Dars e Aman

Dars e Aman ھم آمن کیلۓ اور آمن ھم سب کیلۓ

15/02/2026

مدارس کے لیے چندہ کرنے والے علماء کرام سے ایک طالب علمانہ درخواست
✍️ : ولی اللہ القاسمی

!معزز علماء کرام
دینی مدارس اسلام کے وہ مضبوط قلعے ہیں جہاں سے دین کی حفاظت اور اشاعت کا فریضہ انجام پاتا ہے۔ ان مدارس کا نظام چلانا، اساتذہ کی تنخواہیں، طلباء کی کفالت اور دیگر اخراجات کا بندوبست کرنا یقیناً ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ وہ علماء کرام اور مہتمم حضرات جو ان مدارس کی بقا کے لیے "سفیر" بن کر شہر شہر اور گاؤں گاؤں کا سفر کرتے ہیں، ان کی قربانی اور اخلاص کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ آپ حضرات اپنا گھر بار چھوڑ کر، موسم کی سختیوں اور سفر کی تھکاوٹ کو برداشت کرتے ہوئے، دین کی خدمت کے لیے جو تگ و دو کرتے ہیں، وہ لائقِ تحسین ہے۔

میں ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے، آپ کی ان قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہوئے، بصد ادب چند ایسی باتوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہمارے اس مقدس مشن کے وقار کو مجروح کر رہی ہیں۔ یہ گزارشات تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ اصلاح برائے تعمیر کے جذبے سے پیش کی جا رہی ہیں۔
چند قابلِ غور پہلو درج ذیل ہیں:

*۱۔ امراء کی خوشامد نہ کریں*
آپ "وارثینِ انبیاء" ہیں۔ آپ کے سینوں میں قرآن اور حدیث کا نور ہے۔ جب ایک عالمِ دین چند سکوں کی خاطر کسی مالدار یا سیٹھ کی حد سے زیادہ خوشامد کرتا ہے، تو اس سے نہ صرف اس عالم کی اپنی وقعت کم ہوتی ہے بلکہ "علمِ دین" کا وقار بھی مجروح ہوتا ہے۔
مالداروں کے سامنے بچھ جانا اور ان کی چاپلوسی کرنا علماء کی شان نہیں۔
دینے والا اللہ ہے، یہ سیٹھ محض ایک ذریعہ ہے۔ ذریعے کو "رازق" کا درجہ نہ دیں۔
*۲۔ عزتِ نفس کا تحفظ*
دین کے کام کے لیے تعاون مانگنا سنت ہے اور یہ کوئی عیب نہیں، لیکن اس کا طریقہ کار باعزت ہونا چاہیے۔ بعض اوقات چندہ کے حصول کے لیے عزتِ نفس کو اس طرح نیلام کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔
سوال کرتے وقت لہجہ باوقار رکھیں۔ گڑگڑا کر یا اپنی مجبوریوں کا رونا رو کر چندہ لینا ایک مسلمان، بالخصوص ایک عالم کو زیب نہیں دیتا۔
استغناء (بے نیازی) کے ساتھ اپنی ضرورت پیش کریں، اگر کوئی دے تو جزاک اللہ، نہ دے تو اس سے بھی بہتر رویہ رکھیں۔
*۳۔ صداقت اور دیانت (جھوٹ سے پرہیز)*
سب سے تکلیف دہ پہلو وہ ہے جہاں چندے کی خاطر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رزق میں برکت سچائی میں رکھی ہے، جھوٹ میں نہیں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ طلباء کی تعداد اگر مدرسے میں ۵۰ ہے تو چندہ بڑھانے کے لیے انہیں ۲۰۰ یا ۳۰۰ بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح مدرسے کے اخراجات کو کئی گنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔
یاد رکھیں! دینی کاموں کی بنیاد ہی "تقویٰ" اور "سچائی" پر ہے۔ اگر بنیاد میں جھوٹ شامل ہو جائے تو عمارت کبھی بابرکت نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ اتنے ہی وسائل مہیا فرماتا ہے جتنی ضرورت ہوتی ہے، بشرطیکہ توکل کامل ہو۔
*۴۔ طلباء کا تعارف "قابلِ رحم مسکین" نہیں، "امت کا عظیم سرمایہ"*
ایک بہت اہم کوتاہی الفاظ کے انتخاب میں دیکھنے میں آتی ہے۔ اکثر چندہ کرتے وقت یہ جملے دہرائے جاتے ہیں کہ "ہمارے مدرسے کے غریب، مسکین، یتیم، مفلس اور نادار بچوں کا خیال رکھیں۔"
یہ اندازِ تخاطب ان طلباء کی توہین ہے جو اللہ کا کلام اپنے سینوں میں محفوظ کر رہے ہیں۔ خدارا! قوم کے سامنے ان کا تعارف ان کی غربت سے نہیں، بلکہ ان کی عظمت سے کروائیں۔ عوام کو بتائیں کہ
یہ بچے "امت کا عظیم سرمایہ" ہیں جو کل دین کی کشتی کو سنبھالیں گے۔
یہ "مہمانانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم" ہیں، جن کی خدمت سعادتِ دارین ہے۔
یہ "قال اللہ و قال الرسول" کی صدائیں بلند کرنے والے اور دین کے محافظ ہیں۔
جب آپ انہیں قابلِ رحم بنا کر پیش کرتے ہیں تو دینے والا خیرات سمجھ کر دیتا ہے، لیکن جب آپ انہیں "وارثِ دین" بنا کر پیش کریں گے تو دینے والا اسے اپنی خوش نصیبی سمجھ کر خدمت کرے گا۔
*خلاصہ کلام*
میرے واجب الاحترام علماء کرام! آپ کا کام بہت اہم ہے اور آپ کی قربانیاں بہت بڑی ہیں۔ خدارا! چند دنیاوی سکوں کے لیے اپنے اس اونچے مقام کو نیچے نہ آنے دیں۔
عوام کے سامنے اپنی ضروریات سچائی کے ساتھ رکھیں۔
مالداروں کی دہلیز پر علم کی پگڑی نہ جھکائیں۔
جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے بچ کر اللہ کی ذات پر بھروہ کریں۔
طلباء کو مسکین ظاہر کرنے کے بجائے انہیں قوم کے سامنے ایک قابلِ فخر سرمایہ بنا کر پیش کریں۔
اللہ تعالیٰ آپ کی خدمات کو قبول فرمائے اور ہمیں دین کا صحیح فہم عطا فرمائے۔ (آمین)

