Chumarkhan چمرکھن

Call Directions Website Contact the business

Chumarkhan چمرکھن This is a platform for every Chitrali, who otherwise meets group policies, to express their views on
(1)

سید اعجاز علی شاہ کو گریڈ 16 میں ترقی مل گئیاپر چترال: چوئینچ سے تعلق رکھنے والے سید اعجاز علی شاہ کو سینئر اسکیل اسٹینو...
16/10/2026

سید اعجاز علی شاہ کو گریڈ 16 میں ترقی مل گئی

اپر چترال: چوئینچ سے تعلق رکھنے والے سید اعجاز علی شاہ کو سینئر اسکیل اسٹینوگرافر (BPS-16) کے عہدے پر ترقی دے دی گئی ہے۔ وہ ڈپٹی کمشنر آفس اپر چترال میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سید اعجاز علی شاہ معروف سماجی و دینی شخصیت مرحوم پیر سید موسیٰ ہاشمی کے صاحبزادے اور پاکستان پیپلز پارٹی اپر چترال کے سینئر رہنما پیر سید منظور علی شاہ ہاشمی کے چھوٹے بھائی ہیں۔

چمرکھن انتظامیہ اور ممبران کی جانب سے سید اعجاز علی شاہ و اہل خانہ کو مبارکباد۔

سکول سیفٹی پروگرام پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت۔تحریر: شاھد اقبال۔پشاور کی دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے س...
16/10/2026

سکول سیفٹی پروگرام پر سنجیدگی سے عمل درآمد کی ضرورت۔
تحریر: شاھد اقبال۔
پشاور کی دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی چھت گرنے سے معصوم بچوں اور ٹیچر کی شہادت کے المناک حادثے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس دلخراش سانحے سے یہ ثابت ہوا کہ ہمارے سکولوں میں بچوں کی حفاظت کا نظام کتنا کمزور ہے۔ ہر حادثے کے بعد صرف افسوس کرنے کے بجائے سکول سیفٹی پروگرام پر فوری عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
کسی بھی سکول کو محفوظ بنانے کے تین آسان اور بنیادی اصول ہیں۔
۱. مضبوط عمارت اور محفوظ ماحول۔
سکول کی چھتیں، دیواریں اور سیڑھیاں مضبوط ہوں تاکہ کوئی ناگہانی حادثہ نہ ہو۔ کھلی تاروں، گیس سلنڈرز اور سائنس لیب کے سامان کی باقاعدگی سے دیکھ بھال کی جائے۔ایمرجنسی میں باہر نکلنے کے راستے ہمیشہ کھلے اور صاف ہوں۔
۲. ہنگامی حالات کے لیے پیشگی تیاری۔
ہر سکول میں اساتذہ اور طالب علمون کی ایک ٹیم ہو جو روزانہ کے خطرات پر نظر رکھے۔
بچوں اور اساتذہ کو ہر ماہ ایمرجنسی میں باحفاظت باہر نکلنے کی عملی مشق کروائی جائے۔سکول میں فرسٹ ایڈ کٹ اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہو۔
۳. بچوں اور اساتذہ کی تربیت۔
بچوں کو سکھایا جائے کہ کسی حادثے، آگ یا زلزلے کے وقت گھبرانے کے بجائے پرسکون رہ کر خود کو کیسے بچانا ہے۔
تمام سرکاری و نجی سکولوں کا سیکیورٹی اور ساختی جائزہ لیا جائے۔
ہر سکول میں ایک سائرن ہو جو خطرے کے وقت فوری بجایا جا سکے۔
ریسکیو 1122 اور متعلقہ عملون کے نمبرز سکول کے مین گیٹ پر نمایاں لکھے جائیں۔
اگر ہم آج ہی سکول سیفٹی فریم ورک پر عمل کر لیں تو آنے والے دنون میں کئی معصوم زندگیوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

پریس ریلیزآغا خان ایجوکیشن سروس کے زیراہتمام گلگت میں میرٹ سائیٹیشن تقریب AKU-EB امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے و...
16/10/2026

پریس ریلیز
آغا خان ایجوکیشن سروس کے زیراہتمام گلگت میں میرٹ سائیٹیشن تقریب AKU-EB امتحانات میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کو اعزازات سے نوازا گیا

