12/07/2026
کل رات محمول کے مطابق میں جب اپنے بھتیجے فرقان کو پڑھا رہا تھا تو میں نے اس سے سوال کیا کہ بڑے ہو کے کیا بنو گے اور سوال کرنے کے بعد میں اس کوانتخاب بتانے لگا کہ ڈاکٹر، انجنیر، ابھی میں اسکو بتا ہی رہا تھا کہ اس نے تجسس میں سوال کیا انجیر کیا کرتا ہے میں نے کہا کہ وہ سڑکیں، گھر وغیرہ تحمیر کرتا ہے تو اس پر اس نے کہا کہ میں بھی گھر بناؤں گا تو میں انجنیر بنوگا میں کہا ٹھیک ہے اس کے لیے آپ کو بہت زیادہ پڑھنا پڑے گا جس پر اس نے کہا ٹھیک ہے۔
تھوڑی دیر بعد اس نے کہا کہ گھر تو مزدور بناتے ہیں میں انجنیر نہیں بنوگا میں نے مزاق کیا میں ڈاکٹر بنوگا میں نے کہا ٹھیک ہے لیکن ڈاکٹر بننے کے لیے بہت زیادہ پڑھنا پڑے گا جس پر اس نے کہا ٹھیک ہے میں بہت زیادہ پڑھوں گا۔
پھر میں نے پوچھا کہ مریض سے پیسے لوگے تو اس نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دکھاتے ہوے کہا جی لالا اتنے پیسے لوں گا اور آپ کو دوں گا وہ اور جب میں نے پوچھا کہ کوئی غریب آگیا تو؟ آگے سے کہتا ہے کہ اس کو پیسے دوں گا میں تاکہ وہ خوش ہو جائے، میں نے کہا کہ نہں اگر وہ علاج کہ لیے آئے تو پیسے لوگے؟ کہتا بلکل بھی نہیں وہ تو غیرب ہے میں اس سے پیسے نہیں لونگا اور علاج مفت کروں گا۔
یہ سن کے ایک دفعہ میں سوچنے پر مجبور ہوگیا کہ چھوٹے بچے واقح ہی فریشتوں جیسے ہوتے ہیں، ان کے دل آئینے جیسے صاف ہوتے ہیں اور کسی کے لیے کوئی نفرت کچھ بھی نہیں ہوتی۔