JUI Force

JUI Force پولٹیکل پارٹی جمعیت علماء اسلام پاکستان

اسلام آباد: قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے نواسہ مرشد عالم حضرت مولانا صاحبزادہ  پیر عبد...
19/07/2026

اسلام آباد: قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب دامت برکاتہم العالیہ سے نواسہ مرشد عالم حضرت مولانا صاحبزادہ پیر عبد الشکور نقشبندی دامت برکاتہم کی اسلام اباد میں انکی رہائش گاہ پرتفصیلی ملاقات۔۔

مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھےمیں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھےرچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرورِ گناہ ابھی تو خوف نہیں...
19/07/2026

مفاہمت نہ سکھا جبرِ ناروا سے مجھے
میں سربکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرورِ گناہ
ابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

قایئد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمان صاحب کا ان اشعار کے ساتھ اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب کا آغاز

19/07/2026
وکلاء کنونشن اسلام آباد
19/07/2026

وکلاء کنونشن اسلام آباد

18/07/2026

راولپنڈی۔۔
قائد جمعیتہ حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے حالیہ بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر سوشل میڈیا پر غلط انداز میں پیش کیے جانے اور ان کے خلاف جاری منفی مہم کے حوالے سے جمعیت علمائے اسلام حلقہ چاکرہ کے زیر اہتمام خانقاہ نقشبندیہ ملک آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے پیر طریقت حضرت مولانا صاحبزادہ پیر عبدالشکور نقشبندی صاحب خطاب فرما رہے ہیں امیر جے یو آئ چاکرہ مولانا سیف اللہ خالد،محمد اسد خان ایڈوکیٹ،مولانا تاج محمد ہزاروی،مولانا سہیل ہزاروی صاحبزادہ عمر فاروق نقشبندی مفتی عاشق الٰہی صاحب قاری سجاد صاحب قاری شکیل احمد نقشبندی کوارڈینیٹر ڈیجیٹل میڈیا حلقہ چاکرہ سیف السلام صاحب اور علاقہ کےدیگر علمائے کرام تشریف فرما ہیں۔۔
پاکستانی عوام بلخصوص جمعیت علمائے اسلام کے کارکنان قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے ہر حکم پر لبیک کہیں گے۔۔







پریس کانفرنس۔۔
خانقاہ نقشبندیہ چاکرہ راولپنڈی•

 #قصور کے  #جلسے میں  #مولانا نے کوئی اشتعال انگیز بات نہیں کی۔ انہوں نے صرف ریاست کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی۔ انہوں نے...
17/07/2026

#قصور کے #جلسے میں #مولانا نے کوئی اشتعال انگیز بات نہیں کی۔ انہوں نے صرف ریاست کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی۔ انہوں نے نوجوانوں کو کہا کہ تمہارا کام #تعلیم ہے، #ہنر ہے، ملک کی #تعمیر ہے۔ #بندوق اٹھانا تمہارا کام نہیں
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ ٰن نے جو جملہ کہا، وہ صرف ایک تقریر کا حصہ نہیں تھا۔ وہ آئینے کی طرح تھا جس میں پورے نظام کو اپنا چہرہ نظر آ گیا۔

#مولانا نے کہا:
"تم ہمیں کہتے ہو تم لشکر بنادو، تم لڑو۔ نہیں، لڑنا ہمارا کام نہیں، تمہارا کام ہے۔ تنخواہ تم لیتے ہو، ہم نے کوئی تنخواہ نہیں لی۔"

بس یہ ایک جملہ تھا، اور سارا میڈیا، سارے تجزیہ نگار، سارے " #دانشور" مولانا کے پیچھے پڑ گئے۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہوا کیا؟ مولانا نے کوئی غداری تو نہیں کی۔ انہوں نے ملک دشمنی کی بات تو نہیں کی۔ انہوں نے صرف آئین میں لکھا ہوا اصول یاد کروا دیا۔

پاکستان کا آئین بہت واضح ہے۔ ملک کا دفاع کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اور ریاست کی یہ ذمہ داری ان اداروں کے سپرد ہے جو اس کام کے لیے تنخواہ لیتے ہیں، ٹریننگ لیتے ہیں، بجٹ لیتے ہیں۔ ایک عام شہری، ایک عالم، ایک سیاسی کارکن کا کام ووٹ دینا ہے، ٹیکس دینا ہے، قانون ماننا ہے۔ لشکر بنانا اور بارڈر پر لڑنا اس کا کام نہیں۔

تو #مولانا نے غلط کیا؟ انہوں نے بس یہ کہا کہ "اپنا کام کرو"۔ اگر یہ جرم ہے تو پھر آئین بھی جرم ہے۔

جو لوگ آج مولانا پر سوال اٹھا رہے ہیں، وہ ذرا مولانا کی تاریخ پڑھ لیں۔ #9/11 کے بعد جب پوری دنیا دہشتگردی کی آگ میں جل رہی تھی، مولانا نے سب سے پہلے کہا تھا کہ "جہاد کے نام پر فساد بند کرو"۔ جب ملک میں دہشتگردی کی لہر آئی تو مولانا کے اپنے کارکن شہید ہوئے۔ ان کے جلسوں پر بمباری ہوئی۔ ان کی گاڑیوں پر حملے ہوئے۔ لیکن مولانا ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے۔

کیوں؟ کیونکہ مولانا کا بیانیہ شروع دن سے واضح ہے: پاکستان کا دفاع ہوگا، لیکن آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر۔ ریاست کے ادارے مضبوط ہوں گے، لیکن سیاست میں مداخلت کے بغیر۔