گلگت (چمرکھن ):آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان (AKES,P)، گلگت بلتستان کے زیرِ اہتمام آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گلگت میں ایک باوقار 'میرٹ سائیٹیشن' تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب کا مقصد آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ (AKU-EB) کے سالانہ امتحانات 2026میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار طلبہ کی حوصلہ افزائی اور انہیں خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی آغا خان ایجوکیشن سروس پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب امتیاز مومن تھے، جبکہ صدارت اسماعیلیہ ریجنل کونسل گوپس یاسین کے صدر جناب سرتاج ولی نے کی۔
تقریب کا آغاز کرتے ہوئے آغا خان ایجوکیشن سروس (گلگت بلتستان و چترال) کے جنرل منیجر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) خوش محمد خان نے تمام شرکا کو خوش آمدید کہا اور تقریب کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کامیاب طلبہ، ان کے والدین، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا:
"تعلیم کا مقصد صرف معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ، تحقیق، اخلاقی اقدار اور ذمہ دارانہ کردار پیدا کرنا ہے۔"
انہوں نے بتایا کہ ادارہ معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت، اسکولوں و لیبارٹریوں کی بہتری، آئی سی ٹی (ICT)، لائبریریوں، ابتدائی تعلیم (ECD)، کیریئر کونسلنگ اور مستحق طلبہ کے لیے مالی معاونت جیسے اقدامات مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ان طلبہ کی بھی حوصلہ افزائی کی جو اس بار ایوارڈ حاصل نہ کر سکے لیکن زندگی کئی اور شعبوں مثلاً ، کھیل ،موسیسقی، آرٹ وغیرہ میں اپنی مثال آپ ہیں
صوبائی سطح پر نمایاں پوزیشنز اور اسناد کی تقسیم ۔ تقریب کے دوران ثانوی (SSC) اور اعلیٰ ثانوی (HSSC) امتحانات میں سائنس، پری انجینئرنگ اور پری میڈیکل گروپس میں ممتاز مقام حاصل کرنے والے طلبہ میں اسنادِ اعزاز تقسیم کی گئیں۔

ہائیر سیکنڈری سطح (HSSC-II): آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گلگت کی طالبات علیزہ احسان اور عائشہ احمد شہزاد نے بالترتیب صوبائی سطح پر پہلی اور دوسری پوزیشن حاصل کی، جبکہ آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گاہکوچ کی طالبہ ثنا خان نے صوبے بھر میں تیسری پوزیشن حاصل کی۔

دیگر اداروں کی کارکردگی: آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گاہکوچ کے 12، آغا خان ہائیر سیکنڈری اسکول گلگت کے 11، ہنزہ کے 3، شیر قلعہ کے 1، نیز ڈی جے ہائی اسکول نومل، ڈی جے ہائی اسکول رحیم آباد اور ڈی جے ہائی اسکول درکھوت کے 3 طلبہ نے صوبائی سطح پر امتیازی نمبر حاصل کر کے ادارے کا نام روشن کیا۔

تقریب میں شرکت کرنے والی ممتاز مذہبی و تعلیمی شخصیت ڈاکٹر شرافت سعدی نے اپنے خطاب میں اسلام کی علمی روایت، فاطمی دور کے علمی مراکز اور الخوارزمی، ابنِ سینا، ابن الہیثم اور البیرونی جیسی شخصیات کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں علم کو انسان کی ہمہ گیر ترقی کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے آغا خان سوم، آغا خان چہارم اور موجودہ امام شاہ رحیم الحسینی (آغا خان پنجم) کی تعلیم دوست قیادت کا ذکر کرتے ہوئے طلبہ پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے اس دور میں اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر خود کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔
تقریب کے آخر میں آغا خان ایجوکیشن سروس، پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے گلگت بلتستان میرٹ سائٹیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے والے طلبہ، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارک باد پیش کی اور کہا کہ رواں سال AKU ایگزامینیشن بورڈ کے نتائج میں ادارے کے طلبہ نے ملک بھر میں 61 اعلیٰ پوزیشنیں اور 314 مضامین میں امتیازات حاصل کیے، جن میں 166 امتیازات گلگت بلتستان کے طلبہ کے حصے میں آئے، جبکہ اوسطاً تقریباً 80 فیصد طلبہ ہائی اچیور قرار پائے۔ انہوں نے اس کامیابی کو طلبہ کی محنت کے ساتھ اساتذہ، اسکول قیادت، اکیڈمک کوآرڈینیٹرز، RSDUs، والدین اور معاون ٹیموں کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے جنرل منیجر بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) خوش محمد اور ان کی ٹیم کی تعلیمی خدمات کو خصوصی طور پر سراہا ۔ ان کے مطابق ملک بھر میں آغا خان اسکولوں کے 157 اداروں میں 65 ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ نو سال قبل یہ تعداد تقریباً 35 ہزار تھی۔ گلگت بلتستان میں اسکولوں کو 22 ملٹی کیمپس کلسٹرز میں منظم کرنے، داخلوں میں اضافہ کرنے اور تمام اسکولوں کو AKU ایگزامینیشن بورڈ کے تعلیمی تسلسل سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی بھی جاری ہے۔ طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے ہز ہائنس شاہ رحیم آغا خان کی حالیہ رہنمائی کی روشنی میں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور نکھارنے، مطالعے کو زندگی کا مستقل حصہ بنانے اور ٹیکنالوجی خصوصاً مصنوعی ذہانت کو ذمہ داری، دیانت اور دانش مندی کے ساتھ استعمال کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ تعلیم کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو بہترین جامعات اور عملی زندگی میں کامیابی کے ساتھ ساتھ اپنے علم اور صلاحیتوں کو دوسروں کی بہتری کے لیے بروئے کار لانے کے قابل بنانا ہے۔

