10/06/2026
پاکستان اور چین کے مابین دفاعی تعاون کا ایک نیا باب: جے-35 اسٹیلتھ طیاروں کی خریداری کی تفصیلات
پاکستان اور چین کے مابین دفاعی شعبے میں ایک اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت پاکستان چینی ساختہ جدید ترین جے-35 (J-35) اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کا پہلا بین الاقوامی خریدار بن گیا ہے۔ اس اہم دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان فضائیہ کے بیڑے میں 35 جدید ترین جے-35 طیارے شامل کیے جائیں گے، جس پر دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اتفاق کر لیا ہے۔
معاہدے کے اہم نکات اور اسٹرٹیجک اہمیت
پانچویں نسل کے طیاروں تک رسائی:
جے-35 چین کا تیار کردہ جدید ترین پانچویں نسل (5th Generation) کا اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ ہے۔ اس کی شمولیت سے پاکستان خطے کی ان چند فضائی حدود کا مالک بن جائے گا جن کے پاس ریڈار کی نظروں سے اوجھل رہنے والی اسٹیلتھ تکنیک موجود ہے۔
فیصلہ کن فضائی برتری:
دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ڈیل کے مکمل ہونے سے خطے کا توازنِ قوت (Balance of Power) مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ یہ طیارے پاکستان کو روایتی حریفوں پر واضح اور فیصلہ کن فضائی برتری فراہم کریں گے، جس سے ملکی سرحدوں کا دفاع مزید ناقابلِ تسخیر ہو جائے گا۔
جے-10 سی (J-10C) کے بعد اگلا بڑا قدم:
پاکستان اس سے قبل چین سے جے-10 سی (J-10C) مہم جو طیارے کامیابی سے حاصل کر کے اپنے فضائی بیڑے کا حصہ بنا چکا ہے۔ جے-35 کی آمد اسی جدید سازی کے سفر کا اگلا اور سب سے اہم مرحلہ ہے۔
جے-35 (J-35) طیاروں کی تکنیکی خصوصیات
اسٹیلتھ ڈیزائن: یہ طیارہ اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ دشمن کے جدید ترین ریڈار اور دفاعی نظام بھی اس کا سراغ لگانے میں ناکام رہتے ہیں۔
ملٹی رول صلاحیت: یہ بیک وقت فضا سے فضا میں جنگ لڑنے اور زمین یا سمندر میں موجود اہداف کو انتہائی درستی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جدید ایوی اونکس اور ہتھیار: یہ طیارہ جدید ترین بی یو وی (BVR) یعنی نظروں سے اوجھل ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں اور جدید ترین سنسرز سے لیس ہے۔
اس معاہدے نے جہاں پاک چین لازوال دوستی اور سیکیورٹی پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کیا ہے، وہاں دشمن کے جارحانہ عزائم کے سامنے ایک مضبوط دفاعی دیوار بھی کھڑی کر دی ہے۔