورت میں کھل کر کاروبار کرنے کا اجازت مل گئی۔
اس کمپنی کا نام ایسٹ انڈیا کمپنی تھا اور یہ واقعہ اس کی تاریخ میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ مغل حکومت نے براہِ راست ایک یورپی ملک کے ساتھ باقاعدہ تجارتی معاہدہ کر کے اس کی ایک کمپنی کو مراعات دی تھیں اور یوں اسے ہندوستان میں قدم جمانے کا پروانہ مل گیا تھا۔
یہ کچھ ایسا ہی واقعہ تھا جیسے مشہور کہانی کے اونٹ کو بدّو نے اپنے خیمے میں سر داخل کرنے کی اجازت دے دی تھی!
سر ٹامس رو کو جہانگیر کے ساتھ دوسرے پلڑے میں تلنے والی دولت پر یقین کرنے میں حیرت ہوئی تھی، لیکن ان کے طے کردہ معاہدے کے نتیجے میں برطانیہ اگلے ساڑھے تین سو برسوں میں ہندوستان سے جو دولت سمیٹ کر لے گیا، اس کے بارے میں ماہرینِ معاشیات نے کچھ تخمینے لگانے کی کوشش ضرور کی ہے۔
اس کا ذکر آگے چل کر آئے گا، پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی راج کے ہندوستان پر اقتدار کے دوسرے اثرات کیا مرتب ہوئے جو محض دولت لٹنے سے کہیں زیادہ بھیانک تھے۔
امریکی تاریخ دان میتھیو وائٹ نے 'دا گریٹ بُک آف ہاریبل تھنگز' کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے تاریخ کی ایک سو بدترین سفاکیوں کا جائزہ پیش کیا ہے جن کے دوران سب سے زیادہ انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس کتاب میں تاریخ کی چوتھی بدترین سفاکی برطانوی دور میں ہندوستان میں آنے والے قحط ہیں جن میں وائٹ کے مطابق دو کروڑ 66 لاکھ ہندوستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔
تاریخ دانوں کے مطابق ہندوستان میں انگریزوں کے دور میں آنے والے پے در پے قحطوں کی وجہ حکومتی پالیسیاں تھیں
اس تعداد میں وائٹ نے دوسری جنگِ عظیم کے دوران بنگال میں آنے والے قحط کو شمار نہیں کیا جس میں 30 سے 50 لاکھ کے قریب لوگ مارے گئے تھے۔
اگر اس قحط کو بھی شامل کر لیا جائے تو ایسٹ انڈیا کمپنی اور بعد میں برطانیہ کی براہِ راست حکومت کے دوران تین کروڑ کے قریب ہندوستانی قحط کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ہندوستان کا شمار دنیا کے سب سے زرخیز خطوں میں ہوتا تھا اور اب بھی ہوتا ہے، پھر اتنے لوگ کیوں بھوکوں مر گئے؟
نوبیل انعام یافتہ ماہرِ معاشیات امرتیہ سین نے اس قحط میں ہونے والی اموات کی تعداد ایک کروڑ بتائی ہے۔ اس دور کا ایک منظر ایک انگریز ہی کی زبانی دیکھیے:
'دسیوں لاکھ لوگ چند بقیہ ہفتوں تک زندہ رہنے کی آس لیے مر گئے جو انھیں فصل تیار ہونے تک گزارنے تھے۔ ان کی آنکھیں ان فصلوں کو تکتی رہ گئیں جنھیں اس وقت پکنا تھا جب انھیں بہت دیر ہو جاتی۔'
فصلیں تو اپنے وقت پر تیار ہوئیں لیکن اس وقت تک واقعی بہت دیر ہو چکی تھی۔ 1769 کی یہی کہانی پونے دو سو سال بعد ایک بار پھر مشرقی بنگال میں دہرائی گئی۔ ٹائمز آف انڈیا اخبار کا 16 نومبر 1943 کا تراشہ:
'مشرقی بنگال میں ایک ہولناک مگر عام منظر یہ تھا کہ نصف صدی کی سب سے شاندار فصل کے دوران پڑا ہوا گلا سڑا کوئی انسانی ڈھانچہ نظر آ جاتا تھا۔'

