ASI Publications Pakistan

ASI  Publications Pakistan Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ASI Publications Pakistan, Publisher, Rawalpindi.

اے اللہ! ہماری عید کو خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنا دے۔ ہمارے دلوں سے رنج، حسد اور نفرت کو دور فرما اور ہمیں آپ...
27/05/2026

اے اللہ! ہماری عید کو خوشیوں، رحمتوں اور برکتوں کا ذریعہ بنا دے۔ ہمارے دلوں سے رنج، حسد اور نفرت کو دور فرما اور ہمیں آپس میں محبت، اتحاد اور اخوت عطا فرما۔
اے ربِ کریم! ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہمارے روزوں، عبادات اور نیک اعمال کو قبول فرما۔ ہمارے گھروں کو سکون، رزق میں برکت اور اولاد کو نیک اور صالح بنا دے۔
یا اللہ! جو لوگ پریشان ہیں ان کی پریشانی دور فرما، بیماروں کو شفا عطا فرما، اور بے روزگاروں کو حلال رزق کے دروازے کھول دے۔
اے اللہ! ہمیں دنیا و آخرت کی بھلائی عطا فرما اور ہماری عید کو حقیقی خوشی اور تیری رضا کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔ 🤲

شہزاداُفق

    استغفار کی فضیلت استغفار صرف گناہوں کی معافی ہی نہیں بلکہ دل کا سکون، رزق میں برکت اور مشکلات سے نجات کا ذریعہ بھی ہ...
20/05/2026




استغفار کی فضیلت

استغفار صرف گناہوں کی معافی ہی نہیں بلکہ دل کا سکون، رزق میں برکت اور مشکلات سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔" ✨
کثرتِ استغفار سے:

🤲 گناہ معاف ہوتے ہیں
💖 دل کو سکون ملتا ہے
🌧 رحمتیں نازل ہوتی ہیں
💰 رزق میں اضافہ ہوتا ہے
🌹 پریشانیاں آسان ہو جاتی ہیں

اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّاَتُوْبُ اِلَيْهِ

#استغفار

#توبہ

#دعا



📚 ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز پاکستان 📚علم و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے شاندار خوشخبری! ✨ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز ...
17/05/2026

📚 ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز پاکستان 📚
علم و ادب سے محبت کرنے والوں کے لیے شاندار خوشخبری! ✨
ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز پاکستان کی اشاعت شدہ تمام کتب پر 50 فیصد خصوصی ڈسکاؤنٹ کا اعلان 🎉
یہ رعایت آج تک شائع ہونے والی تمام کتب پر لاگو ہوگی۔
اب اپنی پسندیدہ ادبی، سماجی، تاریخی اور تحقیقی کتب آدھی قیمت میں حاصل کریں۔
📖 بہترین کتب — بہترین رعایت کے ساتھ

051-5184707
0312-5400326

ادب کو فروغ دیں، کتاب سے رشتہ جوڑیں ❤️
fans

27/04/2026

آفاق افق
اردو شعری مجموعہ
شاعر شہزاداُفق










#شاعری

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard! Saeedur Rehman, Qamar Abbas Nagyal, Masood Rafique
25/04/2026

Shout out to my newest followers! Excited to have you onboard!
Saeedur Rehman,
Qamar Abbas Nagyal,
Masood Rafique

بڑی خوشخبری! عالمی کتاب میلہ کے موقع پر "ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز" لایا ہے آپ کے لیے سب سے بڑی آفر! ​اب ہماری تمام کت...
23/04/2026

بڑی خوشخبری!
عالمی کتاب میلہ کے موقع پر
"ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز" لایا ہے آپ کے لیے سب سے بڑی آفر!

​اب ہماری تمام کتب پر حاصل کریں پورے 50 فیصد کی رعایت۔ علم دوست حضرات کے لیے اپنی لائبریری سجانے کا یہ بہترین موقع ہے۔

​📍 رابطہ کریں:
📞 0312-5400326
☎️ 051-5184707
👤 شہزاد اُفق






#کتابیں
#مطالعہ


























یومِ کتاب کا پیغامادب، سماج اور انسانیت کے نامآج کا دن، یومِ کتاب، ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کتاب محض کاغذ کے اوراق نہیں ب...
23/04/2026

یومِ کتاب کا پیغام

ادب، سماج اور انسانیت کے نام

آج کا دن، یومِ کتاب، ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ کتاب محض کاغذ کے اوراق نہیں بلکہ فکر، شعور اور روشنی کا وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ کتاب انسان کو سوچنے، سمجھنے اور اپنے اردگرد کے حالات کا شعور دینے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔

آج جب دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، معلومات کی فراوانی ہے مگر فہم کی کمی محسوس ہوتی ہے، ایسے میں کتاب کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کتاب ہی وہ وسیلہ ہے جو ہمیں سطحی معلومات سے نکال کر گہرائی میں لے جاتی ہے، ہمیں سوال کرنا سکھاتی ہے اور سچ کو پہچاننے کا ہنر دیتی ہے۔

ادب سماج کا آئینہ ہوتا ہے، اور کتاب اس آئینے کو صاف رکھنے کا ذریعہ۔ جب کتابیں زندہ رہتی ہیں تو معاشرے میں شعور، برداشت، اور انسانیت بھی زندہ رہتی ہے۔ ایک پڑھی لکھی قوم ہی اپنے مسائل کو سمجھ کر ان کا حل نکال سکتی ہے۔
ادب سماج انسانیت پبلی کیشنز پاکستان کا عزم ہے کہ وہ علم و ادب کے فروغ کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے، سستی اور معیاری کتب کے ذریعے ہر طبقے تک علم کی روشنی پہنچائے، اور ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔

آئیے آج کے دن عہد کریں:
ہم کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط کریں گے،
اپنے بچوں کو کتاب سے جوڑیں گے،
اور علم کو اپنی طاقت بنائیں گے۔

کتاب پڑھیں، سوچ بدلیں، معاشرہ سنواریں۔




















میرا گمان ہے کہ شاعری ایک نہایت پیچیدہ اور دقیق فن ہے۔ شاعر ہونے کا دعویٰ کرنا اور حقیقی معنوں میں شاعری کی ممارست کرنا—...
21/04/2026

میرا گمان ہے کہ شاعری ایک نہایت پیچیدہ اور دقیق فن ہے۔ شاعر ہونے کا دعویٰ کرنا اور حقیقی معنوں میں شاعری کی ممارست کرنا—ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میں یہ سمجھتی ہوں کہ شاعری محض لفظوں کی ترتیب نہیں بلکہ ایک عمیق وابستگی، مسلسل ریاضت اور باطنی کرب کا سچا اظہار ہے۔

اگرچہ میں کبھی شاعری کو نسبتاً سہل سمجھتی تھی، مگر بچپن ہی سے میرے باطن میں شاعری کا شوق اور جنون موجزن رہا۔ اسی جنون نے مجھے اردو زبان کی طرف کھینچا اور رفتہ رفتہ یہ دلچسپی گہری توجہ اور فکری وابستگی میں ڈھلتی چلی گئی۔

میرا نسبتی تعلق ایک ہاشمی گھرانے سے ہے۔ میرے والدِ گرامی واہ کینٹ کی ایک مسجد میں امام کے فرائض سرانجام دیتے تھے۔ اس نسبت سے مجھے گھر میں ایک ایسا ادبی اور روحانی ماحول میسر آیا جس نے میری فکری تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔ میری ولادت بھی واہ کینٹ ہی میں ہوئی، جہاں کی فضا میں بھی ادب کی ایک لطیف خوشبو رچی بسی تھی۔

میرا شعری سفر سن 2008ء میں آغاز پذیر ہوا اور اس تسلسل میں اب اس ادبی مسافت کو طے کرتے ہوئے اٹھارہ برس بیت چکے ہیں۔ ان اٹھارہ برسوں کے طویل اور کٹھن سفر نے مجھے فقط ایک ہی صداقت سے روشناس کرایا ہے کہ
“حیات دکھ ہے۔”

انسانی زندگی میں ٹوٹ پھوٹ کا یہ سلسلہ اسی لمحے سے شروع ہو گیا تھا جب انسان نے معاشرتی زندگی میں قدم رکھا۔ میں بھی اپنے سماجی تضادات، انسانی رویّوں اور باطنی شکست و ریخت کو گہری نگاہ سے دیکھتی رہی ہوں۔
میں نے بھی دنیا کے رنگین جلوؤں سے فریب کھائے، تتلیوں اور جگنوؤں کے تعاقب میں نکلی، مگر ہر منظر، ہر خواب—بالآخر سراب ثابت ہوا۔

اسی تناظر میں میرا ایک شعر ملاحظہ ہو:

