Standwithpalastine

Standwithpalastine

20/05/2026

Remember🌿🫶🦋

20/05/2026

Remember.....💫💌🦋

فرحان کو رینجرز نے گھر سے اٹھائے قریب 150 دن ہوچکے مائیں بالکل صحیح سلامت اپنے بچوں کو جنتی ہے سالوں پال پوس کر بڑا کرتی...
15/05/2026

فرحان کو رینجرز نے گھر سے اٹھائے قریب 150 دن ہوچکے مائیں بالکل صحیح سلامت اپنے بچوں کو جنتی ہے سالوں پال پوس کر بڑا کرتی ہے پھر پاکستان کے ادارے اکر انکو اٹھا لے جاتی ہے۔کلبھوشن جیسے شیاطین کو یہ ریاست عدالت کا حق رشتوں داروں کے ملنے کا حق دیتی ہے۔
مگر اسلام کی بات کرنے والے مجرموں کو یہ اس حق سے بھی محروم رکھتے ہیں۔ گھر والوں کے مطابق اسکی گیارہویں جماعت کے امتحانات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

اب اپ کہے نگے کچھ تو کیا ہوگا جیسے اپ لوگ ہر مظلوم قیدی کے متعلق کہتے ہیں جو ریاستی جبر کا شکار ہوتا ہے ایسے تو نہیں اٹھاتے کسی کو مجھے اور اپکو کیوں نہیں اٹھاتی۔۔؟؟؟
جی بالکل کیا تھا غزہ میں اپنے ہم عمر مسلمان بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر اواز اٹھا رہا تھا اپنی افواج سے جہہہاد کا مطالبہ کررہا تھا۔ وہ ہماری طرح گھونگا بزدل نہیں تھا۔

’’ابا جان! سورج نکل آیا ہے؟‘‘غزہ کی پٹی کے سینے پر قابض اسرائیل کی سفاکیت کے گہرے زخم اب بھی رِس رہے ہیں۔ وسطی غزہ کے شہ...
14/05/2026

