Musafir

Musafir �

"لوگ تم سے نفرت تب شروع کرتے ہیں جب وہ تمہیں کنٹرول نہیں کر پاتے۔"       ゚viralシ
21/07/2026

"لوگ تم سے نفرت تب شروع کرتے ہیں جب وہ تمہیں کنٹرول نہیں کر پاتے۔"

゚viralシ

آکسفورڈ کا پڑھا لکھا عمران خان ہمارے نبی ﷺ سے کیوں متاثر ہے؟ 63 سال کی سچ کی داستان!پاکستان کے پروفیشنل ٹیم لیڈر اور ساب...
21/07/2026

آکسفورڈ کا پڑھا لکھا عمران خان ہمارے نبی ﷺ سے کیوں متاثر ہے؟ 63 سال کی سچ کی داستان!

پاکستان کے پروفیشنل ٹیم لیڈر اور سابق وزیراعظم عمران خان بار کہتے ہیں:
"اگر پاکستان کو عظیم بنانا ہے تو ہمیں مدینہ کی ریاست کا ماڈل اپنانا ہوگا۔ اور وہ ماڈل نبی کریم ﷺ کی سیرت کے بغیر ممکن نہیں۔"

63 سال... اور ایک جھوٹ بھی نہیں!

دنیا میں 63 سال جینا آسان ہے۔
لیکن 63 سال بغیر ایک جھوٹ کے جینا یہ صرف محمد ﷺ کا ہی کمال ہے۔

مکہ کے کفار بھی آپ کو "الصادق الامین" کہتے تھے۔
دشمن بھی اپنی امانتیں آپ کے پاس رکھتے تھے۔
کیونکہ انہیں یقین تھا یہ شخص کبھی دھوکا نہیں دے گا۔

تاجر تھے تو ایمانداری،
حاکم تھے تو انصاف،
لیڈر تھے تو کردار۔

تو آکسفورڈ کا پڑھا لکھا نوجوان عمران خان ان سے کیوں متاثر ہے؟کیونکہ وہ جانتے ہیں ڈگری سے قومیں نہیں بنتیں، کردار سے بنتی ہیں۔اور کردار کی سب سے بڑی یونیورسٹی "سیرتِ نبوی ﷺ" ہے۔

عمران خان چاہتے ہیں ہر نوجوان:
1. سچ بولے - چاہے نقصان ہو جائے
2. امانت دار بنے - چاہے موقع ملے
3. انصاف کرے - چاہے اپنا ہی کیوں نہ ہو

اسی لیے وہ کہتے ہیں ہمارے اسکولوں میں سائنس کے ساتھ سیرت بھی پڑھائی جائے۔
تاکہ ہمارا نوجوان صرف نوکری والا نہ بنے، ایماندار لیڈر بنے

゚viralシ

کمال کی تصویر ہے دونوں کے درمیان 2 میٹر اور 70 یا 80 سال کا فاصلہ ہے گویا بچہ اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ماں جی ...
23/06/2026

کمال کی تصویر ہے دونوں کے درمیان 2 میٹر اور 70 یا 80 سال کا فاصلہ ہے گویا بچہ اپنے مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے اور ماں جی اپنے ماضی میں جھانک رہی ہیں
زندگی چند " عدد " کی گنتی کا نام ہے......!
゚viralシ

       ゚viralシ
22/06/2026

゚viralシ

کسی قوم کی اس سے بڑی بدنصیبی ہو ہی نہیں سکتی کہ خدا اس کی پون صدی غلامی کی لمبی تاریک رات میں سویرا لانے کیلئے ایک سورج ...
10/06/2026

کسی قوم کی اس سے بڑی بدنصیبی ہو ہی نہیں سکتی کہ خدا اس کی پون صدی غلامی کی لمبی تاریک رات میں سویرا لانے کیلئے ایک سورج عطا کردے اور وہ قوم اس سورج کو ایک تنگ و تاریک زندان میں قید کرکے تماشا دیکھے۔🖤

゚viralシ

06/06/2026

مزدور طبقے کا خیر خواہ لیڈر

゚viralシ

ایک کسان نے مُردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔تھوڑی ہی دیر بعد 70-80 چوہے اُس سور کی بدبو سے کھنچ کر کنویں میں کود...
19/05/2026

ایک کسان نے مُردہ سور ایک سوکھے کنویں میں پھینک دیا۔
تھوڑی ہی دیر بعد 70-80 چوہے اُس سور کی بدبو سے کھنچ کر کنویں میں کود پڑے۔ اُن کے لیے یہ آسان غذا تھی۔ اُنہوں نے مل کر سور کو کھا لیا۔

لیکن اصل مشکل تب شروع ہوئی جب کھانے کے بعد اُنہوں نے باہر نکلنے کی کوشش کی — تب اُنہیں احساس ہوا کہ وہ اس کنویں میں پھنس چکے ہیں۔

