AlJamiat

AlJamiat ماہنامہ الجمعیۃ راولپنڈی

23/01/2026

وفاق المدارس کی بیدارقیادت،مثالی نظم
تحریر:محمدزاھدشاہ ۔مدہرالجمعیۃ

وفاق المدارس العربیہ پاکستان، جو علماءِ حق کے ہزاروں دینی مدارس کا قابلِ اعتماد امتحانی بورڈ ہے، اس کےجلیل القدر موسسین کےاخلاص، دیانت اور امانت کا فیضان آج بھی اس ادارے کے نظم و نسق میں پوری شان سے جھلکتا ہے۔ حالیہ امتحانات کے دوران پرچوں کے آؤٹ ہونے جیسے افسوسناک واقعہ نے بظاہر ایک آزمائش کی صورت اختیار کی، مگر اسی آزمائش نے وفاق المدارس کی انتظامی صلاحیت، غیر معمولی سرعتِ عمل اور بےلاگ احتساب کا ایسا عملی نمونہ پیش کیا کہ شبہات و ابہامات کی ہر تہہ خود بخود کھلتی چلی گئی۔

محض چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر پورے نیٹ ورک تک رسائی حاصل کرکے ایک ضلع سے دوسرے ضلع اور ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک مسلسل کاروائیاں کرنا اور بالآخر مرکزی ملزم کو رنگے ہاتھوں سوالیہ پرچوں کے تھیلے کے ساتھ گرفتار کر لینا، یہ سب اس بات کا بین ثبوت ہے کہ وفاق المدارس العربیہ کی ٹیم نہ صرف باخبر ہے بلکہ ہر سطح پر بیدار،متحرک اور ذمہ دار بھی ہے۔

مرکزی ملزم حفیظ الرحمن اور اس کے فرنٹ مین عدنان سمیت تمام مڈل مینوں کو گرفتار کیا گیا، ان کے موبائل ضبط کئے گئے، ٹھوس شواہد حاصل کرکے ہر پہلو سے مکمل تحقیق کے بعد انہیں چار روز قبل کراچی منتقل کیا گیا۔ وہاں امتحانی کمیٹی کا مفصل اجلاس صدر وفاق شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری حفظہم اللہ کی براہِ راست نگرانی میں منعقد ہوا، جہاں مجرموں نے نہ صرف اعترافِ جرم کیا بلکہ پورا طریقۂ واردات اور حاصل شدہ رقوم کی تفصیلات بھی پیش کیں، جو ان کے موبائل سے بھی ثابت ہوئیں۔

یہ امر بھی قابلِ تحسین ہے کہ جہاں کہیں معمولی سی بھی غفلت یا لاپرواہی پائی گئی، وہاں بھی بلا تفریق کاروائی کی گئی۔ نہ کوئی لمبا چوڑا رسمی عمل، نہ نمائشی کمیٹیاں، بلکہ فوری، فیصلہ کن اور غیر جانبدار اقدامات کر کے ایک مثال قائم کی گئ۔

اسی کے ساتھ وفاق المدارس کی اعلیٰ انتظامی صلاحیت کا ایک روشن پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ جس جس پرچے کے آؤٹ ہونے کی اطلاع ملی، اسی وقت اس کا متبادل سوالیہ پرچہ فراہم کیا گیا تاکہ امتحانی نظام متاثر نہ ہو اور طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو۔ یہ سرعتِ انتظام اور پیشگی تیاری اس ادارے کی پختہ منصوبہ بندی کا واضح ثبوت ہے۔

افسوسناک پہلو یہ بھی تھا کہ بعض ناسمجھ عناصر نے سوشل میڈیا پر تمسخرانہ پوسٹیں، ویڈیوز اور بے بنیاد پروپیگنڈا پھیلایا، مگر وفاق المدارس کی ٹیم ان تک پہنچی اور ان کےخلاف بھی کاروائی عمل میں لائی گئی۔ یوں نہ صرف جرم کا سدباب کیا گیا بلکہ فتنۂ افواہ سازی کا بھی راستہ روکا گیا۔

یہ تمام کاروائیاں اس وقت ہو رہی تھیں جب وفاق المدارس کی قیادت ہر لمحہ خود نگرانی فرما رہی تھی، ہر پیش رفت سے باخبر تھی اور بروقت احکامات جاری کئے جا رہے تھے۔

مجرمین تک بروقت رسائ،فوری فیصلے اور فیصلہ کن اقدامات اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ علماءِ حق کے ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں بلکہ دیانت، امانت، انصاف اور ذمہ داری کے مضبوط قلعے ہیں۔

ہم وفاق المدارس العربیہ کے اربابِ بست و کشاد، خصوصاً حضرت شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اور حضرت مولانا محمد حنیف جالندھری صاحب حفظہم اللہ اوران کی پوری ٹیم کواس مثالی کارکردگی پرخراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

