30/04/2026
تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام کے نام بندہ ناچیز کا ایک عاجزانہ پیغام
محترم علمائے کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک عام آدمی، علم سے ناواقف، میری طرح کا ان پڑھ جب کسی مسلک کے عالمِ دین پر زبان درازی کرتا ہے، اعتراض کرتا ہے، تو یہ جہالت اپنی جگہ۔
مگر افسوس کا مقام یہ ہے کہ بعض اوقات ہمارے کچھ علماء بھی ان جاہلوں کی صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کیوں؟ صرف اس لیے کہ آپس میں مسلکی یا فقہی اختلاف ہے۔
لہٰذا تمام مکاتبِ فکر کے علماء سے ہماری عاجزانہ درخواست ہے:
اگر آپ اپنے کسی عالم بھائی کا دفاع نہیں کر سکتے، تو خدارا مخالفین کی صف میں بھی کھڑے نہ ہوں۔ خاموش رہنا، تنقید نہ کرنا بھی ایک طرح کا دفاع ہے۔
یاد رکھیں: آج جس کے خلاف آپ کسی جاہل کا ساتھ دے رہے ہیں، کل وہی جاہل موقع ملنے پر آپ پر بھی وار کرے گا۔ کیونکہ مخالف یہ نہیں دیکھتا کہ یہ پنجپیری ہے، وہابی ہے، بریلوی ہے یا دیوبندی ہے۔
مخالف صرف "مولوی" اور "مدرسہ" کے نام کا دش م ن ہے۔ وہ آپ کی کمزوریاں تلاش کرتا ہے، آپ کے اختلافات کو ہوا دیتا ہے، تاکہ دین کے ہر نمائندے کو بدنام کر سکے۔
آج اگر آپ نے اپنے بھائی کو گرا دیا، تو کل آپ کو گرانے والے بھی تیار بیٹھے ہیں۔
آج اگر آپ نے مسلک کے نام پر کسی عالم کو رسوا کیا، تو کل آپ کا مسلک بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
اختلاف اپنی جگہ، مگر اتحاد دین کی ضرورت ہے۔
فقہی مسائل میں اختلاف صحابہ کے دور سے چلا آ رہا ہے، یہ رحمت ہے۔ مگر ایک دوسرے کی عزت اچھالنا، دشمن کے ہاتھ مضبوط کرنا — یہ زحمت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "المسلم أخو المسلم، لا يظلمه ولا يخذله"
مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔
لہٰذا ہاتھ جوڑ کر عرض ہے:
جب کوئی جاہل عالم پر حملہ کرے، تو آپ کم از کم خاموش رہیں۔ اگر ہمت ہے تو علمی دفاع کریں۔ مگر خدارا اس جاہل کے ساتھ مل کر اپنے ہی بھائی کی پگڑی نہ اچھالیں۔
کیونکہ دش من جب وار کرتا ہے تو وہ مسلک نہیں پوچھتا، وہ صرف "مولوی" دیکھتا ہے۔
اور اگر ہم نے آج ایک دوسرے کو گرایا، تو کل کوئی بھی کھڑا نہیں رہے گا۔
اللہ ہم سب کو اتحاد، بصیرت اور ایک دوسرے کی عزت کرنے کی توفیق دے۔
یہ پیغام کسی ایک مسلک کے لیے نہیں، ہر اس شخص کے لیے ہے جو دین کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔ اختلاف رکھو، مگر دشمنی نہ کرو۔
کاپی پیسٹ✍️