Muhibullah Hanfi

Muhibullah Hanfi اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرنا

04/06/2026

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفہ اور عشرۂ مبشرہ میں شامل جلیل القدر صحابی تھے۔ آپ کا لقب ذوالنورین تھا، کیونکہ آپ کو نبی کریم ﷺ کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کا شرف حاصل ہوا۔
مختصر معلومات
نام: عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ
والد: عفان بن ابی العاص
قبیلہ: قریش
ولادت: مکہ مکرمہ
خلافت: 24 ہجری سے 35 ہجری تک
شہادت: 18 ذوالحج 35 ہجری
فضائل و خصوصیات
بہت زیادہ سخی اور نرم دل تھے۔
غزوۂ تبوک میں بے مثال مالی مدد کی۔
کنویں “بئر رومہ” کو خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کیا۔
آپ کے دور میں قرآنِ مجید کو ایک رسم الخط پر جمع کرکے مختلف علاقوں میں بھیجا گیا۔
شہادت
آپ رضی اللہ عنہ نے مظلومانہ شہادت پائی۔ باغیوں نے آپ کے گھر کا محاصرہ کیا اور آپ قرآنِ پاک کی تلاوت کرتے ہوئے شہید ہوئے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“ہر نبی کا ایک رفیق جنت میں ہوتا ہے اور جنت میں میرا رفیق عثمان ہوگا۔”

30/05/2026

ختم نبوت زندہ باد ۔۔
مرزا غلام احمد قادیانی پرلعنت بے شمار

27/05/2026
19/05/2026

حاجي صاحب

18/05/2026

تحریر: مولانا محب اللہ حنفی
بیت اللہ کی تعمیر کے مختلف مراحل
بیت اللہ شریف دنیا کی سب سے مقدس اور عظیم عبادت گاہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کا مرکز بنایا۔ اس کی تاریخ نہایت قدیم، ایمان افروز اور عظمتوں سے بھرپور ہے۔ مختلف ادوار میں بیت اللہ کی تعمیر، تجدید اور مرمت ہوتی رہی، لیکن اس کی اصل بنیادیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے خاص حکم اور حفاظت میں رہیں۔
روایات کے مطابق سب سے پہلے فرشتوں نے بیت اللہ کی بنیادیں کھود کر انہیں بڑے بڑے پتھروں سے مضبوط کیا۔ جب بنیادیں ہموار ہو گئیں تو آسمانوں سے بیت المعمور کو اتار کر ان بنیادوں پر رکھا گیا۔ قرینۂ قیاس یہی ہے کہ اس وقت حضرت آدم علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی موجود تھے۔ بعد میں حضرت آدم علیہ السلام نے بیت اللہ کی نگرانی اور عبادت کا سلسلہ جاری رکھا۔
پھر جب حضرت نوح علیہ السلام کا عظیم طوفان آیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے بیت المعمور کو دوبارہ آسمانوں پر اٹھا لیا اور بیت اللہ کی بنیادیں مٹی کے نیچے پوشیدہ ہو گئیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا۔ آپ علیہ السلام نے زمین کھود کر پرانی بنیادوں کو ظاہر کیا اور انہی بنیادوں پر کعبۃ اللہ کی تعمیر فرمائی۔ اس عظیم کام میں حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی شریک تھے۔ قرآنِ مجید میں اس مبارک تعمیر کا ذکر ان الفاظ میں موجود ہے:
“اور جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے…”
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد مختلف قبائل نے اپنے اپنے زمانے میں بیت اللہ کی دیکھ بھال اور تعمیر کی، جن میں عمالقہ، بنو جرہم، بنو خزاعہ اور قصی بن کلاب شامل ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعمیر کے تقریباً 2645 سال بعد، بعثتِ نبوی سے پانچ سال قبل قریش نے بیت اللہ کی ازسرِ نو تعمیر کی۔ اس وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک 35 سال تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس اس تعمیر میں حصہ لیا۔ حجرِ اسود نصب کرنے کے موقع پر قبائل کے درمیان اختلاف پیدا ہوا، مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حکمت اور دانائی سے یہ جھگڑا ختم فرمایا۔
قریش نے تعمیر کے دوران چند تبدیلیاں بھی کیں:
حطیم کا حصہ بیت اللہ سے باہر کر دیا۔
دروازہ ایک رکھا گیا۔
دروازے کو زمین سے اونچا کر دیا گیا۔
دیواروں کی بلندی بڑھا دی گئی۔
اوپر چھت ڈالی گئی اور لکڑی کے ستون نصب کیے گئے۔
حطیم کی جانب پرنالہ لگایا گیا تاکہ بارش کا پانی محفوظ مقام یعنی حطیم میں گرے۔
حطیم کے گرد ایک چھوٹی دیوار تعمیر کی گئی۔
بابِ کعبہ کو زمین سے تقریباً چار گز بلند رکھا گیا۔
اندرونی زمین کو دروازے کی سطح تک مٹی سے بھر دیا گیا۔
فتحِ مکہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش ظاہر فرمائی کہ بیت اللہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق دوبارہ تعمیر کیا جائے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں یہ تمنا پوری نہ ہو سکی۔
بعد میں 64 ہجری میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیت اللہ کو ازسرِ نو تعمیر کر کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر قائم کیا۔ لیکن جب حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کیا تو اس نے دوبارہ بیت اللہ کو منہدم کر کے قریش والی سابقہ طرزِ تعمیر پر بنا دیا اور کہا کہ وہ اپنے مخالف کی نشانی باقی نہیں رہنے دے گا۔
بعد ازاں جب خلیفہ ہارون الرشید کا دور آیا تو انہوں نے امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے مشورہ کیا کہ بیت اللہ کو دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کیا جائے یا نہیں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اب بیت اللہ میں بار بار تبدیلی مناسب نہیں، ورنہ یہ بادشاہوں کے ہاتھوں میں کھیل بن جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد صرف ضرورت کے مطابق مرمت ہوتی رہی، مگر بنیادوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب ایک حبشی غلام بیت اللہ کو منہدم کرے گا اور اس کا خزانہ نکال لے جائے گا۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیرِ عزیزی میں ایک نہایت ایمان افروز روایت نقل کی ہے کہ جب قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ بیت اللہ کی حقیقت کو آسمانوں کی طرف اٹھائیں گے تو بیت اللہ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر حاضر ہو کر عرض کرے گا:
السلام علیک یا رسول اللہ
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جواب ارشاد فرمائیں گے:
وعلیک السلام یا بیت اللہ
پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرمائیں گے:
“اے بیت اللہ! میری امت نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا؟”
بیت اللہ عرض کرے گا:
“جو امتی میرے پاس پہنچا، میں اس کی شفاعت کی ذمہ داری لیتا ہوں، اور جو نہ پہنچ سکا اس کی شفاعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کرتا ہوں۔”
اس کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بیت اللہ کی سچی محبت، ادب، تعظیم اور بار بار حاضری نصیب فرمائے۔ آمین۔
حوالہ:
تحفۃ المنعم شرح مسلم، جلد 4، کتاب الحج، صفحہ 469۔

18/05/2026

حاجی صاحب

12/02/2026

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

Address

Rohri

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Muhibullah Hanfi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category