اسی کے ساتھ وفاق المدارس سے وابستہ تمام مدارس کے علماء، اساتذہ، طلبہ و طالبات کو مبارک باد بھی پیش کرتے ہیں کہ وہ ایک ایسے مضبوط، باوقار اور بیدار ادارے کا حصہ ہیں جو ہر آزمائش میں سرخرو ہوتا ہے۔اور سب سے بڑھ کر ہم ربِ کریم کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس ادارے کو ایسے مخلص، باصلاحیت،فعال اور دیانت دار افراد عطا فرمائے جو ہر فتنے کو حکمت، سرعت اور انصاف کے ساتھ ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اللّٰہم لک الحمد ولک الشکر

23/01/2026

قرآن وسنت کامنافی قانون مسترد
قائدجمعیت کی جرات رندانہ

قائدجمعیۃمولانافضل الرحمن مدظلہ نے18سال سےکم عمرمیں شادی پرپابندی کےحوالےسے قانون کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ :آپ نے جس طرح کی آئینی ترامیم کی ہیں میں اعلان کرتا ہوں کہ میں سرعام ان کی خلاف ورزی کروں گا اور 15 سال، 16 اور 12 سال کے جوانوں کی شادیاں کرواؤں گا اور ان میں خود بیٹھوں گا۔میں اس قانون کو چیلنج کرتا ہوں ، دیکھتاہوں کہ آپ میرا مقابلہ کیسے کرتے ہیں"

قائدجمعیت کا یہ اعلان محض ایک سیاسی جملہ یا جذباتی نعرہ نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کے آئینی تشخص، اسلامی شناخت اور شریعت کی بالادستی کے اصولی مقدمے کا ایک دوٹوک اظہار ہے۔ یہ اعلان دراصل ایک بڑے آئینی اور نظریاتی سوال کو زندہ کرتا ہے کہ: کیا پاکستان میں قانون سازی کی بالادستی پارلیمان کو حاصل ہے یا قرآن و سنت کو؟

آئینِ پاکستان کی دفعات (خصوصاً دفعہ 227) وضاحت کے ساتھ یہ اصول متعین کرتی ہیں کہ:
“تمام موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا اور ایسا کوئی قانون وضع نہیں کیا جائے گا جو قرآن و سنت کےمنافی ہو”
ظاہر ہے یہ شق محض رسمی عبارت نہیں، بلکہ پاکستان کے نظریاتی وجود کی بنیاد ہے۔ یہی وہ دفعہ ہے جس کی بنیاد پر اسلامی نظریاتی کونسل قائم کی گئی، یہی اصول وفاقی شرعی عدالت کے قیام کا سبب بنا، اور یہی وہ روح ہے جو پاکستان کو ایک سیکولر ریاست بننے سے روکتی ہے۔لہذاقائدجمعیت کا حالیہ مؤقف اسی آئینی روح کی ترجمانی ہے۔

مسئلہ عمر نہیں ، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ:
کیا نکاح جیسے خالص شرعی معاملے میں بھی ریاست وہ حدود متعین کرسکتی ہے جو شریعت سے ماخوذ نہ ہوں؟شریعت نے نکاح کے لیے کوئی عمر متعین نہیں کی، ایسے میں اگر ریاست عمر کی ایک حد مقرر کرتی ہے اور اسے مطلق قانونی پابندی بنا دیتی ہے، تو یہ بحث جنم لیتی ہے کہ آیا یہ شریعت کی مقرر کردہ لچک اور اصولی فریم ورک سے متصادم تو نہیں۔

قائدجمعیت کاایوانِ میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کرنا کہ “میں ایسے قانون کو چیلنج کروں گا" دراصل اس دینی حساسیت کی عکاسی ہے جو جمعیت علماء اسلام کی تاریخ اور روایت کا حصہ رہی ہے۔ یہ وہ جماعت ہے جس نے ہر دور میں شریعت کی بالادستی کو مقدم رکھا۔

یہ معاملہ ایک سنجیدہ آئینی، فقہی اور سماجی بحث کا تقاضا کرتا ہے۔ قائدجمعیت کا چیلنج اوریہ اعلان اسی بحث کو زندہ کرنے کا سبب بنا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی بیان نہیں، بلکہ ایک دردکااظہار اور دعوت ہے کہ پاکستان میں قانون سازی کے عمل کو آئین کی اسلامی روح کے مطابق پرکھا جائے۔
محمد زاھدشاہ

