27/01/2026
"باہمت بیٹی اور بلند حوصلہ ماں: مریم یوسف اور شاہدہ یوسف کی جدوجہدِ حیات"
(حاضر جواب)
تحریر اکمل شاہد کنگ
یہ کہانی محض ایک بیماری یا ایک ذاتی آزمائش کی نہیں، بلکہ یہ داستان حوصلے، عزم ماں کی دعا اور بیٹی کی مسلسل جدوجہد کی ہے۔ یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ جب نیت مضبوط ہو تو جسمانی کمزوریاں انسان کے حوصلے کو شکست نہیں دے سکتیں۔
مریم یوسف ایک ایسی باہمت بیٹی ہے جو گزشتہ کئی برسوں سے گردوں اور جگر کے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ بار بار کے ڈائلیسس، شدید جسمانی کمزوری اور مسلسل اذیت کے باوجود اس نے زندگی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔
جہاں اکثر لوگ ایسی بیماری کو زندگی کا اختتام سمجھ
لیتے ہیں، وہاں مریم نے اسے اپنے عزم کی پہچان بنا لیا۔
وہ آج بھی اپنی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں
مریم یوسف نے پہلے ایم سی ایس کیا تھا (ماسٹر اِن کمپیوٹر سائنس). پھر ایم اے ایجوکیشن میں داخلہ لیا ایک سال مکمل ہوا تھا تو ان کے گردے فیل ہو گئے. فائنل ایئر کے امتحانات ڈائیالسز کے دوران دیے. ایک دن پیپر ایک دن ڈائیالسز اور اللہ پاک نے انہیں پھر کامیاب بھی کر دیا.
اب وہ ایم فِل کا بھی خواب دیکھ رہی ہیں اللہ نے چاہا تو وہ بھی پورا ہو جائے گاانشاءاللہ.
اس کے علاوہ محترمہ اخبار اکبر کے قارئین کے لیے اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھال کر لوگوں کے دلوں کو بھی چھو رہی ہیں.
ان کی تحریروں میں درد ضرور ہے، مگر مایوسی نہیں؛ شکایت نہیں، بلکہ امید اور حوصلہ ہے۔ مختلف ڈاکٹر متعدد بار مریم کو اور ان کے والدین کو مایوس کیا مگر اللہ نے متعدد بار معجزے دکھائے.
شدید بیماری میں مریم بیٹی کو دوران ڈیلایسسز اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے اپنے گھر بلایا اور اپنے پیارے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے در کی حاضری نصیب فرمائی.
ڈاکٹرز نے مریم کو ویل چیئر پر عمرہ کرنے کی مشروط اجازت دی مگر باہمت بیٹی کو سوہنے رب نے اسے اپنے پیروں پر چار عمرے کرنے کی ہمت بخشی
گو کہ دیار حرمین شریفین کی زیارتوں اور زندگی کے کٹھن سفر میں مریم تنہا نہیں۔ اس کے ساتھ ایک مضبوط سایہ ہے. شفقت کا, محبت کا, احساس کا, مریم یوسف کی ماں کا , محترمہ شاہدہ یوسف صاحبہ دکھ اور کرب کی کیفیت میں ایک بے مثال اور بلند حوصلہ ماں کے طور پر سامنے آئیں ۔
محترمہ شاہدہ یوسف ایک باوقار، سفید پوش اور سماجی شعور رکھنے والی خاتون ہیں جنہوں نے برسوں تک دوسروں
کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھا۔
صادق آباد کے سیاسی، سماجی اور فلاحی حلقوں میں ان کی خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ خواتین کے مسائل ہوں یا بیواؤں اور یتیم بچوں کی خدمت، اپنی این جی او کے پلیٹ فارم سے انہوں نے عملی طور پر کئی منصوبے مکمل کیے۔ خصوصاً سیلاب کی تباہ کاریوں میں کچے کے خطرناک علاقوں تک راشن لے کر خود پہنچیں.
سالگرۂ صادق آباد کے موقع پر ان کی شرکت ہمیشہ یادگار رہی۔ وہ اہلیانِ صادق آباد کی خوشیوں میں شریک ہونے کے لیے اپنی خواتین کی ٹیم کے ہمراہ کیک لے کر پنڈال میں آتیں، ہمارے ساتھ کیک کٹنگ کرتیں اور شہر کی اجتماعی خوشیوں میں خلوص کے ساتھ شریک ہوتیں۔ یہ محض ایک تقریب نہیں ہوتی تھی بلکہ سماجی وابستگی، محبت اور یکجہتی کا عملی اظہار ہوتا تھا۔ وہ مسلم لیگ نون کے ساتھ جذباتی لگاؤ رکھتیں ہیں. اور سیاسی سرگرمیوں کو لیڈ کرتی ہوئی نظر آتی رہیں.