ساحر لدھیانوی نے اس قحط پر نظم لکھی تھی، جس کے دو شعر:
پچاس لاکھ فسُردہ، گلے سڑے ڈھانچے / نظامِ زر کے خِلاف احتجاج کرتے ہیں
خموش ہونٹوں سے، دَم توڑتی نگاہوں سے / بشر بشر کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
قحط تو قدرتی آفات کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا کیا قصور؟ مشہور فلسفی ول ڈیورانٹ اس بارے میں لکھتے ہیں:
'ہندوستان میں آنے والے خوفناک قحطوں کی بنیادی وجہ اس قدر بےرحمانہ استحصال، اجناس کی غیرمتوازن درآمد اور عین قحط کے دوران ظالمانہ طریقوں سے مہنگے ٹیکسوں کی وصولی تھی کہ بھوک سے ہلاک ہوتے کسان انھیں ادا نہیں کر سکتے تھے۔۔۔ حکومت مرتے ہوئے لوگوں سے بھی ٹیکس وصول کرنے پر تلی رہتی تھی۔'
ایک چھوٹی سی کمپنی اتنی طاقتور کیسے ہو گئی کہ ہزاروں میل دور کسی ملک میں کروڑوں لوگ کی زندگیوں اور موت پر قادر ہو جائے؟
اس کے لیے ہمیں تاریخ کے چند مزید صفحے پلٹا ہوں گے۔
1498 میں پرتگیزی مہم جو واسکو ڈے گاما نے افریقہ کے جنوبی کونے سے راستہ ڈھونڈ کر ہندوستان کو سمندری راستے کے ذریعے یورپ سے منسلک کر دیا تھا۔ آنے والے عشروں کے دوران دھونس، دھمکی اور دنگا فساد کے حربے استعمال کر کے پرتگیزی بحرِ ہند کی تمام تر تجارت پر قابض ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پرتگال کی قسمت کا سورج نصف آسمان پر جگمگانے لگا۔
پرتگیزی مہم جو کالی کٹ کے راجہ کے دربار میں۔ اس نے ہندوستان کا سمندری راستہ دریافت کر کے یورپ اور ایشیا کو منسلک کر دیا
ان کی دیکھا دیکھی ولندیزی بھی اپنے توپ بردار بحری جہاز لے کے بحرِ ہند میں آ دھمکے اور دونوں ملکوں کے درمیان جوتم پیزار ہونے لگی۔
انگلستان یہ سارا کھیل بڑے غور سے دیکھ رہا تھا، بھلا وہ اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہ جاتا؟ چنانچہ ملکہ الزبیتھ نے ان دو ملکوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے دسمبر 1600 میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کروا کر اسے ایشیا کے ملکوں کے ساتھ بلاشرکتِ غیرے تجارت کا اجازت نامہ جاری کر دیا۔
لیکن انگریزوں نے ایک کام کیا جو ان سے پہلے آنے والے دو یورپی ملکوں سے نہیں ہو سکتا تھا۔ انھوں نے صرف جنگ آمیز تجارت پر ساری توانائیاں صرف نہیں کیں بلکہ سفارت کاری پر بھی بھرپور توجہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ٹامس رو جیسے منجھے ہوئے سفارت کار کو ہندوستان بھیجا تاکہ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے لیے بند دروازے کھول دے۔
مغلوں کی طرف سے پروانہ ملنے کے بعد انگریزوں نے ہندوستان کے مختلف ساحلی شہروں میں ایک کے بعد ایک تجارتی اڈے قائم کرنا شروع کر دیے جنھیں فیکٹریاں کہا جاتا تھا۔ ان فیکٹریوں سے انھوں نے مصالحہ جات، ریشم اور دوسری مصنوعات کی تجارت شروع کر دی جس میں انھیں زبردست فائدہ تو ہوتا رہا، لیکن جلد ہی معاملہ محض تجارت سے آگے بڑھ گیا۔
چونکہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی دوسرے یورپی ملکوں سے اکثر جنگیں چلتی رہتی تھیں اور یہ ایک دوسرے کا مال لوٹنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، اس لیے انگریزوں نے اپنی فیکٹریوں میں بڑی تعداد میں مقامی سپاہی بھرتی کرنے شروع کر دیے۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ یہ فیکٹریاں پھیل کر قلعوں اور چھاؤنیوں کی شکل اختیار کرنے لگیں۔
جب کمپنی کی فوجی اور مالی حالت مضبوط ہوئی تو اس کے اہلکار مقامی ریاستوں کے آپسی لڑائی جھگڑوں میں ملوث ہونے لگے۔ کسی راجے کو سپاہیوں کے دستے بھجوا دیے، کسی نواب کو اپنے حریف کو زیر کرنے کے لیے توپیں دے دیں، تو کسی کو سخت ضرورت کے وقت پیسہ ادھار دے دیا۔ اس جوڑ توڑ کے ذریعے انھوں نے رفتہ رفتہ اپنے پنجے ساحلی علاقوں سے دور تک پھیلا دیے۔
