26/08/2026
ریحان اللہ والا کے سیشن سے میں نے کیا سیکھا؟
ریحان اللہ والا کے سیشن سے کاروبار، سیکھنے اور لوگوں سے تعلقات بنانے کے بارے میں میری سوچ مزید واضح ہوئی۔ سب سے زیادہ مجھے ان کی یہ بات متاثر کر گئی کہ ہم سکول میں بہت کچھ سیکھتے ہیں، لیکن لوگوں سے اچھے تعلقات اور مضبوط نیٹ ورک بنانا نہیں سیکھتے۔ دنیا میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کتنی بھی ترقی کر جائے، انسانوں کے درمیان اچھے تعلقات، اعتماد اور دوستی کی اہمیت ختم نہیں ہوگی۔
میرے لیے دوسرا بڑا سبق یہ تھا کہ صرف پیسے کے پیچھے نہ بھاگو، بلکہ لوگوں کا کوئی حقیقی مسئلہ تلاش کرو اور اسے حل کرنا شروع کرو۔ اگر آپ کے پاس سرمایہ یا جان پہچان نہیں بھی ہے تو مسئلہ تلاش کرکے اس کا حل تیار کریں، پھر ریحان وینچر یا اینٹلر جیسے اداروں کے ذریعے اپنے کاروباری منصوبے کے لیے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
میں نے یہ بھی سیکھا کہ مصنوعی ذہانت کو صرف جواب حاصل کرنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے بلکہ اپنی سوچ بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کیا جائے۔ کسی بھی کاروباری خیال یا فیصلے کے دس فائدے اور دس نقصانات معلوم کرکے دونوں پہلوؤں پر غور کرنا ہماری تنقیدی اور تجزیاتی سوچ کو بہتر بنا سکتا ہے۔
میں نے اس سیکھنے پر عملی قدم بھی اٹھایا ہے۔ 25 اگست 2026 کو میں باسمتی چاول لے کر آیا تاکہ اسے مارکیٹ میں فروخت کرنے کی عملی کوشش شروع کروں۔ میرا مقصد صرف چاول فروخت کرنا نہیں بلکہ اس تجربے کے ذریعے اپنی فروخت کی صلاحیت، بات چیت، لوگوں سے تعلقات بنانے اور گاہکوں کی اصل ضرورت سمجھنے کی صلاحیت بہتر کرنا ہے۔
ایک بات کو میں قدرے مختلف انداز سے دیکھتا ہوں۔ ریحان اللہ والا نے 150 سے زیادہ کاروبار شروع کرنے اور ان میں بہت سی ناکامیوں کا ذکر کیا۔ محدود سرمایہ، مکمل وقت کی ملازمت اور خاندانی ذمہ داریوں والے شخص کے لیے اتنے زیادہ تجربات کرنا شاید ممکن نہ ہو۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم مکمل تیاری کے انتظار میں بیٹھے رہیں۔ میرے خیال میں چھوٹے، سوچے سمجھے اور محدود خطرے والے تجربات سے فوراً آغاز کرنا بہتر راستہ ہے۔
شکریہ Allahwala، اپنا قیمتی تجربہ ہمارے ساتھ بانٹنے کے لیے۔