عجب گل

عجب گل عجب گل جنرل سٹور بنگلہ ہدایت عجب گل ناصر

17/08/2026

روجہان ۔عمرکوٹ بھاکسر میں کچھ لوگ میرا نام استعمال کرکے مارکیٹینگ کررہے ہیں محمد اسلم خان ۔۔۔محمد اکبر خان کے علاوہ ہمارا کوئی نمائندہ نہیں لہذا تمام دکاندار حضرات نوٹ کرلیں ۔۔۔شکریہ عجب گل بنگلہ ہدایت

28/07/2026

پٹرول پورے100پیسے کم ہوگئی ہے

26/07/2026

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

یہ وہ دو روپیہ ہے جو میرے پورے چھہ مہینہ سکول خرچہ تھا
25/06/2026

یہ وہ دو روپیہ ہے جو میرے پورے چھہ مہینہ سکول خرچہ تھا

آج سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہیں جن میں ایک نوجوان کھجور کے بلند درخت پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے اور نیچے دو موٹے تازے ...
12/06/2026

آج سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہیں جن میں ایک نوجوان کھجور کے بلند درخت پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے اور نیچے دو موٹے تازے پولیس افسران اسے نیچے اترنے کے لیے وارننگز دے رہے ہیں۔ نوجوان نیچے نہیں اترتا پھر ریسکیو ٹیم بلائی جاتی ہے اور درخت کو کاٹ کر ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ کوٹ چٹھہ میں پیش آیا اور نوجوان چور تھا۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اصل مقصد جان و مال کا تحفظ اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس طرح کی غیر انسانی اور جذباتی کاروائیاں۔
کسی بھی ملزم یا مجرم کو پکڑنے کے لیے طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری حربہ ہونا چاہیے اور وہ بھی اس حد تک جس سے کسی کی جان کو یقینی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اتنے اونچے درخت کو کاٹ کر گرانا سیدھا سیدھا ملزم کی جان لینے یا اسے عمر بھر کے لیے معذور کرنے کے مترادف ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم وہاں موجود تھی تو ان کے پاس اونچائی سے اتارنے کے لیے سیڑھیاں، مشینری اور دیگر حفاظتی آلات موجود ہوتے ہیں۔ درخت کاٹنا کسی صورت پیشہ ورانہ طریقہ کار نہیں کہلا سکتا۔ پولیس والوں کو ٹرینگ دی جاتی ہے اگر چور کھجور پر چڑھ سکتا ہے تو کیا پولیس چور سے بھی گئی گزری ہے؟ اگر درخت کاٹنے کی بجائے نیچے دو پولیس والے تعینات کر دیتے تو وہ اوپر کب تک بھوکا پیاسا گرمی میں بیٹھا رہتا؟ پولیس کے پاس وقت اور نفری دونوں موجود تھے۔ وہ صرف انتظار کر کے ملزم کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا سکتے تھے۔ بھوک، پیاس اور دھوپ کے آگے کوئی بھی شخص زیادہ دیر تک اتنی بلندی پر نہیں ٹک سکتا۔ آخرکار ملزم بغیر کسی جانی نقصان کے خود ہی نیچے اترنے پر مجبور ہو جاتا۔
کھجور کا اتنا بڑا درخت جو سالوں کی محنت اور دیکھ بھال کے بعد اس مقام تک پہنچتا اور پھل دیتا ہے اسے ایک ملزم کو پکڑنے کی جلدی میں کاٹ دینا سراسر جہالت اور ماحول دشمنی ہے بلکہ یہ اس کسان یا باغبان کے معاشی نقصان کا سبب بھی ہے جس کی زمین پر وہ درخت موجود تھا۔ کسی ایک شخص کے جرم کی سزا ایک سرسبز پھل دار درخت کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟
پاکستان میں پولیس کا امیج پہلے ہی خراب ہے لوگوں کے ذہن میں پولیس کا نام سن کر باہر نکلے پیٹ والے گالیاں بکتے رشوت خور پولیس افسران کی تصویر ابھرتی ہے۔ قانون کا کام قانون کے دائرے میں رہ کر مجرم کو سزا دلوانا ہے خود قانون کو ہاتھ میں لینا یا وحشیانہ طریقے اپنانا نہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے پولیس کا امیج عوام میں مزید خراب ہو گا۔ اس واقعے کی اعلیٰ حکام کو انکوائری کرنی چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی غیر پیشہ ورانہ حرکتوں کا تدارک ہو سکے۔

