Chumarkhan چمرکھن

Chumarkhan چمرکھن This is a platform for every Chitrali, who otherwise meets group policies, to express their views on
(1)

14/09/2026

مجھے آغواء کرنے کی کوشش کی گئی اور بعد میں انہوں نے مجھے سڑک پر پولیس گاڑی سے گرا دیا!!

وزیراعلی سہیل آفریدی

14/09/2026

کوراغ کے عوام ہوشیار رہیں!

مسلم لیگ ن لوئر چترال کے ترجمان نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ کا مطالبہ ہے کہ این ایچ اے پہلے چترال بونی روڈ کے کھنڈر ترکول کو اکھاڑ کر نئی کارپٹنگ کرے، پھر گاؤں کی آبادی کے اندر موجود پرانا ترکول اکھاڑا جائے۔
عوام اپنے حق اور سڑک کے معیار پر نظر رکھیں۔

14/09/2026

خبر گانی گئیور عارفان بغانی
دنیاری کیاغ گانی

خدا رحمت صاحب

رحمت قلی نامی ایک ایرانی النسل بزرگ سیر و سیاحت کے شوق میں چترال پہنچے۔ یہ مہتری دور تھا، مگر یہ کس مہتر کا زمانہ تھا، اس بارے میں کوئی مستند تاریخی دستاویز دستیاب نہیں۔ تاہم قوی امکان ہے کہ یہ شاہ کٹور کا دور یا اس سے کچھ عرصہ قبل کا واقعہ ہو۔
کہا جاتا ہے کہ رحمت قلی کے پاس ایک قرآنِ مجید اور دو ایرانی نسل کے قوی ہیکل گھوڑے تھے۔ جب مہترِ چترال کو اس ایرانی بابا کے بارے میں اطلاع دی گئی تو انہیں دربار میں طلب کیا گیا۔ ان گھوڑوں کے عوض انہیں بلچ اور شالدین میں زمین دی گئی۔ اس کے بعد رحمت قلی چترال ہی کے ہو کر رہ گئے اور ان کی اولاد چترال میں "رحمت قولے" کے نام سے جانی جاتی ہے۔
اسی خاندان میں سے ایک مولا رحمت تھے، جن کے ہاں 1870ء کی دہائی میں خدا رحمت کی پیدائش شالدین، چترال میں ہوئی۔ ان کی شاعری کے بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے خواب میں ایک حسین پری زاد دیکھی اور اسی کے عشق میں گنگنانا اور شاعری کرنا شروع کی۔ اسی دوران وہ ریاستی جبر و ستم کا شکار بھی رہے۔
جب اپنے آبائی وطن کی یاد ستاتی تو یوں گویا ہوتے۔

وطن مہ تین ارمان ہائے ژان
یہ جزیرا گوم رے کیا گمان
کوسو کی عشق اوشوئے ہاتے
روئے ہوش کوئے عشقو کورمان

آپ کو قلعہ چترال کے باغبانی اور کاشت کاری کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ آپ کا عشق تصوراتی اور تخیلی تھا۔ تعلیم سے دور ہونے کے باوجود آپ کی شاعری میں خیالات کی پاکیزگی، فصاحت، سادگی اور سوز و ساز کا خوب صورت امتزاج ملتا ہے۔
اپنی محبوبہ کی بے وفائی اور اپنی کم نصیبی کا ذکر یوں کرتے ہیں۔

ارمان ماسو تے ژان
ڈوم کانان موژینین چھیر گوڑا تاریر
مہ بخت و چہ نصیب برابر کی
نو ہوئے بے مقصد مریر

آپ کی شاعری سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ ایک انقلابی شاعر تھے۔ وقت کے حکمرانوں سے شکوہ کرتے نظر آتے ہیں اور بعض اوقات مہتر کی حکم عدولی بھی کرتے تھے۔
جب حکم عدولی پر آپ کو چترال سے نکال کر بلچ میں پابندِ سلاسل کیا گیا تو یوں فریاد کرتے ہیں۔

میتار ماتے قہرین
مہ جنت چھترارار مہ داڑے اسور
غیری گوم نذر بام نگہبان
بلچہ مہ ہالے اسور۔

بلچ کی سختی اور چترال ٹاؤن کی خوب صورتی بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

