Sab Tak News

Sab Tak News Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sab Tak News, Media/News Company, Rawalpindi.

قومیں وسائل سے نہیں، شعور اور ایماندار قیادت سے بنتی ہیں، محمد فاروق یاسر عوام کو اہل، دیانتدار اور محب وطن قیادت کا انت...
04/09/2026

قومیں وسائل سے نہیں، شعور اور ایماندار قیادت سے بنتی ہیں، محمد فاروق یاسر
عوام کو اہل، دیانتدار اور محب وطن قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا، سربراہ عوامی تحریک نجات
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)عوامی تحریک نجات کے بانی و سربراہ محمد فاروق یاسر نے کہا ہے کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور مخلص و ایماندار قیادت سے بنتی ہیں۔ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوام کو تقسیم در تقسیم کی سیاست سے نکل کر اہل، دیانتدار اور محب وطن قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد فاروق یاسر نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے اتحاد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ قیادت ایماندار، مخلص اور اہل افراد کے ہاتھ میں ہو تو مشکلات کے باوجود ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ایسے افراد کی اکثریت ہے جو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات اور دولت بنانے کے لیے سیاست میں آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے ایک دوسرے کی کردار کشی اور مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔محمد فاروق یاسر کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی قانون سازی کا بڑی حد تک مقصد سیاسی اشرافیہ یا ان کے خاندانوں کے مفادات کا تحفظ رہا، جبکہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی پالیسیاں بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے تعلیم کو ملکی ترقی کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے اپنے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی، انہوں نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کیں۔ پاکستان میں بھی تعلیم کے نظام کو ترجیح دے کر اسے بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ باشعور اور تعلیم یافتہ قوم ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور دیگر مسائل کا سامنا ہے جبکہ ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں دو بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے، ایک دوسرے کے اختلافات ختم کرکے متحد ہونا اور دوسرا مخلص، ایماندار اور اہل قیادت کو آگے لاناہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوام اکثر ایک سیاسی نمائندے کی ناقص کارکردگی کے بعد دوسرے کو موقع دیتے ہیں اور اسی طرح بار بار انہی لوگوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور ملکی ترقی کا جذبہ رکھتے ہوں۔محمد فاروق یاسر نے کہا کہ ہر علاقے اور ہر طبقے میں اچھے، مخلص اور ایماندار لوگ موجود ہیں جو ملک کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، عوام کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں آگے آنے کا موقع دیں۔فوج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عوامی تحریک نجات کے سربراہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی فوج سے محبت کرتے ہیں اور ملک کے دفاع میں اس کے کردار کو اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ملک کی محافظ ہے، تاہم سیاسی معاملات میں اس کا کردار آئینی اور ملکی مفاد کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے اور ملک کو آگے لے جانے میں ناکام ہوں تو قومی اداروں کو اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے ملکی استحکام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔محمد فاروق یاسر نے کہا کہ ’’نجات‘‘ کا نام سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، جرائم اور دیگر مشکلات سے نجات چاہتے ہیں۔ عوامی تحریک نجات کا مقصد ان مسائل کے خلاف جدوجہد اور عوام کی خدمت ہے۔ پارٹی کا بنیادی مقصد کسی مخصوص سیاسی جماعت کی مخالفت نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل اور ملک کی ترقی ہے۔اقتدار اور عوامی مینڈیٹ ملنے کی صورت میں تحریک عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی تحریک نجات کو موقع ملا تو ملک کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اس کا ثبوت باتوں کے بجائے عملی کارکردگی سے دیا جائے گا۔
by Javed A Malik
Tak News A M News #04/09/2026