اس ایک تصویر سے اپ اندازہ لگائیں کہ حکومت کفایت شعاری میں کتنی مخلص ہے ایک غریب کھوکھے والا اگر ایک منٹ بھی دیر سے دکان ...
11/06/2026

اس ایک تصویر سے اپ اندازہ لگائیں کہ حکومت کفایت شعاری میں کتنی مخلص ہے ایک غریب کھوکھے والا اگر ایک منٹ بھی دیر سے دکان کھلی رکھے تو فورآ سیل کردیتے ہیں کہ ملک میں توانائی کا بحران ہے جبکہ یہ سپیکر پنجاب اسمبلی ہیں جون کے مہینہ میں اسملی کے سیشن کے دوران گرم گپڑے اوپر واسکٹ اوپر کوئی اور شیروانی نما کپڑے پہنے ہوئے ہیں جبکہ تمام ممبرز تھری سوث میں موجود ہیں تقریبآ تین سو ممبر کی اسمبلی کا ہال کتنا بڑا ہوگا اب اپ ہی اندازہ لگائیں اتنے بڑے ہال میں کتنے اے سی لگے ہوں گے جو ممبران کو ٹھنڈا رکھے جبکہ اسی اسمبلی میں کفایت شعاری پر بھرپور تقریریں ہوتی ہیں

