Discover the Islam

Discover the Islam میرا مقصد اللہ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام آپ تک پہنچانا ہے۔نیک مقصد میں میرا ساتھ دے۔ 🥀

*باب نمبر 5 : ✨* عنوان ❕ *{ درویش کی پکار }**نوجوانوں کا راستہ کیوں بگڑ رہا ہے ؟* _اے دل کے درویش !_ زمانہ بدل رہا ہے، ل...
07/06/2026

*باب نمبر 5 : ✨*
عنوان ❕
*{ درویش کی پکار }*

*نوجوانوں کا راستہ کیوں بگڑ رہا ہے ؟*

_اے دل کے درویش !_
زمانہ بدل رہا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل کا رخ بھی بدل رہا ہے ... دین سے دور ، حیاء سے محروم، مقصد زندگی سے غافل.
کبھی یہی نوجوان تھے جو مسجدوں کے خادم، ماں باپ کے فرمانبردار، اُمت کے فخر اور علم و تقویٰ کے پیکر ہوا کرتے تھے۔
لیکن آج ....
• اسکرینوں کی چمک نے ان کی آنکھوں سے حیاء چھین لی.
• موسیقی کے شور نے دل سے ذکر الہی کو نکال دیا.
• کھیل و تفریح نے ان کے وقت کو برباد کر دیا.
• فحش باتیں، گندی صحبتیں، اور سوشل میڈیا کے بے لگام پلیٹ فارمز نے ان کے دلوں کو سیاہ کر دیا.

تو پھر نوجوانوں کا راستہ کیسے نہ بگڑتا؟

• جب گھروں میں دین کی تعلیم نہیں
• جب ماں باپ خود دنیا میں مگن ہیں
• جب اسکول و کالج میں صرف دنیا کی فکر
• جب موبائل میں پورا فتنہ آباد ہو
• جب مسجد خالی اور سنیما ہال بھرے ہوں
تو بتائیے! کیا اس نسل کا سیدھی راہ پر چلنا ممکن ہے؟

اللہ کے نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا:
> بیشک تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے، اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا.
(صحیح بخاری: 893، صحیح مسلم1829 )

ہم نے نگہبانی چھوڑ دی ہے، تبھی تو نسلیں بگڑ گئیں۔

*اصلاح کی کنجی :*

1. گھروں میں قرآن کی تلاوت اور سیرت کا چرچا ہو
2. نوجوانوں کو نیک صحبت اور علماء کی مجالس میں تبلیغ میں لے جایا جائے
3. موبائل اور انٹرنیٹ کا پاک اور محدود استعمال سکھایا جائے.
4. دل میں خوفِ خدا اور عشق مصطفیٰ ﷺ پیدا کیا جائے
5. ماں باپ، اساتذہ اور بزرگوں کی عظمت دلوں میں بٹھائی جائے.

ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ یاد دلانا ہو گا کہ:
> تمہاری جوانی بھی ایک سوال ہے، جس کا جواب قیامت کے دن دینا ہو گا !
( ترمزی 2416 )

*یاد رکھو!*

نوجوان بگڑتے نہیں، بگاڑے جاتے ہیں .... اگر ہم نے آج انہیں تھاما، تو کل اُمت سنورے گی

*ماخذ: صفحہ نمبر* 19 - 17
کتاب : *{ درویش کی پکار }*
> *درویش*
خادم العلماء والمفتيان

*┄┅═❁فـــضـــائــل اور مـــســائـــل❁═┅┄*

*باب نمبر 4 : ✨* عنوان ❕ *{ درویش کی پکار }* *دنیا کی محبت فتنوں کی جڑ :* > الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفٰى، وَسَلَامٌ عَلَى ع...
07/06/2026

*باب نمبر 4 : ✨*
عنوان ❕
*{ درویش کی پکار }*

*دنیا کی محبت فتنوں کی جڑ :*

> الْحَمْدُ لِلَّهِ وَكَفٰى، وَسَلَامٌ عَلَى عِبَادِهِ الَّذِينَ اصْطَفٰى.

