AlJamiat

AlJamiat ماہنامہ الجمعیۃ راولپنڈی

میثاقِ جمہوریت، لندن اے پی سی،   سانحۂ لال مسجد اور قائدِ جمعیت        تحریر: محمد زاھد شاہ14 مئی 2006ء پاکستان کی سیاسی...
14/05/2026

میثاقِ جمہوریت، لندن اے پی سی،
سانحۂ لال مسجد اور قائدِ جمعیت
تحریر: محمد زاھد شاہ

14 مئی 2006ء پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن ہے۔ اسی روز محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے لندن میں ایک 36 نکاتی معاہدے پر دستخط کیے جسے میثاقِ جمہوریت (Charter of Democracy) کا نام دیا گیا۔ اس معاہدے کو پاکستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ "ن" کے درمیان ماضی کی تلخیوں، باہمی محاذ آرائی اور ایک دوسرے کی حکومتیں گرانے کی روایت کے خاتمے کی علامت قرار دیتے عہد کیا گیا کہ آئندہ دونوں جماعتیں جمہوری عمل، عوامی مینڈیٹ، پارلیمانی بالادستی اور آئین کی بحالی کے لیے ایک دوسرے کے خلاف غیر جمہوری ہتھکنڈے استعمال نہیں کریں گی۔۔
میثاقِ جمہوریت اپنی روح کے اعتبار سے ایک مثبت سیاسی پیش رفت تھی، کیونکہ پاکستان کی سیاست طویل عرصے سے ذاتی مخاصمت، انتقامی سیاست اور غیر سیاسی قوتوں کے سہارے اقتدار کے حصول کے گرد گھومتی رہی تھی۔ مگر کیا یہ معاہدہ واقعی اصولی بنیادوں پر کیا گیا تھا یا یہ بھی حالات کے جبر سے پیدا ہونے والی وقتی سیاسی ضرورت تھی؟
یہاں جمعیت علماء اسلام اور قائد جمعیت کا موقف ہمیشہ زمینی حقائق سے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ قائد جمعیت کا اصولی مؤقف یہ تھا کہ سیاسی جدوجہد محض کاغذی معاہدوں، بیرون ملک بیٹھ کر اعلامیے جاری کرنے یا اخباری بیانات سے کامیاب نہیں ہوتی بلکہ اس کیلئے ملک کے اندر تنظیم، عوامی رابطہ، سیاسی کارکنوں کی تربیت، مسلسل مزاحمت اور مرحلہ وار حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ قائد جمعیت نے میثاقِ جمہوریت کے وقت بھی یہ حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار کیا کہ جب تک سیاسی قیادت خود ملک کے اندر آ کر میدانِ عمل میں نہیں اترتی، عوامی جدوجہد کی قیادت نہیں کرتی اور سیاسی قربانی نہیں دیتی، اس نوعیت کے معاہدے محض خواہشات کی فہرست رہ جاتے ہیں۔
اس دور میں متحدہ مجلس عمل اور جمعیت علماء اسلام نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر متحرک اپوزیشن کا کردار ادا کیا۔ ملین مارچ، جلسے، جلوس، پارلیمانی مزاحمت اور قومی ایشوز پر واضح مؤقف، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ اس کے برعکس دیگر جماعتیں بالخصوص پیپلز پارٹی پر بارہا یہ اعتراض سامنے آیا کہ وہ ایک طرف آمریت مخالف بیانیہ اختیار کرتی رہی جبکہ دوسری طرف اندرونِ خانہ مذاکرات اور مفاہمت کے دروازے بھی کھلے رکھے گئے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 2002ء کے بعد سیاسی منظرنامے میں کئی ایسے مواقع آئے جب اپوزیشن ایک مؤثر گرینڈ الائنس تشکیل دے سکتی تھی، مگر ذاتی مفادات، قیادت کی اجارہ داری اور باہمی بداعتمادی نے ان کوششوں کو کمزور کیا۔ جمعیت کا موقف اس پورے عرصے میں یہی رہا کہ محض اپوزیشن برائے مخالفت نہیں بلکہ اپوزیشن برائے اصلاح ہونی چاہئے۔ یعنی مقصد صرف حکومت گرانا نہ ہو بلکہ قومی پالیسی، آئینی بحالی اور ادارہ جاتی توازن کی اصلاح ہو۔
اسی تناظر میں جولائی 2007ء کی لندن میں نواز شریف کی دعوت پر منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی۔ اس کانفرنس کا مقصد جنرل پرویز مشرف کے خلاف وسیع سیاسی اتحاد یعنی گرینڈ الائنس کی تشکیل تھا۔ جس میں لیڈر آف دی اپوزیشن کی حیثیت سے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی شرکت ناگزیر سمجھی جا رہی تھی۔ مگر عین اسی دوران سانحۂ لال مسجد پیش آیا، جس نے ملک کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا۔
لال مسجد بحران میں قائد جمعیت کا کردار جذباتی نعروں سے ہٹ کر مفاہمت، مذاکرات اور خونریزی روکنے کی کوششوں پر مبنی تھا۔ انہوں نے حکومتی ذمہ داران، اکابر علماء اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان رابطے کیے، غازی برادران کو نقصان کم کرنے کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا، اور طاقت کے استعمال سے گریز کے ذریعے حکومتی عزائم کو ناکام بنانے پر زور دیا۔ اس دوران اگر آپ اے پی سی میں شرکت کیلئے لندن روانہ ہوئے، مگر اس سے قبل اور دورانِ سفر بھی مسلسل مذاکراتی رابطوں میں رہے۔ اس حوالے سے یہ اعتراض کہ وہ ایسے نازک موقع پر ملک سے باہر کیوں گئے؟ اس لئے بے جا تھا کہ اگر آپ اے پی سی میں شرکت نہ کرتے تو یہی حلقے انہیں اپوزیشن اتحاد سبوتاژ کرنے کا ذمہ دار قرار دیتے۔ چنانچہ انہوں نے دونوں ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کی، ایک طرف لال مسجد میں خونریزی روکنے کی کوشش، دوسری طرف اپوزیشن اتحاد کو مضبوط بنانے کی کاوش بھی کی۔
جہاں تک میثاقِ جمہوریت کے نتائج کا تعلق ہے تو یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ 2008ء کے بعد اگرچہ جمہوری انتقالِ اقتدار کی روایت نسبتاً مضبوط ہوئی، اٹھارہویں ترمیم اور کچھ آئینی اصلاحات سامنے آئیں، مگر خود اس میثاق کی روح یعنی ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام، اداروں کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال نہ کرنا اور قومی مفاد پر جماعتی مفاد کو ترجیح نہ دینے جیسے معاملات وہیں کے وہیں رہے۔
بعد کے برسوں میں انہی جماعتوں کے درمیان ایک بار پھر سیاسی کشیدگی، الزام تراشی، ادارہ جاتی تنازعات اور اقتدار کی کشمکش سامنے آئی۔ میثاقِ جمہوریت موقع پرستی کی نذر ہو گئی اور یوں محسوس ہوا کہ اس کے پیچھے ملکی مفاد اور جمہوریت سے زیادہ وقتی سیاسی ضرورت تھی۔
آج 14 مئی کو ایک بار پھر یہ سوال زندہ ہو جاتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت محض معاہدوں سے مضبوط ہوگی یا سنجیدہ سیاسی رویوں، اصولی مزاحمت اور عوامی سیاست سے؟
اس سوال کا جواب جمعیت علماء اسلام کی اس سیاسی حکمت عملی میں دیکھا جا سکتا ہے جس میں ہمیشہ زمینی سیاست، مرحلہ وار جدوجہد، عوامی رابطے اور سیاسی حقیقت پسندی کو ترجیح دی گئی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن نے کئی مواقع پر یہ ثابت کیا کہ سیاست محض نعروں، جذبات اور وقتی اتحادوں کی بجائے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے قومی مفاد میں فیصلے کرنے کا نام ہے۔
میثاقِ جمہوریت ہو، گرینڈ الائنس کی بحث ہو یا سانحۂ لال مسجد جیسے حساس معاملات، جمعیت کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قومی سیاست میں سنجیدگی، تسلسل اور اصولی حکمت عملی ہی دیرپا نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ جذباتی ماحول میں معقول گفتگو جرم بن جاتی ہے، مگر تاریخ کا فیصلہ یہی ہے کہ وقتی نعروں سے زیادہ اہم وہ قیادت ہوتی ہے جو بحران میں بھی جذبات کے بجائے تدبر کا راستہ اختیار کرے۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔


13/05/2026

قیادت سے شکوہ یااپنامحاسبہ؟
تحریر:محمد زاھد شاہ

ہمارے اس دور کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم میں سے بعض حضرات کو اپنی اصلاح سے زیادہ قیادت کی اصلاح کا شوق ہوتا ہے۔ گویا ہماری تمام دینی و تنظیمی ذمہ داریوں کا مرکز یہی بن گیا ہو کہ قائدین کی کمزوریاں تلاش کی جائیں، ان پر تبصرے ہوں، اور ان کے بارے میں شکووں کا دفتر کھولا جائے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان سب سے پہلے اپنی ذات کا نگہبان اور اپنے نفس کا محاسب ہے۔
تاریخِ اسلام اس کی شاہد ہے کہ بڑی قیادتیں محض اتفاق سے پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ عظیم قیادتوں کے پیچھے عظیم کارکن، مخلص افراد اور کردار کے پیکر لوگ ہوتے ہیں۔ اگر عہدِ خلافتِ راشدہ میں حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی جیسے حضرات حکمران تھے تو ان کی رعایا بھی اس وقت کے نفوسِ قدسیہ، حضرات صحابہ کرام تھے۔
خلافتِ راشدہ تو ایک رحمت تھی، جس کے ہم لوگ شاید اپنے اعمال کی بدولت لائق و مستحق نہیں۔ اس لیے محض یہ آرزو کرنا کہ پھر سے خلافتِ راشدہ کا دور آجائے، مگر اپنے کردار، اخلاص اور قربانی کے معیار کو وہیں چھوڑ دینا، ایک غیر حقیقی تمنّا ہے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کا ایک واقعہ اس باب میں بڑی رہنمائی دیتا ہے۔ کسی موقع پر جمعیت علماء اسلام ضلع سرگودھا کی مجلسِ عمومی (جنرل کونسل) کے ایک اجلاس میں جب بعض اراکین ضلعی قیادت سے نالاں تھے اور ان پر شدید تنقید کر رہے تھے تو حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ نے اپنے اختتامی خطاب میں فرمایا:
"کیا تم چاہتے ہو کہ حضرت شیخ الہند قبر سے اٹھ کر آئیں اور ہماری قیادت کریں؟ مفتی کفایت اللہ اور مولانا مدنی قبر سے اٹھ کے آئیں اور ہماری جماعت کا نظم سنبھالیں؟ خدا کے بندو! اللہ نے ہمیں تمہاری قسمت میں لکھ دیا ہے، لہٰذا اب اللہ کے فیصلے پر راضی ہو کر ہم پر گزارا کرو۔"
یہ جملہ محض مزاح یا لطیفہ نہیں، بلکہ ایک گہرا سبق ہے کہ قیادت بھی انسانوں پر مشتمل ہوتی ہے؛ ان میں کمزوریاں ہوں گی، اجتہادی غلطیاں بھی، اور بشری تقاضے بھی۔ لیکن اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس معاشرے کے افراد جیسے ہوں، اس کی قیادت بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتی ہے۔
لہٰذا ہمیں یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم خود ان کارکنوں جیسے ہیں جنہوں نے اکابر کی قیادت میں قربانیاں دیں، اخلاص دکھایا، اور اپنی انا کو تنظیمی مفاد پر قربان کیا؟ اگر ہم خود کردار، نظم، دیانت اور اخلاص کے اس معیار پر پورے نہیں اترتے تو صرف قیادت سے مثالی ہونے کی توقع کرنا انصاف نہیں۔
تنقید اگر خیر خواہی، ادب اور حدود کے اندر ہو تو یقیناً مفید ہے، لیکن ہر وقت قیادت کی خامیاں گنوانا اور اپنی اصلاح سے غافل رہنا نقصان دہ رویہ ہے۔ ہماری اصل ذمہ داری یہ ہے کہ ہم اپنے اعمال درست کریں، اپنی نیتوں کو خالص بنائیں، تنظیمی و دینی ذمہ داریوں میں اخلاص پیدا کریں، اور قیادت چاہے یونین کونسل، تحصیل اور ضلع کی سطح کی ہو یا صوبائی اور مرکزی قیادت، ان پر اعتماد رکھتے ہوئے خلوصِ نیت کے ساتھ ان کا اتباع کریں۔
کبھی کوئی قابلِ اصلاح غلطی نظر آئے بھی تو اسے سوشل میڈیا پر یا عام مجالس میں اچھالنے کی بجائے اس کے لیے اصلاح کی دعا کریں، اور اگر ناگزیر ہو تو موزوں مقام اور متعلقہ فورم پر مناسب انداز اور دردمندی سے اس کا اظہار کیا جائے۔
یہ بات ہمیں ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ افراد اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ قیادت کو بھی بہتر فیصلوں، استقامت اور حکمت سے نواز دیتا ہے۔ اس لیے قیادت کے لیے بدگمانی، طعن اور شکوہ کے بجائے دعا، خیر خواہی اور رابطہ زیادہ مفید راستہ ہے۔
آئیے! ہم دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، کیونکہ معاشروں کی تعمیر محض نعروں سے نہیں، بلکہ افراد کے کردار سے ہوتی ہے۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔


09/05/2026

آزادکشمیرالیکشن: انتخابی اتحاد اور
جمعیت علماء اسلام پاکستان کا موقف
تحریر: محمدزاھدشاہ،مدیرالجمعیۃ

آزاد کشمیر کی سیاست میں ناموں کی مماثلت کے باعث ایک ایسی غلط فہمی جنم لے رہی ہے جس کی بنیاد پر جمعیت علماء اسلام پاکستان اور اس کی قیادت کو بلاوجہ تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضروری ہے کہ حقائق کو واضح رکھا جائے تاکہ اس ابہام کا خاتمہ ہو۔

گزشتہ دنوں آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام، جس کے سربراہ پیر سید مظہر شاہ (مفتی عبداللہ شاہ مظہر)سابق وزیرِ اطلاعات آزاد کشمیر ہیں، نے آزاد کشمیر کی سطح پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ انتخابی اتحاد کیا۔ اس فیصلے کے بعد بعض حلقوں نے اسے براہِ راست جمعیت علماء اسلام پاکستان کی پالیسی سے جوڑتے ہوئےجمعیت اور قائدجمعیت پر تنقید شروع کر دی اور پاکستان اور کشمیر کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام کی پالیسی میں تضاد کا تاثر دیا جانے لگا جوکہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔

آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام اور جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر دو الگ تنظیمیں ہیں،جن کی قیادت، سیاسی وابستگیاں اور انتخابی حکمتِ عملیاں بھی جداگانہ ہیں۔
جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کے سربراہ مولانا سعید یوسف صاحب ہیں،ان کی جماعت کا مستقل دستور ہے جس کی رو سے جماعتی نظم اور پالیسیوں کے حوالے سے وہ جمعیت علماء اسلام پاکستان کے تابع نہیں بلکہ خود مختار ہے۔ تاہم نظریاتی وفکری حوالے سے مکمل موافقت کے ناطے جےیوآئ پاکستان کی سیاسی، ملی اور قومی پالیسیوں سے مکمل ہم آہنگی رکھتی ہے اور امیر جمعیت مولاناسعید یوسف صاحب جمعیت علماء اسلام پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن بھی ہیں۔جبکہ تازہ ترین سیاسی پیش رفت کےمطابق مولانا سعیدیوسف کےزیرِ قیادت جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر نےانتخابات پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے ساتھ انتخابی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔

دونوں جماعتوں کے۔نام اور پالیسیوں کے فرق کے حوالے سے یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ:
جمعیت علماء اسلام جموں و کشمیر کےسربراہ مولانا سعید یوسف ہیں جوکہ سیاسی موقف اور نظریاتی حوالے سے مولانا فضل الرحمن کے زیر قیادت جمعیت علماء اسلام پاکستان سے اپناتعلق جوڑتے ہیں،دوسری طرف آل جموں و کشمیر جمعیت علماء اسلام کے سربراہ پیر سید مظہر شاہ الگ سیاسی تشخص رکھتے ہیں اور اسی تناظر میں سیاسی فیصلے کرتے ہیں۔

الغرض دونوں جماعتوں کے ناموں میں مشابہت ضرور ہے، مگر محض نام کی مماثلت کی بنیاد پر ان کی پالیسیوں اور فیصلوں کو خلط ملط کرنا اور اس حوالے سے کسی فیصلے کی بنیاد قائد جمعیت پرکیچڑاچھالنا دیانت کےتقاضوں کے خلاف ہے۔اس لیے گزارش ہے کہ کسی غیر متعلقہ یا متوازی تنظیم کے سیاسی فیصلوں کو جمعیت علماء اسلام پاکستان کے کھاتے میں ڈالنا حقائق سے صرفِ نظر اورسراسر ناانصافی ہے۔لہذااس بنیادی فرق کو پیشِ نظر رکھیں تاکہ بے جا تنقید سے اجتناب ممکن ہو۔

اکابرکی فکری صداقتوں کے امین مولاناسیدمحمود مدنی مدظلہ العالیتحریر: محمدزاھدشاہ مدیرالجمعیۃدسمبر2013ء:قائدجمعیۃدامت برکا...
07/05/2026

اکابرکی فکری صداقتوں کے امین مولاناسیدمحمود مدنی مدظلہ العالی
تحریر: محمدزاھدشاہ مدیرالجمعیۃ

دسمبر2013ء:قائدجمعیۃدامت برکاتہم کی سربراہی میں وفد کے ہمراہ حضرت شیخ الہند کی یاد میں صدسالہ تقریبات (دیوبند و دہلی)میں شرکت کا موقع میسر آیا، اس سفر کے دوران حفیدِ شیخ الاسلام، مولانا سید محمود مدنی مدظلہ کی شخصیت کو قریب سے دیکھنے اور ان کی پُرمغز گفتگو سننے کا موقع ملا۔ جہاں جہاں ان کی گفتگو سنی، ہر خطاب اپنے اندر ایک نئی تازگی، فکری گہرائی اور غیر معمولی تاثیر لیے ہوئے تھا۔ ان کی ہر تقریر گزشتہ خطاب سے بڑھ کر مؤثر اور دل نشین محسوس ہوتی تھی۔ گفتگو کا انداز نہایت شستہ اور موقع و محل کے عین مطابق ہوتا تھا۔ خاص طور پر یہ چیز بہت متاثر کن لگی کہ وہ اپنی تقاریر میں مسلسل اکابر کے اقوال، ان کے تاریخی کارناموں، علمی خدمات اور جدوجہد پر مبنی واقعات کا حوالہ دیتے رہتے تھے۔
اسی تسلسل میں ایک موقع پر اپنے خطاب کے دوران انہوں نے شیخ الہند مولانا محمود حسن کے حوالے سے یہ حکمت آموز قول نقل فرمایا کہ: "خوف کھانے کے قابل اگر کوئی چیز ہے تو خدا کا غضب اور قاہرانہ انتقام ہے اور دنیا کی متاعِ قلیل خدا تعالیٰ کی رحمتوں اور اس کے انعامات کے مقابلے میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی۔"
حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے اس مختصر مگر جامع قول میں ایک پورا فلسفہ آباد ہے کہ ایک مومن کے لیے اصل خوف دنیا کے حالات، مخالفین کی قوت، وقتی نقصانات یا سیاسی ناکامیوں کا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ فکر ہے جو انسان کو غیر اللہ کے خوف سے آزاد کرتی اور کردار میں جرأت، استقامت اور بے باکی پیدا کرتی ہے۔ یہ صرف روحانی تربیت کا درس نہیں بلکہ دینی سیاست کا بھی نچوڑ ہے۔ اس میں یہ پیغام پوشیدہ ہے کہ اگر سیاست کو دین کے ساتھ وابستہ کرنا ہے تو پھر دین کو اصل اور سیاست کو تابع رکھنا ہوگا،اکابرِ دیوبند اور جمعیت کے بزرگوں کی پوری تاریخ اسی فکر کی آئینہ دار ہے۔ یہ وہ فکر ہے جس نے غلامی کے دور میں قید و بند کو حقیر بنا دیا، سامراجی قوتوں کے سامنے اہلِ حق کو جرأت دی، اوردین کی خاطرہرقربانی کو آسان کردیا۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو مولانا سید محمود مدنی کی شخصیت میں جو ایک خاص کشش، وقار اور اعتماد محسوس ہوتا ہے، اس کی وجہ محض خاندانی نسبت نہیں بلکہ ان کی دیانت، خدا خوفی، مشن سے مضبوط وابستگی، فعالیت، استقامت اور فکری پختگی ہے۔ ان کے اندر روایت اور عصری شعور کا ایک خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

