Village khinger khurd

Village khinger khurd Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Village khinger khurd, Rawalpindi.

گاؤں کھنگر خورد ضلع راولپنڈی کی تحصیل راولپنڈی میں واقع ایک قدیم اور تاریخی اہمیت کا حامل گاؤں ہے۔ یہ گاؤں راولپنڈی شہر سے تقریباً چونتیس کلومیٹر جنوب مغرب کی طرف، چک بیلی خان روڈ پر آباد ہے۔ انتظامی لحاظ سے یہ یونین کونسل جھٹہ ہتھیال کا حصہ

10/06/2026

ٹھنڈے دودھ کو پھونکیں مارنا چھوڑ دو ورنہ گرم دودھ حلق تک کو جلا دے گا۔آزادی کی قدر مقبوضہ کشمیر،فلسطین سے پوچھوکہ ہندو، یہودی قابض کتنے ظالم و بے رحم ہوتے! قدر کرو🇵🇰کی!

06/06/2026

ایسٹبلشمنٹ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کا بارہ نشستوں والا مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی، اس کمیٹی کی تمام قیادت کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیوں نہ کرنا پڑ جائے کیونکہ وہ پاکستان کی فارن پالیسی کا مین آبجیکٹیو ہے اگر وہ بارہ نشستیں ختم ہوتی ہیں تو انڈیا کو فائدہ ہوگا اور پاکستان کشمیر کی حق خود ارادیت سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ پاکستان نے کشمیر کیلئے شروع دن سے جو موقف دیا ہے وہ ختم ہو جائے گا اسی وجہ سے پاکستان نے شروع سے ہی مہاجرین کو نشستیں دے رکھی ہیں۔

آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ 1947 میں چھ وزراء پر مشتمل تھی، جن میں دو مہاجر کشمیری وزیر غلام دین وانی اور ثناءاللہ شامیم بھی شامل تھے۔دونوں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ شہید مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر الیکشن لڑا تھا مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان کے کشمیری ایک ہیں۔ ان میں کوئی تفریق نہیں۔مہاجر کا مطلب مقبوضہ کشمیر سے آ کر پاکستان میں بسنے والا کشمیری ہے۔ کوئی نئی قوم کا بندہ نہیں ہے۔ اور وہاں سے آئے لوگوں کو ہی یہ بارہ نشستیں ملتی ہیں۔

پاکستان کا شروع دن سے یہی موقف رہا ہے کہ ریفرنڈم کرواؤ اور کشمیر کو آزادی دو۔ ان نشستوں کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کے آرٹیکل 370 کے نفاذ کو درست تسلیم کرنا جوکہ پاکستان نے ہر فارم پر تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کیخلاف آواز اٹھائی۔لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات کے تسلیم ہوئے وہ باقی عوامی مطالبات پر فوکس کرتی مگر ان کی تحریک کی مکمل توجہ انہیں بارہ نشستوں پر ہے کہ ان کو ختم کیا جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اور اس کمیٹی کا ایکس اکاؤنٹ بھی پاکستان سے نہیں چل رہا۔

آزاد جموں کشمیر کی اسمبلی میں کل 53 نشستیں ہوتی ہیں 33 مقامی نشستیں ہیں 12 مہاجرین کی ہوتی ہیں جو (Act VIII of 1974) میں مہاجرین کی نمائندگی بنیادی طور پر Article 22 کے تحت طے کی گئی ہے، اس میں 6 جموں ڈویژن اور 6 کشمیر ڈویژن کے لیے مخصوص ہیں۔ 5 خواتین 1 علماء 1 ٹیکنوکریٹ 1 بیرون ملک کشمیری کی ہوتی ہیں۔

اگر یہ بارہ نشستیں ختم کر دی جاتی ہیں تو انڈیا کے normalcy اور development والے بیانیے کو تقویت ملے گی کہ پاکستان کی طرف سے اب کوئی چیلنج نہیں ہے۔ کیونکہ 2019 میں انڈیا نے Article 370 ختم کر کے Jammu & Kashmir کو دو UTs میں تبدیل کیا انڈیا نے کہا کہ اب کشمیر کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے۔نشستیں ختم ہونے سے انڈیا کے پاس دلیل ہوگی کہ پاکستان بھی عملی طور پر تقسیم قبول کر رہا ہے یعنی AJK مقامی بن رہا ہے اور پورے ریاست کے دعوے سے دستبردار ہو رہا ہے۔جوکہ پاکستان کبھی بھی دستبردار نہیں ہوا۔