’’ابا جان! سورج نکل آیا ہے؟‘‘

غزہ کی پٹی کے سینے پر قابض اسرائیل کی سفاکیت کے گہرے زخم اب بھی رِس رہے ہیں۔ وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں واقع ایک پر ہجوم پناہ گزین کیمپ کی تنگ و تاریک گلیوں میں 12 سالہ ننھا محمد عودہ اب دیواروں کو ٹٹول کر چلتا ہے۔ اس کے قدموں میں وہ اعتماد نہیں رہا جو کبھی ہوا کرتا تھا، کیونکہ اس کی آنکھوں کی روشنی اس ایک لمحے کی نذر ہو گئی جب اس نے زمین پر پڑی ایک دھاتی شے کو اپنی معصومیت میں کھلونا سمجھ کر اٹھا لیا تھا۔ وہ کھلونا نہیں، قابض اسرائیلی فوج کی چھوڑی ہوئی موت تھی، جو اس کے ہاتھ لگتے ہی ایک مہیب دھماکے سے پھٹ پڑی۔
اس معصوم بچے کو کیا معلوم تھا کہ وہ دھاتی ٹکڑا اس کے روشن مستقبل کو ابدی تاریکی میں بدل دے گا۔ اس قیامت خیز دھماکے نے نہ صرف محمد کے چہرے کو جھلسا دیا اور اس کی آنکھیں چھین لیں، بلکہ اس کے بائیں ہاتھ کی چار انگلیاں بھی قلم کر دیں۔ محمد نے لرزتی آواز میں اپنی بپتا سناتے ہوئے کہا کہ میں تو اسے کھلونا سمجھ رہا تھا، پر وہ میرے چہرے پر ہی پھٹ گیا، اس پل کے بعد سے میری دنیا اندھیری ہو گئی، اب مجھے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔
یہ پھول اب ایک ایسے خیمے کے قید خانے میں رہنے پر مجبور ہے جہاں زندگی کی رمق تک نہیں۔ وہ بچہ جو کبھی پورے کیمپ میں چہکتا پھرتا تھا، اب لقمہ توڑنے کے لیے بھی اپنوں کا محتاج ہے۔ یہ المیہ صرف محمد کا نہیں، بلکہ ان 24 لاکھ فلسطینیوں کا ہے جو سات اکتوبر 2023ء سے جاری اس منظم نسل کشی کی باقیات کے درمیان سانس لے رہے ہیں۔ اگرچہ 10 اکتوبر گزشتہ کو سیز فائر کا اعلان ہوا، لیکن قابض اسرائیل کے بچھائے ہوئے بارودی جال آج بھی فلسطینی بچوں کے لہو کے پیاسے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وحشیانہ جنگ نے اب تک 72 ہزار سے زائد شہداء اور 172 ہزار سے زائد زخمیوں کے داغ دیئے ہیں، جن میں زیادہ تر معصوم بچے اور بے بس خواتین ہیں۔
کیا اب سورج نکلا ہے؟
خیمے کی بے رنگ دیواروں کے سائے میں بیٹھے محمد کے والد حسام عودہ اپنے جگر گوشے کی حالت دیکھ کر تڑپ اٹھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ محمد تو زندگی سے بھرپور بچہ تھا، اسے بھاگنا دوڑنا پسند تھا، مگر اب اس کی زندگی میں کبھی نہ ختم ہونے والی رات اتر آئی ہے۔ باپ کا کلیجہ اس وقت چھلنی ہو جاتا ہے جب محمد بھرے دن کی روشنی میں سوال کرتا ہے کہ ابا! کیا ابھی رات ہے یا دن نکل آیا ہے؟
بچے کی تکلیف دوچند ہو جاتی ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ گرد و پیش میں ہر طرف تباہی کا ملبہ ہے اور اس جیسے معذور بچوں کے لیے کوئی سہارا موجود نہیں۔ اس کے باوجود اس ننھے مجاہد کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی، وہ کہتا ہے کہ جنگ نے میری بینائی اور میرا بچپن چھین لیا، مگر میں پھر بھی پڑھنا چاہتا ہوں، میں دوسرے بچوں کی طرح دوڑنا چاہتا ہوں۔
تاریکی میں علم کا چراغ
دیر البلح میں ’’انروا‘‘ کے زیر انتظام ’’مرکز النور برائے نابینا افراد‘‘ میں محمد اب ایک نئی زندگی کی مشق کر رہا ہے۔ جہاں کبھی وہ کتابیں دیکھ کر پڑھتا تھا، اب وہاں اسے ’’بریل‘‘ کے ذریعے انگلیوں کی پوروں سے لفظوں کو چھونا سکھایا جا رہا ہے۔ وہ اب سفید چھڑی کے سہارے راستہ تلاش کرنے کا ہنر سیکھ رہا ہے۔
محمد کا ایک ہی خواب ہے کہ وہ اپنی تعلیم مکمل کرے اور کاش کوئی اسے بیرون ملک علاج کے لیے لے جائے تاکہ وہ دوبارہ دنیا کو دیکھ سکے۔ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ اگر اسے ماہرانہ طبی امداد اور قرنیہ کی پیوند کاری میسر آ جائے تو اس کی دنیا دوبارہ روشن ہو سکتی ہے، لیکن قابض اسرائیل کے ظالمانہ حصار اور اسپتالوں کی تباہی نے ان امیدوں پر پہرے بٹھا دیئے ہیں۔
فروری 2026ء سے اب تک صرف 700 خوش نصیب مریض ہی علاج کے لیے باہر جا سکے ہیں، جبکہ ریڈ کراس کے مطابق 18 ہزار زخمی اب بھی موت اور زندگی کی کشمکش میں ایڑیاں رگڑ رہے ہیں۔
بارود کے ڈھیر پر بستی زندگی
اقوام متحدہ کے ادارے مائن ایکشن سروس نے اپریل 2026ء میں خبردار کیا تھا کہ غزہ کی سرزمین اس وقت بارود کا ڈھیر بن چکی ہے۔ اکتوبر 2023ء سے اب تک 700 سے زائد ایسے خطرناک میزائل اور بم پائے گئے ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ کر کسی اور محمد کی آنکھیں چھین سکتے ہیں۔ شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل کے مطابق قابض اسرائیل نے غزہ پر ایک لاکھ 20 ہزار ٹن سے زائد بارود برسایا، جس میں سے 71 ہزار ٹن نہ پھٹنے والا مواد اب بھی گلیوں اور ملبے کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ یہ وہ خاموش قاتل ہیں جو سیز فائر کے باوجود فلسطینی نسل کشی کا مشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انٹرنیشنل نرسنگ ڈے پر، ہم فلسطین، ایران، اور لبنان کے بہادر نرسز اور ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ چیلنجز کے باوجود...
12/05/2026

انٹرنیشنل نرسنگ ڈے پر، ہم فلسطین، ایران، اور لبنان کے بہادر نرسز اور ڈاکٹرز کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ چیلنجز کے باوجود آپ کی لِدت، ہمدردی، اور استقامت ہمیں سب کو متاثر کرتی ہے۔ آپ کی دیکھ بھال اور مہربانی کی کوئی حد نہیں۔ آپ کی بے لوث خدمت کا شکریہ 🌟

ان لِلّٰہ مسافات لاتقطع بالاقدام، وانما تقطع بالقلوب.اللّٰہ کی طرف جانے والے راستے پاؤں سے نہیں دلوں سے عبور کیے جاتے ہی...
11/05/2026

ان لِلّٰہ مسافات لاتقطع بالاقدام، وانما تقطع بالقلوب.