دنیا کی محبت ... یہ وہ آگ ہے جس نے بڑے بڑے عابدوں کو گرا دیا، علم والوں کو بہکا دیا، اور دلوں کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیا. یہ وہ فتنہ ہے جس کے پیچھے لاکھوں انسان آخرت بھول بیٹھے۔

حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> حب الدنيا رأس كل خطيئة
> دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے
الجامع الصغير، حدیث: 3414)

دنیا برائی نہیں، مگر اس کی محبت دل میں آ جائے، تو وہی دنیا آفت بن جاتی ہے. آج مسلمان کا حال یہ ہے کہ دن رات کی دوڑ صرف دنیا کے لیے ہے. کاروبار، عزت، شہرت، فالوورز، گاڑیاں، موبائل، کپڑے سب کچھ ! لیکن نماز کی فکر ؟ توبہ کی طلب؟ قبر کی تیاری؟ ان سب کا ذکر دل کو بوجھ لگتا ہے۔

_جب دنیا دل پر چھا جائے تو :_
• حق تلخ لگتا ہے
• نصیحت گراں گزرتی ہے
• آخرت دور نظر آتی ہے
یہی وہ محبت ہے جس نے نوجوانوں کو اسکرین کے غلام بنا دیا، راتیں بے حیائی میں گزر رہی ہیں، دن مال کمانے کی حرص میں. لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیا کمانا برا ہے، نہیں! برا یہ ہے کہ دنیا دل پر قبضہ کر لے.

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :
> دنیا پیٹھ دکھانے والی چیز ہے، اور آخرت سامنے آنے والی. تم دنیا کے نہیں، بلکہ آخرت کے بیٹے بنو !

دنیا کی محبت نے انسان کو اتنا بے حس کر دیا ہے کہ کسی کے مرنے پر بھی آنکھ نم نہیں ہوتی، لیکن موبائل گر جائے تو دل گھبرا جاتا ہے. دنیا کا نقصان برداشت نہیں، مگر دین کا نقصان روز ہوتا ہے، اور ضمیر سویا رہتا ہے۔

*نکته فکر :*

دنیا ایک امتحان ہے، اور محبت ایک فیصلہ.
اگر دنیا کی محبت غالب آگئی، تو فتنوں کے دروازے کھل گئے.
اگر آخرت کی محبت غالب آگئی، تو دل پاک ہو گیا، نیت صاف ہو گئی، اور قدم جنت کی طرف چلنے لگے۔

*{ درویش کی پکار : }*

> اے درویش !
دنیا کو جیب میں رکھ ، دل میں مت آنے دے.
دنیا تیرے ساتھ قبر تک نہیں جائے گی، لیکن اس کی محبت تیرا ایمان بھی لے جائے گی.

_روز اپنا دل چیک کر :_

کیا تجھے اللہ کی رضا زیادہ عزیز ہے یا دنیا کی خواہشات ؟..فیصلہ تیرا ہے...
*یا اللہ کی رضا، یا دنیا کی فانی چمک...*

*ماخذ: صفحہ نمبر* 16 - 14
کتاب : *{ درویش کی پکار }*
> *درویش*
خادم العلماء والمفتيان

*┄┅═❁فـــضـــائــل اور مـــســائـــل❁═┅┄*

*باب نمبر 3 : ✨* عنوان ❕ *{ درویش کی پکار }* *سوشل میڈیا، فحاشی اور نفس پر حملے*  _اے میرے عزیز!_ ہم ایک ایسے دور میں جی...
07/06/2026

*باب نمبر 3 : ✨*
عنوان ❕
*{ درویش کی پکار }*

*سوشل میڈیا، فحاشی اور نفس پر حملے*

_اے میرے عزیز!_
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں نفس کی ہر خواہش ایک انگلی کے اشارے پر پوری ہو سکتی ہے۔
جس چیز کو ماضی میں گناہ سمجھا جاتا تھا، آج وہ *تفریح* بن چکی ہے۔
جس پر پہلے شرم آتی تھی، آج وہ *ٹرینڈنگ* ہے۔
سوشل میڈیا . بظاہر ایک ذریعہ علم، رابطہ، اور فائدے کا،
مگر حقیقت میں یہ نفس کی سب سے بڑی آزمائش گاہ بن چکا ہے۔
ہر اسکرول کے ساتھ،
ہر تصویر کے ساتھ،
ہر ویڈیو کے ساتھ ۔
ہماری آنکھ ، دل اور ایمان پر حملے ہو رہے ہیں۔