تقریب میں سرکاری و نجی شعبوں کے اعلیٰ حکام، امامی اداروں کے عہدیداران، ہیڈ آف ایجوکیشن آئین شاہ، طلبہ، والدین، اساتذہ اور ادارے کے تعلیمی رہنماؤں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اختتام پر تمام مہمانوں نے کامیاب طلبہ کو مبارکباد دی اور خطے میں تعلیمی معیار کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اپر چترال: دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 2 درجن سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات درج، متعدد گرفتارخیبر پختونخوا میں گ...
16/10/2026

اپر چترال: دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 2 درجن سے زائد پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف مقدمات درج، متعدد گرفتار

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اپر چترال پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے درجنوں کارکنان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی مدعیت میں درج کی گئی شکایت پر ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی ثریا بی بی کے خلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پی ٹی آئی ضلعی جنرل سیکرٹری علاؤالدین عرفی، ڈپٹی اسپیکر کی فوکل پرسن افغان رضا، خواجہ خلیل سمیت دو درجن سے زائد کارکنان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کر کے گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خواجہ خلیل سمیت متعدد کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے۔

انصاف لائرز فورم کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ مفتاح الدین کے مطابق دفعہ 188 کے تحت گرفتار کارکنان کو اسسٹنٹ کمشنر مستوج کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں سے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ رہائی کے لیے عدالت میں درخواست ضمانت دائر کی جائے گی اور ضمانت مسترد ہونے کی صورت میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں پٹیشن دائر کی جائے گی۔

قاری فیض اللہ چترالی کا وادیِ کیلاش کے طلبہ کے لیے شاندار تحفہ: گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول رومبور میں جدید کمپیوٹر لیب ک...
16/10/2026

قاری فیض اللہ چترالی کا وادیِ کیلاش کے طلبہ کے لیے شاندار تحفہ: گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول رومبور میں جدید کمپیوٹر لیب کا افتتاح

چترال (بشیرحسین آزاد) وادیِ کیلاش کے معروف علاقے رومبور کے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول میں ممتاز علمی و دینی شخصیت حضرت قاری فیض اللہ چترالی کے تعاون سے جدید سہولیات سے آراستہ کمپیوٹر لیب قائم کر دی گئی ہے۔
​تفصیلات کے مطابق، اس اسکول میں بارہویں جماعت تک طلبہ و طالبات زیرِ تعلیم ہیں، جن میں تقریباً 60 فیصد کا تعلق اقلیتی غیر مسلم کیلاش برادری سے ہے، جبکہ 40 فیصد طلبہ مسلمان ہیں۔ قاری فیض اللہ چترالی کے اس اقدام کے تحت قائم کی گئی لیب وادی کے نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ آئی ٹی مہارتیں حاصل کرنے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ڈیجیٹل دنیا میں بااعتماد انداز سے آگے بڑھنے کا بہترین موقع فراہم کرے گی۔
​علاقے کے عوام اور تعلیمی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ قاری فیض اللہ چترالی کا یہ تعاون وادیِ کیلاش میں معیاری تعلیم اور روشن مستقبل کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
​اس لیب سے تربیت حاصل کرنے والے نوجوان نہ صرف اپنے لیے روزگار اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکیں گے بلکہ اپنی صلاحیتوں کے ذریعے علاقے، ملک اور قوم کی تعمیر و ترقی میں بھی مؤثر کردار ادا کریں گے۔ علم، ہنر اور جدید ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج وادیِ کیلاش کے نوجوانوں کے لیے امید، خوداعتمادی اور خوشحالی کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے چترال یونیورسٹی کے لئے جدید کمپیوٹر لیب کا قیام،سینیٹر محمد طلحہ محمود کی دست مبارک سے...
16/10/2026

