NJK_News

NJK_News NJK News(nida.e.

NJK
Everything that you want to know about your history,your present ,your soldiers,your saviour,your freedom,your flage,your Leaders,your Rights and your duties Everything you want about Jummu & Kashmir
Everything you want to know about kashmirians Jammu & Kashmir)
Is a social media News network
That provide you Everything that you want to know about your history,your present ,your soldiers,you

r saviour,your freedom,your flage,your Leaders,your Rights and your duties Everything you want about Jummu & Kashmir
Everything you want to know about kashmirians
ندائے جموں و کشمیر (این جے کے)نیوز
ایک سوشل میڈیا نیوز چینل ہے جو آپ کو جموں و کشمیر کے بارے میں تمام خبریں فراہم کرتا ہے
جیسے
ہر وہ چیز جو آپ اپنی تاریخ، اپنے حال، اپنے فوجیوں، اپنے خیر خواہوں ، اپنی آزادی، اپنے جھنڈے ، اپنے رہنماؤں، اپنے حقوق اور اپنے فرائض اور جموں و کشمیر کے بارے میں سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیں۔
ہر وہ چیز جو آپ کشمیریوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی تازہ ترین اپ ڈیٹس کے لئے این جے کے کی حمایت کریں۔شکریہ
Follow us on FB& YouTube/NJk News.Tv

کشمیر میں جاری کشیدگی / سابق وزیر اطلاعات و  سینیٹر مشاہد حسین سید کا بیان غلط وقت پر غلط فیصلہ، ماضی کی اختلافِ رائے کو...
06/06/2026

کشمیر میں جاری کشیدگی / سابق وزیر اطلاعات و سینیٹر مشاہد حسین سید کا بیان

غلط وقت پر غلط فیصلہ، ماضی کی اختلافِ رائے کو غلط انداز میں سنبھالنے کی پالیسیوں کو دوبارہ دہرانا: ایسے وقت میں جب بھارت خطے میں مکمل طور پر پسپا ہوچکا ہے اور پاکستان اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے اپنی ناکام اور ناقص پالیسیوں کے باعث سفارتی طور پر تنہائی کا شکار ہے، پاکستان کی سرکاری مشینری حساس خطے آزاد کشمیر میں یہ مضحکہ خیز اور قلیل النظر پابندی عائد کرکے ایک نیا بحران پیدا کررہی ہے، حتیٰ کہ سیاسی اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین تک استعمال کیے جارہے ہیں!

کوٹلی/  تتہ پانی ٹاؤن کمیٹی میں بنڈہور زیریں کو شامل نہ کرنا ناانصافی ہے، علاقہ مکینوں کا شدید احتجاج۔ تتہ پانی ٹاؤن کمی...
31/05/2026

کوٹلی/ تتہ پانی ٹاؤن کمیٹی میں بنڈہور زیریں کو شامل نہ کرنا ناانصافی ہے، علاقہ مکینوں کا شدید احتجاج۔
تتہ پانی ٹاؤن کمیٹی کی حدود کے تعین کے معاملے پر مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

علاقہ مکینوں نے بنڈہور زیریں کو ٹاؤن کمیٹی سے باہر رکھنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ حکام سے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

علاقہ ​مکینوں کا کہنا ہے کہ بنڈہور تتہ پانی شہر سے محض چند میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، جو جغرافیائی اور انتظامی لحاظ سے ٹاؤن کمیٹی کا حصہ بننے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ انہوں نے احتجاجاً موقف اختیار کیا کہ ایک طرف دور دراز کے علاقوں کو ٹاؤن کمیٹی کا حصہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف بالکل متصل واقع گاؤں بنڈہور کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر ناانصافی اور سنگین انتظامی غلطی ہے۔

​علاقہ کے معززین اور نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر بنڈہور زیریں کو اس فیصلے میں شامل نہ کیا گیا تو یہ علاقہ بنیادی ترقیاتی فنڈز، شہری سہولیات اور بلدیاتی نمائندگی سے محروم رہ جائے گا۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کی ہے کہ عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے بنڈہور زیریں کو فوری طور پر تتہ پانی ٹاؤن کمیٹی کا حصہ بنایا جائے، بصورتِ دیگر مکین اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کا دائرہ کار وسیع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

26/02/2026
11/10/2025

آزاد کشمیر کی سیاست 27 خاندانوں کے گرد گھومتی رہی — موروثیت کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں

آزاد کشمیر کی سیاست گزشتہ سات دہائیوں سے چند مخصوص خاندانوں کے گرد گھومتی رہی ہے۔ 1947 کے بعد سے آج تک اقتدار کے ایوانوں میں انہی چہروں کے نام اور انہی گھروں کے وارث نظر آتے ہیں۔ عوامی نمائندگی کے نام پر اقتدار دراصل باپ سے بیٹے، بھائی سے بہن اور دادا سے پوتے کو منتقل ہوتا رہا — اور یوں موروثیت نے اس خطے کی سیاست کو اپنی گرفت میں لے لیا۔