24/01/2026

شادی اور اسکے تحفظات۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجکل جو شادیاں خاندانوں سے باھر ھوتی ھیں۔عموما لڑکے بے سوچے سمجھے تین تین طلاقیں دے دیتے ھیں۔۔اسکے بعد مسئلہ یہ کھڑا ھوجاتا ھے کہ لڑکی کا مستقبل کیا ھوگا۔؟
ظاھر ھے وہ واپس اپنے ماں باپ یا بھائیوں کے سر ھی بوجھ بنتی ھے۔کیونکہ عموما لڑکیاں کمائ دار نہیں ھوتیں ھیں۔۔۔تو
پھر اس کے زندگی کے تمام لوازمات۔ یہانتک کہ اسکی دوبارہ شادی کے اخراجات تک انکو اٹھانے پڑتے ھیں۔۔لھذا
شریعت نے طلاق کو حلال مگر مبغوض فرمایا ھے۔۔اللہ سب کو بچائے آمین۔۔۔
طلاق کی صورت میں اگر لڑکی کو معقول حق مہر مل جاتا ھے۔۔ تو اسکی اگلی زندگی قدرے آسان ھو جاتی ھے۔۔لھذا
زمانہ کے حالات کے مطابق لڑکی کو مناسب مقدار میں سونا۔ یا پلاٹ۔ یا مکان دے دینا کوئ برا نہیں ھے۔۔لیکن۔۔ اسکو مشروط کردیا جائے کہ اگر لڑکی کی وجہ سے طلاق کی نوبت آئے گی تو لڑکی کو کوئ ایک۔ دو چیز واپس کرنی ھوگی۔۔جیسے حدیث شریف میں ھے کہ
ایک عورت نے خاوند سے طلاق کا مطالبہ۔کیا تو آپ علیہ السلام نے فرمایا حق مہر والا باغ خاوند کو واپس کر دو الخ۔۔الحدیث۔۔لھذا۔۔
حق مہر کو معجل ۔غیر معجل لکھنے کی بجائے اگر مشروط اور غیر مشروط لکھ دیا جائے تو زیادہ مناسب ھوگا۔۔کیونکہ۔ معجل اور غیر معجل دونوں ھی حق مہر بن کر لڑکی کی ملکیت بن جاتے ھیں۔۔ پھر طلاق کے بعد لڑائیاں ھوتی ھیں۔۔جبکہ اس صورت میں غیر مشروط لڑکی کی ملکیت رھے گا۔ اور مشروط قابل واپسی ھوگا ۔۔اور مسائل بھی پیدا نہیں ھونگے۔۔
دوسری جانب جب لڑکی کا حق مہر معمولی رکھا جاتا ھے۔اور بسا اوقات اسکا خاوند فوت ھوجاتا ھے۔اور سسر زندہ ھوتا ھے۔تو شرعا وہ بیوی اور اسکے بچے اسکے باپ کی غیر منقسمہ جائیداد اور وراثت سے محروم ھو جاتے ھیں۔۔ جسکو لبرل معاشرہ کسی قیمت قبول نہیں کرتا۔۔ تو ایسی صورت میں یہی حق مہر لڑکی اور اسکے بچوں کو جب مل جائے گا تو اس سے انکی کفالت میں آسانی ھوگی ۔ اور اگر لڑکی ناشزہ ھو تو مشروط ھونے کی وجہ وہ محروم بھی رھے گی۔۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم۔۔
اگر۔ اس بات میں کچھ وزن محسوس ھو تو اسکو آگے ضرور شئر کریں ۔۔شکریہ
اللہ ھم سب کی حفاظت فرمائے۔۔۔آمین

