Faheem Shoket

Faheem Shoket You Loss When You Give Up | IMRAN KHAN

پاکستان اور چین کے مابین دفاعی تعاون کا ایک نیا باب: جے-35 اسٹیلتھ طیاروں کی خریداری کی تفصیلاتپاکستان اور چین کے مابین ...
10/06/2026

پاکستان اور چین کے مابین دفاعی تعاون کا ایک نیا باب: جے-35 اسٹیلتھ طیاروں کی خریداری کی تفصیلات

پاکستان اور چین کے مابین دفاعی شعبے میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان چینی ساختہ جدید ترین جے-35 (J-35) اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کا پہلا بین الاقوامی خریدار بن گیا ہے۔ اس اہم دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان فضائیہ کے بیڑے میں 35 جدید ترین جے-35 طیارے شامل کیے جائیں گے، جس پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اتفاق کر لیا ہے۔

معاہدے کے اہم نکات اور اسٹرٹیجک اہمیت

پانچویں نسل کے طیاروں تک رسائی:
جے-35 چین کا تیار کردہ جدید ترین پانچویں نسل (5th Generation) کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے۔ اس کی شمولیت سے پاکستان خطے کی ان چند فضائی حدود کا مالک بن جائے گا جن کے پاس ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہنے والی اسٹیلتھ تکنیک موجود ہے۔

فیصلہ کن فضائی برتری:

دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈیل کے مکمل ہونے سے خطے کا توازنِ قوت (Balance of Power) مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ یہ طیارے پاکستان کو روایتی حریفوں پر واضح اور فیصلہ کن فضائی برتری فراہم کریں گے، جس سے ملکی سرحدوں کا دفاع مزید ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔

جے-10 سی (J-10C) کے بعد اگلا بڑا قدم:

پاکستان اس سے قبل چین سے جے-10 سی (J-10C) مہم جو طیارے کامیابی سے حاصل کر کے اپنے فضائی بیڑے کا حصہ بنا چکا ہے۔ جے-35 کی آمد اسی جدید سازی کے سفر کا اگلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے۔

جے-35 (J-35) طیاروں کی تکنیکی خصوصیات
اسٹیلتھ ڈیزائن: یہ طیارہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دشمن کے جدید ترین ریڈار اور دفاعی نظام بھی اس کا سراغ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔

ملٹی رول صلاحیت: یہ بیک وقت فضا سے فضا میں جنگ لڑنے اور زمین یا سمندر میں موجود اہداف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید ایوی اونکس اور ہتھیار: یہ طیارہ جدید ترین بی یو وی (BVR) یعنی نظروں سے اوجھل ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور جدید ترین سنسرز سے لیس ہے۔
اس معاہدے نے جہاں پاک چین لازوال دوستی اور سیکیورٹی پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کیا ہے، وہاں دشمن کے جارحانہ عزائم کے سامنے ایک مضبوط دفاعی دیوار بھی کھڑی کر دی ہے۔

پاکستان اور قدیم مصر: طبقاتی خلیج اور جدید دور کی فرعونیتتاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور جب اخلاقی، سماجی اور معاشی زوال...
09/06/2026

پاکستان اور قدیم مصر: طبقاتی خلیج اور جدید دور کی فرعونیت
تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے، اور جب اخلاقی، سماجی اور معاشی زوال حد سے بڑھ جائے تو ماضی کے سیاہ ابواب حال کے آئینے میں صاف دکھائی دینے لگتے ہیں۔ قدیم مصر کی تاریخ جہاں اپنی شان و شوکت، اہرامِ مصر اور عظیم تہذیب کے لیے جانی جاتی ہے، وہاں اس کا ایک تاریک پہلو "فرعونی نظام" بھی تھا۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جہاں طاقت، دولت اور وسائل چند ہاتھوں میں مرکوز تھے، جبکہ اکثریتی عوام یعنی عام مزدور اور غلام رات دن سخت مشقت کرنے پر مجبور تھے تاکہ حکمران طبقے کی عیاشیوں اور ان کے محلوں کا خرچ اٹھایا جا سکے۔ آج کے پاکستان کے معاشی اور سماجی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ملک کا عام شہری اسی قدیم مصری نظام کی جدید شکل کا شکار ہو چکا ہے۔