مولانا سید محمود مدنی کے ساتھ مختصر قربت نے یہ احساس مزید گہرا کیا کہ وہ محض ایک تنظیمی سربراہ نہیں بلکہ اکابر کے فکری تسلسل، علمی وراثت اور ملی شعور کے نمائندہ ہیں۔ ہندوستان کا مسلم نوجوان طبقہ وارفتگی کے ساتھ ان کی غیر معمولی شخصیت سے متاثر نظر آتا ہے۔ ان کے اندر روایت اور عصری شعور کا ایک خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔

یوں تو مولانا سید محمود مدنی کی صفات و کمالات پر بہت کچھ کہا اور لکھا جا سکتا ہے، لیکن ان کی ولادت کے موقع پر ان کی بڑی پھوپھی صاحبہ نے جو اشعار کہے، وہ گویا ایک دعا بھی تھے اور ایک پیش گوئی بھی:
میرا محمود، محمود الحسن ہو
امامِ وقت ہو، شیخِ زمن ہو۔۔۔۔
وہ دن آئے جب اس کے دم سے زندہ
حسین احمد کا روحانی مشن ہو
وقت نے ثابت کیا کہ یہ اشعار محض جذباتی اظہار نہ تھے بلکہ ایک حقیقت کی تمہید تھے۔ آج اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ مولانا سید محمود مدنی نے اپنے جدِ امجد شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ کے مشن کو نہ صرف زندہ رکھا بلکہ اسے ایک نئی توانائی اور معاصر زبان بھی عطا کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔
زیرنظرتصویر13دسمبر2013 بعدنمازجمعہ کی ہے،اس میں قائدخیبرمولاناعطاء الرحمن اور مولاناامداداللہ یوسفزئ بھی نمایاں ہیں ظہرانے کے موقع پر مولاناعطاء الرحمن نے الجمعیۃ کےحوالےسےمولاناسیدمحمود مدنی سے بندہ کا تعارف کرایااور بندہ الجمعیۃ کاتازہ شمارہ ان کی خدمت میں پیش کیا۔

۔
۔
۔
۔
۔
۔









۔
۔
۔
۔
۔
۔

محمد ادریس اپل سے وابستہ یادیں: آخری یادگار ملاقات کا دلچسپ احولتحریر: محمد زاہد شاہ،مدیرالجمعیۃآج 3 مئی ہے۔ کیلنڈر کے ا...
03/05/2026

محمد ادریس اپل سے وابستہ یادیں:
آخری یادگار ملاقات کا دلچسپ احول
تحریر: محمد زاہد شاہ،مدیرالجمعیۃ

آج 3 مئی ہے۔ کیلنڈر کے اوراق پر ثبت یہ تاریخ ہر سال خاموشی سے گزر جاتی ہے، مگر میرے لیے یہ دن محض ایک تاریخ نہیں بلکہ یادوں کا ایک ایسا دریچہ ہے جو کھلتے ہی ایک پورا عہد آنکھوں کے سامنے لے آتا ہے۔ آج سے ٹھیک پانچ برس قبل، 3 مئی 2021ء کو رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں ہمارے بزرگ، فکری و نظریاتی رہنما اور سابق مدیر الجمعیۃ محمد ادریس اپل صاحب اس جہانِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے رب کے حضور پہنچ گئے۔ وقت گزرتا رہا، مگر ان کی جدائی کا احساس وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑا بلکہ یادوں کے افق پر مزید نمایاں ہوتا گیا۔
محمد ادریس اپل مرحوم دراصل جمعیت طلبہ اسلام اور جمعیت علماء اسلام کی اس فکری روایت کے امین تھے جس کی بنیاد اخلاص، نظریاتی استقامت اور اکابر سے قلبی وابستگی پر قائم ہے۔ ان کا جمعیت طلبہ اسلام سے تعلق 1974ء میں قائم ہوا اور پھر یہ نسبت پوری زندگی برقرار رہی۔ضلع لاہور کےجنرل سیکرٹری، پنجاب تنظیمی کمیٹی کے سیکرٹری اور مرکزی ناظمِ اطلاعات سمیت مختلف ذمہ داریوں پر انہوں نے خدمات انجام دیں، مگر ان کی اصل شناخت عہدوں سےزیادہ ان کی فکری وابستگی اور نظریاتی پختگی تھی۔
ادریس اپل صاحب کو للہ تعالیٰ نے تحریر کی غیر معمولی صلاحیت سے نوازا تھا۔ ان کے اسلوب میں استدلال، ادبی چاشنی، تاریخی شعور اور قلبی اخلاص کا ایسا امتزاج تھا جو قاری کو محض معلومات ہی نہیں بلکہ ایک فکر بھی منتقل کرتا تھا۔جماعتی اتار چڑھاؤ، فکری بحران اور تنظیمی مسائل پر ان کا تجزیہ ہمیشہ متوازن، مدلل اور بصیرت افروز ہوتا تھا۔