مسلسل پھیلاؤ کے اس سفر میں سب سے اہم موڑ 1757 میں لڑی جانے والی جنگِ پلاسی ہے، جس میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک رابرٹ کلائیو کے تین ہزار سپاہیوں نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کی 50 ہزار فوج کو شکست دے دی۔
کیسے شکست دی، یہ کہانی مطالعۂ پاکستان کی کتاب میں درج ہے، بس اس کہانی کا اخلاقی نتیجہ یاد رکھیے کہ جنگ کے بعد کلائیو نے سراج الدولہ کا صدیوں کا جمع کردہ خزانہ سمندری جہازوں میں لدوا کر بالکل اسی طرح لندن پہنچا دیا جس طرح 18 سال قبل نادر شاہ دہلی کی دولت دونوں ہاتھوں سے نچوڑ کر ایران لے گیا تھا۔
جنگِ پلاسی کے دوران رابرٹ کلائیو میر جعفر سے معاملات طے کرتے ہوئے
لیکن کلائیو نے تمام دولت شاہی خزانے میں جمع نہیں کروائی بلکہ اپنے لیے بھی کچھ حصہ رکھ لیا، جس کی مالیت آج کل کے حساب سے تین کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس رقم سے اس نے برطانیہ میں ایک شاندار محل بنوایا اور وسیع جاگیر خریدی جس کا نام 'پلاسی' رکھا۔ یہی نہیں، اس نے پیسہ دے کر نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے باپ کے لیے بھی پارلیمان کی نشست خرید لی۔ بعد میں اسے سر کا خطاب بھی عطا کر دیا گیا۔
’ہاتھ اتنا ہولا کیوں رکھا!‘
لیکن اسی دوران بنگال میں آنے والے خوفناک قحط اور اس کے نتیجے میں صوبے کی ایک تہائی آبادی کے فنا ہو جانے کی خبریں انگلستان پہنچنا شروع ہو گئی تھیں جن کا سبب لارڈ کلائیو کی پالیسیوں کو قرار دیا گیا۔
لاٹ صاحب پر انگلیاں اٹھنے لگیں، چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کرتے کرتے نوبت پارلیمان میں قرارداد پیش ہونے تک جا پہنچی۔ یہ قرارداد تو خیر منظور نہیں ہو سکی، کیوں کہ اس زمانے میں پارلیمان کے ایک چوتھائی کے لگ بھگ ارکان کے خود ایسٹ انڈیا کمپنی میں حصص تھے۔
بحث کے دوران کلائیو نے کسرِ نفسی سے کام لیتے ہوئے اپنی وسیع و عریض دولت کے بارے میں کہا کہ 'میں تو خود سخت حیران ہوں کہ میں نے ہاتھ اس قدر 'ہولا' کیوں رکھا!' ورنہ وہ چاہتے تو اس سے کہیں زیادہ مال و زر سمیٹ کر لا سکتے تھے۔
تاہم ہندوستان میں برپا ہونے والی قیامت کے اثرات کسی نہ کسی حد تک کلائیو کے دل و دماغ پر اثرانداز ہونے لگے اور اس نے بڑی مقدار میں افیم کھانا شروع کر دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ 1774 میں اپنے کمرے میں پراسرار حالت میں مردہ پائے گئے۔
یہ معما تو آج تک حل نہیں ہو سکا کہ آیا کلائیو نے خودکشی کی تھی یا افیم کی زیادہ خوراک جان لیوا ثابت ہوئی۔ لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ ان کی ہندوستان میں حکمتِ عملی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی جس راستے پر چل نکلی وہ ہندوستان کی آزادی کے لیے ضرور جان لیوا ثابت ہوئی۔
اس دوران مغل کچھ اپنی نااہلی اور کچھ بیرونی حملوں اور مرہٹوں کی چیرہ دستیوں کے باعث اس قدر کمزور ہو چکے تھے کہ وہ دور ہی دور سے انگریزوں کے رسوخ کو دن دگنا، رات چوگنا بڑھتے دیکھنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ چنانچہ جنگِ پلاسی کے صرف نصف صدی بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی سپاہ کی تعداد ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئی اور انھوں نے بنگال سے نکل کر ہندوستان کے بڑے حصے پر اپنا تسلط قائم کر لیا۔
نوبت یہاں تک پہنچی کہ 1803 کے آتے آتے دہلی کے تخت پر بیٹھا مغل شہنشاہ شاہ عالم ایسٹ انڈیا کمپنی کا وظیفہ خوار بن کر رہ گیا۔ ایک زمانہ تھا کہ اسی شاہ عالم کے پرکھ جہانگیر کے آگے انگریز سفیر ٹامس رو گھنٹوں کے بل جھکتا تھا، اب یہ حالت تھی کہ اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک کلرک کو جھک کر پورے بنگال کا اختیارنامہ پیش کرنا پڑا۔
مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی ایسٹ انڈیا کمپنی کے اہلکار لارڈ کلائیو کو بنگال کے جملہ حقوق کی دیوانی پیش کرتے ہوئے
یہ بات حیرت انگیز ہے کہ یہ سارا کام برطانوی حکومت نے نہیں، بلکہ ایک کمپنی نے کیا جس کا صرف ایک اصول تھا، ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کر کے اپنے حصہ داروں کے لیے زیادہ سے زیادہ منافع کمانا۔ یہ کمپنی لندن کے ایک علاقے میں ایک چھوٹی سی عمارت سے کام کرتی تھی اور قیام کے ایک صدی بعد تک بھی اس کے مستقل ملازمین کی تعداد صرف 35 تھی۔
لیکن اس کے باوجود دنیا کی تاریخ میں کوئی کمپنی ایسی نہیں گزری جس کے پاس اس قدر طاقت ہو۔
اگر آپ کو شکایت ہے کہ آج کی ملٹی نیشنل کمپنیاں بہت طاقتور ہو گئی ہیں اور وہ ملکوں کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں، تو اب ذرا تصور کیجیے کہ گوگل، فیس بک، ایپل، مائیکروسافٹ اور سام سنگ مل کر ایک کمپنی بن جائیں جس کے پاس اپنی جدید ترین ہتھیاروں سے لیس فوج ہو اور جو ملک ان کی مصنوعات خریدنے سے انکار کرے، یہ کمپنی اس پر چڑھ دوڑے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی نے بالکل یہی کام چین کے ساتھ کیا۔ اوپر ہم نے لارڈ کلائیو کی افیم کے ہاتھوں موت کا ذکر کیا تھا۔ یہ افیم ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میں اگاتی تھی لیکن ساری کی ساری اس کے عہدے دار نہیں کھا جاتے تھے بلکہ اس کا بڑا حصہ چین لے جا کر مہنگے داموں بیچا جاتا تھا۔ جب چینیوں کو احساس ہوا کہ یہ تو ہمارے ساتھ گھپلا ہو رہا ہے، تو انھوں نے مزید افیم خریدنے سے معذرت کر لی۔
کمپنی اپنے منافعے میں کمی کیسے برداشت کرتی۔ اس نے 1839 میں چند توپ بردار جہاز چین بھیج کر چین کا دقیانوسی بحری بیڑا تہس نہس کر دیا۔ چینی شہنشاہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے نہ صرف افیم کی درآمد پر پابندی اٹھا دی بلکہ بطور جرمانہ ہانگ کانگ بھی برطانیہ کو ہبہ کر کے دے دیا جو 1997 میں کہیں جا کر واپس چین کو ملا۔
جب چینیوں نے افیم خریدنے سے انکار کیا تو برطانوی جہاز ’نیمیسس‘ نے کینٹن کی بندرگاہ پر تباہی مچا دی
اس دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور ایک کے بعد ایک ریاست، ایک ایک بعد ایک راجواڑہ ان کی جھولی میں گرتا رہا۔ 1818 انھوں نے مرہٹوں کو سلطنت ہتھیائی، اس کے بعد اگلے چند عشروں میں سکھوں کو شکست دے کر تمام مغربی ہندوستان یعنی آج کے پاکستان پر بھی قابض ہو گئی۔ اب درۂ خیبر سے لے کر برما اور ہمالیہ کی برفانی چوٹیوں سے لے کر راس کماری تک ان کا راج تھا۔
معاملات یوں ہی چلتے رہے، لیکن پھر بدقسمتی نے گھیرے ڈال دیے۔ 1857 میں کمپنی کے اپنے ہی تنخواہ دار سپاہیوں نے بغاوت کر دی جس کے دوران بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوا۔ اس زمانے میں اخبار عام ہو گئے تھے۔ اس ساری گڑبڑ کی خبریں انگلستان تک پہنچیں۔
ہوتے ہوتے کمپنی کا تاثر برطانیہ میں اتنا خراب ہو گیا کہ بالآخر پارلیمان کو عوامی دباؤ کے زیرِ اثر کمپنی کو قومیانے کا فیصلہ کرنا پڑا اور ہندوستان براہِ راست برطانوی حکومت کی عملداری میں آ کر ملکہ وکٹوریہ کے 'تاج کا سب سے درخشاں ہیرا' بن گیا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی پھر بھی چند سال گھسٹ گھسٹ کر زندگی گزارتی رہی، لیکن کب تک۔ آخر یکم جون 1874 کو پونے تین سو سال کی طویل شان و شوکت کے بعد یہ کمپنی تحلیل ہو گئی۔
لندن میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا ہیڈکوارٹر، جسے گرا کر اس کی جگہ ایک بینک کی عمارت کھڑی کر دی گئی ہے