22/01/2026

علمی وقار اورچاپلوسانہ رویے

گزشتہ دنوں ایک مجلس میں میجرعامر صاحب کی گفتگو ایک صاحبِ کے علمی ذوق کو خاصی تازگی بخشتی رہی۔ گفتگو کا انداز ایسا تھا کہ ہر جملے پر بس ماشاء اللہ اور سبحان اللہ کی صدائیں مسلسل بلند ہو رہی تھیں۔ موضوع یہ تھا کہ جنرل عاصم منیر نے مکہ مکرمہ میں اپنے سرکاری قیام کے دوران حرمِ مکی میں قرآنِ کریم حفظ کیا۔ میجر صاحب بڑے وثوق سے یہ واقعہ بیان کر رہے تھے اور سامع کی مسرت دیدنی تھی۔گویا یہ خبر دل کے کسی نرم گوشے میں اتر کر تسکین کا باعث بن گئی ہو۔

بلاشبہ قرآنِ کریم سے تعلق، خصوصاً حفظِ قرآن، ایک عظیم سعادت ہے اور اگر کسی شخص کو حرم مکی جیسے مقامِ مقدس میں یہ نعمت حاصل ہوجائے تو یہ مزید باعثِ مسرت ہے۔ عام حالات میں، استاد کے بغیر، باقاعدہ سرکاری ذمہ داریوں کے ساتھ، حفظِ قرآن ایک غیر معمولی امر ہے،جوکہ ناممکن نہیں، لیکن مشکل ضرورہے۔مگر اس کےثبوت کیلیےمضبوط شواہد درکار ہوتے ہیں۔کیونکہ روایت اور تحقیق کاتقاضاہے کہ ایسےمواقع پر کسی محض جذبات کی بناء پر اور بغیرشواہد کے قبول نہ کیاجائے۔

اسی تناظر میں ایک اہم اور قابلِ توجہ بات یہ سامنے آتی ہے کہ مورخہ 8 جنوری2026 کو جماعتِ اسلامی راولپنڈی کے امیر، سید عزیر حامد،جو جنرل عاصم منیر کے قریبی عزیز بھی ہیں نے واضح طور پر تحریری طور پر یہ بیان دیا کہ جنرل عاصم منیر نے قرآنِ کریم بچپن میں راولپنڈی میں حفظ کیا۔ یہ بیان نہ صرف قریبی خاندانی نسبت کی وجہ سے وزن رکھتا ہے بلکہ زمانی اور تعلیمی لحاظ سے بھی زیادہ قرینِ قیاس معلوم ہوتا ہے۔جبکہ اس قبل بھی جب جنرل صاحب کابطور آرمی چیف تقررہوا توان دنوں تواتر کےساتھ یہ کہاگیاکہ انہوں نے راولپنڈی میں قاری خلیل احمد کےہاں حفظ قرآن کریم کی تکمیل کی ہے۔

ان دونوں روایات کے تعارض کی ہیش نظر اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر پہلی روایت پر اصرار کیا جاتا ہے تو اس کے لیے محض جذبات یا محفل کی کیفیت نہیں، بلکہ ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پیش کیے جائیں۔ کیونکہ تحقیق کی دنیا میں خواہش نہیں، دلیل بولتی ہے؛ اور عقیدت کی معراج بھی سچائی سے وفاداری میں ہے، نہ کہ مبالغہ آرائی میں۔
یہاں اصل سوال جنرل عاصم منیر کی ذات نہیں، بلکہ چاپلوسی کے اس رویے کا ہے جو بعض اوقات حقیقت کو بھی غیر ضروری رنگ آمیزی میں گم کر دیتا ہے۔ کسی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے من گھڑت یا غیر مصدقہ واقعات پر سر ہلانا نہ علم کی خدمت ہے، نہ دین کا وقار۔ لہذا اگر سر ہی ہلانا ہےتو بہتر ہے کسی مجلسِ ذکر میں ہلایا جائے، جہاں اس عمل کا اجر بھی ہے اور وزن بھی۔سچ یہی ہے کہ شخصیات کو مصنوعی کرشموں کی ضرورت نہیں ہوتی،اوردین کو بھی خوشامد کے سہارے نہیں پھیلایا جاتا۔
محمدزاھدشاہ

https://www.facebook.com/share/v/1KfPqYSghw/

ایک تصویر پر قائدِ جمعیت سے متعلق گمراہ کن تبصرے کی حقیقت        تحریر:محمدزاھدشاہزیرِ نظر تصویر کافی عرصہ قبل بھی نظر س...
17/01/2026