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے چترال یونیورسٹی کے لئے جدید کمپیوٹر لیب کا قیام،سینیٹر محمد طلحہ محمود کی دست مبارک سے افتتاح

Team Talha Mahmood

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے یونیورسٹی آف چترال کے 100 سے زائد طلباء و طالبات میں اسکالرشپس تقسیمTeam Talha Mahmood
16/10/2026

سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے یونیورسٹی آف چترال کے 100 سے زائد طلباء و طالبات میں اسکالرشپس تقسیم

Team Talha Mahmood

بریرنسار یو سی آیون میں نوجوان مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہو کر جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے۔نائب قیم ضلع محمد شجاع الحق بی...
16/10/2026

بریرنسار یو سی آیون میں نوجوان مختلف پارٹیوں سے مستعفی ہو کر جماعت اسلامی میں شامل ہو گئے۔
نائب قیم ضلع محمد شجاع الحق بیگ، اقبال الدین، سابق یو سی ناظم رحمت الٰہی اور سابقہ چیرمین محمد بصیر نے مفلر پہنا کر نوجوانوں کا پرجوش استقبال کیا۔ حافظ نعیم کی قیادت میں جماعت اسلامی نوجوانوں کی مقبول پارٹی بن رہی ہے۔

16/10/2026

علم کے چراغ بجھ گئے _ معصوم پھولوں کی خاموش فریاد...

کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں ایک نجی سکول کی تین منزلہ چھت گرنے سے بہت بڑا سانحہ پیش آیا، جس کی زد میں آ کر 34 طالب علم شہید اور دو ٹیچر جان بحق ہوئے۔ بچوں کی عمر 6 سال سے 14 سال کے درمیان ہے۔ اس تین منزلہ عمارت کی حالت بارش کی وجہ سے مخدوش اور غیر محفوظ بتائی جاتی ہے۔ پھر بھی ایک ظالم مالک نے سکول کے بھیس میں موت کا کنواں بنا رکھا تھا اور اس میں 110 بچوں کو تعلیم دے رہا تھا۔ ان بچوں میں 52 بچے زیرِ علاج ہیں۔ پولیس نے ظالم مالکِ سکول کو گرفتار کر لیا ہے، جس کی غفلت اور لاپرواہی نے علم کے 34 چراغ بجھا دیے۔ ضلعی انتظامیہ نے انکوائری کمیٹی بنا دی ہے۔

سکول کی بلڈنگ کا بچے کی تربیت اور تعلیم میں بہت اہم کردار ہے۔ ایک محفوظ، صاف اور سہولیات والی عمارت بچوں کو سمجھنے کے لیے حوصلہ دیتی ہے، جبکہ بوسیدہ حال یا خطرناک بلڈنگ خوف، عدم توجہی اور صحت کے مسائل پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات منہدم ہو کر جانی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔

اس میں پرائیویٹ سکول اتھارٹی کی غفلت بھی ہے کہ اس بلڈنگ کو سکول کی صورت میں قابلِ استعمال کس طرح قرار دیا۔ دوسری طرف تعلیم کے بہانے گلی کوچوں میں اس طرح کے کاروباری طبقے کے سکول بھی قابلِ توجہ ہیں۔

ہمارے صوبے میں 45 لاکھ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ان میں ایک وجہ اس قسم کی پرانی عمارتیں اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے۔ تعلیم ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اس کے لیے محفوظ بلڈنگ اور مناسب ماحول دینا بھی ضروری ہے۔ بچوں کے لیے گھر کے ساتھ سکول میں بھی بہتر سہولیات ہونا ضروری ہیں۔ اس لیے بلڈنگ صرف اینٹ اور پتھر کے پہاڑ نہیں بلکہ بچے کی جسمانی حفاظت، ذہنی سکون اور کردار سازی کا پہلا قدم ہے۔

عمارتیں جلدی خراب ہوتی ہیں اور جان و مال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جس کی کئی مثالیں سامنے آتی ہیں۔ سڑکوں اور انفراسٹرکچر کا جلدی ناکارہ ہونا اور دیگر غیر معیاری کاموں پر عوام کا احتجاج شامل ہے، جس کی بنیادی وجہ سستے مواد کا انتخاب، معائنہ نہ ہونا اور ضابطوں پر عمل نہ کرنا ہے۔ قانونی طور پر ٹھیکیدار، سپلائر اور یہاں تک کہ جائیداد کے مالک کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے، چاہے انہیں مسئلے کا علم نہ ہو۔ ممکنہ نتائج میں قانونی کارروائی، جرمانے، منصوبے میں تاخیر اور ساکھ کا نقصان بھی شامل ہیں۔