*اللہ تعالیٰ نے فرمایا:*
> قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ
> (اے نبی!) مؤمنوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہی ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے.
(سوره نور، آیت (30)

جب ہم بلا ضرورت، بلا مقصد، اور بلا حیاء چیزوں کو دیکھتے ہیں. تو ہم
اپنے دل کو زہر دے رہے ہوتے ہیں.
اور یاد رکھو! دل گناہوں سے سیاہ ہو جاتا ہے۔

*یہ حملے کیسے ہوتے ہیں؟*

*1. نگاہ کا زنا:*
جو رسول ﷺ نے سب سے پہلے بیان کیا:
> زِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ
> آنکھوں کا زنا، (حرام) نظر ڈالنا ہے
(بخاری، مسلم)

*2. وقت کا ضیاع:*
سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزر جاتے ہیں، اور ہم سوچتے بھی نہیں کہ قبر کے قریب جا رہے ہیں.
*3. دل کی سختی:*
جب حرام چیزیں معمول بن جائیں، تو دل قرآن، نماز، ذکر سے بے لطف ہو جاتا ہے۔
*4. پہلے نظر، پھر گفتگو، پھر تعلق، پھر گناه....*
اور آخر میں شرمندگی، بے برکتی، گناہ کا بوجھ ۔ اور اندھیرے۔

*بچاؤ کا راستہ کیا ہے؟*

*1. نیت صاف کرو:*
سوشل میڈیا صرف ضرورت کے لیے استعمال کرو ۔ دین، دعوت، علم، روز گار، رابطہ ۔
*2. حد مقرر کرو:*
ہر دن کا ایک خاص وقت، اس سے زیادہ نہیں۔
*3. غیر محرم پروفائلز، ویڈیوز، ریلس، ان سب سے مکمل اجتناب!*
*4. ذکر کی عادت ڈالو:*
جتنا نفس بہکائے، اتنا *استغفار* اور *لا إله إلا اللہ* پڑھو۔
*5.تنہائی میں خوف خدا:*

> یاد رکھو!
جو تنہائی میں اللہ سے ڈرتا ہے، قیامت کے دن عرش کا سایہ پائے گا۔
(1031 :بخاری: 660، مسلم )

الٰہی ! سوشل میڈیا کی فتنہ خیزی سے ہماری حفاظت فرما، ہماری نگاہوں کو پاکیزہ بنا، دلوں کو روشن کر، اور ہمیں نفس کے دھوکوں سے بچالے۔
*آمین یا رب العالمین*

درویش

*ماخذ: صفحہ نمبر* 13 - 11
کتاب : *{ درویش کی پکار }*
> *درویش*
خادم العلماء والمفتيان

*┄┅═❁فـــضـــائــل اور مـــســائـــل❁═┅┄*

*باب نمبر 2 : ✨* عنوان ❕ *{ درویش کی پکار }* *نفس کیا ہے؟*  *تمہید:* انسان کے اندر ایک ایسی طاقت موجود ہے جو اُسے گناہوں...
07/06/2026

*باب نمبر 2 : ✨*

عنوان ❕
*{ درویش کی پکار }*

*نفس کیا ہے؟*
*تمہید:*
انسان کے اندر ایک ایسی طاقت موجود ہے جو اُسے گناہوں پر اُبھارتی ہے، فریب دیتی ہے، سستی، لالچ، شہوت، غفلت، تکبر، حسد، اور غیبت جیسے گناہوں کی طرف کھینچتی ہے۔
یہ طاقت *نفس* کہلاتی ہے ۔ انسان کی سب سے بڑی دشمن، جو ہر وقت اس کی تباہی کے درپے ہوتی ہے۔