ایک تصویر پر قائدِ جمعیت سے
متعلق گمراہ کن تبصرے کی حقیقت
تحریر:محمدزاھدشاہ

زیرِ نظر تصویر کافی عرصہ قبل بھی نظر سے گزری تھی، تاہم گزشتہ دنوں ملتان سے تعلق رکھنے والے ایک سیکولر رافضی، شاکر حسین، نے جب اسے ایک خاص تبصرے کے ساتھ سوشل میڈیا پر دوبارہ پوسٹ کیا تو حیرت ہوئی۔ اس پوسٹ کے ساتھ درج تحریر یہ ہے:
"یہ تصویر مجھے جناب احمد فراز نے ہدیہ کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ میریٹ میں دوستوں کے ساتھ بیٹھے تھے کہ مولانا فضل الرحمٰن آ گئے اور فرمائش کی کہ ایک گروپ فوٹو ہو جائے. جس پر احمد فراز نے کہا:
میرے ہاتھ میں جو مشروب ہے، اس کیساتھ آپ تصویر بنوا لیں گے؟ مولانا نے کہا انہیں کوئی اعتراض نہیں. اس یادگار تصویر میں رضا ربانی، ڈاکٹر مبشر حسن، کلدیپ نیّر، ڈاکٹر اکبر خواجہ، اعتزاز احسن اور عمران خان تو پہچانے جاتے ہیں. باقی لوگ کون ہیں، احباب شناخت کریں"
(شاکر حسین شاکر ۔ ملتان)
یہ پوسٹ مختلف دوستوں نے مجھے ارسال کی تو اس کے مندرجات کو سراسر خلافِ حقیقت جانتے ہوئے قائدِ جمعیت سے متعلق یہ دعویٰ کہ انہوں نے خود تصویر کی فرمائش کی، یا احمد فراز کے ہاتھ میں موجود مشروب کے حوالے سے کسی اجازت کا سوال ہوایہ دونوں باتیں قرینِ قیاس نہیں۔اس کی بلاتامل تردیدکردی۔

جو لوگ قائدِ جمعیت کے مزاج، سنجیدگی اور باوقار طرزِ عمل سے واقف ہیں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ نہ ایسی محفلوں میں ان کی شرکت کا تصور کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی گروپ فوٹو کی فرمائش ان کی عادت ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے تصویر بننے پر آمادگی ظاہر کی ہو، جسے شاکر حسین نے نہایت بددیانتی کے ساتھ ایک بالکل مختلف اور گمراہ کن تناظر میں پیش کیا۔
مزید یہ کہ تصویر میں نظر آنے والا گلاس نہ بظاہر شراب کا معلوم ہوتا ہے اور نہ ہی یہ تصویر کسی ایسے مقام یا ماحول کی عکاسی کرتی ہے جہاں شراب نوشی کا اہتمام ہو۔ ایسے ماحول کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں، جو اس تصویر میں کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ انہی وجوہات کی بنا پر مختلف واٹس ایپ گروپس میں بھی یہی بات زیرِ بحث رہی۔
الغرض شاکر حسین کی بددیانتی خود اس کی تحریر سے جھلکتی ہے، خصوصاً اس پہلو سے کہ اس نے ساری بات احمد فراز کی طرف منسوب کر کے خود کو بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کی، یہ جانتے ہوئے کہ احمد فراز اب اس دنیا میں نہیں، تواس من گھڑت روایت کی تحقیق یا تردید کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ اسی بنا پر بعض احباب نے اصرار کیا کہ اس معاملے پر خود قائدِ جمعیت کا مؤقف سامنے آنا چاہیے ۔
چنانچہ میں نے خود قائدِ محترم سے اس تصویر کے حوالے سے استفسار کیا۔ ان کی جانب سے جو جواب موصول ہوا، پیش خدمت ہے تاکہ سند رہے، قائد محترم نے فرمایا کہ:
"مجھے یاد نہیں کہ کبھی احمد فراز صاحب نے میرے سامنے یہ بے باکی کی ہو۔ پھر یہ تصویر میریٹ کی بھی نہیں۔ اسلام آباد کی ایک رہائش گاہ کے لان کی ہے، یاد نہیں یہ کس کا گھر تھا۔
اور آپ جانتے ہیں میں گروپ فوٹو کی فرمائش نہیں کیا کرتا۔
بہر حال تصویر کا جو پس منظر بیان کیاگیا ہے اس میں دیانت سے کام نہیں لیا گیا۔"
قائدِ جمعیت کے اس واضح، باوقار مؤقف کے بعد کسی ابہام کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ تصویر کا مقام، اس کا پس منظر اور اس سے منسوب پوری کہانی،سب کچھ شاکر حسین کی بیان کردہ روایت کے بالکل برعکس، من گھڑت اور خلافِ حقیقت ثابت ہو جاتا ہے۔
یہ واقعہ پوری طرح عیاں کر دیتا ہے کہ شاکر حسین نے دانستہ طور پر ایک جھوٹا بیانیہ گھڑا، جس کا مقصد قائدِ جمعیت کی باوقار شخصیت کو مشکوک رنگ میں پیش کرنا تھا۔ یہ طرزِ عمل محض اختلافِ فکر نہیں بلکہ صریح بدنیتی اور بددیانتی کی مثال ہے، جس کا مقصد سچ کی تلاش نہیں بلکہ تعصب کی تسکین ہے۔ ان رویّوں سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ بعض لبرل عناصر مذہبی شخصیات کے بارے میں شدید تنگ نظری کا شکار ہو کر اپنی ذہنی غلاظت اچھالتے رہتے ہیں۔