04/09/2026

قومیں وسائل سے نہیں، شعور اور ایماندار قیادت سے بنتی ہیں، محمد فاروق یاسر
عوام کو اہل، دیانتدار اور محب وطن قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا، سربراہ عوامی تحریک نجات
اسلام آباد(سٹی رپورٹر)عوامی تحریک نجات کے بانی و سربراہ محمد فاروق یاسر نے کہا ہے کہ قومیں صرف وسائل سے نہیں بلکہ شعور، اتحاد اور مخلص و ایماندار قیادت سے بنتی ہیں۔ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوام کو تقسیم در تقسیم کی سیاست سے نکل کر اہل، دیانتدار اور محب وطن قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے محمد فاروق یاسر نے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے اتحاد ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ قیادت ایماندار، مخلص اور اہل افراد کے ہاتھ میں ہو تو مشکلات کے باوجود ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاست میں ایسے افراد کی اکثریت ہے جو عوامی خدمت کے بجائے ذاتی مفادات اور دولت بنانے کے لیے سیاست میں آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے ایک دوسرے کی کردار کشی اور مخالفین کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے عوامی مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔محمد فاروق یاسر کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران ہونے والی قانون سازی کا بڑی حد تک مقصد سیاسی اشرافیہ یا ان کے خاندانوں کے مفادات کا تحفظ رہا، جبکہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے اور ملک کو مضبوط بنانے کے لیے طویل المدتی پالیسیاں بنانے پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے تعلیم کو ملکی ترقی کی بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ جن ممالک نے اپنے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی، انہوں نے ترقی کی منازل تیزی سے طے کیں۔ پاکستان میں بھی تعلیم کے نظام کو ترجیح دے کر اسے بہتر بنانا ہوگا، کیونکہ باشعور اور تعلیم یافتہ قوم ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور دیگر مسائل کا سامنا ہے جبکہ ملک پر قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اگر عوام چاہتے ہیں کہ حالات تبدیل ہوں تو انہیں دو بنیادی اقدامات کرنا ہوں گے، ایک دوسرے کے اختلافات ختم کرکے متحد ہونا اور دوسرا مخلص، ایماندار اور اہل قیادت کو آگے لاناہوگا۔انہوں نے کہا کہ عوام اکثر ایک سیاسی نمائندے کی ناقص کارکردگی کے بعد دوسرے کو موقع دیتے ہیں اور اسی طرح بار بار انہی لوگوں کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے افراد کو منتخب کیا جائے جو حقیقی معنوں میں عوامی خدمت اور ملکی ترقی کا جذبہ رکھتے ہوں۔محمد فاروق یاسر نے کہا کہ ہر علاقے اور ہر طبقے میں اچھے، مخلص اور ایماندار لوگ موجود ہیں جو ملک کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں، عوام کو چاہیے کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں آگے آنے کا موقع دیں۔فوج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عوامی تحریک نجات کے سربراہ نے کہا کہ وہ پاکستان کی فوج سے محبت کرتے ہیں اور ملک کے دفاع میں اس کے کردار کو اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ملک کی محافظ ہے، تاہم سیاسی معاملات میں اس کا کردار آئینی اور ملکی مفاد کے دائرے میں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاستدان عوامی مسائل حل کرنے اور ملک کو آگے لے جانے میں ناکام ہوں تو قومی اداروں کو اپنا آئینی کردار ادا کرتے ہوئے ملکی استحکام کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔محمد فاروق یاسر نے کہا کہ ’’نجات‘‘ کا نام سوچ سمجھ کر رکھا گیا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، جرائم اور دیگر مشکلات سے نجات چاہتے ہیں۔ عوامی تحریک نجات کا مقصد ان مسائل کے خلاف جدوجہد اور عوام کی خدمت ہے۔ پارٹی کا بنیادی مقصد کسی مخصوص سیاسی جماعت کی مخالفت نہیں بلکہ عوامی مسائل کا حل اور ملک کی ترقی ہے۔اقتدار اور عوامی مینڈیٹ ملنے کی صورت میں تحریک عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرے گی۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی تحریک نجات کو موقع ملا تو ملک کی ترقی، عوام کی خوشحالی اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور اس کا ثبوت باتوں کے بجائے عملی کارکردگی سے دیا جائے گا۔
Tak News A M News #04/09/2026

امت مسلمہ کی زبوں حالی کی اصل وجہ قران کے آفاقی پیغام سے دوری ہے، شجاع الدین شیخآج پوری مسلم دنیا میں کوئی ایسا ملک نہ...
17/08/2026

امت مسلمہ کی زبوں حالی کی اصل وجہ قران کے آفاقی پیغام سے دوری ہے، شجاع الدین شیخ
آج پوری مسلم دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جسے ہم دنیا کے سامنے بحیثیت رول ماڈل پیش کرسکیں
اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنے کےلئے ہمیں قران سے جڑنا ہوگا، مقررین کا خطاب

