18/04/2026
ایران میں جہاز جلا دیے… مگر افغانستان میں اربوں کا اسلحہ چھوڑ دیا — یہ خوف تھا یا کوئی اور کھیل؟
کچھ واقعات وقت کے ساتھ نہیں دبتے… بلکہ جتنا سوچو، اتنے ہی خطرناک لگنے لگتے ہیں۔
ایران میں امریکی طیاروں کو خود تباہ کرنے کی خبر بھی ایسی ہی ایک کہانی ہے، جو سیدھی نہیں، بلکہ کئی سوال اپنے اندر چھپائے بیٹھی ہے۔
امریکہ نے کہا کہ دو طیارے تکنیکی خرابی کا شکار ہو گئے تھے، ایران میں پھنس گئے، اور پھر خود ہی تباہ کر دیے گئے… تاکہ حساس ٹیکنالوجی کسی کے ہاتھ نہ لگے۔
یہ بات سننے میں منطقی لگتی ہے۔ ایک سپر پاور اپنی ٹیکنالوجی بچانے کے لیے ایسا ہی کرتی ہے۔
مگر اصل سوال یہاں سے شروع ہوتا ہے…
اگر ایران میں چند جہازوں کے لیے اتنی جلدی اور سختی دکھائی جا سکتی ہے،
تو پھر افغانستان سے جاتے وقت وہی امریکہ اربوں ڈالر کا اسلحہ، ہیلی کاپٹرز اور جدید فوجی ساز و سامان کیوں چھوڑ آیا؟
وہ بھی اس حالت میں کہ سب کچھ تقریباً صحیح سلامت تھا۔
یہاں واضح کرتا چلوں صرف چند گاڑیاں یا ہتھیار نہیں چھوڑے… بلکہ اندازوں کے مطابق تقریباً 7 ارب ڈالر کا فوجی ساز و سامان وہیں رہ گیا۔
یہ کوئی افواہ نہیں، بلکہ خود امریکی دفاعی اداروں کی رپورٹس میں تسلیم شدہ حقیقت ہے۔
یہ اسلحہ کیا تھا؟
یہ کوئی عام چیزیں نہیں تھیں۔
تقریباً 78 طیارے — جن میں ہیلی کاپٹر اور فکسڈ وِنگ جہاز شامل تھے۔
40 ہزار سے زائد گاڑیاں — جن میں تقریباً 12 ہزار ہَم ویز شامل تھیں۔
427,300 ہتھیاروں میں سے 3 لاکھ سے زیادہ چھوٹے ہتھیار اور گولہ بارود وہیں رہ گئے۔
42 ہزار کے قریب نائٹ وژن، سرویلنس، بائیومیٹرک اور دیگر حساس آلات تقریباً مکمل طور پر چھوڑ دیے گئے۔
اور ساتھ ہی تقریباً تمام کمیونیکیشن سسٹمز، ریڈیو نیٹ ورکس اور دیگر جدید آلات بھی۔
ناظرین آپ کا کیا خیال ہے.
#ایران #افغانستان