جھوٹ کے فریم میںسچ کوقیدکرنے کی ناکام کوششتحریر:محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃکٹھ پتلی کرداروں کے حامل کچھ لوگ زیرِ نظر تصویر ک...
17/01/2026

جھوٹ کے فریم میں
سچ کوقیدکرنے کی ناکام کوشش
تحریر:محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃ

کٹھ پتلی کرداروں کے حامل کچھ لوگ زیرِ نظر تصویر کا حوالہ دے کر یہ عذرِ لنگ تراشتے ہیں کہ مولانا بھی تو پرویز مشرف سے ملے تھے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ تحریکِ انصاف کے بعض کارکن اسی گروپ فوٹو سے عمران خان کی تصویر کاٹ کر، مولانا کے خلاف بطورِ ثبوت پیش کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل نے اس تصویر کے پس منظر کو واضح کرنا ناگزیر بنا دیا ہے، تاکہ حقائق پوری دیانت داری کیساتھ سامنے آسکیں۔

اس حوالے سےسب سے پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ اقتدار میں موجود اربابِ حکومت سے سیاسی جماعتوں کے قائدین کی ملاقات ایک معمول کی سیاسی سرگرمی اور جمہوری ماحول کا تقاضا ہوتی ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی قیادتیں قومی معاملات پر حکمرانوں سے رابطے اور ملاقاتیں کرتی ہیں، اسے نہ تو اخلاقی عیب سمجھا جاتا ہےاورنہ ہی سیاسی کمزوری۔ اس تناظر میں یہ بات ہرگز معیوب نہیں کہ کوئی سیاسی رہنما یا جماعتی قیادت حکمرانوں سے ملاقات کرے، خصوصاً جب معاملہ قومی مفاد اور خارجہ پالیسی سے متعلق ہو۔

جہاں تک زیرِ بحث تصویر کا تعلق ہے، تو اس کا پس منظر یہ ہے کہ 12 اکتوبر 1999ء کو اقتدار پر قبضے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے جولائی 2001ء میں آگرہ سمٹ میں شرکت اور بھارتی وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات سے قبل، ملکی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا۔ اسی مقصد کے تحت انہوں نے تقریباً 20بڑی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کی، تاکہ انہیں بھارت کے دورے اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے آگاہ اور اعتماد میں لیاجا سکے۔مختلف رہنماؤں میں قائدِجمعیۃ مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، مولانا سمیع الحق، اجمل خٹک، سابق صدر سردار فاروق لغاری، ڈاکٹر طاہرالقادری، عمران خان اور ڈاکٹر عبدالحی بلوچ جیسے نمایاں نام شامل تھے۔ یہ مشاورت کسی ذاتی مفاد یا اقتدار کی شراکت کے لیے نہیں، بلکہ ایک اہم قومی معاملے پر رائے لینے اور موقف واضح کرنے کے لیے کی گئی تھی۔
البتہ تمام بڑی سیاسی جماعتوں کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اس مشاورت کا بائیکاٹ کیا، جبکہ مسلم لیگ (ن)، جو اس وقت ریاستی عتاب کا شکار تھی، اس عمل میں مدعو ہی نہیں کی گئی۔

اسی دورے کے دوران جنرل پرویز مشرف نے نئی دہلی میں واقع اپنے آبائی گھر، ’’نہر والی حویلی‘‘ کا بھی دورہ کیا، جنرل پرویز مشرف 11 اگست 1943ء کو نئی دہلی کے علاقے دریا گنج میں اسی حویلی میں پیدا ہوئے تھے۔

اس پورے پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جمعیت علماء اسلام اور اس کی قیادت کا کردار ہمیشہ اصولی، واضح اور قومی مفاد کے تابع رہا ہے۔ محض تصویروں، آدھے سچ اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے ذریعے اس تاریخی حقیقت کو مسخ نہیں کیا جا سکتا۔ جمعیت کی سیاست نہ درباری رہی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی اسیر، بلکہ اس کی بنیاد ہمیشہ اصول، وقار اور جمہوری شعور پر استوار رہی ہے۔