قدیم مصر میں فرعون اور اس کے درباری تمام وسائل کے مالک تھے، اور عوام کا کام صرف ان کے احکامات کی تعمیل کرنا تھا۔ آج کے پاکستان میں بھی یہی طبقاتی تقسیم واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ملک کے تمام اہم وسائل، زمینیں اور معاشی فیصلے چند مخصوص خاندانوں، اشرافیہ اور مقتدر حلقوں کے گرد گھومتے ہیں۔
ایک طرف وہ مراعات یافتہ طبقہ ہے جس کے طرزِ زندگی پر شاہی محلات کا گماں ہوتا ہے، اور دوسری طرف ملک کی پچاسی فیصد سے زائد آبادی ہے جو بنیادی انسانی ضروریات—جیسے صاف پانی، صحت، تعلیم اور دو وقت کی روٹی—کے لیے سسک رہی ہے۔ یہ معاشی ناہمواری موجودہ دور کی اسی فرعونیت کا تسلسل ہے جہاں غریب کا خون نچوڑ کر امیر کو مزید طاقتور بنایا جاتا ہے۔

صبح سے شام تک کی مشقت اور ٹیکسوں کا بوجھ
قدیم مصر کے غلاموں کی طرح، پاکستان کا عام مزدور، کسان اور تنخواہ دار طبقہ صبح سے شام تک، اور بعض اوقات رات گئے تک ہڈیاں توڑنے والی محنت کرتا ہے۔ لیکن اس محنت کا پھل اسے خود نہیں ملتا۔ عام آدمی کی اس کمائی کا ایک بہت بڑا حصہ بھاری ٹیکسوں، بجلی اور گیس کے کمر توڑ بلوں، اور مہنگائی کی صورت میں ریاست کے خزانے میں چلا جاتا ہے۔
حیرت انگیز اور افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام سے اکٹھا کیا گیا یہ پیسہ عوامی فلاح و بہبود پر خرچ ہونے کے بجائے اشرافیہ کی شاہانہ مراعات، مفت پیٹرول، مہنگی گاڑیوں، غیر ملکی دوروں اور ان کے پرتعیش لائف اسٹائل کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ غریب آج بھی پس رہا ہے تاکہ حکمران طبقے کے محلات کا چراغ روشن رہ سکے۔

فرعونی نظام کی سب سے بڑی برائی یہ تھی کہ وہاں انسان کو انسان نہیں بلکہ ایک آلہ یا مشین سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان میں بھی عام شہری کا وقار اسی طرح مجروح ہو رہا ہے۔ اسپتالوں میں غریب کے لیے دوائی نہیں، عدالتوں میں اس کے لیے انصاف نہیں اور تھانوں میں اس کی کوئی سنوائی نہیں ہے۔ عام آدمی صرف الیکشن کے دنوں میں یا ٹیکس وصولی کے وقت یاد آتا ہے، باقی پورا سال وہ اسی بے حسی کا شکار رہتا ہے جس کا سامنا تاریخ میں غلاموں کو کرنا پڑتا تھا۔

کسی بھی معاشرے میں ظلم اور ناانصافی کا نظام مستقل نہیں رہ سکتا۔ پاکستان کو اس وقت جس شدید بحران کا سامنا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی "جدید فرعونیت" اور طبقاتی استحصال ہے۔ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو اس فرسودہ نظام کو بدلنا ہوگا جہاں عوام کو غلام اور حکمرانوں کو آقا سمجھا جاتا ہے۔ جب تک وسائل کی منصفانہ تقسیم نہیں ہوگی اور اشرافیہ کی عیاشیوں کا بوجھ غریب کے کندھوں سے نہیں ہٹایا جائے گا، تب تک حقیقی آزادی اور خوشحالی کا خواب ادھورا رہے گا۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی: مخالفت سیاست کی، مفاہمت اقتدار کیپاکستان کی سیاست کا شاید سب سے دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ جو...
09/06/2026