یہاں 27 ایسے بااثر خاندان ہیں جنہوں نے مختلف ادوار میں اقتدار کے ایوانوں پر قبضہ جمائے رکھا:
سردار قیوم، سردار عتیق اور سردار عثمان… ممتاز راٹھور اور فیصل راٹھور… چوہدری مجید اور قاسم مجید… راجہ فاروق حیدر اور ان کی صاحبزادی نورین حیدر… سردار ابراہیم، خالد ابراہیم اور حسن ابراہیم… سردار سکندر حیات اور فاروق سکندر… شاہ غلام قادر اور علیم شاہ… رضا قادری اور احمد رضا… بیرسٹر سلطان اور ان کے صاحبزادے یاسر سلطان… سردار یعقوب اور فرزانہ یعقوب… سردار قمرالزمان اور ضیاء القمر… سردار اختر ربانی اور فہیم ربانی… چوہدری عزیز اور محسن عزیز… چوہدری یاسین اور عامر یاسین… کرنل نسیم اور اہلیہ امتیاز نسیم… چوہدری صدیق اور صاحبہ صدیق… مطلوب انقلابی اور ولید انقلابی… خان محمد خان اور ان کے خانوادے سے ڈاکٹر نجیب نقی… صغیر چغتائی، شاہدہ چغتائی اور احمد صغیر… کے بی خان اور عامر الطاف… غلام صادق اور سعود صادق… خان عبد الحمید خان اور ماجد خان… اسحاق ظفر اور اشفاق ظفر… حسین سرگالہ اور اکمل سرگالہ… سردار حاجی مصطفی خان اور سردار عبدالقیوم نیازی… یاسین گلشن اور رضوان گلشن… اور آخر میں وہ اعلیٰ فوجی افسر جن کے بھائی انوارالحق وزیرِاعظم بنے۔

یہ تمام نام اس بات کا ثبوت ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاست عوام کی بجائے خاندانوں کے درمیان منتقل ہوتی رہی۔ عوامی نمائندگی کا حق عام شہری کو آج تک نہیں ملا۔

تازہ سیاسی تحریک کے دوران بھی یہ تمام خاندان، اپنے سیاسی اختلافات کے باوجود، ایک ہی میز پر دکھائی دیے۔ اختلافات بھلا کر ایک زبان میں بات کرتے رہے — گویا مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ اقتدار کا تحفظ تھا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آزاد کشمیر کے عوام ہمیشہ انہی چند خاندانوں کے رحم و کرم پر رہیں گے؟
وقت کا تقاضا ہے کہ آئندہ انتخابات میں عوام ان 27 خاندانوں کے اس سیاسی تسلط کو مسترد کریں اور نئی، باصلاحیت اور حقیقی عوامی قیادت کو آگے لائیں۔

اگر عوام نے اس بار بھی خاموشی اختیار کی تو پھر یہی موروثی سیاست آنے والی نسلوں کا مقدر بن جائے گی — اور آزاد کشمیر کی سیاست، ہمیشہ کے لیے ان خاندانوں کی لونڈی بنی رہے گی۔

08/10/2025

اکتوبر 2005 — یہ وہ دن ہے جو ہماری قومی تاریخ کے الم ناک ترین دنوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بیس سال گزر جانے کے باوجود اس دن کی تباہ کاریوں کی یاد آج بھی دلوں کو دہلا دیتی ہے۔

ایک لمحے میں آزاد کشمیر، بالاکوٹ، مانسہرہ اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے ملبے کے ڈھیر میں بدل گئے۔ اسکولوں میں معصوم بچے، گھروں میں کام کرتیں مائیں، دفاتر میں کام کرنے والے باپ — سب لمحوں میں زمین کے نیچے دب گئے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 80 ہزار افراد جان کی بازی ہار گئے، ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔

یہ سانحہ صرف عمارتوں کا نہیں، بلکہ انسانیت، احساس اور انصاف کی بنیادوں کا امتحان تھا۔ دنیا بھر سے امداد کے قافلے پہنچے، قوم نے ایک دوسرے کے دکھ میں شریک ہو کر یکجہتی کی مثال قائم کی۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس جذبے کی جگہ بدانتظامی، کرپشن اور بے حسی نے لے لی۔

متاثرینِ زلزلہ کے لیے موصول ہونے والی اربوں روپے کی امداد کا بڑا حصہ بدعنوانی کی نذر ہو گیا۔ مکانات، اسکولوں اور اسپتالوں کی تعمیر کے منصوبے برسوں تاخیر کا شکار رہے۔ بہت سے علاقوں میں آج بھی لوگ عارضی شیڈز اور خستہ حال گھروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

حکومتیں بدلتی رہیں، اعلانات ہوتے رہے، کمیٹیاں بنتی رہیں مگر تحقیقات آج تک مکمل نہ ہو سکیں۔ بیس برس بعد بھی متاثرین انصاف، شفاف احتساب اور مکمل بحالی کے منتظر ہیں۔

آج، جب ہم 8 اکتوبر کی یاد مناتے ہیں، تو ہمیں صرف مرنے والوں کے لیے دعائیں ہی نہیں کرنی چاہئیں بلکہ زندہ رہنے والوں کے لیے ضمیر کا احتساب بھی ضروری ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات تو آزمائش ہیں، مگر اصل المیہ تب جنم لیتا ہے جب قومیں ان سے سبق نہیں سیکھتیں۔

29/09/2025

Address

Rawala Kot

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when NJK_News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to NJK_News:

Share