اصل میں یہ نشستیں UN resolutions اور plebiscite کے بیانیے سے پاکستان نے جوڑ رکھی ہیں، کیونکہ مہاجرین کو بھی مستقبل کے کسی ریفرنڈم میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے خاتمے سے پاکستان کا او آئی سی اور یونائیٹڈ نیشنز کے مستقبل کے ریفرنڈم میں موقف کمزور ہو جائے گا پاکستان کیخلاف تاثر بن جائے گا کہ پاکستان کشمیر کاز کی سیاسی جہت کو کمزور کر رہا ہے اور مہاجرین کو الگ تھلگ کر رہا ہے۔ انڈیا بھی کہے گا جس نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ کشمیر میں plebiscite کا کوئی معاملہ نہیں، یہ پاکستان کی تیار کردہ صورتحال ہے۔ پاکستان خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور مہاجرین کی نمائندگی ختم کر کے حق خود ارادیت کے دعوے کو خود ہی کمزور کر رہا ہے۔ اس سے پاکستان کا موقف کسی صورت مظبوط نہیں رہے گا۔ اور کشمیر پاکستان و انڈیا کا ورائٹی ایشو بھی ختم ہو جائے گا۔ جس سے پاکستان کئی سالوں کی جنگ ہار جائے گا۔

تحریر: فرحان ملک

At village house with brother Chaudhary Hasnat
30/05/2026

At village house with brother Chaudhary Hasnat

29/05/2026

وہ مقام جہاں پر حضرت ابراہیم نے اللہ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کے قربانی پیش کی۔ اللہ نے انہیں امتحان میں پاس کردیا اور ان کی آسمان سے مینڈھا قربانی کیلیے بھیج دیا۔ جسکی یاد میں آج کروڑوں مسلمان عید پر قربانی کررے ہیں
fans

28/05/2026

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو تجاوزات اور غیر قانونی قبضوں سے پاک کرنے کے لیے انتظامیہ نے ایک بڑے پیمانے پر آپریشن کی تیاری کی ہے، جس کے پہلے مرحلے میں مخصوص علاقوں پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت اسلام آباد کے سیکٹر جی سیون کی کچی آبادیوں، سیکٹر آئی نائن کی کچی آبادیوں اور مہرآبادی کے علاقوں کو خالی کرانے کا ایک جامع اور حتمی پلان تیار کر لیا گیا ہے تاکہ ان سیکٹرز سے غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق اس آپریشن کے آغاز میں انتظامیہ کی جانب سے فوری طور پر طاقت کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ وضع کردہ فریم ورک کے تحت سی ڈی اے انفورسمنٹ کا عملہ رواں ہفتے سے ہی سیکٹر جی سیون، سیکٹر آئی نائن اور مہرآبادی کے تمام غیر قانونی قابضین کو باقاعدہ نوٹسز بھیجنے کا سلسلہ شروع کر رہا ہے۔

ان نوٹسز کے ذریعے ان تینوں مخصوص علاقوں کے قابضین کو ایک ماہ کی حتمی مہلت دی جائے گی تاکہ وہ خود ہی کچی آبادیاں اور غیر قانونی اسٹرکچرز خالی کر دیں۔ انتظامیہ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ایک ماہ کی دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

اگر ان نوٹسز کے باوجود سیکٹر جی سیون، آئی نائن اور مہرآبادی کی آبادیاں خالی نہ کی گئیں، تو رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی میں ہیوی مشینری کے ذریعے تمام غیر قانونی تعمیرات کو مسمار کر دیا جائے گا۔

AI Image

28/05/2026

Eid Mubarak

24/05/2026

امن کی پکار: علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کا کردار
​پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن اور بھائی چارے کا علمبردار رہا ہے۔ موجودہ عالمی تناظر میں، خاص طور پر امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی قیادت کا عزم قابلِ ستائش ہے۔
​آج وقت کی ضرورت ہے کہ جنگی جنون کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی جائے۔ اس سلسلے میں:
​آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی انتھک عسکری سفارت کاری اور سیکیورٹی ڈائیلاگ،
​وزیراعظم پاکستان کی اعلیٰ سطح پر سیاسی کوششیں،
​اور ہماری دفترِ خارجہ کی ٹیم کی شب و روز کی محنت،
​یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور خلیج میں خونریزی کو روکنے اور امتِ مسلمہ کو متحد دیکھنے کے لیے مخلصانہ کوششیں کر رہا ہے۔
​"جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ نئے مسائل کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔"
​ہماری دعا اور مطالبہ ہے کہ عالمی طاقتیں اور علاقائی قائدین ہوش کے ناخن لیں اور پاکستان کی ان امن کوششوں کا ساتھ دیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور مستحکم دنیا میں سانس لے سکیں۔