بلچ وا کیا ژاغہ
نہ شالی یرا بوئے نہ سر جو
ڈاقو جنت چھترار
سبزہ زار شیونیاں ملکو کورو جو۔

بلچ میں قید کے دوران جب آپ کی شاعری مشہور ہوئی تو ریاستی جبر کے تحت آپ کو چترال گول کی "دونی" نامی چراگاہ میں مارخوروں کی نگرانی پر مامور کیا گیا اور چترال آنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس موقع پر یوں کہتے ہیں۔

دونی یا آسوم غاری ہائے ژان
نہ یورو پوشیتم نہ ماسو
وطن متے ارمان پوشین
نو بویان ژانو نسو
اپنی خیالی محبوبہ سے وفائے عہد کا ذکر یوں کرتے ہیں۔
تہ ماسو شوت اوشوئے ہائے مہ ژان
خوران سوم دوستی اوا نو کوم
تو مہ کھارو گلسمبار
تہ شونکھیموچے گمبوری دوم

لوگ جب انہیں مجنون کہتے تو جواب میں یوں فرماتے ہیں

رویان وا کیا گمان
یہ گدیری چیق ڈاق کو ڑوئیران رے
ملکو عزیز روئے ہوش کوئے
یہ گدیریو ہردی پولئیران رے۔

چونکہ آپ انقلابی شاعر تھا۔غم جانان کیساتھ ساتھ غم دوران کا گلہ وقت کے میتار سے کرتا رہتا ہے ۔اور شاعری کے ذریعے دل کی بھڑاس نکالتا رہتا ہے۔اس طرح
ریاست مخالف شاعری پر ایک بار پھر انہیں قید کیا گیا، اس مرتبہ مستوج کے مقام "دو دوران گاز" میں سخت نگرانی میں رکھا گیا اور اسی دوران ان کی شاعری مزید مشہور ہوئی۔اور یوں کہا۔

دو دوران گازے اللہ تن قدرتہ
مو کورار تہ اسپتے نصیب
عیبو سورو دریے پھانسی
مہ کوروئے ہسے دی مناسب

جب انہیں مستوج لے جایا گیا تو سخت پہرے کی منظرکشی یوں کرتے ہیں

جو ژون مہ اچہ جوالی
مہ پروشٹہ مہ کاسینیان
ڑاسپریک مہ پہرہ دار
ترو شور بولوتے
پرواہ نو کورومئے چھترارو قلم دار

قید کے دوران مہتر سے رحم کی اپیل کرتے ہیں، مگر جب عرضی منظور نہیں ہوتی تو کہتے ہیں۔

پالیکی خوبانان
سوتو اسمانار یو خومیت
عرضی منظور نو ہوئے
سرکارو کاغذ ماسو توریت

جب آپ کی چترال چھوڑ کر افغانستان جاتے ہوئے سر رہ میتار سر ناصر الملک صاحب سے ملاقات ہوتی ہیں تو اس واقعے کو کچھ یوں بیان فرماتا ہے۔

میتار ریران کی تو کجائی رفت
و باز آید پرسان موسار کورور
دورو گانیتاؤ گدائے بیتی بیم
ژانئے مہ کھوڑ رہ چھارور۔

یہ سن کر مہتر نے انہیں چترال میں آباد ہونے کی اجازت دے دی۔
بعض مورخین کے مطابق آپ کی وفات 1950ء میں ہوئی بعض کے نزدیک 1972ء میں۔ جبکہ خاندانی ذرائع کے مطابق آپ 1947ء سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ آپ کی قبر بلچ کی مسجد کے سامنے واقع ہے۔
آپ نے دو شادیاں کیں، مگر کوئی اولاد نہ ہوئی۔
اس خاندان کی اہم شخصیات میں ایڈووکیٹ حضرت الدین صاحب، صلاح الدین، نیاز الدین اور الیاس الدین شامل ہیں۔

یوسف زیب کٹور ۔

وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کا اجلاس 22 ستمبر کو بونی بوزند روڈ کے حوالے سے اسلام آباد میں طلبسابق ایم این اے شہزادہ افتخار ...
14/09/2026

وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کا اجلاس 22 ستمبر کو بونی بوزند روڈ کے حوالے سے اسلام آباد میں طلب

سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین

وزیراعظم انسپیکشن کمیشن نے PSDP کے منصوبے ’’بونی، بزوند، تورکھو روڈ کی توسیع اور بلیک ٹاپنگ‘‘ پر غیر تسلی بخش پیش رفت کا نوٹس لیتے ہوئے 22 ستمبر 2026 کو اسلام آباد میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔
یاد رہے کہ چترال کے سابق ایم این اے مرحوم شہزادہ محی الدین نے یہ منصوبہ 2009 میں شروع کروایا تھا۔ بعد ازاں جب میں چترال سے رکن قومی اسمبلی تھا تو میں نے نومبر 2014 میں اس منصوبے کا PC-1 نظرِ ثانی کروا کر اس کی لاگت 1.10 ارب روپے مقرر کروائی۔ پھر 13 جون 2025 کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی چوہدری احسن اقبال سے کامیاب لابنگ کے ذریعے اس منصوبے کی تیسری نظرِ ثانی شدہ لاگت 1.92 ارب روپے منظور کروانے میں بھی کردار ادا کیا۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ منصوبے کی Executing Agency، محکمہ C&W کی وفاقی حکومت اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ مطلوبہ سطح کی کوآرڈینیشن نہ ہونے کے باعث منصوبہ بدانتظامی کا شکار ہوا اور کئی اہم اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ اس صورتحال کے خلاف تورکھو کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے احتجاج کر رہے ہیں، مگر زمینی سطح پر منصوبے کی رفتار بہتر بنانے کے بجائے مقامی قیادت کی جانب سے احتجاج کرنے والے عوام کے خلاف FIRs درج کروائی جاتی رہی ہیں۔
امید ہے کہ جون 2025 کی طرح اس مرتبہ وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہیں کی جائیں گی۔ جون 2025 میں بعض عناصر کی جانب سے ایسی صورتحال پیدا کی گئی تھی کہ وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کی ٹیم بونی سے ہی واپس لوٹ گئی اور تورکھو کا دورہ نہ کر سکی۔
یوں وزیراعظم انسپیکشن کمیشن کو تورکھو کا زمینی معائنہ کرنے اور حقائق براہِ راست جانچنے کا موقع نہ مل سکا، جس صورتحال کا فائدہ ٹھیکیدار مافیا اور بعض سیاسی عناصر نے مبینہ طور پر قانون و امان کی صورتحال کو جواز بنا کر اٹھایا۔
اب امید ہے کہ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اپر چترال وزیراعظم انسپیکشن کمیشن اور اس کے تکنیکی ماہرین کی ٹیم کے تورکھو کے دورے کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی، تاکہ کمیشن کے اراکین موقع پر پہنچ کر منصوبے کی حقیقی صورتحال کا خود جائزہ لے سکیں اور زمینی حقائق سے براہِ راست آگاہی حاصل کریں۔
یہ وقت کا تقاضا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ٹھیکیدار اور کمیشن مافیا کے خلاف مؤثر اقدامات کریں اور مقامی اقتصادی ترقی کے اس اہم مقصد کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ بدقسمتی سے یہ ترقیاتی ایجنڈا ان مضبوط اور بااثر مافیاز کے ہاتھوں مسلسل متاثر ہو رہا ہے، جن کے مفادات ٹمبر، مائننگ اور ٹھیکیداری کے شعبوں سے جڑے ہوئے ہیں۔

ستمبر کے احتجاج کی تیاریاں، پی ٹی آئی لوئر چترال متحرکلوئر چترال (چمرکھن)  پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت، ایم پی...
14/09/2026

ستمبر کے احتجاج کی تیاریاں، پی ٹی آئی لوئر چترال متحرک

لوئر چترال (چمرکھن) پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت و ثقافت، ایم پی اے و ضلعی صدر پی ٹی آئی مہتر فاتح الملک علی ناصر کی قیادت میں تحصیل چترال کے تنظیمی عہدیداران اور کارکنان کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں 27 ستمبر کے احتجاج کو کامیاب اور منظم بنانے، کارکنان کی بھرپور شرکت اور عوامی رابطہ مہم کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی و جمہوری جدوجہد جاری رہے گی۔

27 ستمبر—اتحاد، نظم و ضبط اور بھرپور عوامی شرکت کا دن!