19/05/2026
05/05/2026

ejang

BACK
پاکستان کا سب سے بڑامالیاتی اسک
اسلام آباد کے قلب میں ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی جگہ جو گرینڈ حیات ہوٹل کیلئے مختص تھی وہاں کثیر المنزلہ عمارت میں پرتعیش اپارٹمنٹ بنا کر کیسے فروخت کردیئے گئے؟ کرپشن کہانی شروع ہوتی ہے 50ویں یوم آزادی سے۔ یکم اگست 1996ء کو وزیراعظم بینظیر بھٹو کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کنونشن سینٹر بنانیکا فیصلہ کرتی ہے۔ اس دوران انکی حکومت رخصت ہو جاتی ہے اور جنوری 1997ء میں تعمیر مکمل ہوتی ہے تو نواز شریف وزیر اعظم بن چکے ہوتے ہیں۔ 6مئی 1997ء کو وفاقی کابینہ اسلام آباد کا ماسٹر پلان تبدیل کرنے کی منظوری دیتی ہے۔ کنونشن سینٹر کی نجکاری کا فیصلہ ہوتا ہے اور وفاقی کابینہ کے سامنے عالمی معیار کے پنج تارہ ہوٹل اور شاپنگ مال بنانیکی تجویز آتی ہے جسے مسترد کر دیا جاتا ہے۔ نواز حکومت برطرف کر دی جاتی ہے اور اب پرویز مشرف عنان اقتدار پر قابض ہو جاتے ہیں۔ چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری 18فروری 2004ء کو سیکریٹری داخلہ اور بعدازاں وزیر داخلہ کو بریفنگ دیتے ہیں کہ شاہراہ دستور سے متصل فائیو اسٹار نہیں بلکہ سِکس اسٹار ہوٹل بنایا جائے۔ چونکہ اس برس اسلامی سربراہی کانفرنس کا اجلاس اسلام آباد میں ہو رہا ہے اسلئے غیر ملکی مہمانوں کے قیام و طعام کیلئے عالمی معیار کی سہولیات کا اہتمام کیا جائے۔ تاہم اس تجویز سے شاپنگ مال کو منہا کر دیا جاتا ہے اور ہوٹل کم کانفرنس سینٹر بنانے پر اتفاق ہوتا ہے۔ cda کی طرف سے 13اپریل 2004ء کو مشتہر کیا جاتا ہے کہ اسلام آباد کی پرائم لوکیشن پر ہوٹل بنانے کیلئے پیشکشیں مطلوب ہیں۔ اشتہار میں واضح کیا جاتا ہے کہ زمین عالمی معیار کا ہوٹل بنانے کیلئے لیز پر دی جائیگی۔ سی ڈی اے دلچسپی کا اظہار کرنیوالی کمپنیوں سے پری بِڈ نشست کا اہتمام کرتی ہے۔جبکہ بولی میں حصہ لینے والوں میں بی این پی نامی وہ کنسورشیم شامل نہیں جس نے یہ واردات ڈالی۔ دو کمپنیاں پری کوالیفکیشن کے مرحلے میں کامیاب ہوتی ہیں۔ m/s hashwani hotel pvt ltdاورm/s pakistan services pvt ltd۔ مگر سی ڈی اے کی طرف سے بِڈنگ کو منسوخ کردیا جاتا ہے۔ 28ستمبر2004ء کو دوبارہ اشتہار شائع ہوتا ہے اور اس بار فیصل آباد سے نسبتاً ایک چھوٹے بزنس مین عبدالحفیظ شیخ پاشا چار کمپنیوں کے اشتراک سے بولی میں حصہ لیتے ہیں۔ بسم اللہ ٹیکسٹائل ملز، نیا گرا ملز پرائیویٹ لمیٹڈ، پیراگان سٹی پرائیویٹ لمیٹڈ اور belhasaانٹرنیشنل کمپنی کا کنسورشیم جو بی این پی (بسم اللہ، نیاگرا، پیراگان) کے نام سے میدان میں آتا ہے اسکی طرف سے 75ہزار روپے فی مربع گز کی بولی قبول کرلی جاتی ہے۔ حالانکہ اسی برس سینٹورس مال بنانے کیلئے جو پلاٹ لیز پر دیا گیا وہاں ایک لاکھ 90ہزار روپے فی مربع گز کی پیشکش قبول کی گئی۔ مگر شاہراہ دستور کے آغاز میں ساڑھے 13ایکٹر زمین اسلئے ارزاں نرخوں پر دی گئی کہ یہاں عالمی معیار کا ہوٹل بنایا جانا ہے۔ کامیاب بولی دہندہ نے 15سال کے دوران مجموعی طور پر 4ارب 88کروڑ روپے ادا کرنے ہیں جبکہ 45دن میں 15فیصد ادائیگی یعنی 80کروڑ روپے دینے پر یہ قیمتی قطعہ اراضی حوالے کردیا جاتا ہے۔ بولی سے پہلے ایک فریق کی طرف سے تحریری طور پر سی ڈی اے سے پوچھا جاتا ہے کہ ”سروس اپارٹمنٹ“ سے کیا مراد ہے۔ سی ڈی اے کی طرف سے بتایا جاتا ہے کہ سروس اپارٹمنٹ اور دکانیں اس منصوبے کا حصہ ہیں مگر انہیں کسی کو فروخت نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی جس طرح ہوٹل کے کمرے کرائے پر دیئے جاتے ہیں اسی طرح سروس اپارٹمنٹ استعمال ہونگے مگر سی ڈی اے سے لیز حاصل کرنیوالا انہیں کسی اور کو نہیں بیچ سکتا نہ لیز پر دے سکتا ہے۔