دن گزرتے گئے، کھانا ختم ہوگیا، بھوک نے شدت پکڑی۔ چند ہی دنوں میں وہ کنواں جہنم بن گیا۔ زندہ رہنے کے لیے چوہوں نے ایک دوسرے کو مارنا شروع کیا اور پھر کھانا بھی۔

آہستہ آہستہ سب ختم ہوگئے۔

آدھے مہینے بعد اُس کنویں میں صرف ایک چوہا بچا تھا، جس کی آنکھیں خون کی طرح لال ہوچکی تھیں۔

اتنے میں کسان واپس آیا، اُس نے کنویں میں رسی ڈالی اور آخری چوہے کو باہر نکال کر کھیت میں چھوڑ دیا۔

اب سوال: کیا کسان کو اُس چوہے پر رحم آگیا تھا؟

حقیقت کچھ اور تھی۔
وہ چوہا مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ اپنی ہی جنس کو کھانے کا عادی ہوچکا تھا، اس لیے وہ اب اناج نہیں کھاتا تھا۔ کھیت میں جاتے ہی وہ پاگلوں کی طرح دوسرے چوہوں کا شکار کرنے لگا۔

اور یہی ہے اصل "Divide Trap" — جہاں اوپر بیٹھے لوگ خود کبھی نہیں لڑتے، بس ایسا ماحول بنا دیتے ہیں کہ نیچے والے لوگ آپس میں لڑ کر ایک دوسرے کو ختم کردیں۔

سچ یہ ہے کہ بہت سے لوگ پوری زندگی دوسروں کو ہرانے میں لگا دیتے ہیں، لیکن اُنہیں کبھی سمجھ نہیں آتی کہ وہ خود کسی اور کے کھیل کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس لیے کسی اور کے بنائے جال میں مت پھنسو — اور اگر کبھی پھنس بھی جاؤ تو لڑو مت، باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔

🔻 پاکستان کے موجودہ حالات میں یہ کہانی کیا کہتی ہے؟

پچھلے ڈیڑھ سال میں پاکستان کا نظام تیزی سے زوال پذیر ہوا ہے:

· انفراسٹرکچر تباہ کیا جا چکا ہے — سڑکیں، پل، اسپتال، سکول سب تباہ حال ہیں۔
· لسانیت (زبان پر بنیاد تعصب) اپنے عروج پر ہے — ایک دوسرے کو پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچ، مہاجر کہہ کر کاٹا جا رہا ہے۔
· بنیادی اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ انسان صرف اپنی جلد کی فکر کرتا ہے۔ روٹی، بجلی، گیس، دوائی — سب عوام کی پہنچ سے باہر۔
· معاشی، اخلاقی، خاندانی اور مذہبی حوالوں سے ماحول زہریلا ہو چکا ہے:
· معاشی طور پر مہنگائی نے انسان کو حیوان بنا دیا ہے۔
· اخلاقی طور پر جھوٹ، دھوکہ، رشوت اور کرپشن عام ہو چکی ہے۔
· خاندانی نظام ٹوٹ رہا ہے — والدین کے ساتھ بے عزتی، بہن بھائیوں میں لالچ، رشتوں میں دوریاں۔
· مذہبی طور پر فرقہ واریت نے لوگوں کو آپس میں کاٹنا شروع کر دیا ہے۔ ہر گروہ دوسرے کو کافر یا بدعتی قرار دیتا ہے۔

#نتیجہ: آج پاکستان کا معاملہ بالکل اسی کنویں جیسا ہو چکا ہے، جہاں عوام ایک دوسرے کو نوچ کھا رہے ہیں۔ ہم نے اپنی اصل دشمن (اوپر بیٹھے کرپٹ حکمرانوں، بیوروکریٹس، اور زمیندار جاگیرداروں) کو بھول کر اپنے ہی پڑوسی، اپنی ہی نسل، اپنے ہی مذہب کے لوگوں کو دشمن سمجھ لیا ہے۔

اور اوپر بیٹھے لوگ؟ وہ آرام سے اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں، ہماری لڑائیوں پر ہنستے ہیں، اور نئے ’مردہ سور‘ پھینکنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

💡 :

· دوسروں کے بنائے ہوئے لسانی، فرقہ وارانہ، سیاسی جال میں مت پھنسو۔
· جب تم اپنے ہی بھائی کو کاٹو گے تو ’‘ ( ) خوش ہوگا۔
· لڑو مت — باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈو۔ اتحاد کرو، اصل دشمن پہچانو۔
· ورنہ یہ کہانی حقیقت بن جائے گی: کنواں خالی، اور صرف ایک لال آنکھوں والا چوہا باقی — جو خود بھی پاگل ہو چکا ہے۔

اللہ پاکستان کو اس فتنے سے بچائے۔ آمین 🤲🏻

゚viralシ

18/05/2026

😇
゚viralシ

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی دو قبریں ہیں؟....یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ مفکرِ پاکستا...
17/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی دو قبریں ہیں؟
....

یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ مفکرِ پاکستان، شاعرِ مشرق، علامہ محمد اقبال (رحمۃ اللہ علیہ) سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور اُن کی آخری آرام گاہ لاہور میں ہے۔ اُن کا مزار بادشاہی مسجد اور قلعہ لاہور کے درمیان حضوری باغ میں واقع ہے اور ہو سکتا ہے کہ آپ نے وہاں حاضری بھی دی ہو۔ لیکن کیا آپ کو یہ بھی پتا ہے کہ علامہ صاحب کی ایک قبر ترکی میں بھی واقع ہے؟

اگر نہیں پتا تو پھر سنیے! حضرت علامہ محمد اقبال رحمت اللہ علیہ کا جسد تو لاہور ہی میں دفن ہے، لیکن ترکی کے شہر قونیہ میں بھی اُن کی ایک علامتی قبر موجود ہے۔ حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کے نواح میں ایک علامتی قبر پر علامہ صاحب کی تختی لگی ہے.
قونیہ آج بھی ترکی کا سب سے زیادہ مذہبی شہر ہے بلکہ اسے ملک میں "اسلام کا قلعہ” کہا جاتا ہے۔

حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ 13 ویں صدی کے ایک عظیم صوفی بزرگ اور شاعر تھے۔ آپ کا پورا نام جلال الدین محمد رومی تھا۔ آپ موجودہ افغانستان کے علاقے بلخ میں پیدا ہوئے لیکن منگولوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کی وجہ سے اُن کے والد نے مغرب کی طرف ہجرت کی جہاں مولانا نے بالآخر قونیہ شہر کو اپنا ٹھکانا بنایا۔ آج اسی شہر میں مولانا رومی کا مزار مرکزِ نگاہ ہے۔ مولانا کا شعری مجموعہ "مثنوی" اِس وقت مقدس آسمانی کتابوں کے بعد دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتابوں میں سے ایک ہے۔ دنیا بھر سے لوگ ان کے مزار پر حاضری دیتے ہیں، نواح میں اُن کے شاگردوں کی قبریں بھی موجود ہیں۔ انہی قبروں میں سے ایک کے کتبے پر علامہ صاحب کا نام بھی لکھا ہے۔

تختی پر لکھا ہے، "یہ مقام پاکستان کے قومی شاعر اور دانشور محمد اقبال کو دیا گیا ہے۔"

یہ علامتی قبر دراصل ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ اور مولانا جلال الدین رومی کے رُوحانی تعلق کو بیان کرتی ہے۔ یہ تعلق کتنا گہرا تھا؟ اس کا اندازہ اقبال کی شاعری میں بار بار ہوتا ہے۔

"بالِ جبریل" کی نظم ہے 'پیر و مُرید' جس میں مولانا کو "پیرِ رومی" کہا گیا ہے اور اقبال نے خود کو "مریدِ ہندی" قرار دیا ہے۔

شاید یہ علم ہی ہے جو زمان و مکان کی پابندیاں توڑ دیتا ہے، ورنہ کہاں تیرہویں صدی کے اوائل میں پیدا ہونے والے رومی اور کہاں 19 ویں صدی کے آخر میں پیدا ہونے والے اقبال، دونوں میں 670 سال کا فاصلہ تھا لیکن علم کی دنیا میں یہ صدیوں کا فاصلہ بھی کوئی معنی نہیں رکھتا اور ان حدود کو یہاں تک توڑ دیتا ہے کہ آج ہمیں اقبال رومی کے مزار کے سائے تلے بھی نظر آتے ہیں۔

مصر کی ایک مشہور علمی شخصیت تھے عبدالوہاب عزام، انہوں نے ایک بار کہا تھا "اگر جلال الدین رومی اِس زمانے میں جی اٹھیں تو وہ محمد اقبال ہی ہوں گے۔ ساتویں صدی کے جلال اور چودھویں صدی کے اقبال کو ایک ہی سمجھنا چاہیے۔"

"بالِ جبریل" کی ایک نظم میں علامہ اقبال مولانا رومی کے حوالے سے کہتے ہیں:

ہم خوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
اک بحرِ پر آشوب و پر اسرار ہے رومی
تُو بھی ہے اسی قافلۂ شوق میں اقبال
جس قافلۂ شوق کا سالار ہے رومی
اس عصر کو بھی اس نے دیا ہے کوئی پیغام؟
کہتے ہیں چراغِ رہِ احرار ہے رومی

پاکستان سے بہت سارے سیاح اور عقیدت مند ترکی کے شہر قونیہ جاتے ہیں اور مولانا رومی کے مزار کے بعد علامہ اقبال کی اس علامتی قبر پر بھی حاضری دیتے ہیں۔ اللہ تعالی اپنے ان مقبولان کے درجات مزید بلند فرمائے اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
゚viralシ

Address

Rajanpur
33500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Musafir posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Musafir:

Shortcuts

Share