بندہ کیساتھ ان کاتعلق محض رسمی یا جماعتی نہ تھا بلکہ ایک مشفق استاد، خیر خواہ مربی اور فکری رہنما کا تھا۔ ان سے ملاقات ہمیشہ فکری رہنمائی، جماعتی تاریخ کے نئے گوشوں اور نظریاتی استحکام کا ذریعہ بنتی۔ جماعتی امور، اکابر کی روایات، تاریخِ جمعیت اور فکری مسائل پران کیساتھ نشستیں میرے لیے سرمایہ تھیں۔ عموماً ڈیڑھ دو ماہ کے وقفے سےلاہور میں ابوبکر شیخ مرحوم اور ان سے ملاقات کا موقع نکل آتا اور ہر ملاقات اپنے اندر کئی نئے دریچے وا کرجاتی۔وہ جمعیت طلباء اسلام کے سابقین کے ساتھ بھی نہایت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ ان کا انداز ایسا تھا کہ نئی نسل بھی ان کے قریب ہو کر اجنبیت محسوس نہیں کرتی تھی۔
ان سے آخری ملاقات آج بھی حافظے پر نقش ہے۔ جب برادر بزرگوارحافظ محمد ابوبکر شیخ مرحوم کے جنازے سے فراغت کے بعد برادرم حافظ غضنفر عزیز کے ہاں افطاری اور کچھ دیر آرام کیا۔ شدت سے اشتیاق تھا کہ ادریس صاحب کی زیارت بھی کر لی جائے۔ اپنے ہم سفر اقبال اعوان کے سامنے اس خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے بھی ہامی بھر لی، اور کچھ دیر بعد ہم ان کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ جسمانی ضعف کے باوجود ذہنی تازگی، فکری بیداری اور محبت کی وہی حرارت برقرار تھی جو ہمیشہ ان کا خاصہ رہی۔
اس ملاقات میں مرحوم محمد ابوبکر شیخ کی خدمات اور جماعتی کردار پر گفتگو ہوئی۔اس دوران ادریس صاحب نے غیر متوقع طور پر ایک بزرگ کا واقعہ سنایا جنہوں نے اپنی وفات سے قبل حاضرین سے فرمایا تھا:
"میں جمعیت علماء اسلام کو اکابر کی امانت اور اس کی خدمت کو آخرت میں نجات کا ذریعہ سمجھتا ہوں، اور تم لوگ گواہ رہنا کہ میں اسی جماعت کے ساتھ ہوں۔"
اس کے بعد ادریس صاحب نے نہایت اطمینان اور اعتماد کے ساتھ جمعیت علماء اسلام کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کا اظہار کیا اور ہم تینوں (مجھے، اقبال اعوان اور قیصر فاروق) کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
"میرے نزدیک جمعیت علماء اسلام علماءِ حق کی جماعت اور ایک برحق دینی و نظریاتی قافلہ ہے۔ اس کے ساتھ وابستگی کو میں باعثِ افتخار، سرمایۂ حیات اور ذریعۂ نجات سمجھتا ہوں، اور تم لوگ گواہ رہنا کہ میں بھی اسی جماعت کے ساتھ ہوں۔"
یہ وہ آخری کلمات تھے جو انہوں نے زندگی کے آخری لمحات میں جماعت سے قلبی وابستگی کے اظہار کے طور پر ارشاد فرمائے۔ اس کے بعد جماعتی احباب میں سے کسی کی ان سے ملاقات نہ ہو سکی۔ آخری ملاقات کی یہ سعادت ہمیں حاصل رہی، اور اگلے ہی دن آپ رحلت فرما گئے۔
شاید حسنِ خاتمہ کی ایک خوبصورت صورت یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے آخری ایام میں بھی اسی دینی فکر، اسی جماعت اور اسی نظریے کے ساتھ وابستگی کا اظہار کرے جسے اس نے عمر بھر اپنا سرمایہ سمجھا ہو۔
اسی نشست میں انہوں نے مجھ سے خصوصی محبت اور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
"آپ جماعت کا ایک اہم مورچہ سنبھالے ہوئے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوا، میں آپ کے ساتھ تعاون کرتا رہوں گا۔"
ان کے اخلاص و استقامت کا نتیجہ تھا کہ انہوں نے اپنی آخری ملاقاتوں میں بھی جمعیت سے محبت، اس کے نظریات اور اس کے کارکنوں سے قلبی تعلق کا اظہار کیا اور پھر اسی کیفیت میں اپنے رب سے جا ملے۔ ان کے سینے میں جماعت کی ایک پوری تاریخ محفوظ تھی، اور وہ اس تاریخ کے صرف راوی نہیں بلکہ اس کے زندہ کردار تھے۔ ہمارے لیے تو ان کی شخصیت ایک فکری پناہ گاہ کی حیثیت رکھتی تھی۔ جب حالات گرد آلود ہوتے، معاملات الجھتے یا فکری ابہام پیدا ہوتا تو ان سے ایک نشست کئی سوالات کا جواب دے دیتی۔
دعا ہے کہ اللہ کریم انہیں غریقِ رحمت فرمائے، ان کی خدماتِ جلیلہ کو شرفِ قبولیت بخشے اور ان کے صاحبزادگان کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
۔
۔
۔
۔







زمیں کھاگئ آسماں،کیسےکیسے۔۔(محمدابوبکرشیخ سےوابستہ یادیں)تحریر:محمد زاھدشاہ،مدیرالجمعیۃدو مئی کا دن میرے لیے محض کیلنڈر ...
02/05/2026

زمیں کھاگئ آسماں،کیسےکیسے۔۔
(محمدابوبکرشیخ سےوابستہ یادیں)
تحریر:محمد زاھدشاہ،مدیرالجمعیۃ

دو مئی کا دن میرے لیے محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں بلکہ یادوں، حسرتوں اور ایک گہرے خلا کا استعارہ ہے۔ آج سے پانچ برس قبل رمضان المبارک کے بابرکت ایام میں ہم ایک ایسے رفیقِ سفر سے محروم ہوئے، جو میرے لیے صرف ایک جماعتی ساتھی یا ادارتی معاون نہ تھے بلکہ ایک مشفق بھائی، فکری مربی اور مزاج شناس بزرگ کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے ساتھ تعلق رسمی یا وقتی نہ تھا بلکہ برسوں کی رفاقت، نظریاتی ہم آہنگی اور قلبی اعتماد پر قائم ایک ایسا رشتہ تھا جس کی خلش آج بھی محسوس ہوتی ہے۔

حافظ محمد ابوبکر شیخ مرحوم اپنی پوری شخصیت میں ایک روایت کے امین تھے، ایسی روایت جس کی جڑیں آزادی سے قبل کے اس دور میں پیوست تھیں جب ان کا خاندان جمعیۃ علماء ہند کے ساتھ وابستہ تھا۔ شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کی فکر اور تربیت نے اس خانوادے کے مزاج میں دینی حمیت ، ملی شعور اور اجتماعی فکر کو راسخ کردیا تھا۔

تقسیم ہندکے بعد ان کا خاندان ہوشیارپور سے لاہور منتقل ہوااور بانساں والا بازار میں سکونت اختیار کی تو ان کے والد محترم حاجی محمود احمد کی بدولت یہ گھر اہلِ علم، اکابر اور دینی شخصیات کا مرکز بن گیا۔ یوں شیخ صاحب نے آنکھ ایک ایسے ماحول میں کھولی جہاں گفتگو کا موضوع بازار نہیں بلکہ ملت، تحریک، اکابر اور قوم کا مستقبل ہوا کرتا تھا۔یہی پس منظر تھا جس نے انہیں محض ایک کارکن نہیں بلکہ ایک صاحبِ شعور جمعیتی فرد بنایا۔ ان کے والد محترم قائد مولانا فضل الرحمن دامت برکاتہم کے ابتدائ دور میں بطور ناظم مالیات مرکزی مجلس عاملہ کے رکن تھے، اس لیے جمعیتی ماحول اور تحریکی آداب حافظ ابوبکر شیخ مرحوم کے خمیر میں شامل تھے۔

