UOW Tribune

UOW Tribune UOW & WEC Updates is a students governed, news agency of University of Wah and Wah Engineering College.

Its a platform to stay tuned to the university matters and is a great site for your voices.

06/01/2023

HARIS KHAN FILMS

The University will operate in the online mode on 26 May 2022.
25/05/2022

The University will operate in the online mode on 26 May 2022.

Notification for online conduction of classes for 25th May 2022 at UOW.
24/05/2022

Notification for online conduction of classes for 25th May 2022 at UOW.

May Allah’s almighty blessings flood your life with joy and opens all doors to success now and forever. Happy Eid Mubara...
03/05/2022

May Allah’s almighty blessings flood your life with joy and opens all doors to success now and forever. Happy Eid Mubarak!
------------------

غمگین مسکراہٹ !!                                                    _________________ اُس  کی آنکھوں میں شکوہ سا تھا جیس...
16/04/2022

غمگین مسکراہٹ !!
_________________

اُس کی آنکھوں میں شکوہ سا تھا جیسے اس کی آنکھیں کہہ رہی ہوں کہ

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کےلیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
_________________

آج میرے آخری سیمسٹر کے مد ٹرم کا آخری پیپر تھا جو کہ کچھ خاص اچھا تو نہیں ہوا لیکن خوشی اس بات کی تھی کہ چلو پیپر ختم ہو گئے ہیں اب رمضان سکون سے گزرے گا۔

پنڈی کی طرف روانگی تھی سو فیضان بھائی اور احسن بھائی کے ساتھ سفر شروع ہوا ہم تینوں موٹر سائیکل پہ پنڈی کےلیے نکلے اور موٹروے چوک پہ فیضان بھائی کو اتارا کیونکہ انہیں اپنے گھر میانوالی کےلیے نکلنا تھا
خیر وہاں سے پھر آگے چلے تو کچھ آگے جا کر ایک انتہائی معصوم شکل والا بچہ جس کی عمر کوئی بارہ تیرہ سال رہی ہو گی شدید گرمی میں دن کے ساڑھے گیارہ بجے کے قریب پسینے سے بے حال اپنے رکشے کو دھکا لگا رہا تھا کیونکہ اس کی رکشے کی چین ٹوٹ گئی تھی خیر ہم اس کو دیکھ کر رُکے کہ اس کی کچھ مدد کرنی چاہیے ہم نے کوشش کی اس کے رکشے کو بائیک کے ساتھ پاؤں سے دھکا لگانے کی اور اس کو بائیک کے ساتھ ہاتھ سے کھینچنے کی بھی کوشش کی لیکن دونوں منصوبے ہماری کم ہمتی کی وجہ سے ناکام ہوئے ایک اور منصوبہ رسی سے کھینچنے والا رسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے ناکام ہوا
چناچہ جمعے کا دن تھا اور ہم بھی تھوڑا جلدی میں تھے تو ہم نے اس سے کہا کہ اب اس سے زیادہ تو کچھ کر نہیں سکتے لیٹ بھی ہو رہے ہیں اور روزہ بھی ھے تو خود ہمت کرو اور اس کو دھکا لگا کر ورکشاپ تک لے جاؤ اور ہم وہاں سے چل دیے

لیکن اس بات پہ اس معصوم فرشتے کی آنکھوں کی چبھن تا دمِ تحریر مجھے محسوس ہو رہی ھے بہر حال اس نے غمگین مسکراہٹ کے ساتھ الوداع کہا لیکن اس کے چہرے کے تاثر بتا رہے تھے کہ شاید ہم اس کی آخری امید تھے اور شاید اب کوئی اس کی مدد کرنے نہیں آئے گا اور جیسے اس کی آنکھیں کہہ رہی ہوں کہ

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں

خیر دوران نماز چونکہ ہمارا ذہن اکثر اِدھر اُدھر بھٹک رہا ہوتا ھے تو میرا دھیان آج کے پیپر کی طرف چلا گیا کہ شاید میرا نمبر کم آئیں گے شاید میرا گریڈ اچھا نہ بنے لیکن پھر ایک امید بھی تھی کہ شاید ٹیچر بھلائی کرے اور اچھے نمبر دے دے لیکن پھر اچانک مجھے خیال آیا کہ اصل میں تو آج میرا ایک امتحان نہیں بلکہ دو امتحان تھے ایک میں تو شاید میں پاس ہو جاؤں اور اچھے گریڈ بھی لے لوں اگر ناکام بھی ہوا تو دوبارہ کوشش کر کے کامیاب ہو جاؤں گا اور اچھے مارکس لے لوں گا لیکن میرا دوسرا امتحان ____؟