اسلام آباد () امت مسلمہ کی زبوں حالی اور حالت زار کی اصل وجہ قران سے دوری اور اللہ اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے میں ہے۔ اس امت کی اٹھان، اور بنیاد اسلام پر ہے۔ اگر مسلم امہ اپنی عظمت رفتہ کو بحال کرنا چاہتی ہے تو اسکو قران کو اپنا راہنما اور دستور بنانا ہوگا۔ یہ بات تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے اسلام اباد میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کہی۔ تنظیم اسلامی کے زیراہتمام "امت مسلمہ کی حالت زار اور راہ نجات" کے عنوان تلے تین ہفتوں پر محیط ملک گیر مہم کے سلسلے میں دارالحکومت اسلام اباد میں قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شجاع الدین شیخ نے کہا کہ آج عالم اسلام جغرافیائی طورپر چھوٹی چھوٹی قومی ریاستوں میں تقسیم ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آج ان ستاون مسلمان ممالک میں کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جسے ہم دنیا کے سامنے ایک رول ماڈل کی حیثیت سے پیش کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج فلسطین سے لے کر کشمیر، افغانستان، شام، لیبیا، لبنان اور ایران تک ہر جگہ مسلمان کا ہی خون بہہ رہا ہے اور بستیاں اجڑ رہی ہیں لیکن پوری امت مسلمہ میں کسی ملک میں بھی اتنی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ اٹھ کھڑے ہوکران طاعوتی قوتوں کا مقابلہ کرسکیں۔ انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار طاغوتی قوتوں کا مقابلہ کرنے کےلئے متحد ہوکر سیاسی، معاشی اور عسکری محاذوں کے علاوہ تجارت اور صنععت کے میدان میں بھی اپنی توانائیاں مجتمع کریں تاکہ امت مسلمہ ایک بار پھر دنیا میں ایک بھرپور سیاسی اور معاشی قوت کے طور پر ابھرے اور ہم دنیا کے سامنے اسلام کا وہ نمونہ پیش کرسکیں جو پوری دنیا کےلئے مشعل راہ ہو۔
مشہور مذہبی سکالر اور تنظیم اسلامی کے سینیر راہنما ڈاکٹر ضمیر اختر نے کہا کہ آج دنیا میں نفرتیں بڑھ رہی ہیں، انسانی خون کی ارزانی ہے اور ایک عام شخص امن کی تلاش میں سرگردان ہے۔ ایسے میں اسلام ہی انسان کا نجات دہندہ ہے۔ انہوں نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے دفاعی معاہدہ (میثاق مکہ) کو خوش ائند قراردیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اس میثاق کو پوری امت مسلمہ تک بڑھایا جائے۔ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مذید کہا کہ چونکہ پاکستان کی پیدائش اسلام کے نام پر ہوئی ہے اور اس کا اصل اثاثہ اسکی نظریاتی اساس ہے اسلئے پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت اور ایٹمی اور عسکری صلاحیتوں کی وجہ سے بہتر پوزیشن میں ہے کہ وہ اس امت کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکے۔
مشہور قانون دان، محقق اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق جنرل سیکرٹری ڈاکٹر اکرام الحق نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ مسلم امہ کے پاس وسائل بھی ہیں اورافرادی قوت بھی، ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے مسلم امہ کو علم و فن سے بھی بہرہ ورکیا ہے لیکن افسوس کہ آج ہمارے وسائل پر بھی مغرب کا قبضہ ہے اور ہماری افرادی قوت بھی مغرب کےلئے استعمال ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بہترین ماہرین علم و فن آج مغرب کے مختلف اداروں میں اغیار کےلئے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
محقق و مصنف پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمٰن عاصم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج امت مسلمہ کی زبوں حالی کی اصل وجہ ہمارے تصور دین کی خرابی اور حضورﷺ کی سیرت مطہرہ سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا جب تک ہم اپنی سیاست، معیشت، عدالت، ثقافت اور پوری معاشرت کو اسلامی تعلیمات سے ہم اہنگ نہیں کرینگے، دنیا میں ایک صالح معاشرے کا قیام ناممکن اور امن کا خواب، خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے علماء کرام پر زور دیا کہ وہ اسلام کے آفاقی نظام کو عام کرنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر اشرف علی
ناظم نشرو اشاعت، اسلام آباد
Tak News #17/08/2026