ابوبکر شیخ مرحوم نے گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا، مگر ان کی اصل تربیت تعلیمی درسگاہوں سے زیادہ تحریک کے قافلوں میں ہوئی۔ دورانِ طالب علمی وہ جمعیۃ طلباء اسلام میں مرکزی سطح پر متحرک رہے اور قاضی فضل اللہ ایڈووکیٹ کے دورِ صدارت میں مرکزی جوائنٹ سیکرٹری کے منصب پر فائز رہے۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں جب بہت سے لوگ مصلحتوں کے حصار میں چلے گئے، شیخ صاحب ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے ثابت قدمی کے ساتھ جمعیت کے قافلے کا ساتھ نبھایا۔

1986ء میں جب ہفت روزہ نقیب ملت جمعیت علماء اسلام کاتنظیمی آرگن تھا،پرنٹ میڈیا کا دور تھا،قومی پریس کاڈس انفارمیشن سیل جمعیت کےخلاف مستقل سرگرم عمل رہتاتھا تب ضرورت تھی ایک ایسی اشاعتی ادارے کی جو مخالفین کوانہی کےلہجے میں مسکت جواب دے۔ جمعیت کےفکری ونظریاتی پاسبان محمدادریس اعوان نے بے سروسامانی کے عالم میں اس کابیڑہ اٹھایا ،انہوں المحمود اکیڈمی کے زیراہتمام ہفت روزہ ابابیل کی اشاعت کا آغاز کیا تو اس کے پہلے مدیر محمد ابوبکر شیخ تھے۔شیخ صاحب بڑے لطف سے بتایا کرتے تھے کہ اخبار کی اشاعت کے بعد خود 7 مارچ 1986 کوجناح پارک پشاورجاکر آئین شریعت کانفرنس تقسیم کرتا رہا۔ تب ایک روپے قیمت والا اخبار ان کے لیے صرف کاغذ کے چند صفحات نہیں بلکہ ایک فکری محاذ تھا۔
میرا ابوبکرشیخ صاحب سے تعلق بھی صحافتی ضرورت کے تحت قائم ہوا، مگر جلد ہی ایک قلبی وابستگی میں ڈھل گیا۔ 2003ء میں مرحوم محمد ادریس اپل صاحب کی وساطت سے ان سے پہلی ملاقات ہوئی۔غالبا جنوری کا مہینہ تھا،میں الجمعیۃ کےحوالے سے معمول کی میٹنگ کیلئے ادریس صاحب کے ہاں لاہور حاضر ہواتھا، دوران گفتگو ابوبکر شیخ کاتذکرہ ہوا تو میں نےعرض کیاان سےملاقات کی بڑی خواہش ہے اس کی کیاصورت ممکن ہے؟ ادریس صاحب اپنے صاحبزادے حافظ یاسر کو میرے ہمراہ بھیجا ،ان کے ساتھ بائیک پہ گلشن راوی گیا جہاں مون مارکیٹ میں فوربردرز جنرل سٹور کے نام سے ان کی دکان تھی،وہیں دکان پرشیخ صاحب کیساتھ پہلی نشست ہوئی۔ اور پہلی ہی ملاقات میں ان کی شگفتگی، اخلاص، فکری گیرائی اور غیر مصنوعی اپنائیت نے ایسا اسیر کیا کہ تعلق کی بنیاد اسی دن پڑگئی۔

اس پہلی ملاقات کا ایک منظر آج بھی ذہن میں تازہ ہے۔ الجمعیۃ کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا کافی فکر مندی ظاہر کی اور مستقل لکھنے کے وعدے کے ساتھ جب رخصت کرنے لگے تو اصرار کے ساتھ پانچ سو روپے میری جیب میں ڈالے اور فرمایا:" یہ میری طرف سے قبول کریں، آپ کی خاطر داری نہ کرسکا۔"یہ بظاہر ایک معمولی واقعہ تھا، مگر ان کی شفقت، محبت اور وضع داری کی بھرپور نمائندگی کرتا تھا۔

بعد ازاں جب الجمعیۃ کے ساتھ مستقلا وابستہ ہوگئےتواگرچہ ادارتی نگرانی میرے ذمے تھی مگر عملی طور پر شیخ صاحب ادارے کے روحِ رواں تھے۔انہیں بطور ڈپٹی ایڈیٹر ادارے سے وابستہ کرنا دراصل میری ضرورت تھی، لیکن اس ذمہ داری کو انہوں نے جس سنجیدگی سے نبھایا وہ ان کے اخلاص کی دلیل تھا۔ دن میں جنرل سٹور کی مصروفیات، بعد ازاں تعمیراتی شعبے کی نگرانی، اور ان سب کے ساتھ الجمعیۃ کے لیے مسلسل مواد کی تیاری،یہ سب ان کے معمولات کا حصہ تھا۔کنسٹرکشن کے شعبے کے ساتھ وابستگی کےبعد معمول یہ رہا کہ مزدور تعمیراتی کام میں مصروف ہوتے اور شیخ صاحب قلم و کاغذ کے ساتھ کسی مضمون یا اداریے پر کام کررہے ہوتے۔
ان کی تحریر محض معلومات کا مجموعہ نہیں بلکہ فکری پختگی، تاریخی شعور اور ادبی حسن کا امتزاج ہوتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین بعد میں متعدد کتابوں کی صورت میں سامنے آئے، جن میں "لیڈرشپ اور دنیا کے بدلتے نقشے"، شیخ الہند مولانا محمود حسن، "اعتدال پسند قیادت"،" قومی سیاست اور جمعیت علماء اسلام" اور لیبیا کا مردِ آہن معمر قذافی نمایاں ہیں۔
ان کی اصل قوت ان کا نظریاتی استحکام تھا۔ وہ جمعیت علماء اسلام سے صرف وابستہ نہ تھے بلکہ عملاً اس فکر کے ترجمان تھے۔ قومی، بین الاقوامی اور سماجی مسائل کا تجزیہ وہ جمعیت کے فکری اصولوں کی روشنی میں کرتے اور سمجھتے تھے کہ ملت کے اجتماعی مسائل کا دیرپا حل اسی فکر میں پوشیدہ ہے۔
شیخ صاحب انفرادیت کے قائل نہیں تھے۔ اجتماعیت ان کی فکری اساس تھی۔ جماعتی کارکنوں میں اگر انفرادی مزاج یا نظم سے انحراف دیکھتے تو نہایت محبت مگر واضح انداز میں اصلاح فرماتے۔ کارکنوں کی فکری تربیت ان کا محبوب موضوع تھا۔

وہ بدلتے زمانے کے تقاضوں کو سمجھتے تھے اور نوجوان نسل کے لیے نئے بیانیے اور حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔ مطالعہ ان کا اوڑھنا بچھونا تھا۔کسی موضوع پر گفتگو کرتےتو اس کی جزئیات تک ان کی نظر ہوتی۔