ن لیگ اور پیپلز پارٹی: مخالفت سیاست کی، مفاہمت اقتدار کی

پاکستان کی سیاست کا شاید سب سے دلچسپ اور متنازع پہلو یہ ہے کہ جو جماعتیں جلسوں، پریس کانفرنسوں اور ٹی وی مباحثوں میں ایک دوسرے کے خلاف سخت ترین زبان استعمال کرتی ہیں، وہی اقتدار کے ایوانوں میں ایک دوسرے کی سب سے بڑی اتحادی بن جاتی ہیں۔ آج اگر گلگت بلتستان میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنانے کی طرف بڑھ رہی ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں، بلکہ پاکستانی سیاست کی ایک پرانی روایت کا تسلسل ہے۔

عوام کے سامنے دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو کرپشن، نااہلی، بدعنوانی، اقربا پروری اور ملک کو نقصان پہنچانے کے الزامات سے نوازتی رہی ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے دونوں جماعتوں کے درمیان نظریاتی جنگ جاری ہو اور ایک کا اقتدار دوسرے کے لیے قومی تباہی کے مترادف ہو۔ لیکن جیسے ہی اقتدار کی تقسیم، حکومت سازی یا سیاسی مفادات کا مرحلہ آتا ہے، یہی سخت بیانات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مفاہمت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ منظر کئی بار دہرایا جا چکا ہے۔ 2008 کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ایک دوسرے کے ساتھ حکومت میں کام کیا۔ بعد ازاں اختلافات پیدا ہوئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں جماعتیں مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے قریب آتی رہیں۔ 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے بعد بننے والی اتحادی حکومت اس کی سب سے بڑی مثال تھی، جہاں برسوں تک ایک دوسرے پر شدید تنقید کرنے والی جماعتیں ایک ہی کابینہ میں بیٹھی نظر آئیں۔

حامیوں کا مؤقف یہ ہوتا ہے کہ سیاست میں کوئی مستقل دشمنی نہیں ہوتی اور قومی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کام کرنا پڑتا ہے۔ لیکن ناقدین اس دلیل کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اگر ایک جماعت واقعی دوسری کو ملک کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتی ہے تو پھر اقتدار کے حصول کے لیے اسی جماعت کے ساتھ اتحاد کیسے جائز ہو جاتا ہے؟ اگر انتخابی جلسوں میں لگائے گئے الزامات درست تھے تو پھر اتحاد عوام کے ساتھ دھوکا ہے، اور اگر الزامات غلط تھے تو پھر عوام کو گمراہ کیا گیا۔

گلگت بلتستان میں ممکنہ اتحاد نے بھی یہی سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔ عوام یہ دیکھ رہے ہیں کہ انتخابی سیاست میں ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہنے والی جماعتیں حکومت سازی کے وقت ایک ہی میز پر بیٹھی ہیں۔ اس سے عام ووٹر کے ذہن میں یہ تاثر مزید مضبوط ہوتا ہے کہ پاکستان میں نظریات سے زیادہ اہمیت اقتدار کو حاصل ہے۔

مسئلہ صرف ن لیگ اور پیپلز پارٹی تک محدود نہیں۔ پاکستانی سیاست میں اکثر جماعتیں مختلف اوقات میں اپنے سابقہ مؤقف کے برعکس فیصلے کرتی رہی ہیں۔ تاہم ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی باہمی کشمکش اور پھر بار بار کی مفاہمت اس قدر نمایاں رہی ہے کہ یہ سیاسی تجزیوں کا مستقل موضوع بن چکی ہے۔

جمہوریت میں سیاسی اتحاد کوئی غیر معمولی بات نہیں، لیکن اصل سوال شفافیت کا ہے۔ اگر جماعتیں عوام کو یہ بتائیں کہ وہ کن اصولوں اور کن مقاصد کے تحت اتحاد کر رہی ہیں تو شاید عوام اسے بہتر انداز میں قبول کر لیں۔ لیکن جب انتخابی مہم میں ایک دوسرے کو ملک کے تمام مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جائے اور چند ماہ بعد اقتدار کی خاطر اتحاد کر لیا جائے تو ووٹر کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہونا فطری ہے۔