میرے دوسرے امتحان میں تو مَیں ناکام ہو چکا تھا میرے اخلاق کا امتحان میرے کسی سے بھلائی کرنے کا امتحان میرے کسی کے ساتھ نیکی کرنے کیلیے اپنے مفاد کو پس پشت ڈال دینے کا امتحان _____

میں بری طرح ناکام رہا تھا اس امتحان میں اور اس بچے کا چہرہ بار بار میں آنکھوں کے سامنے آ رہا تھا اور اس کی غمگین مسکراہٹ ، ایسا لگتا تھا وہ اس ناکامی پہ مسکرا رہا تھا کہ تمہاری اوقات صرف اتنی ھے کہ اپنے آپ کو پیاس اور گرمی سے بچانے کےلیے مجھے راستے کے بیچ چھوڑ دیا

دیکھیے آپ حسن اخلاق کے اس عمل کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اللہ عزوجل نے حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے کسی عمل کو عظیم نہیں فرمایا میری ناقص معلومات کے مطابق نہ جہاد کو نہ روزے کو نہ حج کو نہ سچ کو نہ امانت داری کو نہ باقی اعمال کو ،اگرچہ ان کے تمام اعمال ہی عظیم ہیں اور ہمارے لیے مثال ہیں لیکن ان کے اخلاق کو اللہ عزوجل نے ایسا پسند فرمایا کہ اپنے محبوب کو شاباش دی اور فرمایا کہ اے محبوب آپ اخلاق کے عظیم ترین مرتبے پہ فائز ہیں آپ کے اخلاق نہایت ہی عمدہ ہیں آپ کے اخلاق کو کوئی بھی نہیں پہنچ سکتا۔

ایک حدیث پاک کا مفہوم ھے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام سے پوچھا گیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمائیے کہ قیامت کے دن کونسا عمل لوگوں کے سب سے زیادہ جنت میں جانے کا سبب بنے گا تو حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے ارشاد فرمایا کہ اعلی اخلاق اچھے اخلاق

قرآن میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اپنی عبادت کےلیے تو کیا عبادت سے مراد نماز روزے حج کا پابند ہونا ھے کیا عبادت میں اخلاق و کردار شامل نہیں ؟ بلکل شامل ھے اور شاید عبادت کے اعلی درجات میں سے ایک اچھا اخلاق ھے۔

اچھے اخلاق کے فقدان کی وجہ شاید آج ہمارا وقتی مفاد ہوتا ھے ہم کسی کی بھلائی کےلیے اپنے مفاد کو پسِ پشت نہیں ڈالنا چاہتے لیکن پھر بھی ہم دعائیں کرتے ہیں کہ یااللہ ہمیں جنت میں رسول اللہ ﷺ کا پڑوس عطا فرما جن کے اخلاق کی وجہ سے ان کے دشمن بھی کلمہ پڑھنے پہ مجبور ہو جاتے تھے۔

