23/01/2026
وفاق المدارس کی بیدارقیادت،مثالی نظم
تحریر:محمدزاھدشاہ ۔مدہرالجمعیۃ
وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جو علماءِ حق کے ہزاروں دینی مدارس کا قابلِ اعتماد امتحانی بورڈ ہے، اس کےجلیل القدر موسسین کےاخلاص، دیانت اور امانت کا فیضان آج بھی اس ادارے کے نظم و نسق میں پوری شان سے جھلکتا ہے۔ حالیہ امتحانات کے دوران پرچوں کے آؤٹ ہونے جیسے افسوسناک واقعہ نے بظاہر ایک آزمائش کی صورت اختیار کی، مگر اسی آزمائش نے وفاق المدارس کی انتظامی صلاحیت، غیر معمولی سرعتِ عمل اور بےلاگ احتساب کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا کہ شبہات و ابہامات کی ہر تہہ خود بخود کھلتی چلی گئی۔
محض چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرکے ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک مسلسل کاروائیاں کرنا اور بالآخر مرکزی ملزم کو رنگے ہاتھوں سوالیہ پرچوں کے تھیلے کے ساتھ گرفتار کر لینا، یہ سب اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کی ٹیم نہ صرف باخبر ہے بلکہ ہر سطح پر بیدار،متحرک اور ذمہ دار بھی ہے۔
مرکزی ملزم حفیظ الرحمن اور اس کے فرنٹ مین عدنان سمیت تمام مڈل مینوں کو گرفتار کیا گیا، ان کے موبائل ضبط کئے گئے، ٹھوس شواہد حاصل کرکے ہر پہلو سے مکمل تحقیق کے بعد انہیں چار روز قبل کراچی منتقل کیا گیا۔ وہاں امتحانی کمیٹی کا مفصل اجلاس صدر وفاق شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری حفظہم اللہ کی براہِ راست نگرانی میں منعقد ہوا، جہاں مجرموں نے نہ صرف اعترافِ جرم کیا بلکہ پورا طریقۂ واردات اور حاصل شدہ رقوم کی تفصیلات بھی پیش کیں، جو ان کے موبائل سے بھی ثابت ہوئیں۔
یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ جہاں کہیں معمولی سی بھی غفلت یا لاپرواہی پائی گئی، وہاں بھی بلا تفریق کاروائی کی گئی۔ نہ کوئی لمبا چوڑا رسمی عمل، نہ نمائشی کمیٹیاں، بلکہ فوری، فیصلہ کن اور غیر جانبدار اقدامات کر کے ایک مثال قائم کی گئ۔
اسی کے ساتھ وفاق المدارس کی اعلیٰ انتظامی صلاحیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ جس جس پرچے کے آؤٹ ہونے کی اطلاع ملی، اسی وقت اس کا متبادل سوالیہ پرچہ فراہم کیا گیا تاکہ امتحانی نظام متاثر نہ ہو اور طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ یہ سرعتِ انتظام اور پیشگی تیاری اس ادارے کی پختہ منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔
افسوسناک پہلو یہ بھی تھا کہ بعض ناسمجھ عناصر نے سوشل میڈیا پر تمسخرانہ پوسٹیں، ویڈیوز اور بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلایا، مگر وفاق المدارس کی ٹیم ان تک پہنچی اور ان کےخلاف بھی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ یوں نہ صرف جرم کا سدباب کیا گیا بلکہ فتنۂ افواہ سازی کا بھی راستہ روکا گیا۔
یہ تمام کاروائیاں اس وقت ہو رہی تھیں جب وفاق المدارس کی قیادت ہر لمحہ خود نگرانی فرما رہی تھی، ہر پیش رفت سے باخبر تھی اور بروقت احکامات جاری کئے جا رہے تھے۔
مجرمین تک بروقت رسائ،فوری فیصلے اور فیصلہ کن اقدامات اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ علماءِ حق کے ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں بلکہ دیانت، امانت، انصاف اور ذمہ داری کے مضبوط قلعے ہیں۔
ہم وفاق المدارس العربیہ کے اربابِ بست و کشاد، خصوصاً حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب حفظہم اللہ اوران کی پوری ٹیم کواس مثالی کارکردگی پرخراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔
اسی کے ساتھ وفاق المدارس سے وابستہ تمام مدارس کے علماء، اساتذہ، طلبہ و طالبات کو مبارک باد بھی پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مضبوط، باوقار اور بیدار ادارے کا حصہ ہیں جو ہر آزمائش میں سرخرو ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہم ربِ کریم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس ادارے کو ایسے مخلص، باصلاحیت،فعال اور دیانت دار افراد عطا فرمائے جو ہر فتنے کو حکمت، سرعت اور انصاف کے ساتھ ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اللّٰہم لک الحمد ولک الشکر