کمپنی کی وفاتِ حسرت آیات پر اس زمانے میں ٹائمز اخبار نے جو نوٹ لکھا تھا وہ کمپنی کی تاریخ کی عمدہ ترجمانی کرتا ہے:
'اس (کمپنی) نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیے وہ بنی نوعِ انسان کی تاریخ میں کسی اور تجارتی کمپنی کے حصے میں نہیں آ سکے۔ نہ ہی آئندہ آنے والے برسوں میں امکان ہے کہ کوئی اور کمپنی اس کی کوشش بھی کر پائے گی۔'
ٹائمز کا قصیدہ اپنی جگہ، لیکن لگتا یہی ہے کہ شاید انگریزوں کو اپنی اس کمپنی کے 'کارہائے نمایاں' پر کچھ زیادہ فخر نہیں ہے۔ کیوں کہ آج لندن میں لیڈن ہال سٹریٹ پر جس جگہ کمپنی کا ہیڈکوارٹر تھا، وہاں ایک بینک کی چمچماتی عمارت کھڑی ہے، اور کہیں کوئی یادگار، کوئی مجسمہ، حتیٰ کہ کوئی تختی تک نصب نہیں ہے۔ نہ کوئی جنازہ اٹھا، نہ کہیں مزار بنا۔
کمپنی کی کوئی جسمانی یادگار ہو نہ ہو، اس نے جو کام کیے ان کے اثرات آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
شاید یہ بات بہت سے لوگوں کے لیے حیرت کا باعث ہو کہ اس کمپنی کے غلبے سے پہلے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں ہندوستان دنیا کا امیر ترین ملک تھا اور دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی حصہ پیدا کرتا تھا۔ جب کہ اسی دوران انگلستان کا حصہ صرف دو فیصد تھا۔
ہندوستان کی زمین زرخیز اور ہر طرح کے وسائل سے مالامال تھی، اور لوگ محنتی اور ہنرمند تھے۔ یہاں پیدا ہونے والے سوتی کپڑے اور ململ کی مانگ دنیا بھر میں تھی، جب کہ جہاز رانی اور سٹیل کی صنعت میں بھی ہندوستان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔
دنیا کی مختلف معیشتوں کا جائزہ
یہ ساری صورتِ حال جنگِ پلاسی کے بعد بدل گئی اور جب 1947 میں انگریز یہاں سے گئے تو سکندر کے برعکس ان کی جھولی بھری ہوئی اور ہندوستان کے ہاتھ خالی تھے۔
’دنیا کا غریب ترین ملک‘
انڈیا کے سابق وزیرِ اعظم اور ماہرِ اقتصادیات من موہن سنگھ نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا:
'اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطنتِ برطانیہ کے خلاف ہماری شکایات کی ٹھوس بنیاد موجود ہے۔۔۔ 1700 میں انڈیا تنِ تنہا دنیا کی 22.6 فی صد دولت پیدا کرتا تھا، جو تمام یورپ کے مجموعی حصے کے تقریباً برابر تھی۔ لیکن یہی حصہ 1952 میں گر کر صرف 3.8 فیصد رہ گیا۔ 20ویں صدی کے آغاز پر 'تاجِ برطانیہ کا سب سے درخشاں ہیرا' درحقیقت فی کس آمدنی کے حساب سے دنیا کا غریب ترین ملک بن گیا تھا۔'
اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کہ انگریزوں کے دو سو سالہ استحصال نے ہندوستان کو کتنا نقصان پہنچایا۔
اس سلسلے میں مختلف لوگوں نے مختلف اندازے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان میں سے زیادہ قرینِ قیاس ماہرِ معاشیات اور صحافی منہاز مرچنٹ کی تحقیق ہے۔ ان کے مطابق 1757 سے لے کر 1947 تک انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کو پہنچنے والے مالی دھچکے کی کل رقم 2015 کے زرمبادلہ کے حساب سے 30 کھرب ڈالر بنتی ہے۔
ذرا ایک منٹ رک کر اس رقم کا احاطہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس کے مقابلے پر نادر شاہ بےچارے کو دہلی سے صرف 143 ارب ڈالر لوٹنے ہی پر اکتفا کرنا پڑی تھی۔
چار سو سال پہلے جہانگیر کے دربار میں انگریز سفیر کو شک گزرا تھا کہ آیا واقعی ہندوستان اتنا امیر ہے کہ اس کے شہنشاہ کو سونے چاندی اور ہیرے جواہرات میں تولا جا سکتا ہے، اور کہیں دوسرے پلڑے میں درباریوں نے ریشم کی تھیلیوں میں پتھر تو نہیں ڈال دیے؟
اگر کسی طرح سر ٹامس رو کو واپس لا کر انھیں یہ اعداد و شمار دکھا دیے جائیں تو شاید ان کی بدگمانی ہمیشہ کے لیے دور ہو۔۔

