Akhbar E Akbar

Akhbar E Akbar We Bring You All The News
That You Need To Keep Up With To Know. Akhbar E Akbar News Magazine. The Most Demanding News Magazine
of Pakistan.

Publishing Point Pakistan .

آوازِ حق آج خاموش ہو گئی: حق کا علمبردار اور پاسبانِ                     رسول ﷺ رخصت ہوا"انتہائی رنج و ملال اور شکستہ دل...
24/02/2026

آوازِ حق آج خاموش ہو گئی: حق کا علمبردار اور پاسبانِ
رسول ﷺ رخصت ہوا"
انتہائی رنج و ملال اور شکستہ دل کے ساتھ یہ خبر سنی گئی کہ اردو ادب کے مایہ ناز مزاحیہ شاعر، شگفتہ بیاں خطیب اور محافظِ ختمِ نبوت سید سلمان گیلانی داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے ہیں. ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بے شک ہم سب اللہ ہی کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
سید سلمان گیلانی محض ایک لفظوں کے شاعر نہیں تھے، بلکہ وہ اپنے عقیدے کے سچے پاسبان اور عشقِ رسول ﷺ کے بے باک نقیب تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ناموسِ رسالت ﷺ اور ختمِ نبوت کے عظیم مشن کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
وہ لفظوں کی کاٹ سے باطل کا تعاقب کرنے والے ایک ایسے سپاہی تھے جن کی شاعری دلوں کو گرماتی بھی تھی اور حق کی پہچان بھی کرواتی تھی۔
شاہ صاحب نے طنز و مزاح کے پردے میں ہمیشہ سوئے ہوئے ضمیروں کو بیدار کیا اور ثابت کیا کہ جب قلم حق کے لیے اٹھتا ہے تو تاریخ رقم کرتا ہے۔
نمونہِ کلام:
شاہ صاحب کا یہ کلام ان کی پہچان اور عقیدت کا لازوال آئینہ دار ہے:
"نبیوں رسولوں کا ہے اختتام ان پہ
عربوں درود ان پہ، کھربوں سلام"
اور دیارِ نبی ﷺ کی تڑپ ان کے اس شعر میں صاف جھلکتی ہے:
"لگتا ہی نہیں گھر میں میرا جی کسی صورت
پہنچا دے مدینے میں الٰہی کسی صورت"
وہ اپنی آواز تو خاموش کر گئے، مگر ختمِ نبوت کی محبت کا جو چراغ انہوں نے دلوں میں روشن کیا ہے، وہ انشاء اللہ تاقیامت فروزاں رہے گا۔ آج اردو ادب ایک صاحبِ طرز ادیب سے اور تحریکِ ختمِ نبوت ایک مخلص پہرے دار سے محروم ہو گئی ہے۔ ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا خلا صدیوں پُر نہیں ہو سکے گا۔
دعا ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی تمام دینی، ملی اور ادبی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام اور حضور ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے، اور لواحقین کو اس عظیم صدمے پر صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین!
الوداع اے پاسبانِ ختمِ نبوت، الوداع!
دعاگو:
اکمل شاہد کنگ
مصنف، کالم نگار، صحافی
(ایڈیٹر انچیف اخبارِ اکبر)

@
24/02/2026

@

خاندان کی کفالت کیلئے مردوں کا بھیس بدل کر نوکری کرنے والی افغان لڑکی گرفتارنوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے "نور احمد" ...
11/02/2026

خاندان کی کفالت کیلئے مردوں کا بھیس بدل کر نوکری کرنے والی افغان لڑکی گرفتار
نوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے "نور احمد" کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی

ویب ڈیسک

افغانستان کے صوبہ ہلمند میں طالبان فورسز نے مردانہ لباس پہن کر کام کرنے والی ایک نوجوان لڑکی کو گرفتار کر لیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 13 سالہ نوریہ نامی لڑکی گزشتہ تین برس سے "نور احمد" کے نام سے ایک کیفے میں ملازمت کر رہی تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں نوریہ نے بتایا کہ والد کے انتقال کے بعد وہ اپنے خاندان کی واحد کفیل تھی اور شدید غربت کے باعث مردانہ لباس پہن کر کام کرنے پر مجبور ہوئی۔