قرآن میں اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس طرح ارشاد فرمایا کہ اے پیارے پیغمبر اگر آپ نرم دل اور شائستہ مزاج کے نہ ہوتے اور سخت طبیعت اور تنگ دل ہوتے تو جو لوگ آپ کے پاس اپنی جانیں ہتھیلی پر لیے ہر وقت آپ کے ساتھ موجود رہتے ہیں شاید آپ کا ساتھ چھوڑ دیتے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ھے کہ ہمارے اخلاق کا سب سے زیادہ مستحق کون ہیں ہم پہ کس کا حق ھے کہ ہم اس کے ساتھ اچھے سلوک اچھے اخلاق سے پیش آئیں تو اس کا جواب بھی ہم سب کے محبوب ﷺ نے ہی ارشاد فرما دیا چناچہ پوچھا گیا کہ اے محبوب ﷺ ہمارے اچھے اخلاق کا سب سے زیادہ مستحق کون ھے فرمایا تمہاری ماں پھر سوال ھوا کہ اے محبوب ﷺ اس کے بعد پھر ارشاد فرمایا کہ تمہاری ماں پھر سوال ہوا اے محبوب ﷺ اس کے بعد پھر یہی ارشاد فرمایا تمہاری ماں پھر سوال ہوا کہ اے محبوب ﷺ اس کے بعد تو پھر ارشاد فرمایا کہ تمہارا باپ۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اے مومنوں اگر تمہارے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ ان کو مت جھڑکو بلکہ ان کو اُف تک مت کہو اور ان کے سامنے اپنے شانوں کو جھکا کر رکھو۔ اور یہ حکم صرف بڑھاپے کےلیے مخصوص نہیں ھے بلکہ انسان جب شعور کی عمر میں قدم رکھتا ھے تو یہ حکم اس پہ لاگو ہو جاتا ھے لیکن چونکہ بڑھاپے کی عمر ایک ایسی عمر ھے کہ انسان کے اعضا تو بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن اس کا دماغ بچے جیسا ہو جاتا ھے وہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بات کو دل پہ لے لیتا ھے برا محسوس کرتا ھے اور پھر ہر کسی سے شکوہ کرتا ھے انسان جتنی مرضی کوشش کر لے اگر چھوٹی سی بھی غلطی کوتاہی کرے گا ان کی خدمت میں تو وہ بوڑھے والدین ناراض ہوتے ہیں چنانچہ بڑھاپے میں والدین کی خدمت ایک انتہائی ہمت برداشت صبر حوصلے والا کام ھے جو کہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر بدبخت اولادوں کی جنتیں اولڈ ہاؤسز میں رُل رہی ہوتی ہیں اور خوار ہو رہی ہوتی ہیں۔ اور ان کے حالات دیکھ کر اور سن کر بندہ بس یہی کہتا ھے کہ خدا کی پناہ خدا ہمیں اس سے محفوظ رکھے۔

آخر پہ بس اتنی دعا ھے اللہ عزوجل ہمیں اپنے محبوب ﷺ جیسے اخلاق پیدا کرنے اور اپنانے اور کسی کے ساتھ اچھائی اور بھلائی کرنے میں اپنے ذاتی مفاد کو پس پشت ڈالنے کی توفیق و ہمت نصیب فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنے سچے دین پہ قائم رکھے اور ہمارا شمار اُن ہدایت یافتہ لوگوں میں فرمائے جس سے اُس نے انعام و اکرام کے وعدے کر رکھے ہیں بےشک وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔

والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
_________________________
اپنے مالک کا سرکش غلام
اِبن سبیل

١٣ رمضان المبارک ١٤٤٣

Read Pakistan, UOW Chapter Event started in E-Hall, UOW. Br M Waseem is reciting Tilawat E Quran.
07/04/2022

Read Pakistan, UOW Chapter Event started in E-Hall, UOW.
Br M Waseem is reciting Tilawat E Quran.

Techon - '22 closing ceremony has been started in Auditorium UW. Br Muhammad Waseem is reciting the Quran - E - Hakeem! ...
31/03/2022

Techon - '22 closing ceremony has been started in Auditorium UW. Br Muhammad Waseem is reciting the Quran - E - Hakeem!