19/05/2026

انمول پنکی تو کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔!!سندھ پولیس کے ریٹائرڈ ایس پی نے عدلیہ کی ایک کالی بھیڑ کو بے نقاب کردیا ۔۔۔ چند روز قبل گرفتار ہونیوالے برطرف سول جج کے کرتوت آپ کو دنگ کر ڈالیں گے ۔۔۔۔سابق ایس پی نیاز احمد کھوسہ کی ایک پکی رپورٹ کے مطابق ۔۔۔۔زاہد حسین مغیزی کراچی کے کسی علاقہ میں میجسٹریٹ تعینات تھے ۔ ایک سول جج کے زوال کی کہانی چند ماہ شروع ہوئی جب گلستان جوہر کراچی میں ایک شہری کو ناکے پر پولیس والوں نے روکا ،بے گناہ مگر موٹی آسامی ہونے کی وجہ سے شہری کو ہرا۔ساں کیا گیا اور تگڑی رقم نکلوانے کے لیے اسے اے ٹی ایم پر لے جا کر پیسے بٹورے گئے ، شہری نے لٹنے کے بعد مقامی پولیس کو شکایت کی ۔ شہری کی شکایت پر افسران بالا نے کارروائی کی ، متعلقہ تھانہ کے ناکے پر موجود تمام تھانیداروں اور اہلکاروں کو ہتھکڑی لگا کر اسی تھانے میں بند کردیا گیا ۔۔۔۔ یہاں انٹری ہوتی ہے مجسٹریٹ زاہد حسین مغیزی کی وہ ریکارڈ ٹائم یعنی چند منٹوں میں تھانے پہنچے اور اپنے عہدے کے بل بوتے پر افسران پولیس کو جھاڑ پلا کر گرفتار شدہ اہلکاروں کو خود حوالات سے آزاد کردیا اور بعد میں خود بھی چلے گئے ۔۔۔ تھانے کے عملہ نے افسران بالا کو حالات بتائے تو آئی جی سندھ کے حکم پر ایلکاروں کو دوبارہ گرفتار کیا گیا مگر افسوس صبح جب انہیں مجسٹریٹ کے روبرو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا گیا تو یہ سول جج زاہد حسین مغیری نکلے جنہوں نے اپنا اختیار استعمال کرکے ملزمان کو بری کردیا ۔۔۔ اب سندھ پولیس کے اعلیٰ افسروں نے ایک اور چال چلی چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو جج کے مس کنڈکٹ پر شکایت کی گئی جنہوں نے ایک نیک نام جج کو انکوائری افسر مقرر کیا ۔۔ انکوائری میں ثابت ہو گیا کہ جج صاحب نے ملزمان کی پشت پناہی کی ہے ۔ نتیجہ کے طور پر نہ صرف ملزمان دوبارہ گرفتار ہوئے بلکہ 21 اپریل 2026 کو زاہد حسین مغیری کو عہدے سے برطرف کرکے گھر بھیج دیا گیا اور مزید کارروائی کا اعلان بھی ہوا ۔۔ مگر کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ، برطرف جج صاحب کے پول مزید کھلنا باقی تھے ۔۔۔ کچھ روز پہلے ٹنڈواللہ یار میں ایک ناکے پر پولیس نے موٹرسائیکل سوار دو اشخاص کو روکا اور تلاشی لی تو انکے قبضے سے بڑی مقدار میں من۔ شیات برآمد ہوئی ، پولیس ملزمان کو تھانے لے گئی اور انکی خاطر تواضع کی اور پھر پوچھا کہ من۔ شیات کہاں سے خریدی تو ملزمان نے کراچی کے ایک زاہد نامی ڈر۔گ ڈیلر کا نام لیا جس سے وہ پچھلے کئی ماہ سے بھاری مقدار میں من ۔شیات خرید رہے تھے اور یہ جہاں کہا جاتا خود من ۔شیات دے کر جاتا تھا ۔۔ پولیس نے ملزمان کو آمادہ کیا کہ وہ اس ڈیلر کو من۔ شیات کا ایک بڑا آرڈر دے کر ٹنڈواللہ یار بلائیں ۔۔ پھر ایسا ہی ہوا ملزمان نے فون کیا اور زاہد نامی یہ ڈیلر من ۔شیات لے کر کراچی سے ٹنڈو اللہ یار پہنچ گیا ۔۔۔ ڈیلر کو نمبر اور ٹریکر کے ذریعے دیکھا جارہا تھا جونہی اسکی سفید گاڑی ٹنڈو اللہ یار میں داخل ہوئی ایک ناکے پر پولیس والوں نے اسے روک لیا اور اس سے شناختی دستاویزات طلب کی تو زاہد نے کارڈ لہراتے ہوئے انکشاف کیا سول جج گلستان جوہر زاہد حسین مغیری ۔۔۔ پولیس والے چونک گئے لیکن مخبری پکی تھی گاڑی بھی وہی تھی رنگ اورنمبر بھی وہی جو کہ ڈیلر نے بتایا تھا ۔ گاڑی کی تلاشی لی گئی تو آرڈر کردہ من۔ شیات برآمد ہو گئی ، جب سندھ کے متعقلہ دفاتر سے جج صاحب کا کارڈ واٹس ایپ پر بھیج کر وضاحت طلب کی گئی تو تصدیق ہوگئی کہ یہ ہیں تو جج صاحب لیکن پچھلے ماہ نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ اب ایک عام ملزم کی طرح انہیں ڈیل کیا جائے ۔۔ چنانچہ پولیس نے ہمت دکھائی ۔ آئی جی آفس سے بھی شاباش آئی اور صاف ہدایت ملی کہ اب اس بدعنوان اور بدکردار سابق سول جج کو ہر صورت کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ اب زاہد حسین مغیری کی باقاعدہ گرفتاری ڈال کر عدالت پیش کیا جا چکا ہے اور یہ غالبا جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے پاس ہیں ۔۔ دیکھتے ہیں اس اسکینڈل میں مزید کیا انکشافات ہوتے ہیں ۔۔۔ ایک بات طے ہے کہ سندھ بھی اب تبدیلی کے سفر پر گامزن ہو گیا ہے ۔۔۔۔ ش س م

