26/02/2025
پاکستان میں پانی کی کمی کا ذمہ دار ہر شہری ہے جو جانتا بھی ہے کہ پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ رہی ہے مگر وہ پھر بھی ان اسباب کو اپنانے سے گریزاں کیوں ہے کیا اس نام نہاد ترقی کے نام پر وہ اپنی آنے والی نسلوں کو ختم کرنے پر تلا ہوا ہے۔ ہمارے بزرگ جہاں بھی دیہات بساتے وہاں درختوں کے علاوہ ایک بڑا تالاب ضرور بناتے جہاں گاؤں کی سیوریج کا پانی جمع ہوتا جبکہ بارشی پانی بھی اس میں شامل ہوتا جسکا فائدہ یہ ہوتا کہ پانی ریسائیکل ہو کر دوبارہ زیر زمین چلا جاتا اور نتیجہ میں انسانی زندگی پانی کی کمی جیسے مسائل سے محفوظ رہتی پھر ہم نے ترقی یافتہ بننے کی خاطر گھر ،گلی، محلے کو ہر جگہ کنکریٹ سے بھر دیا زمین کو سانس لینے کے لئے پانی جزب کرنے کے لئے جگہ ہی نا دی اور آج دیہات بھی پانی کی کمی کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ شہروں میں تو پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے ہمیں فطرت کیساتھ چلنا ہو گا رہائشی علاقوں کے اردگرد پانی کی سٹوریج کے کنویں بنانے ہوں گے گلی محلوں میں یہ کام خالی بور کر کے انکو بجری وغیرہ سے بھر کر بھی پانی سٹوریج کیا جا سکتا ہے جو زیر زمین پانی کا لیول برقرار رکھے گا پانی زندگی ہے اسکی اہمیت کو سمجھنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو بچایا جا سکے۔۔۔