Hami saman hunun Mastuj Road aa tonj biti sheni Booni ar gani Dumadumia pt he muxi kura chori sheni. Hetn kaki letami ya...
14/09/2026

Hami saman hunun Mastuj Road aa tonj biti sheni Booni ar gani Dumadumia pt he muxi kura chori sheni. Hetn kaki letami ya he bara kostn pata ki hoi bara e meherbani haya number aa rabita korur e number already hate borio teka mentioned oshoi.
Cell: 0348-2817686

ایک مخلصانہ گزارش  کھیل کو کھیل اور فورمز کو فورم رہنے دیںحالیہ ٹورنامنٹ کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور مخلصانہ گزارش پی...
14/09/2026

ایک مخلصانہ گزارش کھیل کو کھیل اور فورمز کو فورم رہنے دیں
حالیہ ٹورنامنٹ کے تناظر میں ایک نہایت اہم اور مخلصانہ گزارش پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس سرگرمی کے انعقاد و انتظام میں شریک بعض احباب کا تعلق اگر ٹی ٹی ڈی ایف (ٹورکھو تریچ ڈویلپمنٹ فورم) سے ہے تو یہ ان کی ذاتی یا اجتماعی وابستگی ہے، جس کا ہمیں پورا احترام ہے۔ تاہم محض کسی فرد یا چند افراد کی کسی فورم سے وابستگی کی بنیاد پر کسی کھیلوں کی سرگرمی کو پورے فورم کی باقاعدہ نمائندگی، ادارہ جاتی سرگرمی یا سرکاری حیثیت دینا قرینِ انصاف اور قرینِ مصلحت نہیں۔
ہر فورم کا اپنا دائرۂ کار، نصب العین، ترجیحات، تنظیمی ساخت اور اجتماعی ذمہ داریاں ہوتی ہیں، جبکہ کھیل اور کھیلوں کی سرگرمیاں اپنی الگ نوعیت اور اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں۔ کسی فرد کا کسی فورم سے وابستہ ہونا اس امر کا قطعی متقاضی نہیں کہ اس کی ہر ذاتی، سماجی، فلاحی یا کھیلوں سے متعلق سرگرمی کو اسی فورم کی پالیسی یا ترجمانی تصور کیا جائے۔
اسی تناظر میں ٹی ٹی آر ایف (ٹورکھو–تریچ روڈ فورم) بھی علاقے کے نوجوانوں کا قائم کردہ ایک تعمیری اور غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے، جس کا مقصد کسی فرد، جماعت، مسلک یا مخصوص گروہی مفاد کی ترویج نہیں بلکہ علاقائی تعمیر و ترقی، اجتماعی مسائل کی نشان دہی اور عوامی مفاد کے معاملات کو پرامن، منظم اور مؤثر انداز میں متعلقہ حلقوں تک پہنچانا ہے۔
ٹی ٹی آر ایف کے قیام کے پسِ پشت علاقے کے نوجوانوں کا ایک اجتماعی شعور، احساسِ ذمہ داری اور جذبۂ خدمت کارفرما رہا ہے۔ اس فورم نے ماضی میں جس استقامت، نظم و ضبط، عزمِ صمیم اور اجتماعی بصیرت کے ساتھ ایک طویل عرصے سے تعطل کا شکار بونی بوزند روڈ کے مسئلے کو اجاگر کیا، اس کے لیے آواز بلند کی اور متعلقہ حکام و ذمہ داران تک عوامی تشویش کو مؤثر انداز میں منتقل کیا، اس جدوجہد کی عملی شہادتیں اہلِ علاقہ کے سامنے موجود ہیں۔
یہ کسی ایک فرد کی کاوش یا کسی ایک شخصیت کی انفرادی کامیابی نہیں، بلکہ علاقے کے نوجوانوں، قیادت، عمائدین اور ان تمام مخلص افراد کی مشترکہ جدوجہد کا ثمر ہے جنہوں نے اس دیرینہ مسئلے کو اپنا اجتماعی مسئلہ سمجھا۔ اسی لیے اس فورم کی جدوجہد کو کسی ذاتی مفاد، گروہی رقابت یا باہمی مناقشے کے تناظر میں دیکھنا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں۔