مستند حوالہ جات درج ذیل ہیں:
​1. سر ٹامس رو اور جہانگیر کا دربار (توزکِ جہانگیری و ڈائری)
​حوالہ: The Embassy of Sir Thomas Roe to the Court of the Great Mogul, 1615–1619 (ترتیب کار: ولیم فوسٹر)۔
​تفصیل: ٹامس رو نے اپنی ڈائری میں جہانگیر کی سالگرہ پر سونے، چاندی اور جواہرات سے تولنے اور سورت میں تجارتی مراعات حاصل کرنے کا تفصیلی احوال درج کیا ہے۔
​2. قحط، انسانی جانی نقصان اور ول ڈیورانٹ کی رائے
​حوالہ جات:
​The Great Big Book of Horrible Things – میتھیو وائٹ (Matthew White)۔
​Poverty and Famines: An Essay on Entitlement and Deprivation – امرتیہ سین (Amartya Sen)۔
​The Case for India – ول ڈیورانٹ (Will Durant)۔
​تفصیل: ول ڈیورانٹ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظالمانہ ٹیکسیشن سسٹم کو قحط میں ملین سے زائد اموات کا بنیادی سبب قرار دیا۔
​3. جنگِ پلاسی اور رابرٹ کلائیو کا خزانہ
​حوالہ: The Anarchy: The Relentless Rise of the East India Company – ولیم ڈیل رمپل (William Dalrymple)۔
​تفصیل: جنگِ پلاسی (1757) کے بعد بنگال کی لوٹ مار اور کلائیو کی ذاتی دولت کا مکمل تاریخی ریکارڈ۔
​4. افیم کی جنگیں (O***m Wars) اور چین کا معاہدہ
​حوالہ: The O***m War: Drugs, Dreams and the Making of Modern China – جولیا لویل (Julia Lovell)۔
​تفصیل: 1839 کی پہلی افیون جنگ اور نانکنگ معاہدے کے تحت ہانگ کانگ کا برطانیہ کے پاس جانا۔
​5. معاشی زوال اور 30 کھرب (30 Trillion) ڈالر کا تخمینہ۔

