12/06/2026
آج سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز وائرل ہیں جن میں ایک نوجوان کھجور کے بلند درخت پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے اور نیچے دو موٹے تازے پولیس افسران اسے نیچے اترنے کے لیے وارننگز دے رہے ہیں۔ نوجوان نیچے نہیں اترتا پھر ریسکیو ٹیم بلائی جاتی ہے اور درخت کو کاٹ کر ملزم کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ کوٹ چٹھہ میں پیش آیا اور نوجوان چور تھا۔
کسی بھی مہذب معاشرے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا اصل مقصد جان و مال کا تحفظ اور قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوتا ہے نہ کہ اس طرح کی غیر انسانی اور جذباتی کاروائیاں۔
کسی بھی ملزم یا مجرم کو پکڑنے کے لیے طاقت کا استعمال ہمیشہ آخری حربہ ہونا چاہیے اور وہ بھی اس حد تک جس سے کسی کی جان کو یقینی خطرہ لاحق نہ ہو۔ اتنے اونچے درخت کو کاٹ کر گرانا سیدھا سیدھا ملزم کی جان لینے یا اسے عمر بھر کے لیے معذور کرنے کے مترادف ہے۔ ریسکیو 1122 کی ٹیم وہاں موجود تھی تو ان کے پاس اونچائی سے اتارنے کے لیے سیڑھیاں، مشینری اور دیگر حفاظتی آلات موجود ہوتے ہیں۔ درخت کاٹنا کسی صورت پیشہ ورانہ طریقہ کار نہیں کہلا سکتا۔ پولیس والوں کو ٹرینگ دی جاتی ہے اگر چور کھجور پر چڑھ سکتا ہے تو کیا پولیس چور سے بھی گئی گزری ہے؟ اگر درخت کاٹنے کی بجائے نیچے دو پولیس والے تعینات کر دیتے تو وہ اوپر کب تک بھوکا پیاسا گرمی میں بیٹھا رہتا؟ پولیس کے پاس وقت اور نفری دونوں موجود تھے۔ وہ صرف انتظار کر کے ملزم کو ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا سکتے تھے۔ بھوک، پیاس اور دھوپ کے آگے کوئی بھی شخص زیادہ دیر تک اتنی بلندی پر نہیں ٹک سکتا۔ آخرکار ملزم بغیر کسی جانی نقصان کے خود ہی نیچے اترنے پر مجبور ہو جاتا۔
کھجور کا اتنا بڑا درخت جو سالوں کی محنت اور دیکھ بھال کے بعد اس مقام تک پہنچتا اور پھل دیتا ہے اسے ایک ملزم کو پکڑنے کی جلدی میں کاٹ دینا سراسر جہالت اور ماحول دشمنی ہے بلکہ یہ اس کسان یا باغبان کے معاشی نقصان کا سبب بھی ہے جس کی زمین پر وہ درخت موجود تھا۔ کسی ایک شخص کے جرم کی سزا ایک سرسبز پھل دار درخت کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟
پاکستان میں پولیس کا امیج پہلے ہی خراب ہے لوگوں کے ذہن میں پولیس کا نام سن کر باہر نکلے پیٹ والے گالیاں بکتے رشوت خور پولیس افسران کی تصویر ابھرتی ہے۔ قانون کا کام قانون کے دائرے میں رہ کر مجرم کو سزا دلوانا ہے خود قانون کو ہاتھ میں لینا یا وحشیانہ طریقے اپنانا نہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے پولیس کا امیج عوام میں مزید خراب ہو گا۔ اس واقعے کی اعلیٰ حکام کو انکوائری کرنی چاہیے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسی غیر پیشہ ورانہ حرکتوں کا تدارک ہو سکے۔