Rawalpindi News Network

Rawalpindi News Network Updated News of Rawalpindi Region ,Current Affairs,Crime Incidents, important information

31/08/2026
یہ ہمارے حکمران ہیں! جنہیں عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا۔ آج  (پمز) میں معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ایسے سانحے کے موقع...
27/08/2026

یہ ہمارے حکمران ہیں! جنہیں عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا۔ آج (پمز) میں معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، ایسے سانحے کے موقع پر حکمرانوں کو تقریبات اور دعوتوں میں نہیں بلکہ غمزدہ خاندانوں اور عوام کے درمیان ہونا چاہیے تھا۔ اگر کوئی تقریب پہلے سے طے تھی تو اسے منسوخ کرنا اخلاقی ذمہ داری تھی۔

اصل المیہ یہ ہے کہ حکمرانوں میں احساس ہی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اپنی اولاد کا درد دل چیر دیتا ہے، مگر غریب اور عام آدمی کے بچوں کا غم شاید اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتا ہی نہیں۔

جس دن حکمرانوں میں احساس، درد اور جواب دہی پیدا ہوگئی، اسی دن ہم ایک قوم بھی بنیں گے اور ترقی بھی کریں گے۔ اقتدار جشن منانے کا نہیں، عوام کے دکھ میں کھڑے ہونے کا نام ہے۔

26/08/2026

بے حسی کی انتہاء۔۔

ریسکیو سروس کو دو گھنٹے اور پولیس کو چار گھنٹے پمز ہسپتال پہنچنے میں لگے۔۔

14 نومولود بچے جل کر موت کا شکار ہوئے ۔۔

پمز ہسپتال کے اعلیٰ افسران ،آئی جی پولیس اور ریسکیو سروس کے سربراہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا جائے ،عوام کا سخت ردعمل

26/08/2026

اسلام آباد کے پمز ہسپتال کا سالانہ بجٹ 10 ارب روپے

آگ سے بچاؤ کے لئے حفاظتی انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے 14 نومولود بچوں کی موت کا زمہ دار کون ہوگا ؟

26/08/2026

یہ P**n نہیں ہے
آج ہری پور کی چار، پانچ سالہ آیت نور کو ایک کنویں سے نکالتے دیکھا، جسے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کے بعد بوری میں بند کر کے کنویں میں پھینک دیا گیا اور اوپر لکڑیاں ڈال دی گئیں۔ اس سے پہلے اسی بچی کے باپ کو ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتے دیکھا تھا۔ بلک بلک کر کہہ رہا تھا کہ میری بچی کو باعزت اور بحفاظت مجھ تک پہنچا دیں، گیارہ بارہ دن سے نیند نہیں آئی۔ پھر اسی باپ کو اپنی بچی کے جنازے پر اس قدر شکستہ دیکھا کہ جیسے دل پھٹ گیا۔

چند روز پہلے ڈیڑھ سالہ ایزل کے بارے میں پڑھا، جسے مبینہ طور پر اپنے ہی سترہ سالہ رشتہ دار نے جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ پھر اس کی ماں کو بچی کی قبر پر فیڈر لیے بلکتے دیکھا۔ ایسے مناظر صرف حافظے میں محفوظ نہیں رہتے، دل میں خنجر کی طرح پیوست ہو جاتے ہیں اور ان کے لگائے ہوئے زخم مدتوں رستے رہتے ہیں۔

میں ایک عرصے سے ایسے واقعات پر لکھنے سے گریز کرتی رہی کہ آئے روز کسی بچے کے اغوا، جنسی تشدد، قتل یا بوری میں بند لاش کی خبر ذہن و دل کو مضمحل کر دیتی ہے، مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ اپنے ذہنی سکون کی خاطر اس مسلسل بربریت سے نظریں چرا لینا بھی بےحسی کی ایک صورت ہے۔ سو رونا آئے تو رو لیجیے، نیند اڑتی ہے تو اڑنے دیجیے، دل بوجھل ہوتا ہے تو ہونے دیجیے، مگر بات کیجیے۔ اور محض بات نہیں، اس بربریت کی روک تھام کے لیے معلومات پھیلائیے، قانون جانیے، دوسروں کو بتائیے، آواز اٹھائیے اور یہ سب ہنگامی بنیادوں پر کیجیے۔ اسی سلسلے میں یہ تحریر لکھ رہی ہوں۔ اسے آگے پہنچائیے، اس امید کے ساتھ کہ کسی ایک بچے تک پہنچنے سے پہلے کسی درندے کا ہاتھ روکا جا سکے۔

بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کو محض چند درندہ صفت افراد کی انفرادی بربریت سمجھ کر دیکھنا ہی وہ بنیادی غلطی ہے جس کی وجہ سے ہم ان واقعات کے اصل اسباب تک پہنچ نہیں پاتے۔ ہماری توجہ عموماً جرم کے بعد دی جانے والی سخت سزاؤں پر مرکوز رہتی ہے، جو بلاشبہ ضروری ہیں، مگر جرم کے وقوع سے پہلے اس کی روک تھام، اس کے پسِ پردہ سماجی رویوں اور اس ماحول پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے جو ایسے جرائم کو پنپنے، پھیلنے اور رفتہ رفتہ معمول بننے کی گنجائش دیتا ہے۔

اتنی کثرت سے رونما ہونے والی بربریت کبھی خلا میں پیدا نہیں ہوتی۔ اس کے پس منظر میں ایک پوری فضا، ایک بتدریج پیدا ہوتی قبولیت، ایک خاموش معاشرتی رواداری اور اب ایک وسیع ڈیجیٹل دنیا بھی کارفرما ہوتی ہے جو جرم کی قباحت کو آہستہ آہستہ ماند کر دیتی ہے۔

مجھے کئی لوگوں نے بتایا کہ پاکستان میں بچوں کے جنسی استحصال پر مشتمل مواد، جسے درست اصطلاح میں

Child Sexual Abuse Material (CSAM)

کہا جاتا ہے، بعض WhatsApp groups، Telegram channels اور private chats میں باقاعدہ طلب کیا جاتا، جمع کیا جاتا اور ایک دوسرے تک پہنچایا جاتا ہے۔

اس سے بھی زیادہ ہولناک بات یہ ہے کہ اسے “porn” کہہ دیا جاتا ہے، گویا یہ محض کسی نوع کا جنسی مواد ہو، حالانکہ یہ کسی بچے پر گزرنے والے حقیقی ظلم، خوف، بےبسی اور بےحرمتی کا محفوظ شدہ ریکارڈ ہے۔

جب کسی بچے کی چیخ، اس کی بےبسی اور اس کے جسم پر روا رکھا جانے والا ظلم ایک clip، file یا link بن کر ایک موبائل سے دوسرے موبائل تک گردش کرنے لگے، لوگ اسے تلاش کریں، مانگیں، محفوظ کریں اور دوسروں کو بھیجیں، تو معاملہ ایک مجرم کے انفرادی فعل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس سے ایک ایسی متوازی دنیا تشکیل پاتی ہے جہاں بچوں کا استحصال قابلِ دید، قابلِ طلب اور قابلِ تبادلہ شے بن جاتا ہے۔

اسی مسلسل مشاہدے، تبادلے اور طلب کے نتیجے میں وہ چیز جو اپنی اصل میں سفاک جرم ہے، معاشرتی شعور میں نارملائز ہونے لگتی ہے۔ اور جو شخص CSAM دیکھتا، مانگتا، جمع کرتا یا آگے پہنچاتا ہے، وہ محض “porn دیکھنے والا” انسان نہیں، بلکہ ایک مجرمانہ سلسلے کا حصہ ہے جو بچوں پر ہونے والے حقیقی ظلم کو جنسی مواد کی صورت دے کر نہ صرف اس کی قباحت کم کرتا ہے بلکہ child abuse کی قبولیت، طلب اور استمرار میں بھی اپنا حصہ ڈالتا ہے۔

اور یہ سب پاکستان کے نافذ قانون میں باقاعدہ جرم ہے۔

Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) کے Section 22 کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کے sexually explicit material کو بنانا، پیش کرنا، دوسروں کے لیے دستیاب کرنا، تقسیم کرنا، منتقل کرنا، حاصل کرنا یا بلا قانونی جواز اپنے information system میں محفوظ رکھنا جرم ہے۔

2023 کی ترمیم کے بعد اس جرم کی سزا:

کم از کم چودہ سال اور زیادہ سے زیادہ بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ مقرر ہے۔

اسی ترمیم کے تحت Section 22A میں درج ذیل افعال کو بھی جرم قرار دیا گیا ہے:

Online grooming، solicitation اور cyber enticement

یعنی کسی بچے سے online اعتماد یا تعلق قائم کر کے اسے sexual گفتگو، تصاویر، ویڈیوز یا کسی اور نوع کے sexual exploitation کی طرف مائل کرنا، یا اس سے ایسا material طلب کرنا یا بنوانا، قابلِ سزا فعل ہے۔

اس جرم پر:

پانچ سے دس سال قید، اور پانچ لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اسی قانون کا Section 22B بچوں کے commercial sexual exploitation کو جرم قرار دیتا ہے، جبکہ Section 22C online رابطے کے ذریعے کسی بچے کو اغوا، abduct یا traffic کر کے جنسی استحصال تک پہنچانے کو الگ سنگین جرم قرار دیتا ہے۔

اس جرم کی سزا:

چودہ سے بیس سال قید، اور کم از کم دس لاکھ روپے جرمانہ ہے۔

ان دفعات کا سرکاری متن 2023 کی ترمیم میں موجود ہے۔

قانون شکایت کا حق بھی صرف متاثرہ بچے یا اس کے والدین تک محدود نہیں رکھتا۔ ایسا شخص بھی شکایت کنندہ بن سکتا ہے جس کے پاس معقول بنیاد ہو کہ یہ جرم ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔

اس لیے اگر کسی

WhatsApp group، Telegram channel، private chat یا social-media account

میں آپ کو Child Sexual Abuse Material (CSAM) ملے تو اسے آگے forward نہ کریں، curiosity میں save نہ کریں، اور دوستوں کو دکھانے کے لیے circulate نہ کریں۔

متعلقہ:

phone number، username، account، group، message details

اور جو دوسری شناختی معلومات دستیاب ہوں، انہیں محفوظ انداز میں نوٹ کریں اور معاملہ

National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)

تک پہنچائیں۔

پاکستان میں اس وقت NCCIA سائبر جرائم کی inquiry، investigation اور prosecution کے لیے مجاز وفاقی ادارہ ہے۔

شکایت درج کروانے کے راستے یہ ہیں:

NCCIA online complaint form

Helpline: 1799

Pakistan Citizen Portal

یا قریبی Cybercrime Reporting Centre جا کر written application، CNIC کی copy اور دستیاب evidence کے ساتھ formal complaint جمع کروائی جا سکتی ہے۔

NCCIA کی اپنی FAQ میں یہ reporting routes اور formal investigation کے لیے درکار بنیادی معلومات درج ہیں۔

قانون موجود ہے، سزا متعین ہے، شکایت درج کرانے کا راستہ بھی موجود ہے اور متعلقہ ادارہ بھی قائم ہے، اس کے بعد خاموش رہنے کا کوئی عذر نہیں بچتا۔ سو اگر کسی شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ بچوں کی ایسی videos مانگتا، جمع کرتا یا پھیلاتا ہے تو اسے محض “porn دیکھنے والا” سمجھ کر نظر انداز نہ کیجیے۔ وہ محض ایک ناپاک ذوق کا حامل تماشائی نہیں بلکہ قانوناً قابلِ گرفت عمل میں ملوث ہے۔ ایسے لوگوں کو پہچانیے، اپنے بچوں کو ان سے محفوظ رکھیے، اور جہاں قابلِ اعتماد معلومات موجود ہوں وہاں معاملہ متعلقہ اداروں تک پہنچائیے۔ بچوں کے تحفظ کا تقاضا صرف یہ نہیں ہوتا کہ ہم جرم کے بعد مجرم کے لیے سخت سزا مانگیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ جرم کے گرد پیدا ہونے والی قبولیت، طلب اور ترسیل کے پورے سلسلے کو توڑیں۔

قانونی حوالہ

Prevention of Electronic Crimes Act 2016
Section 22
Sections 22A، 22B، 22C
ترمیم 2023

رپورٹنگ حوالہ

National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)
Helpline: 1799
Online Complaint Portal
Pakistan Citizen Portal
Cybercrime Reporting Centres

نادیہ زید
25 اگست 2026

26/08/2026

اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں لگنے والی آگ اور نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے اس المناک واقعے پر حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے تحقیقاتی کمیٹیاں تشکیل دے دی گئی ہیں تاکہ غفلت کے ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے।

ذمہ داری کا تعین طبی عملہ اور انتظامیہ: انکیوبیٹرز میں موجود کمزور بچوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی حالت میں انہیں بحفاظت نکالنے کی براہ راست ذمہ داری ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹروں، نرسوں اور ہسپتال کی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے।

چونکہ نرسری یا آئی سی یو (ICU) کے اندرونی حصوں میں انفیکشن سے بچاؤ کے لیے والدین کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی،

اس لیے ہنگامی حالات میں بچوں کے انخلا کی تمام تر قانونی اور اخلاقی ذمہ داری ہسپتال کے تربیت یافتہ عملے کی ہوتی ہے।

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ (MCH) سینٹر کی نرسری میں ائیر کنڈیشنر (AC) کا کمپریسر پھٹنے کی وجہ سے لگی।

حادثہ صبح سویرے پیش آیا اور آگ اتنی تیزی سے پھیلی کہ عملہ تمام بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بجائے بھاگ گیا یا زیادہ تر عملہ ڈیوٹی سے غیر حاضر تھا

جس کے نتیجے میں 15 نومولود جاں بحق ہو گئے اور صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا।

ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے واقعے کا سخت نوٹس لے کر غفلت برتنے والے عملے اور فائر سیفٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری شروع کر دی ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ہنگامی پروٹوکول پر عمل کیوں نہیں کیا گیا।

راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ، شہریوں میں خوف و ہراسراولپنڈی 24 اگست۔۔راولپنڈی میں قتل،...
24/08/2026

راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ، شہریوں میں خوف و ہراس

راولپنڈی 24 اگست۔۔راولپنڈی میں قتل، ڈکیتی، راہزنی، سٹریٹ کرائم، چوری اور نقب زنی کی متعدد وارداتوں نے شہریوں میں خوف و ہراس اور تشویش کی فضا پیدا کردی ہے، مختلف علاقوں میں شہریوں کو لوٹنے، قیمتی اشیا اور موٹر سائیکلیں چھیننے و چوری کرنے سمیت سنگین جرائم کے واقعات میں تسلسل کے باعث شہریوں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھتا جارہا ہے۔حالیہ ایک ماہ کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں قتل سمیت سنگین جرائم کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں شہریوں کو اسلحہ کے زور پر لوٹنے، راہزنی، موٹر سائیکلیں اور دیگر قیمتی اشیا چوری کرنے، گھروں میں نقب زنی اور سٹریٹ کرائم کی وارداتیں شامل ہیں۔ مسلسل سامنے آنے والے واقعات کے باعث شہری حلقوں میں تشویش بڑھتی جارہی ہے جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے پولیس کی کارروائیاں اس رفتار اور مؤثریت سے نظر نہیں آرہیں جس کی موجودہ صورتحال میں ضرورت ہے۔حالیہ دنوں میں ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی وارداتیں بھی شہریوں کے لیے باعث تشویش بنی ہوئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں شہریوں سے موبائل فونز، نقدی، موٹر سائیکلیں اور دیگر قیمتی اشیا چھیننے اور چوری کیے جانے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ گھروں اور دیگر مقامات پر نقب زنی کی وارداتوں نے بھی شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔پولیس کی جانب سے مختلف کارروائیوں میں جرائم پیشہ عناصر کی گرفتاری اور مسروقہ سامان کی برآمدگی کے دعوے سامنے آتے رہے ہیں، تاہم شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ انفرادی کارروائیوں کے باوجود جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اور مستقل حکمت عملی کے نتائج واضح طور پر نظر نہیں آرہے اور وارداتوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔گزشتہ روز راولپنڈی پولیس نے سٹریٹ کرائم، چوری اور نقب زنی میں ملوث پانچ گینگز کے سات ملزمان گرفتار کرکے ایک رکشہ، پانچ موٹر سائیکلیں، نو موبائل فونز، نقدی اور اسلحہ برآمد کیا۔ نیوٹاؤن، پیرودھائی، صدر بیرونی اور گوجرخان کے علاقوں میں مختلف کارروائیوں کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔اس سے قبل مورگاہ پولیس نے بیرون ملک سے واپس آنے والے شہریوں کو لوٹنے والے تین رکنی بین الاضلاعی گینگ کو گرفتار کرکے ایک کروڑ تین لاکھ روپے مالیت کا مسروقہ سامان برآمد کیا تھا، جس میں 22 موبائل فونز، 15 لیپ ٹاپس، 100 ایئرپوڈز اور 100 گھڑیاں شامل تھیں۔راولپنڈی پولیس نے سٹریٹ کرائم اور موٹر سائیکل چوری میں ملوث دو رکنی گینگ کو بھی گرفتار کرکے پانچ مسروقہ موٹر سائیکلیں اور وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کیا، جبکہ پولیس مقابلے کے دوران قتل، ڈکیتی اور گاڑیوں کی چوری سمیت متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب ایک ڈاکو بھی ہلاک ہوا۔گزشتہ ایک ماہ کے دوران قتل کے تقریباً چھ واقعات سمیت ڈکیتی، راہزنی، چوری اور نقب زنی کی متعدد وارداتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔پیر 24 اگست کو تھانہ صدر بیرونی کے علاقے اڈیالہ روڈ پر ارسلان نامی شہری کو سرعام فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے، تاہم قتل کی وجوہات اور ملزمان کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔قبل ازیں تھانہ ٹیکسلا کے علاقے میں ایک ٹک ٹاکر خاتون کو بھی سرعام گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ راولپنڈی میں شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے راولپنڈی پولیس میں پیشہ ور، اہل اور جرائم پر قابو پانے کی صلاحیت رکھنے والے افسران تعینات کیے جائیں اور پولیس کی کمانڈ و نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ راولپنڈی جیسے اہم شہر میں امن و امان کی صورتحال کو معمول پر رکھنے کے لیے پولیس گشت میں اضافہ، جرائم کے ہاٹ سپاٹس کی مؤثر نگرانی، فوری ردعمل کے نظام کو بہتر بنانے اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ناگزیر ہے تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

اسلام آباد سید پور گاؤں میں رات گئے شیر نکل آیا،  ، علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، ذرائع
24/08/2026

اسلام آباد سید پور گاؤں میں رات گئے شیر نکل آیا، ، علاقہ مکینوں میں خوف و ہراس پھیل گیا، ذرائع

24/08/2026

اسلام آباد ۔سرحد یونیورسٹی روات کیمپس میں سیکیورٹی آفیسر اور طلبہ میں تصادم اور فائرنگ کی ویڈیو وائرل

Address

Rawalpindi West Ridge

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rawalpindi News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category