اللّٰہ کی طرف جانے والے راستے پاؤں سے نہیں دلوں سے عبور کیے جاتے ہیں۔🫀

خبردار۔۔۔۔!اگر یہ آپ کو صرف کارٹون لگ رہے ہیں تو آپ دھوکے میں ہیں ۔۔۔ زرا سوچیئے ۔۔ حاملہ کیسرز ، بیوی کا باہر افیئر چ...
11/05/2026

خبردار۔۔۔۔!

اگر یہ آپ کو صرف کارٹون لگ رہے ہیں تو آپ دھوکے میں ہیں ۔۔۔

زرا سوچیئے ۔۔ حاملہ کیسرز ، بیوی کا باہر افیئر چلانا ، یا شوہر کا اپنی باس کے ساتھ چکر ۔۔ ایسے بے حدہ کانٹینٹ کے لئے کارٹونز کیریکٹرز کا سہارا کیوں لیا جارہا ہے ؟ یہ زمہ داری تو ہماری ڈرامہ انڈسٹری بخوبی نبھا رہی تھی ۔۔ ہے نا ؟

یہاں اے آئی کی مدد سے ایسے رنگین آنکھوں کو پر کشش لگنے والے سبزی اور فروٹ کے کیرکٹرز کے زریعے آپ کے بچوں کے زہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے ۔

اور اس انداز میں کیا جارہا ہے کہ آپ کو محسوس بھی نا ہو
آپ یہی سمجھیں گے میرا بچہ موبائل پر شاید گیم کھیل رہا ہے یا پھر کارٹون دیکھ رہا ہے کیوں کہ اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ آوازیں بھی ایک دم کارٹونز کیریکٹر کی ہوں ۔۔۔
اور یوں ہمارے بچے ان چیزوں سے قبل از وقت واقف ہورہے ہیں جو ان کے زہنوں کو مفلوج کر دینگی ۔۔۔

اانکھیں کھولیے ۔۔

اسرائیلی ،ریاست کاغذ پر بنی خون سے قائم ہوئی ہے یہ 15 مئی 1948 کی رات تھی۔ یروشلم کی گلیاں سنائے میں ڈوبی تھیں، لیکن ایک...
11/05/2026

اسرائیلی ،ریاست کاغذ پر بنی خون سے قائم ہوئی ہے یہ 15 مئی 1948 کی رات تھی۔ یروشلم کی گلیاں سنائے میں ڈوبی تھیں، لیکن ایک گھر کے اندر ایک چھوٹا سا فلسطینی لڑکا یوسف اپنی ماں سے پوچھ رہا تھا، امی یہودی فوجیں آ رہی ہیں، کیا ہم سب مر جائیں گے؟ ماں کے ہونٹ کانپے، وہ جانتی تھی کہ کچھ بھی کہنے سے حقیقت نہیں بدلے گی۔ دروازہ پیٹا گیا۔ نکلو، یہ گھر اب ہمارا ہے۔ اس لمحے تاریخ ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ فلسطینیوں کیلئے جلا وطنی، موت اور بے وطنیت کا آغاز ہوا۔
یہ کہانی 19 ویں صدی کے آخر میں شروع ہوتی ہے جب تھیوڈور ہرزل نے 1897 میں زیورخ میں پہلی صہیونی کانفرنس بلائی۔ اس کانفرنس میں واضح طور پر کہا گیا کہ ہمیں دنیا میں ایک یہودی ریاست قائم کرنی ہے اور فلسطین ہمارا قدرتی حق ہے۔ یہ نظریہ صرف ایک خواب نہ رہا، بلکہ یورپ اور خاص طور پر برطانیہ کی پشت پناہی سے ایک سیاسی تحریک میں تبدیل ہوا ۔ 1917 میں برطانیہ نے بالفور ڈکلیئریشن جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ہم فلسطین میں یہودیوں کیلئے ایک قومی وطن کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔ اس ایک پیرا گراف نے عرب دنیا کی قسمت بدل دی۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد جب سلطنت عثمانیہ ختم ہوئی تو فلسطین پر برطانوی قبضہ ہوا، اور یورپ بھر سے یہودی آباد کاروں کو وہاں بسایا جانے لگا۔ 1920 سے 1947 تک فلسطین میں یہودی آبادی کا تناسب 10 فیصد سے بڑھ کر 33 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ ادھر مسلم دنیا گہری نیند میں تھی۔ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا قیادت سے محروم ہو چکی تھی۔ مصر عراق اردن شام سب نوآبادیاتی نظام کے تحت بٹے ہوئے تھے۔ باہمی اختلافات مسلکی تقسیم اور حکمرانوں کی عیش پرستی نے انہیں اس قابل ہی نہ چھوڑا تھا کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر متفق ہو سکتے۔
میں اقوام متحدہ نے فلسطین کو دو ریاستوں 1947 میں تقسیم کرنے کا منصوبہ پیش کیا ایک یہودی ریاست 43 فیصد اور فیصد علاقہ، ایک عرب ریاست (56) یروشلم کو بین الاقوامی علاقہ قرار دیا گیا۔ یہ تجویز مسلمانوں کیلئے ناقابل قبول تھی کیونکہ ان کی زمین ان کی مرضی کے بغیر چھینی جا رہی تھی۔ مگر اسرائیلیوں نے اس منصوبے کو فوراً قبول کر لیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ صرف شروعات ہے۔

مئی 1948 کو اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم، ڈیوڈ بن 14 گوریان نے ریاست اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اگلے ہی دن اردن مصر، شام، عراق اور لبنان کی افواج نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔ لیکن جو ہونا تھا وہی ہوا۔ عرب ممالک کی جنگی حکمت عملی بکھری ہوئی تھی، افواج جدید اسلحہ سے محروم تھیں۔ اسرائیل نے نہ صرف اس حملے کو روکا بلکہ مزید فلسطینی علاقے پر قبضہ بھی کر 78 فیصد علاقہ اسرائیل کے قبضے میں آلیا۔ فلسطین کا 22 فیصد مغربی کنارہ اور غزہ ،بچا جس پر اردن گیا، باقی 8 لاکھ فلسطینی اس دوران اور مصر کا کنٹرول رہا۔ تقریباً اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے۔ اسے "نکبہ " یعنی تباہی کہا جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر آج بھی اردن، لبنان، شام اور دیگر ممالک میں پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔

تو سوال یہ ہے کہ عرب دنیا ہاری کیوں؟ اسکی سب سے بڑی وجہ سیاسی نا اتفاقی تھی۔ مصر کے بادشاہ فاروق اردن کے شاہ عبداللہ، اور شام کے صدر کے اپنے مفادات تھے۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ کمانڈ نہیں تھی۔ اسرائیل کے پاس جدید ہتھیار امریکی حمایت اور یورپی اسلحہ تھا، جبکہ عرب ممالک نے محض جذباتی نعروں پر جنگ لڑنے کی کوشش کی۔

کے بعد مزید تین جنگیں ہوئیں 1956 ، 1967، اور 1948 مگر نتیجہ یہی رہا عرب دنیا کو شکست، اسرائیل 1973 1967 کی جنگ کا پھیلاؤ، اور فلسطینیوں کا مزید بکھراؤ۔ جسے " چھ دنوں کی جنگ کہا جاتا ہے، میں اسرائیل نے مشرقی یروشلم مغربی کناره غزه گولان کی پہاڑیاں اور صحرائے سینا پر قبضہ کر لیا۔ صرف چھ دنوں میں اسرائیل نے تین عرب ممالک کو شکست دی۔ اس جنگ کے بعد دنیا کو یقین ہو گیا کہ اسرائیل ایک طاقتور ریاست ہے اور عرب دنیا غیر منظم پھر آہستہ آہستہ اسرائیل نے 1979 میں مصر امریکہ کو اپنی دفاعی چھتری بنا لیا۔میں اردن نے 1994 نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کے تحت اسرائیل کو تسلیم کر لیا

فلسطینیوں کے خواب ٹوٹنے لگے۔ اگر آج ہم پیچھے مڑ کر دیکھیں تو سب سے بڑی غلطی اتحاد کی کمی تھی۔

مسلمان ممالک نے کبھی ایک پلیٹ فارم سے اسرائیل کی مخالفت نہیں کی۔ او آئی سی جیسے ادارے صرف بیانات تک محدود رہے۔ کوئی عملی اقدامات نہ ہوئے۔ مغرب نے ایک منصوبہ بنایا اور اسے بڑی حکمت سے آگے بڑھایا پہلے نظریاتی جنگ پھر سیاسی حمایت اور آخر میں عسکری قبضہ ۔ جبکہ مسلمان دنیا جذباتی، غیر منظم اور بکھری ہوئی رہی۔ آج بھی فلسطینی بچے یوسف کی طرحسوال کرتے ہیں ، کیا ہم مر جائیں گے؟ اور ان کی مائیں خاموش ہو جاتی ہیں، کیونکہ ان کے پاس اب بھی جواب نہیں ہےق

Address

..
Rawalpindi Cantonment

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Standwithpalastine posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share