میری نہایت مؤدبانہ گزارش ہے کہ ٹی ٹی آر ایف جیسے نوجوانوں کے اس غیر سیاسی، غیر مذہبی اور غیر علاقائی پلیٹ فارم کو متنازع بنانے یا اس کی نیت و کردار کو مشکوک بنانے کی کوئی بھی کوشش نہ کی جائے۔ اختلافِ رائے ہر شخص کا مسلمہ حق ہے اور تنقید بھی ایک صحت مند معاشرتی روایت ہے، تاہم تنقید اور تخریب، اختلاف اور افتراق، احتساب اور الزام تراشی کے مابین موجود باریک حدِ فاصل کو ملحوظِ خاطر رکھنا بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
ٹی ٹی آر ایف آئندہ بھی اسی شائستگی، متانت، مشاورت اور اجتماعی مفاد کے اصولوں کے تحت اپنے سفر کو جاری رکھے گا۔ بونی–بوزند روڈ کے مسئلے کے بعد بھی علاقے کے دیگر اجتماعی مسائل اور تعمیر و ترقی کے معاملات موجود ہیں، جن کے لیے ان شاء اللہ یہی نوجوان اپنی استطاعت کے مطابق مثبت، پرامن اور آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
اسی طرح ٹی ٹی ڈی ایف بھی اپنی جگہ ایک قابلِ احترام فورم ہے۔ اس کے مقاصد اور سرگرمیوں کا احترام کرتے ہوئے ہمیں یہ اصول پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ ایک فورم کی سرگرمی کو دوسرے فورم کے ساتھ غیر ضروری طور پر منسوب کرنا نہ صرف غلط فہمیوں کو جنم دیتا ہے بلکہ باہمی اعتماد اور اجتماعی یکجہتی کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
حالیہ ٹورنامنٹ کے حوالے سے اگر کسی مقام یا انتظامی پہلو پر اعتراضات سامنے آئے اور منتظمین نے بعد ازاں ڈپٹی کمشنر سے مشاورت کرکے کھیلوں کی سرگرمی کو ممکن بنایا، تو اسے ایک انتظامی، مقامی اور باہمی مشاورت پر مبنی معاملہ سمجھنا زیادہ مناسب اور قرینِ مصلحت ہوگا۔ اسے کسی طور ٹی ٹی آر ایف اور ٹی ٹی ڈی ایف کے مابین رقابت، کشمکش یا محاذ آرائی کا عنوان دینا مناسب نہیں۔
ہم سب ایک ہی خطے کے باشندے ہیں، ہمارے دکھ، مسائل، امیدیں اور مستقبل ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ اختلافِ رائے اگر اخلاق، تہذیب، رواداری اور حسنِ ظن کے دائرے میں رہے تو اختلاف بھی خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے؛ لیکن جب اختلاف شخصیات، فورمز اور گروہوں کے مابین بدگمانی میں تبدیل ہو جائے تو اس کا نقصان بالآخر پورے معاشرے کو اٹھانا پڑتا ہے۔
کھیل نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمی، صحت مند مسابقت، باہمی رفاقت اور اخوت کا وسیلہ ہیں۔ انہیں گروہی کشمکش یا فورمی رقابت کا میدان بنانا نہ کھیل کی روح کے شایانِ شان ہے اور نہ ہمارے نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے مفید۔
لہٰذا میری مخلصانہ اور مؤدبانہ گزارش ہے کہ کھیل کو کھیل رہنے دیں، فورمز کو فورم رہنے دیں اور خدمت کو خدمت رہنے دیں۔ ٹی ٹی آر ایف کو اپنا کردار ادا کرنے دیں، ٹی ٹی ڈی ایف کو اپنا؛ ہر فرد اور ہر فورم کو اپنے دائرۂ کار میں مثبت کردار ادا کرنے کا موقع دیں اور غیر ضروری نسبتوں، قیاس آرائیوں اور بدگمانیوں سے اجتناب کریں۔
آخرکار اصل کامیابی کسی ایک فرد، شخصیت یا فورم کی نہیں بلکہ پورے علاقے کی خوش حالی، تعمیر و ترقی، نوجوانوں کے روشن مستقبل اور ہماری اجتماعی یکجہتی کی ہے۔ اگر ہماری نیت اصلاح، مقصد خدمت اور منزل اجتماعی بھلائی ہو تو اختلافات بھی ہمیں منتشر نہیں بلکہ مزید منظم، مضبوط اور متحد کر سکتے ہیں۔
محبت کو فروغ دیں، اختلاف کو شائستگی دیں، خدمت کو سیاست سے پاک رکھیں اور اپنے نوجوانوں کو تقسیم کے بجائے تعمیر و ترقی کا راستہ دکھائیں۔ یہی وقت کا تقاضا اور ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔
منجانب: حسین علی صفدر