*حنا جاوید کی شادی آٹھ ماہ قبل ڈاکٹر فیصل امام سے ہوئی تھی، جو نَسٹ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ گزشتہ روز مبینہ طور پر ان...
08/24/2026

*حنا جاوید کی شادی آٹھ ماہ قبل ڈاکٹر فیصل امام سے ہوئی تھی، جو نَسٹ یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں۔ گزشتہ روز مبینہ طور پر انہیں ان کے شوہر نے ایک ملازم کے ساتھ مل کر قتل کیا، اور ان کی لاش باتھ روم سے برآمد ہوئی۔*

جی ہاں، ان کا شوہر کوئی اَن پڑھ شخص نہیں تھا۔ نہ یہ کوئی لو میرج تھی، اور نہ ہی وہ کسی کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد ہر سماجی اور معاشی طبقے میں موجود ہے، چاہے ایک عورت کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو۔

ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حنا جاوید کے مجرموں کو فی الفور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے اور نشان عبرت بنادیا جائے۔

*دو روٹیاں، ایک ماں اور اولاد کی بے رخی کی وہ کہانی جس نے دل ہلا دیا*کل میں چند دوستوں کے ساتھ ناردرن ایریاز کی سیر کے ل...
08/23/2026

*دو روٹیاں، ایک ماں اور اولاد کی بے رخی کی وہ کہانی جس نے دل ہلا دیا*

کل میں چند دوستوں کے ساتھ ناردرن ایریاز کی سیر کے لیے نکلا۔ کافی طویل سفر کے بعد ہم ایک چھوٹے سے ہوٹل پر کھانے کے لیے رکے۔ دوست ہنسی مذاق میں مصروف تھے اور ماحول بہت خوشگوار تھا، لیکن چند ہی لمحوں بعد ایک ایسا منظر میری آنکھوں کے سامنے آیا جو شاید میں کبھی بھلا نہ سکوں۔

تقریباً پچپن ساٹھ سال کی ایک ضعیف خاتون آہستہ آہستہ چلتی ہوئی ہوٹل میں داخل ہوئیں۔ انہوں نے صرف دو روٹیاں خریدیں اور ساتھ نہ سالن لیا، نہ دال اور نہ ہی سبزی۔

یہ دیکھ کر میرے دل میں عجیب سی بے چینی پیدا ہوئی۔ میں دوستوں سے معذرت کر کے اُن کے پاس گیا اور ادب سے پوچھا:

“امّی جی! آپ نے صرف روٹیاں ہی کیوں لیں؟”

انہوں نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا:

“بیٹا، میرے پاس صرف اتنے ہی پیسے تھے کہ دو روٹیاں خرید سکوں۔”

یہ جواب سن کر دل بھر آیا۔

میں نے پوچھا:

“آپ کے بچے نہیں ہیں؟”

یہ سوال سنتے ہی اُن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولیں:

“میرے چھ بچے ہیں… تین بیٹیاں اور تین بیٹے۔”

پھر آہستہ سے کہنے لگیں:

“بیٹیاں چاہتی تو بہت ہیں کہ مجھے اپنے پاس رکھیں، مگر اپنے شوہروں کی وجہ سے مجبور ہیں… اور بیٹوں نے بہوؤں کی وجہ سے مجھے گھر سے نکال دیا۔”

یہ الفاظ میرے دل میں اتر گئے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنی ایک بھانجی کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ بھانجی نے رہنے کی جگہ تو دے رکھی ہے، مگر ہر ماہ آٹھ ہزار روپے کرایہ لیتی ہے۔

میں نے حیرت سے پوچھا:

“پھر آپ اپنا خرچ کیسے پورا کرتی ہیں؟”

انہوں نے جواب دیا:

“بیٹا، لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہوں۔ عمر ہو گئی ہے، جسم کمزور ہے، لیکن عزت کی روٹی کے لیے محنت کرتی ہوں۔ مہینے کے دس بارہ ہزار روپے بن جاتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ ہزار بھانجی کو دے دیتی ہوں اور باقی سے جیسے تیسے گزارا کرتی ہوں۔”

میں کچھ دیر خاموش رہا۔

پھر پوچھا:

“کیا آپ کے بچے کبھی آپ سے ملنے آتے ہیں؟”

انہوں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کہا:

“نہیں بیٹا… وہ اس ڈر سے نہیں آتے کہ کہیں میں اُن سے یہ نہ کہہ دوں کہ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔”

یہ جملہ سن کر میری آنکھیں نم ہو گئیں۔

وہ مزید بولیں:

“میں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا پسند نہیں کرتی۔ جب تک جسم میں ہمت ہے، محنت کر کے کھاؤں گی۔ کبھی بھانجی کھانا دے دیتی ہے، کبھی جن گھروں میں کام کرتی ہوں وہاں سے کچھ مل جاتا ہے، اور اگر کچھ نہ ملے تو دو روٹیاں لے کر اللہ کا شکر ادا کر لیتی ہوں۔”

اللہ گواہ ہے، اُس لمحے میرے سامنے رکھا ہوا کھانا بھی حلق سے نہیں اتر رہا تھا۔

میں نے اپنی استطاعت کے مطابق اُن کے ہاتھ پر کچھ رقم رکھنے کی کوشش کی، مگر وہ بار بار انکار کرتی رہیں۔

میں نے عرض کیا:

“امّی جی، اسے خیرات نہ سمجھیں… اپنے بیٹے کی طرف سے ایک چھوٹا سا تحفہ سمجھ کر رکھ لیجیے۔”

آخرکار انہوں نے دعاؤں کے ساتھ وہ رقم قبول کر لی۔

میں نے اپنا رابطہ نمبر بھی اُنہیں دیا اور کہا:

“امّی جی! زندگی میں کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجک مجھے فون کر دیجیے گا۔”

جب میں واپس اپنے دوستوں کے پاس آیا تو جسم تو وہیں بیٹھا تھا، مگر دل جیسے کہیں اور رہ گیا تھا۔ ہنسی ختم ہو چکی تھی، باتوں میں دل نہیں لگ رہا تھا۔

گھر واپس آیا تو بھی وہی منظر بار بار آنکھوں کے سامنے آتا رہا۔

میں سوچتا رہا…

آخر ہم کس دور میں جی رہے ہیں؟

ایک ماں، جس نے اپنی پوری زندگی اولاد کی خاطر قربان کر دی، جس نے بچوں کو پالنے کے لیے اپنی جوانی اور آرام تک قربان کر دیا، آج اُسی اولاد کے لیے بوجھ بن گئی۔

اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی اُن کی قدر کریں۔

اُن کے پاس بیٹھیں، اُن سے بات کریں، اُن کے ہاتھ چومیں، اُن کی دعائیں لیں اور اُنہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ آپ کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔

کیونکہ جب والدین اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تو انسان کے پاس دولت، گھر، گاڑی اور دنیا کی ہر آسائش ہو سکتی ہے، مگر ماں باپ کی کمی کبھی پوری نہیں ہوتی۔

میری اپنی والدہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکی ہیں، اس لیے میں جانتا ہوں کہ ماں کی جدائی دل میں کیسا خلا چھوڑ جاتی ہے۔

اُس دن میں نے صرف ایک ضعیف عورت کو نہیں دیکھا تھا، بلکہ معاشرے کا ایک ایسا چہرہ دیکھا جس نے مجھے اندر تک ہلا کر رکھ دیا۔

اللہ تعالیٰ کسی بھی ماں باپ کو اولاد کی بے رخی کا دکھ نہ دکھائے، اور ہمیں اپنے والدین کی خدمت، عزت، محبت اور قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔ 🤲

🌸 والدین آج آپ کے پاس ہیں تو ان کی قدر کر لیجیے، کیونکہ کل شاید صرف یادیں باقی رہ جائیں۔

منقول

─────••●◎●••─────
والسلام آپ کا بھائی
پروفیسر شعیب ہاشمی

Address

12
New York, NY

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Daily News Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share