18/05/2026

یہ تصویر لاہور ، فیصل آباد ، ملتان یا کراچی کی نہیں ہے جہاں ہر گھر نے اپنی چھت پر سولر پینلز لگائے ہوئے ہیں یہ تصویر ڈیرہ اسماعیل خان کی ہے جہاں ہر گھر نے اپنی ضرورت کے مطابق سولر پینلز لگوائے ہیں جس میں سے نوے فیصد صارفین آف گرڈ ہیں انہوں نے گھروں میں بیٹریز لگا کر اپنی ضرورت سے زائد کی بجلی کو محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے اب سرکاری بجلی صرف ایمرجنسی کے لئے رہ گئی ہے بلکل ویسے جیسے ہم پہلے شادی بیاہ اور فوتیدگی پر ایمرجنسی کے لیے جنریٹر کا بندوبست کرتے تھے بلکل ویسے ہی لوگ سرکاری بجلی کو صرف ایمرجنسی کے لئے استعمال کرتے ہیں ضرورت کی تمام چیزیں سولر پر منتقل کر لی ہیں

آنے والے دنوں میں پاکستان کے ہر شہر کے ہر گھر کی چھت پر یہ ہی کا لگے نظر آیے گے بہت غریب ، کرائے کے گھروں والے یا اپارٹمنٹس میں رہنے والے لوگ بس بغیر سولر کے رہ جایے گے یا کہ سکتے ہیں حکومتی بجلی کے خریدار بس وہی رہ جایے گے ،

حکومت کے پاس ابھی بھی موقع ہے جو صارفین ابھی تک سولر نہیں لگوا سکی اس کے کیے سستی بجلی فراہم کرے تاکہ وہ لوگ بھی سولر پر منتقل نا ہو جائیں لیکن جو مجھے حالات نظر آ رہے ہیں اس سے آئندہ پانچ سالوں میں حکومت کی بجلی خریدنے والا کوئی بھی نہیں رہے گا بس انڈسٹری بجلی خریدے گی وہ بھی اگر اسے سستی ملی ، وزیر توانائی اویس لغاری کہتے ہیں انڈسٹری کو بجلی چھ روپے یونٹ فراہم کرے گے اور گھریلو صارفین کو نو روپے فی یونٹ بجلی فراہم کرے گے ، خیر یہ جب ہو گا تب دیکھے گے فلحال تو حکومت کو عوام نے اللہ حافظ کہ دیا ہے اپنے پینلز لگاؤ اپنی بجلی پیدا کرو

Address

Rawalpindi

Telephone

+923005014363

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Village khinger khurd posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Village khinger khurd:

Share