آگیگا اپر چترال کے سرپرست اعلی و صدر لیکچررز ایسو سی ایشن پروفیسر خالد پرویز نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیک...
14/09/2026

آگیگا اپر چترال کے سرپرست اعلی و صدر لیکچررز ایسو سی ایشن پروفیسر خالد پرویز نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ ڈپٹی اسپیکر محترمہ ثورایا بی بی نے نے اپر چترال کے تحصیل مستوج میں زنانہ کالج کا افتتاح کر کے تعلیم سے محبت رکھنے والے علاقے کے عوام کا دل جیت لیا ہے۔ کالج کا قیام دور دراز کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے خواتین کو ان کی دہلیز پر معیاری تعلیم کی فراہمی میں سنک میل ثابت ہوگا۔ انھوں نے واضح کردیا کہ ڈپٹی اسپیکر نے خواتین کی تعلیم وترقی کیلئے اہم اقدامات اٹھارہی ہے اور یہ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی منتخب نمائندے کی تعلیم دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ صدر کالج ایو سی ایشن نے امید ظاہر کی کہ ڈپٹی اسپیکر ایئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ علاقے کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کیلئے ہمہ جہت خدمات سرانجام دیتی رہے گی۔

ٹیم محمد طلحہ محمود کا کریم آباد ویلی کا دورہ،سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں کا جائزہگزشتہ روز سینیٹر محمد طلحہ محمود ک...
14/09/2026

ٹیم محمد طلحہ محمود کا کریم آباد ویلی کا دورہ،سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں کا جائزہ

گزشتہ روز سینیٹر محمد طلحہ محمود کی ہدایات پر ٹیم محمد طلحہ محمود نے کریم آباد ویلی کے مختلف علاقوں مداشیل،کیار،بیشگرام اور ہنجیل کا دورہ کیا جہاں عمائدینِ علاقہ اور مختلف تنظیموں کے سربراہان سے ملاقاتیں کی گئیں۔

دورے کے دوران سینیٹر محمد طلحہ محمود کی جانب سے مداشیل کریم آباد کے لیے اعلان کردہ HDPE پائپس اہالیانِ علاقہ کے حوالے کیے گئے،جبکہ کریم آباد کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے بحالی اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے لیے جاری کیے گئے نقد فنڈز سے ہونے والے کاموں کا تفصیلی جائزہ بھی لیا گیا۔

اس موقع پر عمائدینِ علاقہ نے مشکل کی گھڑی میں عوام کا ساتھ دینے پر سینیٹر محمد طلحہ محمود کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی کریم آباد کے عوام کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔

Team Talha Mahmood

انتقالِ پرملالاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَاپر چترال کے علاقے چوئینج پائن سے تعلق رکھنے والے صوبیدار (ر) ...
14/09/2026

انتقالِ پرملال

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

اپر چترال کے علاقے چوئینج پائن سے تعلق رکھنے والے صوبیدار (ر) خورشید علی بقضائے الٰہی آج انتقال کر گئے۔
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج دن 11 بجے ادا کی جائے گی، جس کے بعد انہیں آبائی قبرستان چوئینج پائن میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

مرحوم کے سوگواران میں محمد علی، شوکت علی ، حیدر علی، سعید علی، علی نواز اور جملہ برادری شامل ہیں۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

No. 4
Rawalpindi
46060

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chumarkhan چمرکھن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chumarkhan چمرکھن:

Shortcuts

Share