*قرآن مجید میں نفس کا ذکر :*

1. *{ نفس امّاره }*
اللہ تعالیٰ یوسف علیہ السلام کے واقعے میں فرماتے ہیں:
> اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّىۡ ؕ
> ترجمہ : بے شک نفس برائی کا بہت حکم دینے والا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔
(سوره یوسف: 53)
یہ وہ نفس ہے جو انسان کو ہر وقت برائی، گناہ، بدکاری، اور خواہشات کی طرف کھینچتا ہے۔

2. *{ نفس لوامه }*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> وَلَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَةِؕ ۞
> ترجمہ : اور میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی.
(سوره القيامة : (2)

یہ وہ نفس ہے جو گناہ کے بعد انسان کو ملامت کرتا ہے، شرمندگی دلاتا ہے، اور توبہ کی طرف مائل کرتا ہے. یہ اصلاح کی شروعات ہے۔

3. *{ نفس مطمئنه }*
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
> يَأَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً
> ترجمہ : اے اطمینان والی نفس! اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اُس سے راضی، اور وہ تجھ سے راضی.
(سوره الفجر : 27-28)
یہ وہ مقام ہے جہاں نفس اللہ کے احکام پر خوش ہوتا ہے، گناہوں سے نفرت کرتا ہے، اور ذکر الہی میں سکون پاتا ہے.

*حدیث نبوی ﷺ*
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> تمہارا سب سے بڑا دشمن وہ نفس ہے جو تمہارے درمیان ہے.
( کنز العمال : 6110 )
یعنی نفس وہ دشمن ہے جو ہر وقت ساتھ ہے، اور اس کے وسوسے، خواہشات اور حیلے ہمیں غفلت میں ڈال دیتے ہیں۔

*نفس کے حیلے:*
1. ابھی تو جوان ہو، بعد میں توبہ کر لینا !
2. یہ چھوٹا سا گناہ ہے، کوئی بات نہیں!
3. سب لوگ کرتے ہیں، تم بھی کر لو !
4. دل صاف ہے، ظاہری اعمال کی کیا ضرورت ہے!
5. الله غفور الرحیم ہے، اتنا سخت نہ بنو!
یہ سب نفس کی چالیں ہیں جو انسان کو گناہ میں پھنسا کر توبہ سے روکتی ہیں۔

*{ درویش کی پکار : }*
اے عزیز بھائی !
جب تک ہم اپنے نفس کو پہچان کر اس کے خلاف جہاد نہیں کریں گے، ہم گناہوں سے نجات نہیں پا سکتے.
نفس کی اصلاح، سچی توبہ، ذکر الہی، نیک صحبت، اور مجاہدہ نفس کے بغیر ممکن نہیں۔
نفس کو تابع کرنے کی جدوجہد ہی اصل کامیابی کی راہ ہے۔

*ماخذ: صفحہ نمبر* 10 - 7
کتاب : *{ درویش کی پکار }*
> *درویش*
خادم العلماء والمفتيان

*┄┅═❁فـــضـــائــل اور مـــســائـــل❁═┅┄*

*باب نمبر 1 : ✨* عنوان ❕ *{ درویش کی پکار }* *فتنوں کی پہچان* ( قرآن و حدیث کی روشنی میں ) *تمہید :* آج کا دور ظاہری طور...
07/06/2026

*باب نمبر 1 : ✨*

عنوان ❕
*{ درویش کی پکار }*

*فتنوں کی پہچان*
( قرآن و حدیث کی روشنی میں )

*تمہید :*

آج کا دور ظاہری طور پر ترقی کا ہے، لیکن باطنی طور پر فتنوں کا ایسا طوفان ہے جس نے دلوں کو بیمار، نگاہوں کو آلودہ اور سوچ کو گمراہ کر دیا ہے. فتنے صرف جنگ و جدل یا فتویٰ بازی کا نام نہیں، بلکہ ہر وہ چیز جو انسان کو اللہ سے دور کرے، آخرت کو بھلا دے، اور نفس و شیطان کے راستے پر لگا دے. وہ فتنہ ہے۔

*قرآن مجید کی تنبیہ :*

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

وَاتَّقُوۡا فِتۡنَةً لَّا تُصِيۡبَنَّ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡكُمۡ خَآصَّةً‌ ۚ وَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‏ ۞
(سورہ الانفال: (25)

ترجمہ : *اور اس فتنہ سے بچو جو تم میں سے صرف ان لوگوں کو نہیں پہنچے گا جو ظالم ہیں، اور جان لو کہ اللہ سخت عذاب دینے والا ہے.*
یعنی فتنہ جب آتا ہے، تو نیک و بد سب اس کی لپیٹ میں آتے ہیں اگر اصلاح نہ کی جائے.

