17/02/2026
لمحہ فکریہ۔۔درد دل
زکوات۔حق سادات۔خمس اور ہمارے نعرے
طویل عرصے سے حق سادات خمس کے موضوع پر کلام کرنے کی خواہش تھی جس نے پچھلے دنوں تب زور پکڑا جب کچھ سادات کو انتہاء کی کرب میں دیکھا کہ جس کے بعد ہم اہلیبیت کی غلامی کا نعرہ لگانے والوں کے لیئے ڈوب مرنے کا مقام ہے ۔ کہ جب ہم سٹیجوں پر ان کی محبت کے نعرے لگائیں لیکن ہمارے پڑوس یا نظر میں غریب سادات ہماری مدد نہ ملنے کی وجہ سے اور ہماری بد اخلاقی کی وجہ سے گھٹ گھٹ کر زندگی بسر کر رہے ہوں کیونکہ محبتِ اہلِ بیت کا تقاضا صرف نعرے لگانا نہیں بلکہ حضور اکرم کی اولاد کے وقار کا عملی تحفظ کرنا بھی ہے۔۔
یاد رکھیے! سادات کی خدمت ان پر احسان نہیں، بلکہ ان کی جد ﷺ کا ہم پر وہ قرض ہے جسے اتارنے کا حکم قرآن نے "الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ" (قریبی رشتہ داروں سے محبت) کہہ کر دیا ہے
#۔۔ آل رسول ۔۔ یہ وہ عظیم لوگ ہیں جن کا نسب بلند ہے مگران پر زکوات و صدقات دینا حرام قرار دیا گیا ہے۔۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "یہ صدقات لوگوں کا میل کچیل ہیں، اور یہ محمد (ﷺ) کے لیے حلال ہیں نہ آلِ محمد کے لیے(مسلم)
پھر یہ غریب سادات سفید پوشی میں کیا کریں کہاں جائیں
چونکہ زکوٰۃ کو "مال کا میل" کہا گیا ہے، اس لیے اللہ نے سادات کی عزتِ نفس کی خاطر ان کا حق خمس میں رکھا ہے۔۔
#..خمس کیا ہے اور کس پر واجب ہے؟
فقہ جعفریہ کے مطابق کاروبار، ملازمت یا زراعت سے حاصل ہونے والی وہ رقم جو سال بھر کے اخراجات کے بعد بچ جائے تو اس پر 20% خمس دینا واجب ہے۔۔
#۔۔۔اہلسنت کے تمام مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ سورہ انفال کی آیت 41 "اور جان لو کہ جو کچھ تم غنیمت (یا نفع) پاؤ، اس کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ، اس کے رسول اور ان کے قرابت داروں (سادات) کے لیے ہے۔۔ کے تحت مال غنیمت کا پانچواں حصہ (خمس) نکالا جائے۔۔
امام مالک ۔۔امام شافعی و حنبل کے نزدیک خمس کی تقسیم مختلف ہے لیکن ہم یہاں پر امام اعظم ابو حنیفہ کے مسلک کی بات پیش کرتے ہیں۔۔
#۔۔امام ابوحنیفہ (فقہ حنفی): احناف کے نزدیک خمس سادات کے یتیموں، مسکینوں اور مسافروں پر ان کی حاجت کے مطابق خرچ کیا جائے گا۔۔
اہلسنت کے نزدیک خمس "مالِ غنیمت" (جو جنگ میں ملے) اور "رکاز" (زمین سے نکلنے والے دفینے فصلوں یا معدنیات) پر 20 ٪ واجب ہے۔
عام کاروبار کے منافع پر اہلسنت کے ہاں زکوٰۃ (2.5%) واجب ہے،
شرعی بنیاد (حدیثِ نبوی ﷺ)
فقہائے اہلسنت اس مسئلے میں نبی کریم ﷺ کی اس مشہور حدیث سے استدلال کرتے ہیں:وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ"
ترجمہ: "اور رکاز (زمین میں دبے ہوئے قدیم خزانے) میں پانچواں حصہ (20%) واجب ہے۔"(بخاری1499)
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک سادات کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے انہیں "ہدیہ" یا تحفہ کی صورتوں میں مدد دینا واجب ہے
یہ تمام تفصیلات اہلسنت والجماعت کی معتبر ترین کتبِ احادیث اور مستند فقہی مآخذ سے لی گئی
کیا کبھی ہم نے سوچا کہ جس آلِ رسول ﷺ کی محبت کا دم بھرتے ہم تھکتے نہیں، ان کے سفید پوش اور ضرورت مند افراد آج کس کرب سے گزر رہے ہیں۔۔ ہم جتنا زور زکوات و خیرات پر دیتے ہیں کاش ہم اسی شدت سے اس حق کے لیئے بھی آواز اٹھائیں۔۔
خدارا آئیں حضوراکرم کی حقیقی رضا کی جانب ۔۔ اللہ ہمیں اولادِ فاطمہؑ کی سچی خدمت کی توفیق دے۔"
طالب دعا و تحریر۔۔ گدائے در اہلیبیت۔۔قاری محمد ندیم اعوان