02/01/2026
02/01/2026
02/01/2026

تحریک ریشمی رومال کاراز
اصل "رومال" کی کہانی۔۔۔۔۔۔۔

حضرت قاری عبد المالک مرحوم ہمارے جماعتی حلقوں میں ایک ایسی شخصیت گذری ہے جنہیں مادیت کے اس پرفتن دور میں اپنے فقر و خودداری پر ناز تھا۔ وہ خود جس قدر کربناک حالات سے دوچار ہوتے، اپنے رفقاء کو اس کا حساس نہ ہونے دیتے بلکہ خندہ پیشانی اور اولوالعزمی کے ساتھ ان کے حوصلے ہمیشہ بلند رکھتے تھے۔نوے کی دہائی میں آپ جمعیت علماء اسلام ضلع راولپنڈی کے امیر رہے۔

قائد جمعیة دامت برکاتہم نے ضیائی مارشل لاء کے دور میں جب قیادت سنبھالی، تب ان کے خلاف ضیاء الحق کے حاشیہ برداروں نے ایک ایسا ماحول تشکیل دیا تھا کہ راولپنڈی جو کبھی (1962ء اور 1970ء کے اسمبلی کی ممبرشپ کے ایام میں) حضرت مفتی محمود کا مسکن رہا تھا، وہاں کے علماء نے اپنی مساجد و مدارس کے دروازے قائد جمعیة مولانا فضل الرحمن کیلئے بند کر رکھے تھے۔ قائد جمعیت کی اس تنہائی کے دور میں حضرت قاری عبد المالک صاحب نے ڈنکے کی چوٹ پر ان کا بھرپور ساتھ دیا۔

قاری صاحب مرحوم نے ایم آر ڈی کے رابطہ سیکرٹری کے طور پہ پنجاب بھر میں فعال کردار ادا کیا اور اس مثالی کردار کی بناء پر ’’ایم آر ڈی‘‘ کا لفظ ان کی شخصیت کا حوالہ اور نام کا جزء بن گیا، چنانچہ اکثر حضرات انہیں قاری عبد المالک ’’ایم آر ڈی‘‘ کے نام سے جانتے تھے۔

حضرت قاری صاحب تحریکی مزاج رکھنے والے، ایک باوقار و باکردار اور دل آویز شخصیت کے مالک سیاسی رہنما تھے۔ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران گرفتار ہوئے، فوجی عدالت میں جب انہیں پیش کیا گیا اور جج نے کہا کہ آپ نے فوج کے خلاف عوام کو اکسانے کا جرم کیا ہے، معافی مانگیں تو ہم آپ کو بری کر دیں گے۔ حضرت قاری صاحب نے کہا:

“میں تمہاری عدالت پر تھوکتا ہوں، میں ان عدالتوں کو تسلیم ہی نہیں کرتا، معافی کس چیز کی؟”

یہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ ایم آر ڈی کے اکثر قیدی رہا ہو چکے تھے اور بعض رہا ہونے والے تھے، لیکن قاری صاحب کو توہین عدالت کی پاداش میں میانوالی جیل بھیج دیا گیا، جہاں آپ پر تشدد کیا جاتا رہا اور آپ کو کھانے میں شیشہ پیس کر کھلایا جاتا رہا، جس سے انہیں معدے کا السر ہو گیا اور موت تک اس عارضے میں مبتلا رہے۔

میرے ماموں جان مولانا سید عبدالمالک شاہ رحمہ اللہ سابق ڈپٹی جنرل سیکرٹری جے یو آئی پنجاب و سابق استاذ الحدیث مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ (جن کے مشفقانہ اندازِ تربیت کا اثر ہے کہ ہمیں جمعیة علماء اسلام کے قافلۂ حق کے ساتھ استقامت کے ساتھ جڑے رہنے کے شرف سے اللہ کریم نے نوازا ہے) حضرت قاری عبد المالک صاحب کے انتہائی قریبی دوست تھے۔ جب بھی راولپنڈی تشریف لاتے تو حضرت قاری صاحب کے ہاں حاضری ان کے شیڈول میں لازمی شامل ہوتی۔ اس ناطے ہمیں بھی بارہا حضرت قاری صاحب کی باوقار اور اولوالعزم شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور ان کی پرمغز گفتگو سے استفادے کا موقع ملا۔

چونکہ حضرت قاری صاحب ابتدائی چند درجات مختلف مدارس میں پڑھنے کے بعد اپنی سعادت مندی کی بدولت مرکز رشد و ہدایت دین پور شریف تشریف لے گئے، جہاں کی درسگاہ اور بزرگوں کے فیضانِ نظر نے حضرت قاری صاحب مرحوم کو ایسا چمکایا کہ پھر وہ رنگ تاحیات قائم رہا۔