اس کا کہنا تھا کہ اس نے اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی تاہم آخرکار اس کا راز فاش ہوگیا اور اسے حراست میں لے لیا گیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں خواتین کی تعلیم، ملازمت اور نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد ہیں۔ سرکاری و نجی شعبوں میں خواتین کے کام کرنے پر قدغنوں کے باعث ہزاروں خواتین روزگار سے محروم ہوچکی ہیں۔

نوریہ کی گرفتاری نے سوشل میڈیا پر شدید ردعمل کو جنم دیا ہے اور ایک بار پھر افغان خواتین کو درپیش مشکلات اور بنیادی حقوق کے مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔

عامر خان کی اریجیت سنگھ سے ملاقات کی اصل وجہ سامنے آگئیعامر خان نے اریجیت سنگھ، ان کے اہل خانہ اور ٹیم کے ساتھ چار دن گز...
11/02/2026

عامر خان کی اریجیت سنگھ سے ملاقات کی اصل وجہ سامنے آگئی
عامر خان نے اریجیت سنگھ، ان کے اہل خانہ اور ٹیم کے ساتھ چار دن گزارے

ویب ڈیسکl

بالی ووڈ کے معروف اداکار عامر خان کی جانب سے گلوکار اریجیت سنگھ کے گھر جانے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی قیاس آرائیوں کی اب وضاحت سامنے آگئی ہے۔

گزشتہ دنوں دونوں کی ملاقات نے مداحوں کو حیران کر دیا تھا اور یہ سوال اٹھنے لگا تھا کہ آخر عامر خان نے اریجیت سنگھ سے ایسی کون سی بات کی جس نے سب کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی۔

عامر خان نے خود انسٹاگرام پر اریجیت سنگھ کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی، جس میں دونوں کو نہایت سنجیدہ انداز میں گفتگو کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ اداکار نے کیپشن میں لکھا کہ اریجیت نے ان کی فلم ’ایک دن‘ کے لیے اپنی آواز دے کر انہیں بے حد خوشی دی، جس پر انہوں نے گلوکار کا شکریہ ادا کیا۔

اداکار نے مزید بتایا کہ اریجیت، ان کے اہلِ خانہ اور پوری ٹیم کے ساتھ گزارے گئے چار دن ان کے لیے ایک یادگار اور خوشگوار تجربہ رہے۔ عامر خان کے اس پیغام کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ملاقات کا مقصد کسی افواہ سے زیادہ ایک پیشہ ورانہ تعاون تھا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عامر خان کے مغربی بنگال میں واقع اریجیت سنگھ کے آبائی گھر پہنچنے پر مختلف اندازے لگائے جا رہے تھے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب گلوکار نے پلے بیک سنگنگ سے ریٹائرمنٹ لینے کے اعلان کی بات کی تھی، جس کے باعث مداحوں میں یہ تاثر پھیل گیا تھا کہ شاید عامر خان انہیں دوبارہ فلموں میں گانے کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

راکھی ساونت کی جیا بچن پر تنقید، امیتابھ کو ریکھا سے شادی کا مشورہاتنی دولت ہونے کے باوجود جیا بچن کو کپڑے پہننے کی تمیز...
11/02/2026

راکھی ساونت کی جیا بچن پر تنقید، امیتابھ کو ریکھا سے شادی کا مشورہ
اتنی دولت ہونے کے باوجود جیا بچن کو کپڑے پہننے کی تمیز نہیں، راکھی ساونت کی تنقیدl

بالی ووڈ کی متنازع اور بولڈ اداکارہ راکھی ساونت نے جیا بچن پر تنقید کرتے ہوئے امیتابھ بچن کو ریکھا سے دوسری شادی کا مشورہ دیا ہے۔

اپنے متنازع بیانات کےلیے مشہور اداکارہ راکھی ساونت ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔ بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران امیتابھ بچن، جیا بچن اور ریکھا سے متعلق ان کے تبصروں کی ویڈیو کلپ وائرل ہو رہی ہے جس نے صارفین کو حیران بھی کیا اور بحث میں بھی ڈال دیا۔

ویڈیو کلپ میں راکھی ساونت نے کہا کہ وہ امیتابھ بچن کو مشورہ دیں گی کہ وہ اداکارہ ریکھا سے دوسری شادی کرلیں، کیونکہ آج کل دو شادیوں کا رجحان چل رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ امیتابھ بچن نے جیا بچن کا انتخاب کیوں کیا اور ریکھا کو کیوں نہیں چنا؟

راکھی نے جیا بچن کے لباس پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتنی دولت مند ہونے کے باوجود وہ اچھے کپڑے نہیں پہنتیں، یہاں تک کہ انہوں نے شلوار قمیض کے حوالے سے بھی طنزیہ جملہ کہہ دیا۔ گفتگو کے دوران انہوں نے جیا بچن کو اپنی سالگرہ پر بلانے اور تحفے میں اچھا لباس دینے کی پیشکش بھی کی۔

اداکارہ نے بات کو یہیں نہیں روکا بلکہ جیا بچن کو بالوں میں رنگ لگوانے اور چہرے پر بوٹاکس کروانے کا مشورہ بھی دے ڈالا۔ راکھی کا کہنا تھا کہ اگر انہیں کبھی امیتابھ بچن کے لیے جیا اور ریکھا میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے تو وہ ریکھا کو چنیں گی۔

راکھی ساونت کے یہ بیانات سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں کچھ لوگ اسے محض تفریح قرار دے رہے ہیں جبکہ کئی افراد اس پر تنقید بھی کر رہے ہیں۔

ہانیہ عامر کا عاصم اظہر پر شرارتی تبصرہ وائرلپاکستانی شوبز کی مقبول اداکارہ **ہانیہ عامر** اور گلوکار **عاصم اظہر** ایک ...
11/02/2026

ہانیہ عامر کا عاصم اظہر پر شرارتی تبصرہ وائرل

پاکستانی شوبز کی مقبول اداکارہ **ہانیہ عامر** اور گلوکار **عاصم اظہر** ایک بار پھر خبروں کا مرکز بن گئے ہیں۔ ماضی میں دونوں کے تعلقات نے خاصی توجہ حاصل کی تھی، بعد ازاں علیحدگی ہوگئی۔ عاصم اظہر کی میرب علی سے منگنی بھی ہوئی جو چند برس بعد ختم ہوگئی، جبکہ ہانیہ عامر نے اس دوران نجی زندگی کو نسبتاً میڈیا سے دور رکھا۔
حالیہ تقریب میں کیا ہوا؟
ایک تقریب کے دوران جب ہانیہ عامر سے سوال کیا گیا کہ ان کا پسندیدہ گلوکار کون ہے، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے شرارتی انداز میں کہا:
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں عاصم اظہر کا نام لوں؟
اس جملے پر محفل میں قہقہے گونج اٹھے اور یہ مختصر سا تبصرہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا۔ صارفین کی جانب سے مختلف تبصرے اور قیاس آرائیاں سامنے آرہی ہیں۔
سوشل میڈیا پر ردعمل
* کچھ مداح اسے محض مزاحیہ انداز قرار دے رہے ہیں۔
* کچھ اسے دونوں کے ممکنہ دوبارہ قریب آنے کا اشارہ سمجھ رہے ہیں۔
* جبکہ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ہانیہ عامر ہمیشہ سنجیدہ سوالات کو بھی خوشگوار انداز میں ٹال دیتی ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
تاحال دونوں فنکاروں کی جانب سے کسی باضابطہ تعلق یا شادی کی منصوبہ بندی سے متعلق کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ موجودہ صورتحال میں یہ سب قیاس آرائیاں ہی سمجھی جا رہی ہیں۔
ہانیہ عامر کا شوخ اور برجستہ انداز ایک بار پھر مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، اور شوبز حلقوں میں دونوں ستاروں کے حوالے سے چہ مگوئیاں تیز ہوگئی ہیں۔

"مُضِرِ صِحَّت"عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر  سولر لگوایا، محکمہ اب بجلی خریدے گا 11 روپے میں،بیچے گا 40 روپے میں۔کرو جی ہن، م...
11/02/2026

"مُضِرِ صِحَّت"
عوام نے اپنا پیٹ کاٹ کر سولر لگوایا، محکمہ اب بجلی خریدے گا 11 روپے میں،بیچے گا 40 روپے میں۔
کرو جی ہن، موجاں ای موجاں۔
اکمل شاہد کنگ

صادق آباد کا فخر: ڈاکٹر طارق راناتحریر: شیخ وحید احمد ایڈووکیٹڈاکٹر طارق رانا کا شمار دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں میں...
10/02/2026

صادق آباد کا فخر: ڈاکٹر طارق رانا
تحریر: شیخ وحید احمد ایڈووکیٹ

ڈاکٹر طارق رانا کا شمار دنیا کے ممتاز ترین سائنس دانوں میں ہوتا ہے، مگر ان کی پہچان اور بنیادیں صادق آباد کی مٹی سے جڑی ہوئی ہیں۔ وہ اس وقت یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سان ڈیاگو (UCSD) اسکول آف میڈیسن میں شعبۂ سیلولر اینڈ مالیکیولر میڈیسن کے ممتاز پروفیسر اور چیئرمین ہیں اور عالمی سطح پر حوالہ جاتی اثر کے اعتبار سے ٹاپ 1 فیصد سائنس دانوں میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر طارق رانا کے والد، رانا عبدالغفور مرحوم، صادق آباد کے معروف تعلیمی ادارے گورنمنٹ اجمل باغ ہائی اسکول میں ایک نہایت باوقار، محنتی اور فرض شناس استاد تھے۔ علم دوستی، دیانت اور محنت کا جذبہ ڈاکٹر طارق رانا کو اپنے والد سے وراثت میں ملا، جس نے انہیں علم و تحقیق کے اس بلند مقام تک پہنچایا۔ صادق آباد کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ایک سرکاری استاد کا بیٹا آج دنیا کے بڑے سائنسی اداروں میں پاکستان اور اپنے شہر کا نام روشن کر رہا ہے۔
ڈاکٹر طارق رانا کی تحقیق بیماریوں کے بنیادی اسباب کو سمجھنے اور جدید علاج تیار کرنے پر مرکوز ہے، خصوصاً آر این اے (RNA) کیمسٹری، جین سائلینسنگ اور آر این اے پر مبنی علاج کے میدان میں۔ ان کی تحقیق کی بدولت کئی ایسی ادویات تیار ہوئیں جو آج دنیا بھر میں مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، جن میں LEQVIO، ONPATTRO، AMVUTTRA، GIVLAARI، OXLUMO اور EVRYSDI شامل ہیں۔
انہوں نے کیمسٹری میں پی ایچ ڈی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس سے حاصل کی اور بعد ازاں یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے میں امریکن کینسر سوسائٹی کے فیلو رہے۔ اپنے شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے ہیڈ آف جینیٹکس، وی سی برائے انوویشن اینڈ تھیراپیوٹکس اور شعبۂ پیڈیاٹرکس کے ممتاز پروفیسر جیسے اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں۔
ڈاکٹر طارق رانا کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر بے شمار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں Presidential Talent Award، NIH Research Career Award، Outstanding Scientific Achievement Award اور NIH Director’s Avant-Garde Award شامل ہیں۔ وہ نیشنل اکیڈمی آف انوینٹرز اور AAAS کے منتخب فیلو بھی ہیں۔
ڈاکٹر طارق رانا کی زندگی صادق آباد کے نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ محدود وسائل کے باوجود، اگر بنیاد علم، محنت اور استاد کی تربیت ہو تو انسان عالمی سطح پر بھی اپنا مقام بنا سکتا ہے۔ وہ واقعی صادق آباد کا فخر ہیں۔

وقت موجود جب زمانہ  مکمّل طور قحط الرجال کا شکار ہو، ایسے  میں علم و فکر کی بات کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ کربِ ز...
10/02/2026

وقت موجود جب زمانہ مکمّل طور قحط الرجال کا شکار ہو، ایسے میں علم و فکر کی بات کرنے والے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
کربِ زمانہ کو پوری صداقت کے ساتھ الفاظ کا پیرہن عطاکرنے والے شاعرِ حقیقت، جناب "جبار واصف" کی دوسری کتاب “گزران” اپنی معنویت، فکری گہرائی اور
درد مندی کے باعث عصرِ حاضر کی ایک توانا ادبی دستاویز ہے۔
یہ کتاب اردو ادب کا ایک شاہکار ہے.اور اس سے قبل بھی ان کی ایک کتاب
"میری آنکھوں میں کتنا پانی"
منصہ شہود پر آ چکی ہے جو اردو ادب کا جھومر ہے.
میرے لے ان کی دونوں کتب کی قدر و قیمت کو لفظوں میں سمونا آسان نہیں۔
ان کی یہ کتاب بھی ان کے لاکھوں چاہنے والوں کے لیے"
تحفہ سخن" ہے، جو فکر و شعور کے زیور سے مزین ہے اور ہرقاری کو زندگی کے مسائل اور معاشرتی حقیقتوں پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے
جبار واصف نے اپنی نئی کتاب "گزران" کا یہ انتساب لکھ کر مسلم امہ کے ضمیر کوجھنجھوڑدیا ہے
"انتساب "
“ان فاقہ مست سادات کے نام جنہیں زکوٰۃ نہیں لگتی ”
یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ پورے سماج کے ضمیر پر دستک ہے، جو قاری کو پہلی سطر ہی میں ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔
جبار واصف کا اندازِ بیاں دکھ کی تہوں کو چیرتا ہوا سیدھا دل تک اترتا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
گھنگرو پہ بات کر نہ تو پائل پہ بات کر
مجھ سے طوائفوں کے مسائل پہ بات کر
یہاں شاعر ظاہری چمک دمک کے بجائے پسِ پردہ سسکتے ہوئے مسائل کی نشان دہی کرتا ہے۔ وہ فٹ پاتھ پر پڑے دیوانِ میر اور ردی میں بکتے رسائل کا ذکر کر کے ہمارے تہذیبی زوال کو بھی بے نقاب کرتے ہیں، اور عام آدمی کی معاشی اذیت کو یوں سمیٹتے ہیں:

سبھی تنخواہ دار اس فکر میں گم صم کھڑے ہیں
مہینہ ختم ہونے میں ابھی دس دن پڑے ہیں

اسی تسلسل میں ان کے یہ اشعار دل پر گہرا اور دیرپا اثر چھوڑتے ہیں:
مرے ادراک کا جب تو سہارا ہی نہیں تھا
سخن کے چاک پر لفظوں کا گارا ہی نہیں تھا
جو بچہ بیچتا تھا رزق کی خاطر غبارے
غبارہ اس کی نظروں میں غبارہ ہی نہیں تھا
یہ اشعار صرف شاعری نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا نوحہ ہیں، جہاں کھلونے بھی مجبوری اور بچپن بھی قرض بن جاتا ہے۔
گزشتہ روز برادرم جناب جبار واصف اور معروف شاعر و نقاد پروفیسر ڈاکٹر "شہباز نیر" کنگ ہاؤس، جناح ٹاؤن تشریف لائے اور اپنی کتاب “گزران” عنایت فرمائی،
جو میرے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
یہ کتاب میری لائبریری میں خوبصورت اضافہ ہے

عائزہ خان اور دانش تیمور کی عمرہ ادائیگی، مقدس مقامات پر لی گئی تصاویر وائرلرمضان سے قبل جوڑے کے اس روحانی سفر کی جھلکیا...
09/02/2026

عائزہ خان اور دانش تیمور کی عمرہ ادائیگی، مقدس مقامات پر لی گئی تصاویر وائرل
رمضان سے قبل جوڑے کے اس روحانی سفر کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں

پاکستان شوبز انڈسٹری کے مقبول ترین جوڑوں میں شمار ہونے والے دانش تیمور اور عائزہ خان ان دنوں روحانی سفر پر ہیں۔ طویل عرصے سے مصروف شیڈول کے بعد اس اسٹار جوڑی نے کچھ وقت نکال کر سعودی عرب کا رخ کیا جہاں انہوں نے عمرہ ادا کیا اور مدینہ منورہ کی زیارت بھی کی۔

دانش تیمور اور عائزہ خان نے بعد ازاں مکہ مکرمہ سے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں دونوں نہایت پُرسکون اور مطمئن دکھائی دے رہے ہیں۔ مداحوں نے ان تصاویر کو خوب سراہا اور کمنٹس میں جوڑی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل شادی کے بندھن میں بندھنے والے دانش اور عائزہ آج نہ صرف کامیاب اداکار ہیں بلکہ دو خوبصورت بچوں کے والدین بھی ہیں۔ کیریئر کے اتار چڑھاؤ کے باوجود دونوں کی مقبولیت برقرار ہے اور مداح آج بھی انہیں بے حد پسند کرتے ہیں۔

رمضان سے قبل 2026 میں ادا کیے گئے اس روحانی سفر کی جھلکیاں سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جہاں فینز اسٹار جوڑی کے لیے دعاؤں اور محبت بھرے پیغامات بھیجتے نظر آ رہے ہیں۔

"باہمت بیٹی اور بلند حوصلہ ماں: مریم یوسف اور شاہدہ یوسف کی جدوجہدِ حیات"(حاضر جواب) تحریر اکمل شاہد کنگ یہ کہانی محض ای...
27/01/2026

"باہمت بیٹی اور بلند حوصلہ ماں: مریم یوسف اور شاہدہ یوسف کی جدوجہدِ حیات"
(حاضر جواب)
تحریر اکمل شاہد کنگ
یہ کہانی محض ایک بیماری یا ایک ذاتی آزمائش کی نہیں، بلکہ یہ داستان حوصلے، عزم ماں کی دعا اور بیٹی کی مسلسل جدوجہد کی ہے۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب نیت مضبوط ہو تو جسمانی کمزوریاں انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔

مریم یوسف ایک ایسی باہمت بیٹی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے گردوں اور جگر کے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ بار بار کے ڈائلیسس، شدید جسمانی کمزوری اور مسلسل اذیت کے باوجود اس نے زندگی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔
جہاں اکثر لوگ ایسی بیماری کو زندگی کا اختتام سمجھ
لیتے ہیں، وہاں مریم نے اسے اپنے عزم کی پہچان بنا لیا۔

وہ آج بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں
مریم یوسف نے پہلے ایم سی ایس کیا تھا (ماسٹر اِن کمپیوٹر سائنس). پھر ایم اے ایجوکیشن میں داخلہ لیا ایک سال مکمل ہوا تھا تو ان کے گردے فیل ہو گئے. فائنل ایئر کے امتحانات ڈائیالسز کے دوران دیے. ایک دن پیپر ایک دن ڈائیالسز اور اللہ پاک نے انہیں پھر کامیاب بھی کر دیا.
اب وہ ایم فِل کا بھی خواب دیکھ رہی ہیں اللہ نے چاہا تو وہ بھی پورا ہو جائے گاانشاءاللہ.
اس کے علاوہ محترمہ اخبار اکبر کے قارئین کے لیے اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھال کر لوگوں کے دلوں کو بھی چھو رہی ہیں.
ان کی تحریروں میں درد ضرور ہے، مگر مایوسی نہیں؛ شکایت نہیں، بلکہ امید اور حوصلہ ہے۔ مختلف ڈاکٹر متعدد بار مریم کو اور ان کے والدین کو مایوس کیا مگر اللہ نے متعدد بار معجزے دکھائے.
شدید بیماری میں مریم بیٹی کو دوران ڈیلایسسز اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے اپنے گھر بلایا اور اپنے پیارے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے در کی حاضری نصیب فرمائی.

ڈاکٹرز نے مریم کو ویل چیئر پر عمرہ کرنے کی مشروط اجازت دی مگر باہمت بیٹی کو سوہنے رب نے اسے اپنے پیروں پر چار عمرے کرنے کی ہمت بخشی
گو کہ دیار حرمین شریفین کی زیارتوں اور زندگی کے کٹھن سفر میں مریم تنہا نہیں۔ اس کے ساتھ ایک مضبوط سایہ ہے. شفقت کا, محبت کا, احساس کا, مریم یوسف کی ماں کا , محترمہ شاہدہ یوسف صاحبہ دکھ اور کرب کی کیفیت میں ایک بے مثال اور بلند حوصلہ ماں کے طور پر سامنے آئیں ۔
محترمہ شاہدہ یوسف ایک باوقار، سفید پوش اور سماجی شعور رکھنے والی خاتون ہیں جنہوں نے برسوں تک دوسروں
کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا۔

صادق آباد کے سیاسی، سماجی اور فلاحی حلقوں میں ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ خواتین کے مسائل ہوں یا بیواؤں اور یتیم بچوں کی خدمت، اپنی این جی او کے پلیٹ فارم سے انہوں نے عملی طور پر کئی منصوبے مکمل کیے۔ خصوصاً سیلاب کی تباہ کاریوں میں کچے کے خطرناک علاقوں تک راشن لے کر خود پہنچیں.

سالگرۂ صادق آباد کے موقع پر ان کی شرکت ہمیشہ یادگار رہی۔ وہ اہلیانِ صادق آباد کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے اپنی خواتین کی ٹیم کے ہمراہ کیک لے کر پنڈال میں آتیں، ہمارے ساتھ کیک کٹنگ کرتیں اور شہر کی اجتماعی خوشیوں میں خلوص کے ساتھ شریک ہوتیں۔ یہ محض ایک تقریب نہیں ہوتی تھی بلکہ سماجی وابستگی، محبت اور یکجہتی کا عملی اظہار ہوتا تھا۔ وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ جذباتی لگاؤ رکھتیں ہیں. اور سیاسی سرگرمیوں کو لیڈ کرتی ہوئی نظر آتی رہیں.

آج حالات نے منظر بدل دیا ہے۔ جو ماں کبھی لوگوں کے مسائل کے لڑ رہی ہوتی تھی اوروں کی بیٹیوں کو علاج کے لیے اسپتال لے کر جاتی تھی، آج خود اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے فکرمند ہے۔ اور گزشتہ کئی سالوں سے اپنے لخت جگر کو لیکر مختلف اسپتال کے وارڈز میں گھوم رہی ہے جو عورت دوسروں کے دکھ پر مہینوں بے چین رہتی تھی، آج اپنی آنکھوں میں خاموش دعائیں سجا کر بیٹھی ہے۔ ایک طرف بیٹی بیماری سے لڑ رہی ہے اور دوسری طرف ماں دعا، صبر اور حوصلے کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہے۔ یہ دو الگ جنگیں ہیں، مگر مقصد ایک ہے: زندگی۔ اور وہ بلکل اکیلے اس بیماری کی جنگ کو فتح کرنے کے لیے پر عزم ہے. اگر ماں نے حوصلہ چھوڑ دیا تو پھر کون مریم کا حوصلہ بنے گا.