اس دوران 8اکتوبر 2005ء کو زلزلہ آتا ہے اور اسلام آباد میں ایک کثیر المنزلہ عمارت گرجاتی ہے تو مارکیٹ ڈاؤن ہو جاتی ہے۔ بی این پی کی طرف سے پیمنٹ ری شیڈول کرنے کی درخواست آتی ہے جو قبول کرلی جاتی ہے۔ بعد ازاں کمپنی کا آرکیٹیکٹ لے آؤٹ پلان جمع کرواتا ہے تو سی ڈی اے کی طرف سے واضح کیا جاتا ہے کہ ”لگژری رہائشی اپارٹمنٹ“ نہیں بنائے جاسکتے۔ تھرڈ پارٹی سب لیز کیلئے سی ڈ ی اے سے این او سی مانگا جاتا ہے تو انکار کردیا جاتا ہے۔ اس دوران سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے اعتراض سامنے آتا ہے کہ 725فٹ بلند عمارت نہیں بنائی جاسکتی، زیادہ سے زیادہ 330فٹ اوپر جاسکتے ہیں۔ وزارت دفاع اور پاک فضائیہ کی طرف سے بھی اس موقف کی تائید کی جاتی ہے تو زیر تعمیر عمارت کو 43منزل تک لیجانے کے بجائے 23منزلوں پر اکتفا کرنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ بی این پی کی طرف سے سول عدالت سے رجوع کیا جاتا ہے، سی ڈی اے آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کرلیتی ہے اور پیشکش کرتی ہے کہ آپ 2016ء تک مکمل ادائیگی کرنے کے پابند تھے،ہم آپ کو مزید 10سال کی چھوٹ دیتے ہیں، 2026ء تک ادائیگی کردیں۔ نہ صرف یہ کہ بی این پی اس چھوٹ کے باوجود وقت پر ادائیگی نہیں کرتی بلکہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپارٹمنٹ فروخت کرتی چلی جاتی ہے۔ سی ڈی اے زیر تعمیر عمارت کو سیل کردیتی ہے اور پھر لیز منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ بی این پی اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرتی ہے جہاں اعتزاز احسن اور بیرسٹر گوہر کمپنی کا مقدمہ لڑتے ہیں جبکہ عاصمہ جہانگیر، خواجہ حارث اور بابر ستار ان متاثرین کی طرف سے پیش ہوتے ہیں جنہوں نے اپارٹمنٹ خرید رکھے ہیں۔جسٹس اطہر من اللہ فریقین کو سننے کے بعد 3مارچ 2017ء کو سی ڈی اے کا موقف درست قرار دیتے ہوئے لیز کی منسوخی کے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کردیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ یہ فلیٹ سروس اپارٹمنٹ کی تعریف پر پورا نہیں اُترتے۔ 4ستمبر2018ء کو اسلام آباد کا ڈویژن بنچ اس فیصلے کیخلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلیں خارج کردیتا ہے مگر جنوری 2019ء میں ثاقب نثار اس معاملے کو ریگولرائز کردیتے ہیں۔ بینچ میں اعجاز الاحسن بھی شامل ہیں جو ماضی میں درخواست گزاروں کے وکیل رہے۔ سی ڈی اے کی طرف سے مفادات کے ٹکراؤ کی نشاندہی کے باوجود وہ بینچ سے الگ نہیں ہوتے اور قرار دیا جاتا ہے کہ 17ارب روپے لیکر معاملہ رفع دفع کر دیا جائے۔ اگر 100ارب جرمانہ کیا جاتا تو بھی گھاٹے کا سودا نہیں تھا لیکن متعلقہ فریق کی طرف سے ادائیگی نہیں کی جاتی اور ایک مرتبہ پھر اسلام آباد ہائیکورٹ سے فیصلہ آجاتا ہے، پولیس عمارت خالی کروانے جاتی ہے مگر آپریشن ملتوی کردیا جاتا ہے کیونکہ یہ وفاقی دارالحکومت کے گرد و نواح کی کچی آبادی نہیں جسے پلک جھپکنے میں گرا دیا جائے،یہ اشرافیہ کی عظمت کے مینار ہیں

21/04/2026

نیو کوئیٹہ زیتون ہوٹل شیرکوہ مارکیٹ سرپرست ربنواز خان ناصر
عجب گل جنرل سٹور سرپرست ادم خان ناصر اپ کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف
تمام کسٹمرز کا بے حد شکریہ

Address

Rojhan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عجب گل posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to عجب گل:

Shortcuts

Share

Category