حضرت قاری عبد المالک صاحب مرحوم کا یہ مزاج تھا کہ اپنی جماعتی زندگی، اکابر کے ساتھ بیتے لمحات پر مشتمل احوال اکثر و بیشتر ازخود بیان کیا کرتے تھے، اور اگر کوئی ان سے کسی واقعے کے متعلق پوچھ لیتا تو بڑی خوشی محسوس کرتے تھے اور تفصیل کے ساتھ وہ واقعہ ذکر فرماتے۔

ایک دن دورانِ گفتگو ہم نے تحریک ریشمی رومال کے اس ’’ریشمی رومال‘‘ کے متعلق حضرت قاری صاحب سے استفسار کیا جس کا تذکرہ زبان زدِ عام رہتا ہے، تو انہوں نے فرمایا:

آج سے چند دہائی قبل دین پور شریف جو جنگِ آزادی بالخصوص تحریک ریشمی رومال کا مرکز رہا ہے اور اپنے زمانے کے جنیدِ وقت حضرت خلیفہ غلام محمد صاحب دین پوری قدس سرہ جو کہ قدوۃ السالکین حافظ غلام صدیق رحمہ اللہ بھرچونڈی شریف کے خلیفہ مجاز تھے، دین پور شریف ان کا مدفن اور قائم کردہ بستی ہے جو کہ خانپورہ کٹورہ سے دو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ میں اپنی علمی پیاس بجھانے اور جنگِ آزادی کے رہنماؤں بالخصوص امامِ انقلاب مولانا عبید اللہ سندھی رحمہ اللہ جو کہ وہیں پر مدفون ہیں، ان کے حالات معلوم کرنے کیلئے حاضر ہوا۔

اس وقت مرشد العلماء مولانا میاں عبدالہادی صاحب دین پوری قدس سرہ بقیدِ حیات تھے۔ چنانچہ میں نے ایک موقع پر حضرت میاں عبدالہادی صاحب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ:

حضرت! تحریک ریشمی رومال کا نام تو ہم نے سنا ہے لیکن یہ ریشمی رومال کیا تھا، کیسے تھا، یہ نہیں معلوم…؟

حضرت رحمہ اللہ نے میری طرف شفقت بھری نظروں سے دیکھ کر فرمایا:

“ایک دفعہ ظہر کی نماز میں نے اپنے والد ماجد خلیفہ غلام محمد صاحبؒ کے پیچھے پڑھی۔ گرمی کا موسم تھا، ظہر کی جماعت جب ہو چکی تو نمازیوں میں سے ایک نمازی جو چہرے سے نہایت خوبصورت، متشرع اور سر پر زری کلاہ رکھے ہوئے تھا، بیٹھا رہا۔ میں نے بھی دیکھا تو محسوس کیا کہ یہ اجنبی آدمی ہے۔

دوسرے نمازی چلے گئے اور ہم صرف تین آدمی رہ گئے۔ اتنے میں وہ نمازی اٹھا اور حضرت والد صاحب، جو کہ محراب کے اندر تشریف فرما تھے، ان کے ہاں جا کر ان سے ملا اور ایک خاص انداز سے انہوں نے حضرت والد صاحب سے مصافحہ کیا اور کہا: حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل…
والد صاحب نے جواب میں پڑھا: نعم المولیٰ ونعم النصیر۔

اس کے بعد اس مسافر نے کہا کہ اس بچے کو باہر بھیج دیں۔ حضرت والد صاحب نے فرمایا کہ یہ میرا بیٹا ہے عبدالہادی اس کا نام ہے، آپ بے دھڑک ہو کر بات کریں۔ اس کے بعد والد صاحب اٹھے اور مسجد کے تمام دروازے بند کر کے اندر سے کنڈی لگا دی۔ روشنی مسجد کے اندر آ رہی تھی۔

اتنے میں اس مسافر نے اپنا زری کلاہ اتارا اور گھٹنا کھڑا کر کے اس پر وہ کلاہ رکھ دیا، پہلے اس کی لنگی کھولی، اس کے بل اتارے اور اس کو کھول کر ایک طرف رکھا۔ پھر جیب سے چاقو نکالا اور اس زری کلاہ کو ایک طرف سے چاقو سے چیرا دیا۔ وہ زری علیحدہ کر کے رکھ دیا۔

اب اندر کا جو سب سے نیچے خ*ل تھا اس کے اوپر ایک لپٹا ہوا زرد رنگ کا (تہہ شدہ) ریشمی رومال نکالا۔ حضرت نے اس رومال کو دونوں ہاتھوں سے لیا اور اسے پڑھا۔ اس پر جو تحریر تھی، وہ سوئی دھاگے سے لکھی گئی تھی۔ وہ حضرت نے مکمل پڑھی۔ اس کے بعد اس کو چوما اور آنکھوں سے لگایا اور لپیٹ کر جیب میں ڈال دیا۔