گلگت بلتستان کی ممکنہ حکومت سازی ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے اس پرانے سوال کو سامنے لا رہی ہے کہ کیا سیاسی مخالفت واقعی نظریاتی ہوتی ہے یا پھر یہ صرف انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے؟ عوام کے لیے شاید سب سے اہم بات یہی ہے کہ وہ نعروں، الزامات اور جذباتی تقاریر سے آگے بڑھ کر سیاسی جماعتوں کے عملی کردار کو دیکھیں، کیونکہ سیاست میں اصل حقیقت اکثر وہ نہیں ہوتی جو جلسوں کے اسٹیج سے سنائی جاتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں طے پاتی ہے۔

پاکستان میں بجٹ کی تیاری جاری ہے۔ سانس لینے پر ٹیکس سوچا جا رہا ہے بس کا نام سے لگانا ہے یہ باقی ہے ۔
09/06/2026

پاکستان میں بجٹ کی تیاری جاری ہے۔

سانس لینے پر ٹیکس سوچا جا رہا ہے بس کا نام سے لگانا ہے یہ باقی ہے ۔

کوشش کریں جواب اخلاقی داہرے میں راہ کر دیں۔
09/06/2026

کوشش کریں جواب اخلاقی داہرے میں راہ کر دیں۔

پاکستان کی معیشت کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ آج ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ ایسے ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے جن کا بوجھ براہِ راس...
09/06/2026

پاکستان کی معیشت کا ایک تلخ پہلو یہ ہے کہ آج ریاست کی آمدنی کا بڑا حصہ ایسے ذرائع سے حاصل ہو رہا ہے جن کا بوجھ براہِ راست عام شہری اٹھا رہا ہے۔ پٹرول، ڈیزل اور گیس صرف ایندھن نہیں رہے بلکہ حکومت کے لیے ٹیکس وصولی کا ایک اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایک ایسا ملک جس کے پاس زراعت، صنعت، معدنیات، نوجوان افرادی قوت اور وسیع تجارتی امکانات موجود ہیں، وہ اپنی آمدنی کے لیے اتنا زیادہ انحصار عوام کے روزمرہ استعمال کی اشیاء پر کیوں کر رہا ہے؟

جب پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی چلانے والے متاثر نہیں ہوتے بلکہ پورا معاشی نظام اس کی زد میں آ جاتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھتے ہیں، اشیائے خورونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، فیکٹریوں کی لاگت بڑھ جاتی ہے اور مہنگائی کی ایک نئی لہر جنم لیتی ہے۔ اسی طرح گیس کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو صارفین سے لے کر صنعتوں تک سب کو متاثر کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام آدمی اپنی آمدنی کا بڑا حصہ بنیادی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں مسئلہ صرف ٹیکس لینے کا نہیں بلکہ ٹیکس کے نظام کی ساخت کا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں زیادہ آمدنی رکھنے والے افراد اور بڑے کاروبار نسبتاً زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، جبکہ پاکستان میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ تر عام عوام پر پڑتا ہے۔ ایک مزدور، ایک کلرک، ایک چھوٹا دکاندار اور ایک ارب پتی جب پٹرول خریدتے ہیں تو فی لیٹر عائد ٹیکس تقریباً ایک جیسا ادا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مہنگائی کا سب سے زیادہ اثر نچلے اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے۔

دوسری طرف ملک کے بہت سے شعبے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق قومی خزانے میں حصہ نہیں ڈال رہے۔ زراعت، رئیل اسٹیٹ، بڑے تجارتی شعبے اور بعض مراعات یافتہ طبقات ٹیکس نظام میں وہ کردار ادا نہیں کر رہے جو ایک متوازن معیشت کے لیے ضروری ہے۔ نتیجتاً حکومت کے لیے سب سے آسان راستہ یہی رہ جاتا ہے کہ پٹرول، ڈیزل، بجلی اور گیس پر مزید بوجھ ڈال دیا جائے کیونکہ یہ وہ شعبے ہیں جہاں سے فوری آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔

یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، سرکاری اداروں کے خسارے اور انتظامی اخراجات جیسے بڑے مالی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان تمام مسائل کا حل صرف عام شہری کی جیب پر مزید بوجھ ڈالنا ہے؟ اگر معیشت کا پہیہ مسلسل عوام کی قوتِ خرید کم کرکے چلایا جائے گا تو کاروبار، صنعت اور سرمایہ کاری بھی متاثر ہوں گے، جس کا نقصان بالآخر ریاست کو ہی اٹھانا پڑے گا۔

پاکستان کو ایسی معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو آمدنی کے ذرائع کو وسیع کریں، صنعتوں کو فروغ دیں، برآمدات میں اضافہ کریں، ٹیکس نیٹ کو منصفانہ بنائیں اور غیر ضروری سرکاری اخراجات کو کم کریں۔ ایک مضبوط معیشت وہ نہیں ہوتی جو صرف پٹرول، ڈیزل اور گیس پر ٹیکس بڑھا کر چلائی جائے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو پیداوار، سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے قومی خزانے کو بھرے۔

آج پاکستانی عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر ہر بحران کا حل پٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں نکالا جائے گا تو پھر ریاست کے پاس ترقی، اصلاحات اور معاشی منصوبہ بندی کا متبادل وژن کہاں ہے؟ کیونکہ قومیں صرف ٹیکسوں کے بوجھ سے نہیں بلکہ پیداوار، انصاف اور بہتر حکمرانی سے مضبوط بنتی ہیں۔

آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی: بجلی کے بل جلانے سے عوامی تحریک تک، ایک مکمل داستانآزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی ک...
09/06/2026

آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی: بجلی کے بل جلانے سے عوامی تحریک تک، ایک مکمل داستان

آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کی کہانی محض ایک احتجاجی تنظیم کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی عوامی تحریک کی داستان ہے جس نے چند ماہ کے اندر پورے آزاد کشمیر کی سیاست، معیشت اور حکومتی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ تحریک کسی سیاسی جماعت کے دفتر میں نہیں بنی، نہ ہی کسی انتخابی مہم کا نتیجہ تھی۔ اس کی بنیاد عوام کے بڑھتے ہوئے معاشی مسائل، مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور حکمران طبقے کے خلاف بڑھتی ہوئی ناراضی پر پڑی۔

تحریک کا آغاز: جب بجلی کے بل جلائے گئے

2023 کے دوران آزاد کشمیر میں بجلی کے بلوں میں مسلسل اضافے نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا۔ عام لوگوں کا سوال تھا کہ جس خطے کی زمین پر منگلا ڈیم، نیلم جہلم اور دیگر آبی منصوبے موجود ہیں، وہی لوگ مہنگی ترین بجلی کیوں خرید رہے ہیں؟

اس غصے نے جلد ہی ایک عوامی مہم کی شکل اختیار کر لی۔ مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں لوگوں نے بجلی کے بل نذرِ آتش کرنا شروع کر دیے۔ عوام نے اجتماعی طور پر بجلی کے بل جلائے، ان کی ادائیگی سے انکار کیا اور "بل بائیکاٹ تحریک" شروع ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے اپنے بل جلانے کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کیں۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں پہلی بار حکومت کو احساس ہوا کہ مسئلہ صرف چند افراد کا نہیں بلکہ پورے آزاد کشمیر کے عوام کا ہے۔

پہلا منظم احتجاج

بل جلانے کی مہم کے بعد مختلف اضلاع میں تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹ یونینوں، وکلا، طلبہ اور سماجی کارکنوں نے اجلاس منعقد کرنا شروع کیے۔ انہی اجلاسوں سے عوامی ایکشن کمیٹی کا تصور سامنے آیا۔

ابتدائی طور پر میرپور، مظفرآباد، راولاکوٹ، باغ، کوٹلی، بھمبر اور دیگر شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ اس دوران شوکت نواز میر بطور مرکزی کنوینر نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ جلد ہی مختلف اضلاع کی عوامی ایکشن کمیٹیاں ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع ہو گئیں اور "جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی" وجود میں آ گئی۔