میری یہ تحریر مریم یوسف کے عزم اور محترمہ شاہدہ یوسف کے بلند حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے مریم یوسف کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے،
اسے تندرستی اور سلامتی والی طویل زندگی دے.
اس ماں کی بس ایک ہی خواہش ہے ، کہ وہ اپنی بیٹی کو صحت مند دیکھے.
ہمیں ایک "باہمت بیٹی "کو، دعاؤں اور "حوصلہ مند ماں" کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے. کیونکہ بعض اوقات ایک دعا، اور ایک خیرسگالی کا پیغام بھی زندگی کی جنگ میں امید کی مضبوط کرن بن جاتا ہے۔
واضح رہے کہہم نے "
مریم یوسف کو باہمت بیٹی" کا ایوارڈ 2024 میں اخبار اکبر و اہلیانِ صادق آباد کی جانب سے پیش کیا تھا اب ہم انشاءاللہ اس "حوصلہ مند ماں" شاہدہ یوسف کو بھی اخبار اکبر اور اہلیانِ صادق آباد کی جانب سے ایوارڈ پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں.

واضح رہے کہ مریم یوسف کے ٹرانسپلانٹ کے عین وقت پر پرائمری ہائپر آزیگیلوریا نامی بیماری کی تشخیص ہوئی.
Primary Hyper Oxaluria (genetic disorder)
یہ بیماری جگر میں پائی جاتی ہے. اس کی وجہ سے جگر آگزیلیٹس oxalates کنٹرول نہیں کر پاتا اور آگزیلیٹس گردوں میں جمع ہو کر مسلسل پتھریاں بناتے ہیں اور گردے ڈیمیج کرنے کا باعث بنتے ہیں.
مریم یوسف کے کیس میں پتھریاں بچپن سے پتھریاں بن رہی ہیں اور دونوں گردوں کے متعدد بار آپریشنز بھی ہوئے اور آخر کا گردے کمزور ہو کر ناکارہ ہو گئے.
اس بیماری کی تشخیص کی غرض سے دوران ڈائیالسز اس کا ایک گردہ نکال دیا گیا تھا.
اب اسے جگر اور گردے کا کمبائن ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا گیا جو کافی پیچیدہ اور خطرناک ہے.
اس کا دوسرا حل
Lumasiran(Oxlumo)
نامی انجیکشن ہے جس کا پاکستان میں اپروول نہیں ہے
اور دستیاب بھی نہیں ہے. اگر دستیاب ہو بھی جائیں تو اپروول نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کسی بھی مریض کو لگانے سے گریز کر رہے ہیں. اس انجیکشن کی مدد سے آگزیلیٹس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور جگر کے ٹرانسپلانٹ سے بچایا جا سکتا ہے. محض گردے کا ٹرانسپلانٹ کر کے مریضوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں. گورنمنٹ کو اس پر توجہ دینے کی ضروری ہے اور اگر اس انجیکشن کوحکومت پاکستان میں لانے اور فروخت کرنے کی اجازت دے تو مریم جیسے کئی مریضوں کی زندگی بچائی جا سکے.
اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے "بیٹی مریم" کو جلد از جلد مکمل صحت عطاء فرمائے گا انشاءاللہ آمین ثم آمین یا رب العالمین بطفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم

اللہ آخری امید نہیںکیونکہ امید ختم ہو جاتی ہے"اللہ واحد یقین ہے"کیونکہ یقین کبھی ختم نہیں ہوتاجب لفظ ساتھ چھوڑ دیںجب سہا...
25/01/2026

اللہ آخری امید نہیں
کیونکہ امید ختم ہو جاتی ہے
"اللہ واحد یقین ہے"
کیونکہ یقین کبھی ختم نہیں ہوتا
جب لفظ ساتھ چھوڑ دیں
جب سہارے خاموش ہو جائیں
جب انسان انسان سے مایوس ہو جائے
تب بھی ایک سچ باقی رہتا ہے
"اللہ ہے اور وہ کافی ہے"
طالب دعا
ادارہ اخبار اکبر

Address

63/C New Town
Sadiqabad
64350

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Akhbar E Akbar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Akhbar E Akbar:

Share