*نبی ﷺ کی پیشن گوئیاں:*

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

> كَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الخَيْرِ، وَكُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنِ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِكَنِي

( صحیح بخاری، حدیث: 3606)

ترجمہ : لوگ نبی ﷺ سے بھلائی کے بارے میں سوال کرتے، اور میں برائی کے بارے میں سوال کرتا تاکہ وہ مجھے نہ آ پکڑے.
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ فتنوں کی پہچان ضروری ہے تاکہ ہم بیچ سکیں۔

*موجودہ دور کے بڑے فتنے:*

1. خواہشات کی پیروی (نفس کی مرضی کو دین پر فوقیت دینا)
2. موبائل و انٹرنیٹ کے ذریعے فحاشی
3. علمائے حق سے بیزاری اور یوٹیوب اسکالرز پر اعتماد
4. دین کو مذاق یا رسم بنا لینا
5. نوجوانوں میں بے حیائی اور والدین سے بغاوت

*عبرت کے لیے:*

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> يَتَقَارَبُ الزَّمَانُ ، وَيُقْبَضُ الْعِلْمُ ، وَتَظْهَرُ الْفِتَنُ ....

( صحیح بخاری، حدیث: 7061)

ترجمه : زمانہ قریب آ جائے گا، علم اٹھا لیا جائے گا، اور فتنے ظاہر ہوں گے.
یہ سچائی آج ہم روزانہ دیکھ رہے ہیں. فتنے معمول بن گئے ہیں، اور گناہ فخر بن چکا ہے.

*{ دروش کی پکار : }*

> اے مسلم نوجوان !

فتنوں کو معمولی نہ سمجھو، ان کی پہچان کرو، ان سے بچنے کی فکر کرو، اور ان فتنوں میں بھی اپنے دل کو اللہ کے نور سے زندہ رکھنے کی کوشش کرو.
یہی پہلا قدم ہے اصلاح نفس کی طرف.

*• شیطان اور نفس کا گٹھ جوڑ •*

*ماخذ: صفحہ نمبر* 6 - 4
کتاب : *{ درویش کی پکار }*
> *درویش*
خادم العلماء والمفتيان

*┄┅═❁فـــضـــائــل اور مـــســائـــل❁═┅┄*

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:“جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لو...
23/04/2026

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں کوئی فحش بات یا گناہ نہ کیا، وہ (گناہوں سے پاک ہو کر) ایسے لوٹتا ہے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنا ہو۔”

حوالہ: صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 1521

اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حجِ مبرور کی عظیم فضیلت کو بیان فرمایا ہے، یعنی جو شخص خالص اللہ کے لیے حج کرے اور دورانِ حج گناہوں اور غلط باتوں سے بچے تو وہ اپنے گناہوں سے پاک ہو کر واپس آتا ہے، یہ روحانی پاکیزگی اور نئی زندگی کی شروعات کا پیغام ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو چاہیے کہ وہ حج کو صرف رسم کے طور پر نہیں بلکہ خلوص، تقویٰ اور کامل اطاعت کے ساتھ ادا کرے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص حج کے دوران اپنے اخلاق، زبان اور اعمال کو درست رکھے تو یہ عمل اس کے لیے مکمل مغفرت اور اللہ کی رضا کا ذریعہ بنتا ہے، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ حجِ مبرور انسان کو گناہوں سے پاک کر کے نئی اور پاکیزہ زندگی عطا کرتا ہے۔

11/07/2025
28/05/2025

اصل عبادت کیا ہے؟ عبادت کسے کہتے ہیں ؟

Address

Rawalpindi

Telephone

+923149561564

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Discover the Islam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Discover the Islam:

Share

Category