ان کے تحمل کا عالم یہ تھا کہ میں کبھی اپنی سخت مزاجی پر معذرت کرتے ہوئے پوچھتا: "شیخ صاحب!آپ ہماری سختی کیسے برداشت کرلیتے ہیں؟" تو مسکرا کر کہتے: "ہماری تربیت ہی ایسی ہوئی ہے، یہ چیزیں اثر نہیں کرتیں۔" ان کا یہ جواب بظاہر سادہ مگر درحقیقت ایک پوری تربیتی دنیا کا آئینہ دار تھا۔

رمضان المبارک میں ایک عزیز کے ہاں افطاری کے لیے بائیک پرجاتے ہوئے حادثہ پیش آیا۔ سر پر شدید چوٹ آئی، ہسپتال منتقل کیے گئے تین دن وینٹی لیٹر پررہے،مگر جانبر نہ ہوسکے اور 19رمضان المبارک مطابق 2مئ 2021 ء بوت سحر داعیِ اجل کو لبیک کہا۔

وفات کی خبر ملتے ہی صوبائ ترجمان جےیوآئ برادرم اقبال اعوان سے رابطہ ہوا،انہوں نے فوری تیاری کاکہا اوریوں عزیزم قیصر فاروق اور اقبال اعوان کی معیت میں رخت سفر باندھ لیا ،لاہور پہنچے، توجنازے کاوقت قریب تھا،نمازِ جنازہ جامعہ مدنیہ کریم پارک کے مہتمم حضرت مولانا سید رشید میاں دامت برکاتہم نے پڑھائی اور میانی صاحب قبرستان میں اپنے اکابر کی آغوش میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا۔

محمد ابوبکر شیخ مرحوم دراصل ایک متحرک ادارہ تھے؛ ایک ایسا شخص جو فرد کم اور روایت زیادہ تھا۔ ان کی ذات میں تحریکی شعور، علمی ذوق، نظریاتی استقامت، تنظیمی وفاداری، اخلاقی وقار اور انسانی محبت یکجا ہوگئے تھے۔آج پانچ برس بعد بھی یہ احساس باقی ہے کہ ہم ان کے علم، تجربے، اخلاص اور اخلاق سے کماحقہ استفادہ نہ کرسکے۔ ان کی رفاقت ایک نعمت تھی،جس کی قدر کا احساس ان کے بعد اور زیادہ شدت سے ہوا۔

اللہ تعالیٰ محمد ابوبکر شیخ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے صاحبزادے برخوردارم احمدمحمود شیخ کوان کے فکری و تحریکی مشن کو جاری رکھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

۔۔
۔
۔
۔
۔








جانشینِ شیخ القرآن کی وفات پر تعزیت کیلئےقائدِ جمعیت مدظلہم کی تشریف آوری   تحریر: محمد زاھد شاہجانشینِ شیخ القرآن حضرت ...
29/04/2026

جانشینِ شیخ القرآن کی وفات پر تعزیت
کیلئےقائدِ جمعیت مدظلہم کی تشریف آوری
تحریر: محمد زاھد شاہ

جانشینِ شیخ القرآن حضرت مولانا اشرف علی صاحب، جن کے اسمِ گرامی کے ساتھ ہمیشہ مدظلہ العالی لکھنے کا معمول رہا، آج اپنے رب کے سایۂ رحمت میں وہاں جا بسے، جہاں کی بہاریں دائمی اور برکتیں لازوال ہیں۔
آج ہمارے محبوب و مخدوم قائدِ جمعیت دامت برکاتہم ان کی تعزیت کے لیے دارالعلوم تشریف لائے اور حضرت کے پسماندگان اور دارالعلوم کے اساتذہ سے اظہارِ تعزیت فرمایا، نمازِ عشاء کی امامت کروائی، اور نماز کے بعد طلبہ و اساتذہ سے تعزیتی کلمات ارشاد فرمائے۔ قائدِ محترم نے اپنے خطاب میں دارالعلوم تعلیم القرآن، اس کے بانی نور اللہ مرقدہ، اور ان کے جانشین حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کے ساتھ اپنی قلبی وابستگی کا جس انداز سے اظہار فرمایا، اس نے دلوں کو اک ولولۂ تازہ عطا کیا۔
دلی خواہش تھی کہ محبوب مدیرالجامعہ کی رحلت پر پہلی فرصت میں کچھ کلماتِ عقیدت پیش کیے جائیں، مگر گزشتہ چند روز شدید علالت اور بخار کی نذر ہو گئے۔ جنازے میں شرکت کے لیے طبیعت نے کچھ ساتھ دیا، لیکن بعد ازاں نقاہت نے پھر آ گھیرا اور یوں قلم اٹھانے کی ہمت نہ ہو سکی۔ بعد ازاں تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری رہا، مگر طبیعت کی ناسازی کےباعث وہاں زیادہ دیر بیٹھنا ممکن نہ ہو سکا۔ اگلے دن مولانا سید زکریا شاہ کے صاحبزادے کی تعزیت کے سلسلے میں فیصل آباد جانا پڑا۔ کل بھی طبیعت کافی ناساز رہی۔

آج قائدِ جمعیت کی تشریف آوری پر یہ چند سطور لکھنے بیٹھا ہوں تو ذہن میں یادوں، واقعات اور تاثرات کا ایک ہجوم امڈ آیا ہے، جسے اس مختصر تحریر میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ البتہ ایک حقیقت ایسی ہے جس کے اعتراف کے بغیر چارہ نہیں، کہ حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ خلوص کا پیکر، شفقت و شرافت کا نمونہ، اور اعتدال و رواداری کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔
جنازے کے موقع پر لیاقت باغ کےاجتماع میں، اوربعد ازاں تعزیت کے لیے آنے والے حضرات میں سے ہر ایک کی زبان پر ان کی شفقت و شرافت، تقویٰ و اخلاص، اعتدال و رواداری کا تذکرہ رہا۔ ایسے ایسےواقعات سننے میں آئے کہ بےاختیار یہ احساس شدت سے دامن گیر ہوا کہ:
خاک میں ڈھونڈتے ہیں سونا، لوگ
ہم نے سونا سپردِ خاک کیا۔۔۔۔۔۔۔۔

راقم کو تقریباً تیس برس تک ان کے زیرِ اہتمام افتاء و تدریس کی سعادت حاصل رہی۔ استاذِ گرامی حضرت مفتی نظام الدین شامزی شہید رحمہ اللہ کی ہدایت پر فروری 1996ء میں دارالعلوم سے وابستگی کے آغاز سے لے کر آج تک کبھی ایسا لمحہ یادنہیں آتا کہ مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ نے منصبِ اہتمام کو اپنے مشفقانہ طرزِ عمل پر غالب آنے دیا ہو۔ بلکہ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا کوئی شخص ان کی عاجزی، انکساری اور اخلاقِ حسنہ سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔عمر اور منصب کے فرق کے باوجود اساتذہ کے استقبال کے لیے کھڑے ہو جانا، ہر ایک کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا، خندہ پیشانی سے ملنا اور محبت بھرے انداز میں گفتگو کرنا، یہ سب کوئی تکلف نہ تھا بلکہ ان کی طبیعتِ ثانیہ بن چکا تھا۔