14/01/2026
نقشہ برائے مراکز شعبہ حفظ
14/01/2026

نقشہ برائے مراکز شعبہ حفظ

04/01/2026

واہ ہمارے اکابر کی عاجزی
مجھے معلوم تو نہی کہ یہ لڑکا کون ہے لیکن حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کےسامنے انکی نقل اتار رہے ہیں جبکہ حضرت مفتی صاحب کتنی عاجزی خوشی سے سن رہے ہیں
سنجیدہ معاملہ کو تفریح نہیں بنانا چاہئے !! تنبیہ(ایک وضاحت)
حال ہی میں ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں کوئی نادان شخص حضرت شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتھم کی آواز میں نقالی کر رہا ہے اور مفتی صاحب اس کی نوٹنکی پر حیرت کناں ہیں۔
جبکہ ہمارے کچھ سادہ مزاج ساتھی تعریفی الفاظ کے ساتھ اس عمل کی حوصلہ افزائی فرما رہے ہیں۔
میری دانست میں اس عمل کی پذیرائی بالکل نہیں ہونی چاہئے۔ کچھ نقال اس صلاحیت کا ناجائز فائدہ اٹھا لیا کرتے ہیں۔ ماضی قریب میں مولانا طارق جمیل صاحب دامت برکاتھم کے ایک نقال نے ایسا ہی کچھ کیا تو مولانا کو وضاحتی ویڈیو بیان جاری کرنا پڑا کہ “ادارے کی امانت معتمد افراد کو ہی دی جائے”۔میرے والد مرحوم بھی چونکہ ایک مشہور شخصیت تھے تو اس حوالے سے ہم نے بھی کچھ نقالوں کی کارستانیاں دیکھیں۔ حضرت مفتی صاحب امت کیلئے امامت کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کا ہر ہر لفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔بعض معاملات میں ان کے الفاظ قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ ان کی نقالی اور وہ بھی محض آواز کی۔ہرگز مستحسن نہیں۔اس شرارت کا فوری اثر دیکھئے کہ حضرت کے صوتی پیغامات ( وائس کلپس ) شک و شبہ کی گہری دھند میں لپٹ گئے۔
اے کاش !
آواز کے بجائے اقوال و افعال میں اقتدا اور اسی کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ورنہ اداکار تو ہر قوم و مذھب میں مل جاتے ہیں۔
سید فیصل ندیم

اے گردش ایام مجھے رنج بہت ہےکچھ لوگ تھے ایسے جو بچھڑنے کے نہی تھے
29/12/2025

اے گردش ایام مجھے رنج بہت ہے
کچھ لوگ تھے ایسے جو بچھڑنے کے نہی تھے

مدارس بارے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کا خوبصورت تجزیہ
28/12/2025

مدارس بارے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب کا خوبصورت تجزیہ

مادر علمی جامعہ عربیہ اشاعت القرآن حضرو ضلع اٹک میں 30 دسمبر بروز منگل ختم بخاری ہےاگر اس دور میں کوئ تمام دینی جماعتوں ...
27/12/2025

مادر علمی جامعہ عربیہ اشاعت القرآن حضرو ضلع اٹک میں
30 دسمبر بروز منگل ختم بخاری ہے
اگر اس دور میں کوئ تمام دینی جماعتوں کو ایک سٹج پر دیکھنا چاہتا ہے تو اللہ نے دیگر کچھ مواقع کے ساتھ یہ شرف اس جامعہ کو بھی بخشا ہے
مجھے اپنے شیخ ومربی کے تعزیتی پروگرام میں ایے ہوئے مہمانوں میں سے ایک قائد کا یہ جملہ اج تک یاد ہے اور قسم اٹھا کر کہا کہ٫٫ ہم میں سے ہر جماعت کا قائد اس بات کی قسم اٹھا سکتا ہے کہ حضرت شیخ رح ہمارے قائد اور سرپرست تھے٬٬

Address

7th Road
Rawalpindi
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dars e Aman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Dars e Aman:

Share