اتنی دیر میں وہ خان صاحب بغیر کوئی بات چیت کئے سر پر لنگی باندھ کر نہ معلوم کس طرف نکل گئے۔ والد صاحب نے وہ زری خ*ل گھر لا کر تندور میں جلا دیا۔”

حضرت قاری صاحب نے فرمایا:

یہ تھی ریشمی رومال کی اصل حقیقت، جو بندہ نے براہِ راست مرشد العلماء حضرت مولانا عبدالہادی دین پوری رحمہ اللہ سے سنی۔
نوٹ: زیرِ نظر تصویر مرشدِ علماء حضرت میاں عبد الہادی صاحب دین پوری رحمہ اللہ کی ہے، جن کی ذاتِ گرامی سے منسوب ریشمی رومال کا یہ تاریخی واقعہ نقل کیا جا رہا ہے۔ محمد زاھد شاہ

02/01/2026

کیاواقعی مفتی محمودنےکہاتھاکہ''خدا کا شکر ہے پاکستان بنانےکےگناہ میں ہم شریک نہیں تھے''

یہ جملہ دراصل منیر احمد منیر نےمولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا تھا۔
آئیے اس کی حقیقت جانئے۔ہوایوں کہ ہفت روزہ افریشیالاہورکے نمائندہ نے(غالباً١٩٧٦ میں)مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کاانٹرویوکیا۔اس انٹرویو کا آخری سوال یہ تھا کہ :
''آپ کے بارے میں یہ روایت مشہور کردی گئی ہے کہ آپ نے کسی موقع پر کہا ہے کہ: ''خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے'' یہ بات کس حد تک درست ہے؟
مفتی محمودصاحب رحمہ اللہ نےجواب دیتے ہوئے فرمایاکہ : جو بات یہ لوگ کہتےہوئے نہیں شرماتے، میں سنتےہوئےبھی شرماتاہوں۔اس بات کی حقیقت اس قدر ہےکہ متحدہ جمہوری محاذ کی میٹنگ میں محاذ کے بعض دوست آپس میں باتیں کرتے ہوئے مسلم لیگ کو کوس رہے تھے۔ چوہدری ظہور الٰہی (چوہدری شجاعت کےوالدمرحوم)بھی وہاں موجود تھے، بات خالصتاً مذاق میں ہو رہی تھی خود مسلم لیگ کے دوست کہہ رہے تھے کہ مسلم لیگ ہماری ماں تھی لیکن یہ ماں بدکار ہوگئی اور اس کے گناہوں کی کوئی حد نہیں۔ اس پر میں(مفتی محمود رح)نے ہنستے ہوئے کہا کہ:''
خدا کا شکر ہے کہ اس گناہ میں ہم شریک نہیں تھے۔'' یہ صرف مذاق کی بات تھی، اس پر ملک غلام علی اوکاڑوی نے کہا کہ ہم تو اس گناہ میں شریک تھے۔ میں نے کہا بہر حال میں خاموش ہوں، آپ ہی تبصرہ فرما رہے ہیں اور مزید تبصرہ فرما دیں میں اب بھی خاموش رہوں گا۔اس پر سب حضرات ہنس پڑے۔ (ہفت روزہ افریشیا لاہور بحوالہ ترجمان اسلام لاہور مفتی محمود نمبر…صفحہ نمبر٤٥٤،٤٥٥)
ملاحظہ کیجئے ایک مسلم لیگی نے خوداپنی جماعت (مسلم لیگ ،جوکہ پاکستان کی خالق جماعت ہونے کا دعویٰ رکھتی ہے اس)کو بدکار ماں کہااوریہ بھی کہ اس کےگناہوں کی کوئی حدنہیں، اس جملے پر توکسی کو اعتراض نہیں ہوا، لیکن جب مفتی صاحب نے اس حقیقت کا اظہارکیا کہ ہم تواس گناہ میں شریک نہیں تھے،تو یہ بات انہیں بری لگی۔یعنی اگر کوئی اپنی ماں کو گالی دے وہ تو کوئی جرم نہیں،لیکن دوسراشخص یہ کہہ کر اپنی برات ظاہرکردے کہ میراتواس بدکردارسے کوئی تعلق نہیں ،تو وہ مجرم ٹھہرے؟
بات ہورہی تھی مسلم لیگ کے کردارکی،برائ بیان کررہےتھےخودمسلم لیگی،اوراس میں پاکستان کاسرے سےذکر ہی نہیں ہوا،لیکن بیمارذہنیت نے اپنےمذموم مقصدکی خاطر اسے پاکستان سے جوڑکر مفتی محمودصاحب رحمہ اللہ کی طرف منسوب کردیا۔ لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔
محمدزاھدشاہ

Address

ادارہ الجمعیۃ راولپنڈی
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AlJamiat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AlJamiat:

Share

Category