کہاں ممکن تھا لکھ پاتے قلم سے داستانِ غم
مگر قرطاس پر اشکوں نے اک سیلاب لکھ ڈالا

میری تمام شاعری دراصل حیات کے دکھ کا ایک گونجتا ہوا اظہار ہے۔ ہر انسان کے اندر غموں کا ایک عظیم ذخیرہ پوشیدہ ہوتا ہے، تاہم یہ لازم نہیں کہ جو دکھ اور حادثات میرے تعاقب میں رہے، وہی کسی اور کی تقدیر میں بھی لکھے گئے ہوں۔

اسی احساس کی ترجمانی کرتا میرا ایک اور شعر:

مجھے کاٹتی ہیں حیات اب سرِ شام ہی تیری فرقتیں
مجھے روندتا ہے شب و سحر جو وبال ہے ترے ہجر کا

میں نے اپنے لیے ایک جداگانہ شعری اسلوب اختیار کیا ہے، جس میں اپنے سہے ہوئے مصائب اور آلام کو محض علامتی یا علمی پیرائے میں بیان کرنے کے بجائے، براہِ راست، سادہ اور اظہاری انداز میں پیش کرنا زیادہ موزوں جانا۔ میرا غالب رجحان غزل گوئی کی طرف رہا ہے، اگرچہ کبھی کبھار نظم بھی تخلیق کی ہے۔

اللہ پاک کے فضل و کرم سے یہ میرا چوتھا شعری مجموعہ ہے۔ اس سے قبل میرے تین شعری مجموعے:

“میری تصویر نامکمل ہے”
“بے خواب آنکھیں”
“دم نکلتا رہا”

منصۂ شہود پر آ کر ادبی دنیا میں اپنی شناخت قائم کر چکے ہیں۔

میں نے کبھی اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ ادبی دنیا میرے قلم کو کس زاویے سے پرکھے گی، کیونکہ میرے قارئین ہی میرا اصل سرمایہ ہیں—وہی میری شاعری کو گہرا اعتبار عطا کرتے ہیں اور مجھے تخلیق پر تخلیق کی ترغیب دیتے ہیں۔

اس موقع پر میں اپنے اہلِ خانہ کی لافانی محبتوں اور خلوصِ دل سے کی گئی دعاؤں کی تہِ دل سے شکر گزار ہوں، جنہوں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا اور میرا حوصلہ بڑھایا۔
میں اپنے اساتذۂ کرام کی بھی بے حد ممنون ہوں جن کی رہنمائی ہمیشہ میرے لیے مشعلِ راہ رہی۔
اس کے علاوہ
میں عمیق احساسِ تشکر کے ساتھ جناب تقی حسین شاہ کی ممنون ہوں کہ اُن کی مخلصانہ اعانت نے میری کتاب کو منصۂ اشاعت تک رسائی بخشی۔
بالخصوص ان جلیل القدر شعراء کرام کا شکریہ ادا کرنا میں اپنا فرض سمجھتی ہوں جنہوں نے میری تصنیف “حیات دکھ ہے” پر فلیپ تحریر فرمایا جن میں جناب راحت سرحدی صاحب اور جناب نجف حسین شاہ صاحب کی بے پایاں عنایت اور مہربانیوں کی میں دل سے قدردان ہوں۔

علاوہ ازیں، میں اپنے فرزند عمر ہاشمی کی بھی شکر گزار ہوں جو میری ادبی سرگرمیوں میں ایک مخلص ہم سفر کی حیثیت سے ہمیشہ میرے ساتھ رہا۔

کتاب کی اشاعت کے بعد مجھے اپنے قارئین کی آراء اور اہلِ ادب کے خیالات کا شدت سے انتظار رہے گا۔ آپ کی قیمتی آراء میرے لیے باعثِ اعزاز اور موجبِ افتخار ہوں گی۔

کچھ چل دیے کہ کون کرے انتظارِ حشر
کچھ محوِ انتظار ہوئے اور چل دیے

شفقت حیات شفق
واہ کینٹ ٹیکسلا

https://whatsapp.com/channel/0029VadnXUQ4SpkLtWNt420S




#شاعری
#ادب

#کتاب

#نظم
#غزل
#احساسات
#زندگی
#دکھ
#محبت
#الفاظ
#قلم
#ادیب


















پارلیمنٹ لاجز میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے “روبکار” کے مصنف صفی ربانی  کی خصوصی ملاقات ہ...
20/04/2026