“The Root Cause of the Muslim Ummah’s Decline Is Its Distance from the Universal Message of the Qur’an,” Says Shujauddin Sheikh
“To restore our lost glory, we must reconnect with the Qur’an,” speakers say
Islamabad: The root cause of the decline and difficult circumstances facing the Muslim Ummah is its distance from the Qur’an and its neglect of the teachings of Allah and His Messenger. If the Muslim Ummah wishes to restore its former glory, it must accept the Qur’an as its guide and constitution.
This was stated by Ameer, Tanzeem-e-Islami Shujauddin Sheikh, while addressing a seminar organized by Tanzeem-e-Islami in Islamabad as part of its three-week nationwide campaign titled “The State of the Muslim Ummah and the Path to Salvation. He said that today the Muslim world is geographically divided into small nation-states. However, it is deeply regrettable that among the 57 Muslim countries, there is not a single country that can be presented to the world as a role model.
He said this is why, today, from Palestine to Kashmir, Afghanistan, Syria, Libya, Lebanon and Iran, Muslims are being killed and communities are being destroyed. Yet, within the entire Muslim Ummah, there is no country with enough moral courage to rise and confront these “Taghuti forces”—forces described as opposing divine guidance and justice.
He urged Muslim countries to unite in confronting the forces fighting against Muslims and to pool their resources not only on the political, economic and military fronts, but also in the fields of trade and industry. This, he said, would enable the Muslim Ummah to emerge once again as a strong political and economic power and allow Muslims to present to the world an Islamic model that could serve as a guiding light for humanity.
The renowned religious scholar and senior leader of Tanzeem-e-Islami, Dr. Zamir Akhtar, said that hatred is increasing throughout the world, human life is being devalued, and ordinary people are desperately searching for peace. In such circumstances, he said, Islam is the true source of salvation for humanity.
Welcoming the recently concluded Meesaq-e-Makkah (Makkah Pact) between Pakistan, Saudi Arabia and Türkiye, he proposed that the pact should be expanded to include the entire Muslim Ummah.
Elaborating further, he said that since Pakistan was created in the name of Islam and its greatest asset is its ideological foundation, Pakistan is in a relatively strong position to assume a leadership role within the Muslim Ummah because of its geographical importance as well as its nuclear and military capabilities.
Renowned lawyer, researcher and former Secretary-General of the Council of Islamic Ideology, Dr. Ikram-ul-Haq, said in his address that the Muslim Ummah possesses both resources and human capital, and that Allah has also blessed it with knowledge and expertise. Unfortunately, he said, much of the Muslim world’s resources are currently under Western control, while its human resources are also being utilized for the benefit of the West.
He said that many of the Muslim world’s finest experts and professionals are currently working in various Western institutions and providing their expertise to foreign interests.
Researcher and author Professor Dr. Habib-ur-Rehman Asim said that the fundamental reason for the Muslim Ummah’s present decline is the distortion of its understanding of religion and its departure from the pure and exemplary life of the Prophet Muhammad (peace be upon him).
He said that until Muslims bring their politics, economy, judiciary, culture and entire social system into harmony with Islamic teachings, the establishment of a righteous society in the world will remain impossible, and the dream of peace will remain merely a dream.
He urged religious scholars to play their full role in spreading and promoting Islam’s universal system of guidance.
Dr Ashraf Ali
Secretary Information, Islamabad

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے250 ریٹائرڈ ملازمین دو ماہ سے پنشن سے محروممتاثرہ ریٹائرڈ ملازمین کا وفاقی حکومت سے فوری مداخلت ا...
07/08/2026

پاکستان اسپورٹس بورڈ کے250 ریٹائرڈ ملازمین دو ماہ سے پنشن سے محروم
متاثرہ ریٹائرڈ ملازمین کا وفاقی حکومت سے فوری مداخلت اور داد رسی کا مطالبہ
اسلام آباد(سٹی رپورٹر) پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ریٹائرڈ ملازمین نے دو ماہ سے پنشن کی عدم ادائیگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور سیکرٹری برائے بین الصوبائی رابطہ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے،پنشنرز کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین کو گذشتہ دو ماہ سے پنشن کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے، ریٹائرڈ ملازمین نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت IPC سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئےگزشتہ دو ماہ کی زیر التواء پنشن فوری ادا کی جائے،آئندہ پنشن کی بروقت، باقاعدہ اور بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنایا جائے،ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ یقینی بنایا جائے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) کے ریٹائرڈ ملازمین کے صدر اعظم ڈارو دیگر کا کہنا تھا کہ پنشنرز کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ اپنے ریٹائرڈ ملازمین کو سال 2006 سے باقاعدگی سے پنشن ادا کرتا آ رہا ہےاور گزشتہ تقریباً دو دہائیوں کے دوران آڈیٹر جنرل آف پاکستان (AGP)، وزارت خزانہ اور وزارت بین الصوبائی رابطہ سمیت کسی بھی مجاز ادارے نے اس نظام پر کوئی اعتراض یا منفی ریمارکس نہیں دیے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تسلسل پنشن نظام کی قانونی حیثیت، شفافیت اور مؤثر انتظام کا واضح ثبوت ہے۔پنشنرز نے بتایا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے 34ویں بورڈ اجلاس میں وفاقی حکومت کی پالیسی کے تحت کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم (Contributory Pension Scheme - CPS) کی منظوری یکم جولائی 2025 سے دی گئی، جس کے تحت حاضر سروس ملازمین کی بنیادی تنخواہ سے 10 فیصد ماہانہ کٹوتی کی جا رہی ہے، جبکہ موجودہ پنشنرز سے بھی مقررہ شرح کے مطابق حصہ وصول کیا جا رہا ہے، جو 72 سال کی عمر مکمل ہونے پر 20 فیصد تک بڑھ جائے گا۔ریٹائرڈ ملازمین کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت کی واضح پالیسی کے مطابق کنٹریبیوٹری پنشن اسکیم صرف ان ملازمین پر لاگو ہوتی ہے جو یکم جولائی 2024 یا اس کے بعد مستقل بنیادوں پر ملازمت اختیار کریں۔ تاہم، ان کے بقول پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اس پالیسی کو سابقہ اثر (Retrospective Effect) کے ساتھ موجودہ پنشنرز پر بھی نافذ کر دیا، جس سے ریٹائرڈ ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ وہ اس پالیسی کے نفاذ سے قبل ریٹائر ہو چکے تھے۔پنشنرز کے مطابق صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب وزارت بین الصوبائی رابطہ (IPC) نے تیسری اور چوتھی سہ ماہی کے گرانٹس کو ازسرنو مختص (Re-appropriation) کرتے ہوئے پاکستان ہاکی فیڈریشن (PHF) کو فنڈز جاری کیے، جس کے باعث پاکستان اسپورٹس بورڈ مالی دباؤ کا شکار ہو گیا اور گزشتہ دو ماہ سے پنشن کی ادائیگی ممکن نہ رہی۔ریٹائرڈ ملازمین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، علاج معالجے کے اخراجات اور روزمرہ ضروریات کے پیش نظر پنشن کی عدم ادائیگی نے انہیں شدید مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، کیونکہ بیشتر پنشنرز کا گزر بسر مکمل طور پر ماہانہ پنشن پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کو منتقل کی گئی رقم بورڈ کی منظوری کے لیے پیش نہیں کی گئی، جبکہ پنشنرز کے فوری مسائل حل کرنے کے بجائے ڈائریکٹر جنرل پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بورڈ کی منظوری کے بغیر ایک پنشن کمیٹی تشکیل دے دی۔ ان کے مطابق بورڈ کے فیصلے میں واضح طور پر صرف یہ ہدایت دی گئی تھی کہ پنشن فنڈ کے قیام کے لیے ایک جامع تجویز تیار کر کے غور و خوض کے لیے بورڈ کے سامنے پیش کی جائے۔پنشنرز کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی بحران اور زیر التواء پنشن کی فوری ادائیگی کو یقینی بنانے کے بجائے متبادل انتظامات پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کے آئینی اور قانونی حقوق کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ریٹائرڈ ملازمین نے وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ اور سیکرٹری وزارت IPC سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئےگزشتہ دو ماہ کی زیر التواء پنشن فوری ادا کریں۔آئندہ پنشن کی بروقت، باقاعدہ اور بلا تعطل ادائیگی کو یقینی بنائیں۔ریٹائرڈ ملازمین کے حقوق، وقار اور فلاح و بہبود کا تحفظ کریں، جنہوں نے پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ذریعے ملک میں کھیلوں کے فروغ اور قومی خدمت کے لیے اپنی زندگی کے کئی عشرے وقف کیے۔پنشنرز نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت ان کے مسائل کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی تاکہ سینئر شہریوں کو مزید مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Tak News sports complex Islamabad #07/08/2026

5 اگست مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے۔ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام پر کریک ڈاؤن جاری  رکھا تو پاک...
06/08/2026

5 اگست مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے۔
حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام پر کریک ڈاؤن جاری رکھا تو پاکستان کا کشمیر پر اصولی مؤقف کمزور ہوجائے گا۔
ملک کی مختلف اکائیوں کو اخوت کے رشتے میں جوڑنا اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے نفاذ میں مضمر ہے۔
(شجاع الدین شیخ) لاہور (پ ر): مقبوضہ کشمیر کی تاریخ کا ایک اور سیاہ دن ہے۔ حکومتِ پاکستان نے آزاد کشمیر کے عوام پر کریک ڈاؤن جاری رکھا تو پاکستان کا کشمیر پر اصولی مؤقف کمزور ہوجائے گا۔ ملک کی مختلف اکائیوں کو اخوت کے رشتے میں جوڑنا اسلام کے نظامِ عدلِ اجتماعی کے نفاذ میں مضمر ہے۔ ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر ایک خصوصی پیغام میں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ سات (7) برس قبل 5اگست 2019ء کو بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370اور 35-Aکو ختم کرکے مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کر دیا تھا جو سلامتی کونسل کی منظور کردہ استصواب رائے کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ پھر اس خوف سے کہ کشمیری مسلمان اپنے ردعمل کا اظہار کریں گے مقبوضہ کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا اور کشمیریوں پر ہونے والا ظلم و تشدد بدترین صورت اختیار کرگیا۔ مقبوضہ کشمیر کی صفِ اوّل کی سیاسی قیادت پر جھوٹے مقدامات قائم کرکے اُنہیں پابند سلاسل کر دیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنے ہر وعدہ سے منحرف ہونے کی بھارتی داستان صاف ظاہر کرتی ہے کہ وہ کسی صورت مقبوضہ کشمیر پر اپنے ناجائز تسلط کو ختم کرنے کو تیار نہیں بلکہ اِسے دوام دینے کے لیے کشمیری مسلمانوں کی نسل کُشی کرنے پر تُلا ہوا ہے۔ پھر یہ کہ بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ بھی کھل کر سامنے آ چکا ہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی نسل کُشی کا اسرائیلی ماڈل اپنا رہا ہے۔ امیر تنظیم نے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کے علمبردار کہلانے والے اکثرمغربی ممالک اور بین الاقوامی ادارے بھارت کے 5اگست کے سفاکانہ اقدامات کے حوالے سے خاموش رہ کر ظلم میں اُس کے شراکت دار بن چکے ہیں اور بھارت کے اس غیر انسانی اور بین الاقوامی قوانین کے سراسرخلاف طرزِعمل کو ردّ کرناتو دور کی بات ہے زبان سے بھی اُس کی مذمت کرنے پر تیارنہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ حکومتِ پاکستان کی ناعاقبت اندیش پالیسیوں نے آزاد کشمیر کے عوام میں بھی سخت اضطراب پیدا کر رکھا ہے۔ الیکشن کے نام پر دھونس اور دھاندلی کا بازار گرم کیا گیا اور کشمیری عوام پر طاقت کا بے جا استعمال جاری ہے۔ بعض بین الاقوامی تجزیہ کار تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ اپنے حصّہ کے کشمیر پر ظلم ڈھانے والا پاکستان، بھارتی مظالم کے خلاف کس سے بات کر رہا ہے۔ بہرحال، اگر حکومتِ پاکستان نے یہ طرزِعمل جاری رکھا تو کشمیری عوام میں ریاست مخالف جذبات پیدا ہوں گے، جن کا نہ صرف ہمارا ازلی دشمن بھارت فائدہ اُٹھائے گا بلکہ پاکستان کا کشمیر پر اصولی مؤقف بھی انتہائی کمزور ہو جائے گا۔ اُنھوں نے کہا کہ جب تک بھارت 5اگست 2019ء کے اقدام کو واپس نہیں لیتا بھارت کے ساتھ کسی نوع کے تعلقات قائم کرنا اتنا ہی بڑا جرم ہوگا جتنا ابراہم اکارڈز کی آڑ میں ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کو تسلیم کرنا ہے۔جو مسلم ملک بھی ایسا کرے گا وہ مقبوضہ کشمیر اور مقبوضہ فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ بے وفائی کا مرتکب ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھالیکن افسوس کہ پاکستان میں اسلامی کا نظامِ عدلِ اجتمائی قائم نہ ہو سکا جس کی وجہ سے پاکستان کشمیریوں کے لیے ایک آئیڈیل ریاست نہ بن سکا۔ اگر پاکستان حقیقت میں اسلام کا قلعہ بن جائے تو کشمیری مسلمانوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا ہوگا۔ پھر دنیا کی کوئی طاقت مقبوضہ کشمیر کی بھارتی تسلط سے آزادی کو روک نہیں سکے گی۔ ان شاء اللہ!
Tak News #06/08/2026

سربرینیتسا نسل کشی انسانیت کے ضمیر پر ایک ناقابلِ فراموش داغ ، پاکستان بوسنیا کے ساتھ کھڑا ہے: بیرسٹر عقیل ملک سربرینیتس...
12/07/2026

سربرینیتسا نسل کشی انسانیت کے ضمیر پر ایک ناقابلِ فراموش داغ ، پاکستان بوسنیا کے ساتھ کھڑا ہے: بیرسٹر عقیل ملک

سربرینیتسا کو فراموش کرنا تاریخ سے انحراف ہوگا، عالمی برادری نسل کشی کے خلاف متحد ہو، ایمین چوہوداریویچ

اسلام آباد میں سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی کی تقریب، پاکستان اور بوسنیا کے درمیان دوستی اور یکجہتی کا اظہار

اسلام آباد ( ) بوسنیا و ہرزیگووینا میں 1995ء کی سربرینیتسا نسل کشی کی 31ویں برسی کے موقع پر بین الاقوامی یومِ تفکر و یادگار کے حوالے سے اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ دوستی، امن، انصاف اور تاریخی حقائق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ تقریب میں پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف اور رکنِ قومی اسمبلی بیرسٹر عقیل ملک، پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر ایمین چوہوداریویچ، سینیٹر فیصل سلیم، ڈائریکٹر جنرل (یورپ)، وزارتِ خارجہ، شہباز کھوکھر، مختلف ممالک کے سفارت کاروں، ممتاز کاروباری شخصیات، صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے سربرینیتسا نسل کشی کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1995ء کا سانحہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک ایسا زخم ہے جو وقت گزرنے کے باوجود مندمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بوسنیا و ہرزیگووینا کے عوام کے دکھ اور قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گا اور امن، انصاف، برداشت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نسل کشی جیسے جرائم اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ عالمی برادری نفرت، انتہاپسندی، مذہبی تعصب اور نسلی امتیاز کے خلاف متحد ہو کر مؤثر اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں کسی بھی خطے میں ایسے المناک سانحات دوبارہ رونما نہ ہوں۔ اس موقع پر پاکستان میں بوسنیا و ہرزیگووینا کے سفیر ایمین چوہوداریویچ نے اپنے خطاب میں سربرینیتسا نسل کشی کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ جولائی 1995ء میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور کم عمر لڑکوں کو منظم انداز میں قتل کیا گیا، جسے بین الاقوامی عدالتیں نسل کشی قرار دے چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سربرینیتسا صرف بوسنیا کا دکھ نہیں بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ ایسے جرائم کو کبھی فراموش نہ کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ بوسنیا کے عوام جنگ کے مشکل ترین دور میں پاکستان کی انسانی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مئی 2024ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 11 جولائی کو سربرینیتسا نسل کشی کی یاد میں بین الاقوامی دن قرار دینے کی قرارداد کی منظوری میں پاکستان کے فعال کردار کو بھی سراہا۔ تقریب کے دوران مقررین نے کہا کہ سربرینیتسا نسل کشی دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں پیش آنے والا بدترین اجتماعی قتل تھا، جس میں آٹھ ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو صرف ان کی مذہبی اور نسلی شناخت کی بنیاد پر قتل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود سربرینیتسا کے شہریوں کو وہ تحفظ فراہم نہ کیا جا سکا جس کی انہیں امید تھی، جبکہ بعد ازاں بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل برائے سابق یوگوسلاویہ (ICTY) اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) نے اپنے فیصلوں میں اس سانحے کو باقاعدہ نسل کشی قرار دیا۔ تقریب کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی امن، انصاف، رواداری، مذہبی ہم آہنگی اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں، جبکہ نسل کشی کے متاثرین کی یاد کو زندہ رکھنا اور آئندہ نسلوں تک تاریخی حقائق پہنچانا پوری عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تقریب کے اختتام پر سربرینیتسا نسل کشی کے شہداء کے ایصالِ ثواب، عالمی امن، انصاف اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جبکہ شرکاء نے متاثرین کے اہلِ خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نفرت، نسل پرستی اور مذہبی تعصب کے خلاف آواز بلند کرنا ہی شہداء کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
Tak News A M News #12/07/2026

Srebrenica Genocide Remains an Indelible Stain on Humanity's Conscience; Pakistan Stands with Bosnia: Barrister Aqeel Malik
Forgetting Srebrenica Would Be a Betrayal of History; Global Community Must Unite Against Genocide: Ambassador Emin Čohodarević
Islamabad Hosts Commemorative Ceremony Marking the 31st Anniversary of the Srebrenica Genocide

ISLAMABAD: A dignified ceremony was held in Islamabad to mark the 31st anniversary of the 1995 Srebrenica Genocide and observe the International Day of Reflection and Commemoration, reaffirming the enduring friendship between Pakistan and Bosnia and Herzegovina and their shared commitment to peace, justice, and preserving historical truth.

The event was attended by Minister of State for Law and Justice and Member of the National Assembly Barrister Aqeel Malik, Ambassador of Bosnia and Herzegovina to Pakistan Emin Čohodarević, Senator Faisal Saleem, Director General (Europe) at the Ministry of Foreign Affairs Shahbaz Khokhar, diplomats from various countries, prominent business leaders, journalists, civil society representatives, and other distinguished guests.

Addressing the gathering as the chief guest, Barrister Aqeel Malik paid tribute to the victims of the Srebrenica Genocide, describing the 1995 tragedy as a wound on the conscience of humanity that remains unhealed despite the passage of time.

He said Pakistan would never forget the suffering and sacrifices of the people of Bosnia and Herzegovina and would continue to support the principles of peace, justice, tolerance, human rights, and the rule of international law.

The minister emphasized that crimes such as genocide require the international community to stand united against hatred, extremism, religious intolerance, and ethnic discrimination, stressing that effective collective action is essential to prevent similar tragedies from occurring in the future.

Speaking on the occasion, Ambassador Emin Čohodarević honored the victims of the Srebrenica Genocide and recalled that more than 8,000 Bosniak Muslim men and boys were systematically killed in July 1995, a crime that has been legally recognized as genocide by international courts.

He said Srebrenica is not merely Bosnia's tragedy but a shared responsibility of humanity, emphasizing that such crimes must never be forgotten.

The ambassador expressed gratitude to the Government and people of Pakistan, noting that Bosnians continue to deeply appreciate Pakistan's humanitarian, diplomatic, and moral support during the country's most difficult years of conflict.

He also commended Pakistan's active role in supporting the United Nations General Assembly resolution adopted in May 2024, which designated 11 July as the International Day of Reflection and Commemoration of the 1995 Srebrenica Genocide.

Speakers at the event described the Srebrenica massacre as the worst mass killing in Europe since the Second World War, in which more than 8,000 Bosniak Muslim men and boys were murdered solely because of their ethnic and religious identity.

They noted that despite United Nations Security Council resolutions, the people of Srebrenica did not receive the protection they had been promised. They further highlighted that both the International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia (ICTY) and the International Court of Justice (ICJ) officially ruled that the atrocities committed at Srebrenica constituted genocide.

Participants reaffirmed their commitment to promoting global peace, justice, tolerance, interfaith harmony, and respect for human dignity. They stressed that preserving the memory of genocide victims and passing historical truth on to future generations remains a collective responsibility of the international community.

The ceremony concluded with special prayers for the victims of the Srebrenica Genocide, as well as for global peace, justice, and international harmony. Participants also expressed solidarity with the victims' families and reiterated their resolve to continue raising their voices against hatred, racism, and religious intolerance as a meaningful tribute to those who lost their lives.'

راولپنڈی () یوسی 23 ڈھوک کشمیریاں  سروس راولپنڈی کے مکین انتظامی نااہلی کی سزا بھگتنے پر مجبور، پائپ لائن کیلئے کی گئی ک...
05/05/2026

راولپنڈی () یوسی 23 ڈھوک کشمیریاں سروس راولپنڈی کے مکین انتظامی نااہلی کی سزا بھگتنے پر مجبور، پائپ لائن کیلئے کی گئی کھدائی سے علاقہ مکین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔جبکہ واسا کی ٹیم نے کہا تھا کہ پانی کے کنکشن کر کے دے گے لیکن واسا کی ٹیم نے پانی کے کنکشن نہیں کیے علاقوں مکنیوں نے اپنے جیب سے کنکشن کروائے ہیں کسی نے تین ہزار دیے کسی نے چار ہزار دیے پائپ ڈالنے کے بعد انہوں نے مٹی اور پتھر ڈال کر بند کر دیا ہے جبکہ فاروق اعظم روڈ پر پائپ کے اوپر ریت ڈالی گئی ہے واسا کی انا اہلی کے باعث پورا علاقہ ایک دلدل کا منظر پیش کر رہا ہے جس سے یہاں بسنے والے اور گزرنے والے شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں جبکہ انتظامیہ خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہے۔
تصاویر جاوید اے ملک
Tak News #واسا A M News #3/05/2026

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sab Tak News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share