لشکر بنانے کی باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں ریاست کی ذمہ داری کا مطلب نہیں پتہ۔ مولانا ریاست کو کمزور نہیں کرنا چاہتے، وہ ریاست کو اس کے اصل کام پر لگانا چاہتے ہیں۔

یہ جملہ بہت لوگوں کو چبھا۔ لیکن یہ تلخ سچ ہے۔ ملک کا اربوں روپے کا بجٹ دفاع پر لگتا ہے۔ ہمارے #بہادر جوان سردی، گرمی، پہاڑوں اور صحراؤں میں کھڑے ہیں۔ اور جان تنخواہ کی خاطر نہی اس ملک کی خاطر دیتے ہیں۔ ہمیں ان پر فخر ہے۔

تو پھر سیاسی یا قبائلی لیڈروں سے " #لشکر" بنانے کا مطالبہ کیوں؟ کیا یہ اداروں کی توہین نہیں کہ ان سے کہا جائے کہ تم ناکام ہو، اب ہم سڑکوں سے فوج بھرتی کریں گے؟ #مولانا نے اسی دوہرے معیار کو ننگا کیا ہے۔

اگر ریاست کو لشکر چاہیے تو بھرتی کرے۔ اگر جنگ ہے تو #پارلیمنٹ فیصلہ کرے۔ اگر دہشتگردی ہے تو #عدالت فیصلہ کرے۔ لیکن سیاستدانوں کو "پرائیویٹ ملیشیا" بنانے کا کہنا، یہ ملک کو #صومالیہ بنانے والی بات ہے۔

سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ نواز شریف اور زرداری جب اسٹیبلشمنٹ پر کھل کر بات کرتے ہیں تو اسے " " کہا جاتا ہے۔ لیکن جب مولانا صرف ایک آئینی نکتہ اٹھاتے ہیں تو اسے " #تنازعہ" بنا دیا جاتا ہے۔

وجہ صاف ہے۔ #نواز اور #زرداری سسٹم کے اندر کے کھلاڑی ہیں۔ ان کی لڑائی کرسی کی ہے۔ لیکن مولانا کی لڑائی اصول کی ہے۔ وہ نہ وزارت کے لیے بکتے ہیں، نہ دباؤ میں آتے ہیں۔ اس لیے وہ خطرناک ہیں۔ اس لیے ان کی ہر بات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

قصور کے جلسے میں مولانا نے کوئی اشتعال انگیز بات نہیں کی۔ انہوں نے صرف ریاست کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی۔ انہوں نے نوجوانوں کو کہا کہ تمہارا کام #تعلیم ہے، #ہنر ہے، #ملک کی تعمیر ہے۔ #بندوق اٹھانا تمہارا کام نہیں۔

آج #پاکستان کو دو طرح کے لیڈروں کی ضرورت ہے۔ ایک وہ جو نعرے لگائیں۔ دوسرے وہ جو راستہ دکھائیں۔ مولانا دوسری قسم کے لیڈر ہیں۔

وہ کہتے ہیں #مدارس بند نہ کرو، انہیں #جدید بناؤ۔ وہ کہتے ہیں #فاٹا کو نظر انداز نہ کرو، اسے ترقی دو۔ وہ کہتے ہیں #فلسطین اور #کشمیر کے لیے آواز اٹھاؤ، لیکن اپنے گھر میں آگ نہ لگاؤ۔

یہی اصل حب الوطنی ہے۔ نعرے لگانا آسان ہے۔ نظام ٹھیک کرنا مشکل ہے۔ مولانا مشکل والا راستہ چن رہے ہیں۔
قصور کے اسٹیج سے #مولانا نے قوم کو ایک سبق دیا۔ کہ ریاست اور عوام کے درمیان لائن کھینچو۔ جس کا جو کام ہے وہی کرے۔ فوج اپنا کام کرے، حکومت اپنا کام کرے، عالم دین اپنا کام کرے، تاجر اپنا کام کرے، استاد اپنا کام کرے۔

جب ہم سب اپنی ذمہ داری نبھائیں گے تو کسی کو لشکر بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ٰن نے گالی نہیں دی، دھمکی نہیں دی، بغاوت نہیں کی۔ انہوں نے بس آئین پڑھ کر سنایا۔ اور اگر آئین پڑھنا بھی اب جرم بن گیا ہے، تو پھر سوچنا پڑے گا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔

ہے کہ جو قومیں اپنے سچے لوگوں کو غدار کہہ دیتی ہیں، وہ قومیں بہت دیر تک قائم نہیں رہتیں۔

مولانا کا جملہ چھوٹا تھا، لیکن سوال بہت بڑا تھا: "تنخواہ تم لیتے ہو"۔ اب جواب بھی انہی کو دینا ہے جن کی یہ تنخواہ ہے۔

15/07/2026

Molana sab na kha ta k hum Zameen itni garam kardingy k ap k talwy bardast NAHI karskingy 🔥🔥🔥

قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مؤ...
15/07/2026

قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن دامت برکاتہم العالیہ کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آر کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ ہمارا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلافات کو قانونی کارروائیوں کے ذریعے دبانے کی کوشش جمہوری اور آئینی اقدار کے منافی ہے۔
جمعیت لائرز فورم راولپنڈی اپنے قائد کے ساتھ ہر محاذ پر شانہ بشانہ کھڑی ہے اور آئین، قانون اور انصاف کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
"تجھ کو آئینہ دکھایا تو برا مان گئے،
آئینہ کسی کا چہرہ نہیں بدلا کرتا۔"
عبدالصمد خان مروت ایڈووکیٹ ہائی کورٹ
صدر، جمعیت لائرز فورم راولپنڈی

Address

Rawalpindi

Telephone

+923335393505

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when JUI Force posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to JUI Force:

Share