ابتدائی مطالبات کیا تھے؟

تحریک کے آغاز میں مطالبات نسبتاً محدود تھے:

بجلی کے نرخ پیداواری لاگت کے مطابق مقرر کیے جائیں۔

منگلا ڈیم اور دیگر منصوبوں کی رائلٹی آزاد کشمیر کو دی جائے۔

آٹے پر سبسڈی بحال کی جائے۔

اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کی جائے۔

حکومتی مراعات اور شاہانہ اخراجات کم کیے جائیں۔

غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جائے۔

یہ مطالبات بنیادی طور پر معاشی نوعیت کے تھے اور عوام کی روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتے تھے۔

تحریک کا پھیلاؤ

2024 کے آغاز تک یہ تحریک آزاد کشمیر کے تقریباً تمام اضلاع میں پھیل چکی تھی۔ شٹر ڈاؤن ہڑتالیں معمول بن گئیں۔ بازار بند ہونے لگے، ٹرانسپورٹ رک گئی اور ہزاروں افراد احتجاج میں شریک ہونے لگے۔

یہاں سے تحریک صرف بجلی اور آٹے کے مسئلے تک محدود نہیں رہی بلکہ حکومت کی مجموعی کارکردگی اور حکمرانی کے نظام کے خلاف ایک عوامی تحریک بنتی گئی۔

پہلے مذاکرات

جب احتجاج شدت اختیار کر گیا تو آزاد کشمیر حکومت نے مذاکرات کی کوششیں شروع کیں۔ مختلف اوقات میں وزراء، چیف سیکرٹری، سینئر بیوروکریٹس اور حکومتی نمائندوں نے عوامی ایکشن کمیٹی سے ملاقاتیں کیں۔

ابتدائی مذاکرات کئی بار ناکام ہوئے کیونکہ عوامی ایکشن کمیٹی فوری اور تحریری یقین دہانی چاہتی تھی جبکہ حکومت وقت مانگ رہی تھی۔

مئی 2024 کا بحران

مئی 2024 میں تحریک اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ پورے آزاد کشمیر میں پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال شروع ہو گئی۔ مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوئے۔

اس دوران متعدد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ان واقعات نے تحریک کو مزید طاقت دی اور حکومت شدید دباؤ میں آ گئی۔

وفاقی حکومت کی مداخلت

جب صورتحال قابو سے باہر ہونے لگی تو اسلام آباد کو مداخلت کرنا پڑی۔

اس وقت کے وزیراعظم پاکستان، وفاقی وزیر امور کشمیر، آزاد کشمیر کے وزیراعظم، اعلیٰ سرکاری حکام اور عوامی ایکشن کمیٹی کے نمائندوں کے درمیان متعدد اجلاس ہوئے۔

وفاقی حکومت نے اربوں روپے کا خصوصی پیکیج منظور کیا تاکہ آٹے پر سبسڈی اور بجلی کے نرخوں میں کمی ممکن بنائی جا سکے۔

تاریخی معاہدہ

بالآخر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان معاہدہ طے پایا۔

معاہدے کے تحت:

آٹے پر سبسڈی بحال کی گئی۔

بجلی کے نرخوں میں نمایاں کمی کی گئی۔

کئی مقدمات واپس لینے کا وعدہ کیا گیا۔

گرفتار افراد کی رہائی پر اتفاق ہوا۔

بعض انتظامی اصلاحات کی یقین دہانی کرائی گئی۔

اس کامیابی کے بعد عوامی ایکشن کمیٹی کو اپنی سب سے بڑی فتح حاصل ہوئی۔

مطالبات میں اضافہ کیسے ہوا؟

تحریک کے رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ معاشی مطالبات کے بعد اب سیاسی اور آئینی اصلاحات بھی ضروری ہیں۔

اسی سوچ کے تحت مطالبات کی تعداد بڑھتی گئی۔

ابتدائی چند مطالبات بعد میں 17 نکات تک پہنچے۔

پھر یہ 31 نکات ہوئے۔

بعد ازاں 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز سامنے آیا۔

نئے مطالبات میں شامل تھے:

مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا خاتمہ یا اصلاحات۔

اوورسیز کشمیریوں کو ووٹ کا حق۔

حکومتی مراعات میں مزید کمی۔

احتسابی نظام میں اصلاحات۔

بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی۔

شفاف طرز حکمرانی۔

وسائل کی منصفانہ تقسیم۔

سیاسی اور انتظامی اصلاحات۔

2025 کے مذاکرات

2025 میں حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان کئی نئے مذاکرات ہوئے۔

ان مذاکرات میں حکومتی وزراء، چیف سیکرٹری، اعلیٰ سرکاری حکام، مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت شریک ہوئی۔

کئی اجلاس مظفرآباد میں ہوئے جبکہ بعض مذاکرات اسلام آباد میں بھی منعقد ہوئے۔

کمیٹی کا مؤقف تھا کہ معاہدے پر مکمل عمل نہیں ہو رہا جبکہ حکومت کہتی تھی کہ بیشتر مطالبات پر عملدرآمد جاری ہے۔

کون سے مطالبات پورے ہوئے؟

حکومت کے مطابق:

آٹے پر سبسڈی بحال ہوئی۔

بجلی کے نرخ کم کیے گئے۔

متعدد مقدمات واپس لیے گئے۔

متعدد گرفتار افراد رہا ہوئے۔

متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد دی گئی۔

بعض ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے۔

کون سے مطالبات ابھی متنازع ہیں؟

عوامی ایکشن کمیٹی کے مطابق:

38 نکاتی چارٹر مکمل طور پر نافذ نہیں ہوا۔

مہاجرین کی مخصوص نشستوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا۔

اوورسیز ووٹنگ پر پیش رفت نہیں ہوئی۔

بعض آئینی اصلاحات التوا میں ہیں۔

احتسابی اصلاحات مکمل نہیں ہوئیں۔

وسائل کی تقسیم سے متعلق وعدے پورے نہیں ہوئے۔

2026 کی موجودہ صورتحال

2026 میں عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان اختلافات دوبارہ شدت اختیار کر چکے ہیں۔

کمیٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت نے وعدوں کا بڑا حصہ پورا نہیں کیا، جبکہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ 38 میں سے تقریباً 35 مطالبات پر عمل ہو چکا ہے یا عمل جاری ہے۔

موجودہ صورتحال حالیہ ادوار سے مختلف نظر آتی ہے ۔ ایکشن کمیٹی کی جانب سے ایک بار پھر 9 جون کو احتجاج کی کال کہ جواب میں حکومت اور کمیٹی کہ درمیان ایک بار پھر مزاکرات کا آغاز ہوا اس کا مہاجرین کی 12 نشتوں پر اتفاق نا ہو سکا اور مزاکرات ناکام ہو گے۔
حکومت نے ممکنہ صورت حال کہ پیش نظر 9 جون سے تین دن قبل ہی ریاست میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس کو محدود کر دیا اور جواہنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا جس کی وجہ سے ریاست کہ مختلف حصوں میں 9 جون سے پہلے ہی احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔

اسی دوران راولاکوٹ میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کہ درمیان شدید جھڑپ بھی دیکھنے کو ملی جس میں دونوں اطراف سے کہی معصوم انسانوں کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑھا۔

اب اس بات کا انتظار ہے کہ کیا عوامی مسائل کو ٹیبل پر بیٹھ کر حل کیا جائے گا یا پھر طاقت کہ روز پر اس تحریک کو روکا جائے گا۔

جب بھی کشمیر کا کوئی ایشو ہوتا ہے فیاض الحسن چوہان فوری طور ہر اپنا ردے عمل دیتے ہیں۔
08/06/2026

جب بھی کشمیر کا کوئی ایشو ہوتا ہے فیاض الحسن چوہان فوری طور ہر اپنا ردے عمل دیتے ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر؛ بھارتی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اسمبلی کی سیٹوں کی تقسیم: کل سیٹیں 90 +40 =130وادئ کشمیر = 47 س...
08/06/2026

ریاست جموں و کشمیر؛

بھارتی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں اسمبلی کی سیٹوں کی تقسیم:

کل سیٹیں 90 +40 =130
وادئ کشمیر = 47 سیٹیں
جموں = 43
پاکستانی آزاد کشمیر = 40 (یہ سیٹیں خالی رہتی ہیں اور ان پر انتخاب ممکن نہیں ہے)
اس طرح ریاست جموں و کشمیر جو کہ ایک یونین ٹیریٹری ہے، کی عملا” 90 سیٹیں ہی ہیں۔
وزیراعظم مودی کے پانچ اگست 2019 کے ایک غیر آئینی اقدام کے تحت ریاست کے لیفٹیننٹ گورنر کو پانچ ارکان نامزد کرنے کا اختیار دیا گیا جس میں مختلف علاقوں کی نمائندگی کو مد نظر رکھا گیا اور خواتین کی نمائندگی کو ترجیح دی گئی۔
بھارتی لوک سبھا (قومی اسمبلی) میں آبادی کے فارمولے کے تحت ریاست جموں و کشمیر کے لئے پانچ سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔ ان میں تین سیٹیں وادئ کشمیر اور دو جموں کے علاقوں پر مشتمل ہیں، ان کے علاوہ ایک سیٹ لداخ کے لئے ہے۔
بھارتی راجیہ سبھا (سینٹ) میں ریاست جموں و کشمیر کے لئے دو سیٹیں مختص کی گئی ہیں۔ یہ بھارتی فارمولے کے مطابق ہیں ۔
بھارتی مقبوضہ کشمیر کے لوک سبھا کے نمائندے وزیر اعظم کے انتخاب میں کردار ادا کرتے ہیں، اسی طرح صدر کے انتخاب میں بھی حصہ لیتے ہیں۔

پاکستانی آزاد کشمیر:
پاکستانی آزاد کشمیر میں 33 سیٹیں ہیں، پاکستان میں موجود جموں و کشمیر کے مہاجرین کے لئے بارہ 12 سیٹیں ہیں۔ یہ تعداد انتہائی نا مناسب ہے۔ یہ سیٹیں چار یا پانچ ہی ہونی چاہئیں اور آزاد کشمیر کے اندر انتخابات کی نتائج کی روشنی میں حاصل کردہ سیٹوں کے تناسب کی بنیاد پر سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہونی چاہئیں۔ یہ کسی مخصوص حلقے کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ ان میں سے زیادہ تر سیٹیں پنجاب میں ہیں اور ان پر پنجاب حکومت کی مداخلت کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔
مہاجرین کی نمائندگی تو ہونی چاہئے، خواہ یہ بھارتی مقبوضہ کشمیر کی طرز پر محض کاغذی ہی ہو یا آزاد کشمیر کے نتائج اور پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر متناسب نمائندگی اور مخصوص نشستوں کی صورت میں رکھی جا سکتی ہیں۔ مہاجرین کے لئے مختص سیٹوں پر الیکشن کسی طور بھی مناسب نہیں ہیں۔
آزاد کشمیر کی 33 سیٹوں کے علاوہ کچھ مخصوص سیٹیں خواتین، اوور سیز کشمیری اور ٹیکنوکریٹس کے لئے ہیں۔ ان کی تعداد 8 ہے۔ اس طرح کل تعداد 41 بنتی ہے۔
پاکستانی آزاد کشمیر کے قومی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں ہے اور نہ ہی سینٹ میں کوئی نمائندگی ہے۔ اس طرح پاکستان کے وزیراعظم اور صدر کے انتخاب میں آزاد کشمیر کا کوئی کردار نہیں ہے۔

پاکستان میں موجود ریاست جموں و کشمیر کے مہاجرین پاکستان کی قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخاب بھی لڑ سکتے ہیں۔ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ کچھ مہاجرین بیک وقت آزاد کشمیر اسمبلی اور پنجاب اسمبلی کے منتخب ممبر اور دونوں جگہ وزیر بھی۔ یہ انتظام سراسر نا مناسب ہے، لہاذہ ان سیٹوں پر انتخاب ختم ہونے چاہیئں۔

ڈاکٹر محمد یوسف اعوان

Address

Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faheem Shoket posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Faheem Shoket:

Share