اونرشپ، اپروول، ڈیلیوری ریکارڈ اور ڈیمانڈ چیک کرنا، میٹیریل کا انتخاب، قدرتی روشنی اور وینٹیلیشن کا خیال رکھنا اور تربیت یافتہ افراد سے کام کروانا مستقبل کے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ غیر محفوظ تنصیبات، جیسے بجلی اور گیس کے معیاری سامان وغیرہ کی چیکنگ لائسنس یافتہ کمپنیوں کے ذریعے کرانا مختلف جان لیوا حادثات سے بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ وہاں والدین، اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے جن بلڈنگوں میں چھوڑ دیتے ہیں، ایک نظر یہ بھی دیکھیں کہ بلڈنگ کی حالت کس طرح ہے؟ ورنہ اس قسم کے حالات پھر ہو جائیں گے۔

اللہ جنت کے ان پھولوں کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عنایت کرے اور ان کے والدین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

گرم چشمہ ہسپتال میں گائناکالوجسٹ سمیت 6 ڈاکٹروں کی تعیناتی، عوام کا اظہارِ خوشیرپورٹ: خیر الدین شادانیگرم چشمہ: ٹی ایچ ک...
15/10/2026

گرم چشمہ ہسپتال میں گائناکالوجسٹ سمیت 6 ڈاکٹروں کی تعیناتی، عوام کا اظہارِ خوشی

رپورٹ: خیر الدین شادانی

گرم چشمہ: ٹی ایچ کیو ہسپتال گرم چشمہ میں گائناکالوجسٹ سمیت 6 ڈاکٹروں کی تعیناتی کی اطلاع پر لٹکوہ کے عوام نے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اب مریضوں، خصوصاً ماؤں اور بہنوں کو اپنے علاقے میں علاج کی بہتر سہولت ملے گی اور چترال شہر جانے کی مشکلات کم ہوں گی۔
ہسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے معاملہ پہلے آغا خان ہیلتھ سروس پاکستان اور پھر اعلیٰ حکام کے سامنے اٹھایا۔ اسسٹنٹ کمشنر محمد ضیا کے مطابق، اس مسئلے کے حل کے لیے کافی پہلے سے کوششیں جاری تھیں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ اور پیروی کی جا رہی تھی۔ انہوں نے ہسپتال کی ضروریات معلوم کرنے اور انہیں متعلقہ حکام تک پہنچانے میں خصوصی دلچسپی لی۔

راقم خود بھی اس عمل کا مشاہد رہا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر محمد ضیا نے اپنی جاری کوششوں کے دوران راقم سے بھی ہسپتال کی موجودہ ضروریات اور سہولیات کی کمی کے بارے میں معلومات طلب کی تھیں، جو انہیں فراہم کر دی گئی تھیں۔ یہ رابطہ ہسپتال کے مسائل حل کرانے کے لیے پہلے سے جاری پیروی کا حصہ تھا۔ محمد ضیا نے اس معاملے میں ایک ذمہ دار اور عوامی ضروریات پر توجہ دینے والے افسر کا کردار ادا کیا۔
ضلعی انتظامیہ کی ان کوششوں کے ساتھ اے کے ایچ ایس پی کی جانب سے ڈاکٹروں کی فراہمی اور طبی خدمات کے انتظام میں ادا کیا گیا کردار بھی قابلِ تحسین ہے۔

مقامی حلقوں نے محکمہ صحت خیبر پختونخوا، ڈی ایچ او چترال، اے کے ایچ ایس پی کے متعلقہ افسران، ضلعی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔

عوام کو امید ہے کہ صوبائی قیادت اور متعلقہ ادارے ہسپتال کی اپ گریڈیشن، ادویات، تشخیصی آلات اور باقی ضروریات پوری کرنے پر بھی توجہ دیں گے۔ تعینات ڈاکٹروں کی باقاعدہ موجودگی اور ضروری سہولیات کی فراہمی سے ہی اس فیصلے کا پورا فائدہ لٹکوہ کے مریضوں تک پہنچ سکے گا۔

Address

No. 4
Rawalpindi
46060

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chumarkhan چمرکھن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chumarkhan چمرکھن:

Shortcuts

Share