اساتذہ کے ساتھ ان کا تعلق محض انتظامی نہ تھا بلکہ خاندانی نوعیت کا تھا۔ چنانچہ ضعف اور علالت کے باوجود دور دراز علاقوں میں اساتذہ کےاقرباء کے انتقال پرجنازے میں شرکت اور تعزیت کے لیے جانا ان کا معمول تھا۔راقم کے ذاتی تجربے میں کئی مواقع ایسے آئے جب انہوں نے میرے عزیزوں کے انتقال پر بنفسِ نفیس شرکت فرمائی۔2008ء میں میری جب ہمشیرہ کے انتقال پر مجھے پہنچنے میں تاخیر ہوئی، گاؤں کے قریب پہنچا تو سامنے حضرت مولانا اشرف علی صاحب کی گاڑی واپس آتی دکھائی دی؛ آپ ہم سے پہلے پہنچ کر جنازہ ادا کرکے لوٹ رہے تھے۔ یہ منظر ان کے خلوص اور تعلقِ خاطر کی ایک ایسی زندہ تصویر ہے جو ہمیشہ حافظے میں تازہ رہے گی۔

آپ نے اپنے والد، شیخ القرآن حضرت مولانا غلام اللہ خان رحمہ اللہ کی علمی میراث کو جس طرح توازن کے ساتھ آگے بڑھایا، اس کی ایک دنیا معترف ہے۔ توحید و سنت پر استقامت اورشرک وبدعت کے ردمیں جرأت آپ کی نمایاں صفات تھیں۔ بعض مسائل میں اختلاف کے باوجود نہ کبھی غلو کا راستہ اختیار کیا اور نہ فتویٰ بازی کو ہوا دی؛ بلکہ ہمیشہ اعتدال اور وسعتِ قلبی کو ترجیح دی۔ یوں آپ کی رحلت محض ایک فرد کابچھڑ جانا نہیں، بلکہ اخلاص، خدمت، اعتدال اور شفقت سے معمور ایک روشن عہد کا اختتام ہے۔

اہتمام سے قبل آپ کاروباری مصروفیات کے باعث دارالعلوم کے انتظامی معاملات میں نسبتاً کم شریک ہوتے تھے، لیکن اہتمام کی ذمہ داری سنبھالتے ہی اپنی تمام تر توجہ دارالعلوم کے لیے وقف کر دی۔ حتیٰ کہ آخری ایامِ علالت میں جب وینٹی لیٹر پر تھے، کبھی ہوش میں آتے تو مدرسے کے معاملات ضرور دریافت فرماتے۔ دارالعلوم کے ساتھ یہ قلبی وابستگی ان کے اخلاص کی روشن دلیل ہے۔

آپ نے اپنے دورِ اہتمام میں دارالعلوم ت کو ایک ایسے مرکز کی حیثیت سے برقرار رکھا جہاں دیوبند مکتبِ فکر کے علماء باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ جمع رہیں۔ ان کا اصول تھا کہ بعض مسائل میں اکابر کا علمی اختلاف ادارے کے ماحول پر اثر انداز نہ ہونے دیاجائے، چنانچہ آپ اجلاسوں میں اساتذہ کو مسلسل اسی کی تلقین کرتے رہتے تھے۔

آپ کی زندگی صبر و استقامت کی روشن مثال تھی۔ 2013ء کے المناک سانحۂ تعلیم القرآن اور بعد ازاں اپنے جگر گوشے مفتی امان اللہ کی شہادت جیسے کٹھن مراحل میں بھی انہوں نے جس حوصلے اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ ان کی ایمانی قوت کا درخشاں مظہر ہے۔

آپ ہمیشہ اتحاد و وحدت کے داعی رہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دارالعلوم کی ایک تقریب کیلئےتیارکردہ پینافلیکس پریہ عبارت درج تھی:
"اتحاد ہزار خامیوں کے باوجود، اس اختلاف سے بہتر ہے جس میں ہزار خوبیاں ہوں"
آپ کو یہ عبارت اس قدر پسند آئی کہ سالہا سال تک ہر تقریب میں اس پینا فلیکس کو نمایاں طور پر آویزاں کرنے کی تاکید فرماتے۔

اپنے والدِ گرامی رحمہ اللہ کی پیروی میں آپ نے دارالعلوم تعلیم القرآن کو ایک ایسے مشترکہ پلیٹ فارم کے طور پر قائم رکھا جہاں مختلف دینی جماعتوں کے قائدین آپ کی دعوت پر تشریف لاتے رہے۔چند سال قبل وفاق المدارس کے متوازی مدارس کے نئے بورڈز کی تشکیل کے موقع پر بھی آپ نے اپنے اکابر کے طریق کو اختیار کرتے ہوئےوفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ وابستگی برقرار رکھی۔

بندۂ ناچیز نے آپ کی ہدایت پر حضرت قائدِ جمعیت دامت برکاتہم سے ایک ملاقات کا اہتمام کیا، جس میں جمعیۃ اشاعۃ التوحید والسنۃ کے مرکزی ناظمِ اعلیٰ مولانا سید ضیاء اللہ شاہ صاحب اور نائب امیر پنجاب مولانا عطاء اللہ بندیالوی صاحب بھی شریک تھے۔ اس نشست میں تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا، وضاحتوں کا سنجیدہ دور چلا اور بالآخر وفاق المدارس کے ساتھ وابستگی برقرار رکھتے ہوئے ہر قسم کے انتشار سے دامن بچانے کا فیصلہ کیا گیا۔

سیاسی شعور کے اعتبار سے بھی آپ اپنے والدِ گرامی کی روایات کے امین تھے۔ جمعیت علماء اسلام کو علماء کی نمائندہ جماعت سمجھتے اور ہر اہم مرحلے پر اس کی تائید کرتے رہے۔ دارالعلوم تعلیم القرآن کے مختلف پروگراموں میں جمعیت کی مرکزی قیادت کی شرکت اسی وابستگی کا مظہر تھی۔

سانحۂ تعلیم القرآن کے بعد تعمیرِ نو کا مرحلہ آیا تو قائدِ جمعیت مولانافضل الرحمن دامت برکاتہم نے ذاتی دلچسپی لے کر وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے فنڈز منظور کروائے۔ تعمیرِ نو کی افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی مولانا عبدالغفور حیدری تھے، جبکہ تکمیل کے بعد نئی عمارت کے افتتاح کے مہمانِ خصوصی قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم تھے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارےمحبوب مدیرالجامعہ، جانشینِ شیخ القرآن حضرت مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ کی خدماتِ جلیلہ کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے،ان کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب کرے، اور پسماندگان، متعلقین اور ادارے کو صبرِ جمیل اور نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔
۔







#

Address

ادارہ الجمعیۃ راولپنڈی
Rawalpindi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AlJamiat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AlJamiat:

Shortcuts

Share

Category