آج حالات نے منظر بدل دیا ہے۔ جو ماں کبھی لوگوں کے مسائل کے لڑ رہی ہوتی تھی اوروں کی بیٹیوں کو علاج کے لیے اسپتال لے کر جاتی تھی، آج خود اپنی بیٹی کی زندگی کے لیے فکرمند ہے۔ اور گزشتہ کئی سالوں سے اپنے لخت جگر کو لیکر مختلف اسپتال کے وارڈز میں گھوم رہی ہے جو عورت دوسروں کے دکھ پر مہینوں بے چین رہتی تھی، آج اپنی آنکھوں میں خاموش دعائیں سجا کر بیٹھی ہے۔ ایک طرف بیٹی بیماری سے لڑ رہی ہے اور دوسری طرف ماں دعا، صبر اور حوصلے کے ساتھ اس جنگ میں شریک ہے۔ یہ دو الگ جنگیں ہیں، مگر مقصد ایک ہے: زندگی۔ اور وہ بلکل اکیلے اس بیماری کی جنگ کو فتح کرنے کے لیے پر عزم ہے. اگر ماں نے حوصلہ چھوڑ دیا تو پھر کون مریم کا حوصلہ بنے گا.
میری یہ تحریر مریم یوسف کے عزم اور محترمہ شاہدہ یوسف کے بلند حوصلے کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ہے۔ اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے مریم یوسف کو جلد صحتِ کاملہ عطا فرمائے،
اسے تندرستی اور سلامتی والی طویل زندگی دے.
اس ماں کی بس ایک ہی خواہش ہے ، کہ وہ اپنی بیٹی کو صحت مند دیکھے.
ہمیں ایک "باہمت بیٹی "کو، دعاؤں اور "حوصلہ مند ماں" کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے. کیونکہ بعض اوقات ایک دعا، اور ایک خیرسگالی کا پیغام بھی زندگی کی جنگ میں امید کی مضبوط کرن بن جاتا ہے۔
واضح رہے کہہم نے "
مریم یوسف کو باہمت بیٹی" کا ایوارڈ 2024 میں اخبار اکبر و اہلیانِ صادق آباد کی جانب سے پیش کیا تھا اب ہم انشاءاللہ اس "حوصلہ مند ماں" شاہدہ یوسف کو بھی اخبار اکبر اور اہلیانِ صادق آباد کی جانب سے ایوارڈ پیش کرنے کا اعلان کرتے ہیں.
واضح رہے کہ مریم یوسف کے ٹرانسپلانٹ کے عین وقت پر پرائمری ہائپر آزیگیلوریا نامی بیماری کی تشخیص ہوئی.
Primary Hyper Oxaluria (genetic disorder)
یہ بیماری جگر میں پائی جاتی ہے. اس کی وجہ سے جگر آگزیلیٹس oxalates کنٹرول نہیں کر پاتا اور آگزیلیٹس گردوں میں جمع ہو کر مسلسل پتھریاں بناتے ہیں اور گردے ڈیمیج کرنے کا باعث بنتے ہیں.
مریم یوسف کے کیس میں پتھریاں بچپن سے پتھریاں بن رہی ہیں اور دونوں گردوں کے متعدد بار آپریشنز بھی ہوئے اور آخر کا گردے کمزور ہو کر ناکارہ ہو گئے.
اس بیماری کی تشخیص کی غرض سے دوران ڈائیالسز اس کا ایک گردہ نکال دیا گیا تھا.
اب اسے جگر اور گردے کا کمبائن ٹرانسپلانٹ کا مشورہ دیا گیا جو کافی پیچیدہ اور خطرناک ہے.
اس کا دوسرا حل
Lumasiran(Oxlumo)
نامی انجیکشن ہے جس کا پاکستان میں اپروول نہیں ہے
اور دستیاب بھی نہیں ہے. اگر دستیاب ہو بھی جائیں تو اپروول نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کسی بھی مریض کو لگانے سے گریز کر رہے ہیں. اس انجیکشن کی مدد سے آگزیلیٹس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے اور جگر کے ٹرانسپلانٹ سے بچایا جا سکتا ہے. محض گردے کا ٹرانسپلانٹ کر کے مریضوں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں. گورنمنٹ کو اس پر توجہ دینے کی ضروری ہے اور اگر اس انجیکشن کوحکومت پاکستان میں لانے اور فروخت کرنے کی اجازت دے تو مریم جیسے کئی مریضوں کی زندگی بچائی جا سکے.
اللہ کریم اپنی رحمتوں کے صدقے "بیٹی مریم" کو جلد از جلد مکمل صحت عطاء فرمائے گا انشاءاللہ آمین ثم آمین یا رب العالمین بطفیل نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم