AHKhan Writes

AHKhan Writes This page is for sharing info and good ideas related to this page by everyone.

Daanish Schools Authority Jobs 2026 — Principal & Teacher VacanciesMinistry of Federal Education & Professional Training...
09/09/2026

Daanish Schools Authority Jobs 2026 — Principal & Teacher Vacancies
Ministry of Federal Education & Professional Training

📄 Complete Article:
https://www.educativz.com/daanish-schools-authority-jobs-2026-principal-teacher-ajk-gilgit-baltistan/

📅 Last Date: 15 days from publication (approx. 21 September 2026 — confirm on ETC/HEC portal)
📍 Location: Bagh & Bhimber (AJK); Ghanche, Sultanabad & Astore (Gilgit-Baltistan)
💰 Test Fee: Rs. 1,200 (non-refundable)

🏫 Organization:
Ministry of Federal Education & Professional Training (Daanish Schools Authority)

✨ Positions:
* Principal (BS-20 equivalent) — 05 posts
* Teachers (DS-16) in 13 subjects — 04 per school per subject (02M/02F)

🌐 How to Apply:
Apply online only

📰 Newspaper: Jang (Rawalpindi/Islamabad) — 6 September 2026

📞 Section Officer (Daanish):
Office No. 207, 2nd Floor, Block C, Pak Secretariat, Islamabad

1700 government jobs in Islamabad Police.… more
05/09/2026

1700 government jobs in Islamabad Police.… more

9th Class Readmission Scheduled 2026-28
05/09/2026

9th Class Readmission Scheduled 2026-28

پاکستان کرکٹ بورڈ میں نئی نوکریاں...more
02/09/2026

پاکستان کرکٹ بورڈ میں نئی نوکریاں...more

وزارت دفاع میں سرکاری بھرتیوں کا اعلان یہ۔۔۔more
02/09/2026

وزارت دفاع میں سرکاری بھرتیوں کا اعلان یہ۔۔۔more

نوٹ!If you have not ability to financial help then please share this it's enough.اگر آپ مالی امداد نہیں کر سکتے تو شیئر ...
11/08/2026

نوٹ!
If you have not ability to financial help then please share this it's enough.
اگر آپ مالی امداد نہیں کر سکتے تو شیئر کر دیں یہی بہت ہے۔۔۔

اللہ پاک کی ذات کا کرم ہے۔ پاک ذات کبھی کسی کے صدقہ خیرات یا مالی امداد خود کیلئے لینے کی محتاجی نہ دے اور دعا ہے اللہ پاک مجھے بھی صاحب استطاعت بنا دے اور ابھی کیلئے حقداروں تک حق پہچانے کا وسیلہ بنا دے۔۔۔

مورخہ 9 اگست 2026 کو اسلام آباد سے ابائی گھر واپسی راستے میں طبیعت کی خرابی کی وجہ سے مجھے اپنے کسی عزیز کے گھر ٹھہرنےکا اللہ پاک کی ذات نے سبب بنایا۔۔۔

جب سے میں وہاں گیا یوں اللہ نے مجھے میرا درد بھلا دیا ہے اور ان کا درد میرے دل میں ڈال دیا ہے۔۔۔

خیر جب وہاں پہنچا تو اصلی غربت کو ظاہری سفید پوشی نے گھر کی دیواروں کے پیچھے سلیقے سے چن دیا تھا۔۔۔

گھر آئے مہمان کو 🥚سے Serve کیا جو half اس وقت اور باقی شام کیلیے بچا کے رکھ لیا۔۔پھر بھی اللہ پاک کی ذات کی ان کی طرف سے کوئی نا شکری اور شکوہ شکایت نہیں تھی۔۔۔

Total 4K per moth for both since last Year???
Yes! Infact it's reality....

جی ہاں یہی حقیقت ہے۔۔دو اللہ کی بندیاں 4 ہزار میں مہینہ گزارتی ہیں۔۔۔کیسے یہ وہ اور اللہ پاک کی ذات جانتی۔۔۔

دراصل ہوا ایسا کہ ان کا ایک ہی بھائی جو خود بھی اکیلا اب دل کا مریض ہے اور ایک بیوہ بہن اسکا خیال رکھ رہی اور وہ اسکو ساتھ پال رہا۔۔۔
یہ دونوں بھی بیوہ ہیں عمریں 60 65 سال ہیں۔۔۔

انہوں نے بھائی کی بیٹی کو بیٹی بنا کر پالا پوسا اور اسکی شادی کی۔۔جو کچھ عرصہ بعد اللہ کو پیاری ہو گئی۔۔۔اور ان کے شوہر کو بیٹا بنا لیا۔وہ بھی Parents کے جیسے سنبھالتا رہا۔۔۔

اللہ پاک کی طرف سے آزمائش سمجھیں۔۔۔اسکو پتے کی پتھری diagnosed ہوئی ۔۔اسکا laser operation کرایا۔۔

جس کے بعد اللہ معاف کرے اسکو خوراک کی نالی کا Cancer 🦀 diagnosis ہوا۔ اب تک اسکے 3 آپریشن ہو چکے۔۔۔

یہاں بتاتا چلوں جس نے بچی بھائی کی گود لی تھی اسکی تقریباً 20ـ25 سال پہلے شادی ہوئی گھر والا مارا گیا۔اولاد نہیں تھی۔۔۔تبھی اب اسکو سہارا کیلئے بیٹا بنایا۔تب جو پنشن بنی اب سال پہلے کوئی 22Kتھی۔ جسکی کاپی پہ انہوں نے بیٹے کے کینسر کے علاج کے لیئے 4 لاکھ انٹرسٹ پہ لون نکلوایا تھا سال پہلے۔۔۔اس بھائی کا اپنا والد اللہ کو پیارا۔۔۔والدہ بہری۔۔بھائی جو ہو سکتا تھا زمین بیچ کے اس پر لگا چکا۔۔کوئی 80 لاکھ کے قریب لگ چکا۔۔

اب مسئلہ یہ ہے کہ اس پر کوئی 15 لاکھ تک لوگوں کا ادھار بن چکا ہے۔۔اور جو روزی کے وسیلے تھے وہ بھی بند ہو گئے۔۔

سب سے بڑھ کر یہ کے جو ان کی بک پر سال پہلے ادھار لیا تھا وہ 22K میں سے 4K بچتا باقی interest rate کے کاٹ لیتا بینک اور ادھار ادھر کا ادھر ہی بقایا ہے۔۔۔جسکو سہارا بنایا تھا وہ خود اب ان کے سہارے پر ہے۔۔اور یہ دونوں خود 4 ہزار سے مہینہ میں گزارا کر رہیں۔۔

اللہ کے بندو۔۔۔ہمسائے ایسے کہ غربت کی وجہ سے سلام لینا بھول گئے۔۔۔

آپ سے اتنی گزارش ہے جو جتنی ہو سکے اپنی جنت کما سکتا ہے۔۔ان کا قرض اتار کر یا کینسر کے علاج میں مدد کرکے۔۔۔اسکا پتا کاٹ لیا گیا۔اب خوراک کی نالی میں 3 سٹنٹ ڈال چکے۔۔کچھ بہتری کی امید ہے اب اللہ کرے شفا دے اور آزمائش سے نکال دے ان سب کو۔۔۔ان کا صبر دیکھ کے مجھ سے رہا نہیں گیا ابھی تک ان حالات میں کسی کے آگے انہوں نے ہاتھ نہیں پھیلایا۔۔

جب حالات پتا چلے۔۔۔ان کے گھر شام کو بھوک نہیں کا بہانا کیا صبح چائے ساتھ دو نوالے لیے اور جو ہو سکتا تھا ان کی لئے کیا اور گھر کی راہ لی۔۔

مجھے اپنی تکلیف بھول گئی اور ایک یہ بات ذہن میں سارے سفر میں رہی تب سے کہ ان کی کیسے مدد کر کے اپنا حصہ ڈال سکوں۔۔۔ابھی صبح 11 Aug 2026 جاگا نماز پڑھی۔۔۔موبائل اٹھایا۔۔سکرول کرتے کرتے دل میں خیال آیا جو دل 💓 میں ہے لکھ دو۔۔۔

باقی

اللہ پاک کی ذات جانے ان کے نیک بندے۔۔۔یہ ادھار اور کینسر کی بیماری۔۔۔۔ اللہ سب کو اپنی نیتوں کا اجر دے۔۔۔امین۔۔

جو بھی مدد کرے اسکا سکرین شاٹ انباکس کر دے آپکی امانت کا ثبوت ہو۔۔۔شکریہ۔۔۔
JazzCash
+92-307-515-6669
NBP IBAN
PK12NBPA0496003070880695
Post Owner(aamarhayatkhan)
Copy right claim reserve...

Twins city hu aur skoon na ho ho e ni skta...Good morning 🌄
09/08/2026

Twins city hu aur skoon na ho ho e ni skta...Good morning 🌄

'ہمارے گھر کی خواتین صبح 5 بجے تک جاگ رہی تھیں۔ گھر کے بچے روڈ پر گاڑیوں کے انتظار میں تھے۔ اس قدر بڑے غم میں ہم یہی کر ...
02/08/2026

'ہمارے گھر کی خواتین صبح 5 بجے تک جاگ رہی تھیں۔ گھر کے بچے روڈ پر گاڑیوں کے انتظار میں تھے۔ اس قدر بڑے غم میں ہم یہی کر سکتے تھے۔ ہمیں اس سے کم از کم سکون تو ملا' مفتی اسد اللہ

کل جب بلوچستان کوئلہ کان میں جان سے جانے والے مزدوروں کی لا۔شیں فلائنگ کوچ میں لائی جا رہی تھیں تو انہوں نے وہ حالات دیکھے جو شاید ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ اس مشکل وقت میں خوازہ خیلہ سے تعلق رکھنے والے امام مسجد، خطیب اور مدرس مفتی اسد اللہ نے وہ کردار ادا کیا کہ جس کی بدولت انسانیت پر یقین مزید پختہ ہوگیا۔

رات گہری ہوتی جا رہی تھی۔ شانگلہ آنے والی سڑک پر خاموشی تھی لیکن خوازہ خیلہ کے ایک گھر میں سب جاگ رہے تھے۔ وہاں لوگ کسی مہمان کے انتظار میں نہیں تھے بلکہ ان قافلوں کے منتظر تھے جو اپنے ساتھ درجنوں مزدوروں کی لا۔شیں لے کر آ رہے تھے۔

بلوچستان کی کوئلہ کان میں پیش آنے والے ا۔لمناک حادثے کے بعد جب شانگلہ کے مزدوروں کی میتیں آبائی علاقوں کی طرف روانہ ہوئیں تو ڈاکٹر اسد جو خود ضلع شانگلہ سے تعلق رکھتے ہیں نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر سا پیغام لکھا۔ انہوں نے بتایا کہ میتو۔ں کے ساتھ آنے والے افراد طویل سفر کے بعد خوازہ خیلہ پہنچیں گے اس لیے ان کے لیے کھانے پینے کا انتظام کیا جائے۔

یہ پیغام خوازہ خیلہ بٹئی کے رہائشی مفتی اسد اللہ کی نظر سے بھی گزرا۔ انہوں نے فوراً ڈاکٹر اسد سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ قافلہ اس وقت کہاں تک پہنچا ہے اور کس چیز کی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر اسد نے بتایا کہ گاڑیاں مختلف وجوہات کی بنا پر خاموشی سے سفر کر رہی ہیں اور وہ مسلسل ڈرائیوروں سے رابطے میں ہیں۔ قافلے میں شامل افراد سرکاری اور سیاسی لوگوں سے چھپ چھپ کر جا رہے تھے۔ وہ کسی کو پولیٹیکل پوائنٹ سکورنگ کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔

مفتی اسد اللہ کے مطابق اس کے بعد ان کے گھر میں جیسے ایک امدادی مرکز قائم ہو گیا۔ گھر کی خواتین رات بھر جاگتی رہیں۔ صبح پانچ بجے تک کھانے پینے کی تیاری جاری رہی۔ وہ کہتے ہیں کہ گھر کی خواتین نے اس خدمت کو اپنا فرض سمجھا اور اسی خدمت میں انہیں دلی سکون ملا۔

ادھر قافلے سے مسلسل اطلاعات آ رہی تھیں۔ راستے میں معلوم ہوا کہ میتوں کے ساتھ سفر کرنے والے افراد کو شدید بدبو اور دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ رات کے وقت منگورہ میں روم سپرے تک دستیاب نہیں تھے۔ مفتی اسد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے اپنے گھروں سے روم سپرے نکال کر قافلے تک پہنچائے تاکہ سفر کچھ آسان ہو سکے۔

اسی دوران ایک اور ضرورت سامنے آئی۔ حادثے میں جان سے جانے والے کئی مزدوروں کی لا۔شوں کی حالت انتہائی خراب تھی۔ مفتی اسد اللہ، ڈاکٹر نظام، احمد سعید، ان کے گھر کے بچوں اور دیگر رضاکاروں نے سڑک کنارے کھڑے ہو کر قافلے کا انتظار کیا اور میتو۔ں کی حفاظت کے لیے روئی سمیت دیگر ضروری سامان فراہم کیا۔

پہلے تین گاڑیاں خوازہ خیلہ پہنچیں تو ان کے مسافروں کو ڈیرے پر بٹھا کر کھانا پیش کیا گیا لیکن کھانے کے فوراً بعد وہ جلدی جلدی چائے پینے لگے۔ جب وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے بتایا کہ گاڑیوں میں موجود میتو۔ں کی حالت خر۔اب ہو رہی ہے اور انہیں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس پر میزبانوں نے برتن، کھانا اور دیگر سامان خود سڑک کنارے منتقل کیا، چٹائیاں بچھائیں تاکہ باقی آنے والے افراد بھی بغیر وقت ضائع کیے کھانا کھا سکیں اور دوبارہ سفر شروع کر دیں۔

کچھ دیر بعد مزید دس گاڑیاں پہنچیں۔ ہر گاڑی میں تقریباً 8 افراد سوار تھے۔ ان میں میتوں کے ساتھ آنے والے لواحقین، رضاکار اور ڈرائیور شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سے نکلنے کے بعد خوازہ خیلہ تک انہوں نے صرف پانی پیا تھا جبکہ تب تک کھانا نہیں کھایا۔ مسلسل سفر، بھوک اور ذہنی دباؤ کے باعث ان کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے۔

ان تمام گاڑیوں میں موجود افراد کے لیے کھانے اور مشروبات کا انتظام کیا گیا۔ پنجاب اور ہزارہ سے تعلق رکھنے والے ڈرائیور بھی شدید تھکن اور بھوک کا شکار تھے۔ مفتی اسد اللہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں مالی مدد کی بھی پیشکش کی اور ساتھ چلنے کی خواہش ظاہر کی لیکن انہوں نے شکریہ ادا کرتے ہوئے صرف ایک درخواست کی کہ انہیں کھانا دے دیا جائے اور ان کے سامنے سیاسی لوگوں کو نہ لایا جائے۔ چنانچہ مقامی لوگوں نے کسی قسم کی سیاسی تشہیر یا سرکاری نمائندے کو اس امدادی سرگرمی کا حصہ نہیں بننے دیا۔

خوازہ خیلہ بٹئی سے تعلق رکھنے والے مفتی اسد اللہ نے دینی تعلیم کراچی کے بنوری ٹاؤن سے حاصل کی ہے۔ ان کے والد سرکاری سکول کے استاد ہیں۔ وہ جامعہ مسجد لوئی جمات کے امام و خطیب ہیں۔ اپنے کئی مدارس کے مہتمم ہیں جہاں طلباء و طالبات کو دینی تعلیم دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی جرگوں میں شرکت اور سماجی خدمت بھی ان کی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔

ہر معاشرے کی اصل طاقت وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی صلے، شہرت یا سیاسی فائدے کی امید کے بغیر مصیبت زدہ انسانوں کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان سے اپنے پیاروں کی میتیں لے کر آنے والے یہ لوگ شاید زندگی بھر اس رات کو نہ بھول سکیں جب خوازہ خیلہ میں چند گھروں کے دروازے ان کے لیے کھلے تھے، گرم کھانا ان کا منتظر تھا اور اجنبی لوگ اپنے دکھ کو ان کا دکھ سمجھ کر خدمت کر رہے تھے۔ مفتی اسد اللہ، ان کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے ثابت کیا کہ انسانیت کا سب سے خوبصورت چہرہ وہی ہے جو غم کے اندھیروں میں خاموشی سے دوسروں کا سہارا بن جائے۔ ایسے لوگ معاشرے کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات اس بات کی یاد دلاتی ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی ہمدردی، ایثار اور اخلاص زندہ رہتے ہیں۔
Post credit to
yousafzai
ادیب یوسفزئی

GHQ Jobs As Civilian Employee
30/07/2026

GHQ Jobs As Civilian Employee

21/07/2026

When Maulana without ruling Party...
Comments must be funny 😁 😂 😀

Address

Dammam Port
Rawalpindi
32210

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AHKhan Writes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AHKhan Writes:

Shortcuts

Share