18/11/2025
جب انسان کے دل سے غیرت نکل جائے،
اور اس کے وجود سے اللہ کا ڈر مٹ جائے،
تو پھر وہ چاہے تو کتنی ہی آوازیں دبا لے،
کتنی ہی زبانوں پر تالا لگا دے،
لیکن سچ کی روشنی کبھی نہیں بجھتی۔
تم کتنی آوازوں کو دباؤ گے؟
کتنے دلوں کی دھڑکن روک لو گے؟
کتنے سچ کو قید کر لو گے؟
یہ وہ صدا ہے جو زمین سے اٹھتی ہے اور عرش تک پہنچتی ہے۔
حق کو دبانے کی کوشش آج نئی نہیں ہے۔
اصحابِ کہف کے دور میں بھی ایسا ہوتا تھا۔
اس زمانے میں بھی حق بولنے والوں کو خاموش کرایا گیا،
سچ کہنے والوں کو ظلم کے سناٹے میں دفن کرنے کی کوشش کی گئی۔
مگر اللہ نے اپنے نیک بندوں کو تین سو سال بعد اٹھا کر دکھا دیا تھا کہ
زمانہ بدلتا ہے!
بادشاہ بدلتے ہیں!
تخت اُلٹتے ہیں!
لیکن حق نہیں بدلتا۔
یہی اللہ کا نظام ہے—
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو حق کا پرچم خود بلند ہو جاتا ہے۔
اور جب اللہ فیصلہ فرماتا ہے
تو کمزور سمجھا جانے والا بھی پہاڑوں جیسی طاقت سے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔
اس لیے یاد رکھو!
وہ دن دور نہیں۔ انشاءاللہ
جب حق پھر سر اٹھائے گا،
جب ظلم کا اندھیرا پھر ٹوٹ جائے گا،
اور جب اللہ ایک بار پھر دکھا دے گا کہ
حق کی جڑیں کبھی سوکھتی نہیں،
بلکہ خاموشی میں اور مضبوط ہو جاتی ہیں۔
اپنے اندر وہ غیرت زندہ کرو جو انسان کو انسان بناتی ہے،
وہ خوفِ خدا جگاؤ جو دلوں کو راستہ دکھاتا ہے۔
کیونکہ جس دل میں یہ دونوں زندہ ہوں
وہ نہ جھکتا ہے،
نہ خاموش ہوتا ہے
وہ صرف حق کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