16/03/2022

زمین و اسمان (کائنات) کی پیدائش کے بارے میں ہمیں بہت کم معلوم ہے۔ ہمیں تو اس کا حال بھی معلوم نہیں ہے، ماضی کیا خاک ہونا ہے۔ لیکن پھر بھی، انسانی عقل، شواہد اور علامات کی بنیاد پر جس قدر پیچھے جا سکتی ہے، گئی ہے، اور اپنے تئیں پوری کوشش کی گئی ہے کہ زمین کی پیدائش کے بارے میں کچھ جانا جا سکے۔ میں نے اس پر گزشتہ 3,4 ماہ سے آرٹیکلز کی شکل میں، آراء کی شکل میں، اور ڈائریکٹ ثبوتوں کی شکل میں، جو کچھ مل سکا، اسے سمجھنے کی ایک چھوٹ سی کوشش کی ہے۔ جو میں انشا اللہ سلسلہ وار یہاں پر بتایا کروں گا تا کہ اللہ کی حاکمیت کی وسعت کا اندازہ بھی ہو، اور سائنسی رجحان بھی بڑھے۔
ایک بات یہاں ذہن نشین کر لیں کہ فی الحال، یہاں بات کلی طور پر سائنسی ثبوتوں/شواہد کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔ نہ کہ دینی۔ دین ہماری کچھ اور رہنمائی کرتا ہے، اور دین اسلام اور سائنس کو کمپیئر کرنا بڑی ہی سخت جہالت ہو گی کہ اسلام کا مقام سائنس سے بہت بلند ہے۔ ان کا کسی قسم کا کوئی کمپیریزن بنتا ہی نہیں۔ البتہ کہیں کہیں جہاں اسلام سائنس کی تصدیق کرے گا، ہم وہاں سائنس کو ایک تمغہ دیتے جائیں گے۔ بس!
-------------------
کائنات کیسے پیدا ہوئی؟ ستارے کیسے پیدا ہوئے؟ زمین کیسے پیدا ہوئی؟ زمین پر زندگی کیسے آئی؟ روشنی کیا ہے؟ وقت کیا ہے؟ ماضی یا مستقبل میں جایا جا سکتا ہے؟ زندگی زمین کے علاوہ کہاں کہاں ہے؟ کائنات کی حدود کیا ہیں؟ انسان کیا ہے؟ ارتقا کیا ہے؟ وغیرہ وغیرہ جیسے مختلف سوالوں کے جوابات ہم اپنی اسی سلسلہ وار سیریز میں دیکھیں گے اور آپ اہل علم اس کی تصدیق/تردید کریں گے تو علم میں وسعت آئے گی۔
------------------
آج ہم بس یہی دیکھیں گے کہ کائنات کہاں سے شروع ہوتی ہے، اور سائنسی ثبوت ہمیں کیا بتاتے ہیں؟
یہ کائنات نہ ایجاد ہے، نہ دریافت ہے، بلکہ یہ تخلیق ہے۔ اقر تخلیق اسے کس نے کیا ہے؟ سائنسی طور پر اس بات کا ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن اتنا کنفرم ہے کہ کائنات کو کسی نہ کسی نے بنایا ہے، تخلیق کیا ہے۔ سائنس رب کا/تخلیق کرنے والے کا کبھی انکار نہیں کرتی نہ کبھی کر سکتی ہے۔

کائنات کے شروع میں ہم ایک مفروضے سے بات کو شروع کریں گے۔ کہ ہم نے فرض کیا ہے کہ کائنات پہلے صرف اور صرف روشنی تھی۔ جس کی کوئی مادی حیثیت نہیں ہے۔ لیکن یہ روشنی، مادے میں کنورٹ کی جا سکتی تھی یعنی اس کا مطلب، کہ یہ وہی روشنی تھی جو آج ہم سورج/چاند/زمین/بلب/جگنو وغیرہ میں دیکھتے ہیں۔ اس روشنی کا مصدر آگ تھا، یعنی کائنات پہلے آگ کا ایک گولہ تھی۔ (اس کا ثبوت آگے کی تحقیقات میں بہت کھل کر سامنے آئے گا.) یعنی کائنات کے سب ستارے، زمین، سب ایک ہی باڈی تھی۔ (یہاں سائنس کو ایک تمغہ اس بات کا جاتا ہے کہ اس بات کی تصدیق قرآن کرتا ہے، کہ زمین و آسمان پہلے ایک ہی جسم تھے، پھر اللہ نے اس کو الگ الگ کیا.)

اس مفروضے کے بعد ایک اور مفروضہ لے لیں، وہ یہ کہ یہ آگ ایک بہت بڑے دھماکے سے پھٹ گئی، وہ دھماکہ کیوں ہوا؟ یہ آگ کہاں سے آئی؟ اس کا کوئی جواب نہیں ہے، ہاں اس کی مختلف possibilities ہو سکتی ہیں۔ جیسے یہ، کہاس آگ کے گولے میں کہیں ٹمپریچر اپنی کنٹرول ایبل مقدار سے اس قدر بڑھ گیا ہو گا کہ چھوٹا دھماکہ ہوا ہو گا، وہاں سے اس کے اثر پر ایک اور دھماکہ، اور کرتے کرتے ایک بڑا دھماکہ، جسے ہم Big Bang کہتے ہیں، ہوا ہو گا۔ یہ اس قدر زور دار تھا کہ اس نے اس آگ کو مختلف ٹکڑوں میں توڑ کر رکھ دیا اور جیسے ایک دھماکے کے بعد ٹکڑے بکھرتے ہیں اور پھر ساکن ہو جاتے ہیں، یہاں بھی ٹکڑے بکھر گئے۔ یہ ٹکڑے اس وقت تک بکھر رہے ہیں۔ اور مزید کھلتے جا رہے ہیں۔ اسی بکھرنے کے درمیان کے وقت میں میں، آپ اور باقی سب زندہ ہیں۔ یہ کائنات ایک طرف کو پھیل رہی ہے، پھر یہ اس پھیلنے کے بعد اپنے اوریجنل فیز میں دوبارہ واپس آئے گی، یعنی جیسے یہ پھیلی ہے، اور انرجی میٹر میں تبدیل۔ہوئی ہے، ویسے ہی یہ میٹر، انرجی میں تبدیل ہو گا اور اس سے Shrinking ھو گی کائنات کی، (یہاں سائنس کو ایک اور تمغہ کہ یہاں بھی قرآن سائنس کی تصدیق کرتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ ہم اس آسمان و زمین (کائنات) کو لپیٹ دیں گے۔) اس کائنات کی ایک فرضی تصویر میں نے کمنٹ سیکشن میں ڈال رکھی ہے جس سے آپ کو کافی وضاحت مل۔جائے گی۔
الغرض یہ کائنات ٹھنڈی ہوتی جا رہی ہے، اسے لیئے ستارے بنتے جا رہے ہیں، پھر ستارے ٹھنڈے ہوتے جا رہے ہیں اور ان سے سیارے بن رہے ہیں، پھر سیارے بھی ٹھنڈے ہوتے جا رہے ہیں اور Rocks یا ٹھنڈے برفیلے گولوں کی شکل میں آتے جا رہے ہیں ٹوٹتے جا رہے ہیں۔ اسی بیچ، ہمارے دنیا بھی، "اتفاق" سے ایک جگہ پر آ کر ٹک گئی ہے اور اپنا ایک مدار پکڑ چکی ہے۔ یہ یہاں تک کیسے آئی؟ اس میں پانی کہاں سے آیا؟ پانی مزید کہاں کہاں ھے؟ کائنات کے پتھر/سیارے/ستارے ہم سے کیوں نہیں ٹکراتے؟ اس میں زندگی کہاں سے آئی؟ کیا اس کو فنا ھونا ہے؟ ھونا ہے تو کب، اور کیسے؟ اور یہ کہ زمینیں اور بھی ہیں؟ ان سب باتوں کے جوابات انشا اللہ اگلے مضمون میں دیکھیں گے، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو!
-----------------
(جاری ہے)
باقی رہے نام اللہ کا۔
بقلم خود!

14/03/2022

🕯️جب مجھے کوئی کہتا ہے کہ یہ میری زندگی بھر کا تجربہ ہے۔۔۔۔ تو میرے کان کھڑے ہو جاتے ہیں کہ۔۔۔۔۔ کوئی کام کی بات کرنے لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔ یہ میرے اس دن کے مشاہدات ہیں جب میں دو سو intellectual مگر غیر منظم لوگوں کے ساتھ سوات گیا۔۔۔۔۔۔

✨ہماری قوم کی یہ اجتماعی طبیعت ہے کہ ہم خوشی کو غم کے بغیر چاہتے ہیں۔۔۔ ہم enjoy کرنا چاہتے ہیں مگر adventure کے بنا۔۔۔۔ ہم فطرت کا سکون چاہتے ہیں مگر اپنی زندگیوں کا اور اپنے گھروں کا سکون درہم برہم کیے بغیر۔۔۔۔ہم آسانی چاہتے ہیں مشکل سے گزرے بغیر۔۔۔۔۔۔ ہر خواہش کے پورا ہونے میں اتنا مزہ نہیں ہے۔۔۔۔ جو کچھ آرزوؤں کے ادھورا رہ جانے میں ہے۔۔۔۔۔۔

⚡میرا دوست حذیفہ کہتا ہے کہ "پورا کرنے والی چیزوں میں خواہشات۔۔۔ دوسرے نمبر پر رکھنی چاہئیں"
⚡دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے اجتماعی رویے ہمارے انفرادی رویوں کا عکس ہوتے ہیں۔۔۔۔ چونکہ ہماری انفرادی ذندگی میں بے ترتیبی اور بے نظمی ہوتی ہیں ہے۔۔۔۔ اس لیے ہمارے اجتماعی کام بھی بےڈھنگے ہوتے ہیں۔۔۔۔۔ چونکہ صبر کا مادہ کبھی ہم نے پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی اس لیے۔۔۔ لوگ تھوڑے سے مشکل حالات میں بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔۔۔
🚨اس لیے کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ۔۔۔۔۔ یونیورسٹی میں disaster management کے کورسز بھی کروانے چاہئیں۔۔۔۔۔ امت مسلمہ کا تو آزمائشوں کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔۔۔۔ *قرآن کہتا ہے* *کہ "آزمائشیں صلاحیتوں کو جگانے کے لیے ہوتی ہیں رلانے کے لیے نہیں ہوتیں"*
⚡تیسری بات یہ ہے کہ۔۔۔۔ اس بات کا رونا تو سب نے رویا کہ ہمیں اچھی سیٹ نہیں ملی۔۔۔۔ اپنے دوستوں کی بس میں جگہ نہیں ملی۔۔۔۔۔تھوڑے وقت کے لیے بھوگ لگی۔۔۔۔ تھوڑا سا سر میں درد ہوا۔۔۔۔۔ مگر اس کے بدلے جو جنت جیسا منظر دیکھنے کو ملا۔۔۔۔ اس پر کسی نے دل میں بھی شکر ادا کیا؟؟
⚡سب لوگ بنا کسی حادثے کے عافیت سے گھروں کو پہنچ گئے۔۔۔۔ کسی نے الحمدللہ کہا؟؟ ⚡شدید بھوک کے بعد جو اللہ نے کھانا دیا۔۔۔۔۔ کسی کو دعا یاد آئی؟...۔۔ آٹھویں سمسٹر والا کا تو یہ شاید یونیورسٹی لائف کا آخری ٹرپ تھا۔۔۔۔ سب اپنے ساتھ کتنی حسین یادیں(memories) موبائل کے کمروں میں اور خیال کے گوشوں میں سمیٹ لائے۔۔۔۔۔ جو جب جب زندگی میں یاد آئینگی،۔۔۔۔۔ اک اداس سی مسکراہٹ چہر پر آکر گزر جائے گی ۔۔۔۔۔ کیا ان لمحوں کی کوئی قیمت ہو سکتی ہے جب ہم آپنی کنہگار آنکھوں سے قدرت کے شہکار دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔!
-----------
بقلم:
محمد وسیم!

Punjabi Culture Day | 14 March.‏ایہہ دھرتی پنج دریاواں دیایہہ دھرتی ٹھنڈیاں چھاواں دیPunjab (the land of five rivers); t...
14/03/2022

Punjabi Culture Day | 14 March.

‏ایہہ دھرتی پنج دریاواں دی
ایہہ دھرتی ٹھنڈیاں چھاواں دی

Punjab (the land of five rivers); the most populated province of Pakistan celebrating it's culture day on 14 March every year. Punjab is popularly known for its culture. It is the land of 110 million Punjabi speaking.

Punjabi Culture is one of the oldest in South Asia's history. The scope, history, complexity and density of the culture is vast. Some of the main areas of the Punjabi culture includes: Punjabi cuisine, philosophy, poetry, artistry, architecture, traditions and values. It is the land of Ali Hujwiri, Fariduddin and other Sufi mystics.

Islamic Society UOW, would like to extend it's heartiest felicitations to our fellow Punjabis and wishing them a very "Happy culture day". We believe in diversity and peaceful co-existence as it opens the sense of beauty.

ALHUMDULILLAHCometh the hour | Cometh the man!Islamic Society UOW, has successfully arranged  a Seminar and Discussion F...
10/03/2022

ALHUMDULILLAH
Cometh the hour | Cometh the man!

Islamic Society UOW, has successfully arranged a Seminar and Discussion Forum Regarding The Current Wave Of Immorality and Concerts in Universities.
______________________________

Address

Rawalpindi

Opening Hours

Monday 08:00 - 15:30
Tuesday 08:00 - 15:30
Wednesday 08:00 - 15:30
Thursday 08:00 - 15:30
Friday 08:00 - 12:30

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when UOW Tribune posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to UOW Tribune:

Share