14/05/2026
میثاقِ جمہوریت، لندن اے پی سی،
سانحۂ لال مسجد اور قائدِ جمعیت
تحریر: محمد زاھد شاہ
14 مئی 2006ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اسی روز محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں ایک 36 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے جسے میثاقِ جمہوریت (Charter of Democracy) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کو پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ "ن" کے درمیان ماضی کی تلخیوں، باہمی محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کی روایت کے خاتمے کی علامت قرار دیتے عہد کیا گیا کہ آئندہ دونوں جماعتیں جمہوری عمل، عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بالادستی اور آئین کی بحالی کے لیے ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہیں کریں گی۔۔
میثاقِ جمہوریت اپنی روح کے اعتبار سے ایک مثبت سیاسی پیش رفت تھی، کیونکہ پاکستان کی سیاست طویل عرصے سے ذاتی مخاصمت، انتقامی سیاست اور غیر سیاسی قوتوں کے سہارے اقتدار کے حصول کے گرد گھومتی رہی تھی۔ مگر کیا یہ معاہدہ واقعی اصولی بنیادوں پر کیا گیا تھا یا یہ بھی حالات کے جبر سے پیدا ہونے والی وقتی سیاسی ضرورت تھی؟
یہاں جمعیت علماء اسلام اور قائد جمعیت کا موقف ہمیشہ زمینی حقائق سے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ قائد جمعیت کا اصولی مؤقف یہ تھا کہ سیاسی جدوجہد محض کاغذی معاہدوں، بیرون ملک بیٹھ کر اعلامیے جاری کرنے یا اخباری بیانات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے ملک کے اندر تنظیم، عوامی رابطہ، سیاسی کارکنوں کی تربیت، مسلسل مزاحمت اور مرحلہ وار حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قائد جمعیت نے میثاقِ جمہوریت کے وقت بھی یہ حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا کہ جب تک سیاسی قیادت خود ملک کے اندر آ کر میدانِ عمل میں نہیں اترتی، عوامی جدوجہد کی قیادت نہیں کرتی اور سیاسی قربانی نہیں دیتی، اس نوعیت کے معاہدے محض خواہشات کی فہرست رہ جاتے ہیں۔
اس دور میں متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علماء اسلام نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحرک اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ ملین مارچ، جلسے، جلوس، پارلیمانی مزاحمت اور قومی ایشوز پر واضح مؤقف، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس دیگر جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی پر بارہا یہ اعتراض سامنے آیا کہ وہ ایک طرف آمریت مخالف بیانیہ اختیار کرتی رہی جبکہ دوسری طرف اندرونِ خانہ مذاکرات اور مفاہمت کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 2002ء کے بعد سیاسی منظرنامے میں کئی ایسے مواقع آئے جب اپوزیشن ایک مؤثر گرینڈ الائنس تشکیل دے سکتی تھی، مگر ذاتی مفادات، قیادت کی اجارہ داری اور باہمی بداعتمادی نے ان کوششوں کو کمزور کیا۔ جمعیت کا موقف اس پورے عرصے میں یہی رہا کہ محض اپوزیشن برائے مخالفت نہیں بلکہ اپوزیشن برائے اصلاح ہونی چاہئے۔ یعنی مقصد صرف حکومت گرانا نہ ہو بلکہ قومی پالیسی، آئینی بحالی اور ادارہ جاتی توازن کی اصلاح ہو۔
اسی تناظر میں جولائی 2007ء کی لندن میں نواز شریف کی دعوت پر منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی۔ اس کانفرنس کا مقصد جنرل پرویز مشرف کے خلاف وسیع سیاسی اتحاد یعنی گرینڈ الائنس کی تشکیل تھا۔ جس میں لیڈر آف دی اپوزیشن کی حیثیت سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی شرکت ناگزیر سمجھی جا رہی تھی۔ مگر عین اسی دوران سانحۂ لال مسجد پیش آیا، جس نے ملک کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔
لال مسجد بحران میں قائد جمعیت کا کردار جذباتی نعروں سے ہٹ کر مفاہمت، مذاکرات اور خونریزی روکنے کی کوششوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے حکومتی ذمہ داران، اکابر علماء اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان رابطے کیے، غازی برادران کو نقصان کم کرنے کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، اور طاقت کے استعمال سے گریز کے ذریعے حکومتی عزائم کو ناکام بنانے پر زور دیا۔ اس دوران اگر آپ اے پی سی میں شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئے، مگر اس سے قبل اور دورانِ سفر بھی مسلسل مذاکراتی رابطوں میں رہے۔ اس حوالے سے یہ اعتراض کہ وہ ایسے نازک موقع پر ملک سے باہر کیوں گئے؟ اس لئے بے جا تھا کہ اگر آپ اے پی سی میں شرکت نہ کرتے تو یہی حلقے انہیں اپوزیشن اتحاد سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے۔ چنانچہ انہوں نے دونوں ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کی، ایک طرف لال مسجد میں خونریزی روکنے کی کوشش، دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے کی کاوش بھی کی۔
جہاں تک میثاقِ جمہوریت کے نتائج کا تعلق ہے تو یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ 2008ء کے بعد اگرچہ جمہوری انتقالِ اقتدار کی روایت نسبتاً مضبوط ہوئی، اٹھارہویں ترمیم اور کچھ آئینی اصلاحات سامنے آئیں، مگر خود اس میثاق کی روح یعنی ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام، اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کرنا اور قومی مفاد پر جماعتی مفاد کو ترجیح نہ دینے جیسے معاملات وہیں کے وہیں رہے۔
بعد کے برسوں میں انہی جماعتوں کے درمیان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی، الزام تراشی، ادارہ جاتی تنازعات اور اقتدار کی کشمکش سامنے آئی۔ میثاقِ جمہوریت موقع پرستی کی نذر ہو گئی اور یوں محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے ملکی مفاد اور جمہوریت سے زیادہ وقتی سیاسی ضرورت تھی۔
آج 14 مئی کو ایک بار پھر یہ سوال زندہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت محض معاہدوں سے مضبوط ہوگی یا سنجیدہ سیاسی رویوں، اصولی مزاحمت اور عوامی سیاست سے؟
اس سوال کا جواب جمعیت علماء اسلام کی اس سیاسی حکمت عملی میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں ہمیشہ زمینی سیاست، مرحلہ وار جدوجہد، عوامی رابطے اور سیاسی حقیقت پسندی کو ترجیح دی گئی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کئی مواقع پر یہ ثابت کیا کہ سیاست محض نعروں، جذبات اور وقتی اتحادوں کی بجائے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کرنے کا نام ہے۔
میثاقِ جمہوریت ہو، گرینڈ الائنس کی بحث ہو یا سانحۂ لال مسجد جیسے حساس معاملات، جمعیت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قومی سیاست میں سنجیدگی، تسلسل اور اصولی حکمت عملی ہی دیرپا نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ جذباتی ماحول میں معقول گفتگو جرم بن جاتی ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ وقتی نعروں سے زیادہ اہم وہ قیادت ہوتی ہے جو بحران میں بھی جذبات کے بجائے تدبر کا راستہ اختیار کرے۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