پارلیمنٹ لاجز میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب سردار محمد یوسف صاحب سے
“روبکار” کے مصنف صفی ربانی کی خصوصی ملاقات ہوئی، جس میں مصنف نے اپنی تصنیف “روبکار” بطور تحفہ پیش کی۔


#گوجری
#شاعری

#بالاکوٹ

قمر محمود عبد اللہ صاحب خطۂ پوٹھوہار کے اُن جید اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جن کی طبیعت میں ادب کا ذوق بھی ہے اور تاریخ ک...
19/04/2026

قمر محمود عبد اللہ صاحب خطۂ پوٹھوہار کے اُن جید اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جن کی طبیعت میں ادب کا ذوق بھی ہے اور تاریخ کا سوز بھی۔ اُن کا شمار اُن ادب شناس شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنے خطے کی مٹی کی خوشبو کو لفظوں میں سمیٹ کر محفوظ کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ تاریخِ پوٹھوہار پر آپ کی گراں قدر تصانیف پہلے بھی منصۂ شہود پر آچکی ہیں اور اہلِ علم سے داد و تحسین وصول کر چکی ہیں، الحمد للہ۔
چند روز قبل محترم شکور احسن صاحب نے بذریعۂ فون مجھے قمر محمود عبد اللہ صاحب تازہ تصنیف ’’پوٹھوہاری زبان: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کے متعلق آگاہ فرمایا۔ ساتھ ہی اس ناچیز کو یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ جناب قمر محمود عبد اللہ صاحب نے ازراہِ شفقت یہ کتاب بطورِ تحفہ ارسال فرمائی۔ یہ محض ایک کتاب نہیں بلکہ پوٹھوہار کی لسانی شناخت کا آئینہ ہے۔
مصنف نے نہایت عرق ریزی سے خطۂ پوٹھوہار کی ابتدائی تاریخ کو بیان کرتے ہوئے پوٹھوہاری زبان اور اس کی بولی کو موضوعِ تحقیق بنایا ہے اور بجا طور پر اس موضوع کا حق ادا کر دیا ہے۔ پوٹھوہاری لہجے کی بناوٹ، ساخت اور قواعد (گرامر) پر جس دقتِ نظر اور محققانہ انداز سے قلم اٹھایا گیا ہے، وہ قابلِ ستائش ہے۔ خصوصاً پنجابی اور پوٹھوہاری کے مابین جو لسانی امتیاز ہے، اسے مدلل اور واضح انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ پنجابی جہاں وسطی پنجاب کی نمائندہ زبان ہے، وہیں پوٹھوہاری شمال مغربی خطے کی جداگانہ لسانی شناخت رکھتی ہے؛ یوں دونوں کو ایک سمجھ لینا علمی دیانت کے منافی ہے۔ مصنف نے اسی نکتے کو تحقیق کی قندیل سے روشن کیا ہے۔
اس سے قبل حبیب شاہ صاحب نے پوٹھوہاری زبان کے حروفِ تہجی پر قابلِ قدر کام کیا تھا، مگر افسوس کہ وہ نایاب ہو چکا ہے۔ اسی طرح دلپذیر دلشاد صاحب کی خدمات بھی اس باب میں لائقِ تحسین ہیں، لیکن وقت کی گرد نے ان علمی سرمایہ جات کو عام دسترس سے اوجھل کر دیا ہے۔ تاریخِ پوٹھوہار کے حوالے سے عارف منہاس صاحب کا کام بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاہم قمر محمود عبد اللہ صاحب کی یہ تحقیق اپنی جامعیت، استناد اور انفرادیت کے سبب ایک جداگانہ مقام کی حامل ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے، ان کے زورِ قلم میں مزید برکت دے اور انہیں اپنے خطے کی تہذیبی و لسانی خدمت کے لیے مزید مواقع عطا فرمائے، تاکہ ہم جیسے طالب علم اُن کی علمی کاوشوں سے مسلسل فیض یاب ہوتے رہیں۔ آمین۔

عقیل احمد قریشی
راولپنڈی

معروف سیرت نگار ایوارڈ یافتہ
قمر محمود عبداللہ صاحب اپنی کتاب
پوٹھوہاری زبان
سابق وزیراعظم اور سپیکر قومی اسمبلی
راجا پرویز اشرف و دیگر
اہم شخصیات کو اپنی کتب پیش ہوئے


#پوٹھوہاری
#تاریخ
#تحقیق
#گوجرخان
#قمرعبداللہ

Address

Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ASI Publications Pakistan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ASI Publications Pakistan:

Share

Category