16/07/2026
زمین کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
"زمیں کھا گئی نوجواں کیسے کیسے
زمانے نے دیکھے جہاں کیسے کیسے"
آج کا دور ترقی، سہولت اور آسائش کا دور کہلاتا ہے، مگر افسوس کہ اسی دور میں نوجوان ذہنی دباؤ، مایوسی اور تنہائی کا شکار ہو کر اپنی قیمتی جانیں گنوا رہے ہیں۔ ہر وہ خبر جس میں کسی نوجوان کی خودکشی کا ذکر ہوتا ہے، صرف ایک انسان کی موت نہیں ہوتی بلکہ ایک پورے خاندان کی خوشیاں، امیدیں اور مستقبل دفن ہو جاتا ہے۔ خودکشی کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ ایک ایسا قدم ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔
اسلام انسان کی جان کو اللہ تعالیٰ کی عظیم امانت قرار دیتا ہے۔ انسان کو اپنی جان لینے کا کوئی اختیار نہیں دیا گیا۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر بہت مہربان ہے۔"
(سورۃ النساء: 29)
ایک اور مقام پر فرمایا:
"اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔"
(سورۃ البقرہ: 195)
رسول اللہ ﷺ نے بھی خودکشی کی شدید مذمت فرمائی اور بتایا کہ جو شخص جس طریقے سے اپنی جان لیتا ہے، قیامت کے دن اسی عذاب کا سامنا کرے گا۔
لہٰذا خودکشی کسی بھی صورت میں بہادری، آزادی یا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ زندگی سے ناامیدی اور ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ اسلام ہمیں صبر، دعا، امید اور اللہ پر بھروسہ کرنا سکھاتا ہے، نہ کہ مایوسی میں اپنی زندگی ختم کرنا۔
اکثر والدین اپنے بچوں کی خوراک، لباس اور تعلیم کا تو خیال رکھتے ہیں، مگر ان کے دل کی کیفیت جاننے کے لیے وقت نہیں نکالتے۔ بہت سے نوجوان اندر ہی اندر ٹوٹ رہے ہوتے ہیں، مگر ان کی خاموشی کو ضد، لاپرواہی یا تنہائی پسند مزاج سمجھ لیا جاتا ہے۔
ایک مسکراہٹ کے پیچھے کبھی کبھی شدید درد چھپا ہوتا ہے۔ ایک خاموش نوجوان شاید چیخ چیخ کر مدد مانگ رہا ہوتا ہے، مگر اس کی آواز کوئی نہیں سن پاتا۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوست بنیں، ان سے روزانہ بات کریں، ان کی پریشانیاں سنیں، ان کے جذبات کو سمجھیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ دنیا میں کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں جس کا حل نہ ہو۔
جو نوجوان خودکشی کا سوچ رہے ہوتے ہیں، اگر وہ ایک لمحے کے لیے اپنے والدین کے چہروں کا تصور کریں تو شاید ان کے قدم رک جائیں۔
ذرا سوچیں...
وہ ماں جس نے نو ماہ تک آپ کو اپنے وجود میں رکھا، راتوں کی نیند قربان کی، کیا وہ آپ کی لاش دیکھ کر زندہ رہ سکے گی؟
وہ باپ جس نے اپنی خواہشات قربان کرکے آپ کے خواب پورے کیے، کیا وہ اپنی اولاد کا جنازہ اٹھانے کے بعد پہلے جیسا رہ جائے گا؟
وہ بہن بھائی جو آپ کے ساتھ ہنسے، کھیلے اور بڑے ہوئے، کیا وہ عمر بھر اس صدمے کو بھلا سکیں گے؟
خودکشی ایک لمحے کا فیصلہ ضرور ہے، مگر اس کے زخم والدین اور خاندان کو پوری زندگی رلاتے رہتے ہیں۔ ہر عید، ہر خوشی، ہر خالی کرسی انہیں آپ کی یاد دلاتی رہتی ہے۔
زندگی میں ہر انسان کسی نہ کسی آزمائش سے گزرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کچھ لوگ اپنی تکلیف دوسروں سے بانٹ لیتے ہیں، جبکہ کچھ خاموشی سے اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں۔
خاموش رہنا ہمیشہ طاقت کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات خاموشی انسان کو ایسے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے جہاں سے اسے صرف موت ہی راستہ نظر آتی ہے۔
اگر دل پر بوجھ ہے تو اپنے والدین سے بات کریں۔ اگر ان سے نہ کر سکیں تو کسی بہن، بھائی، دوست، استاد، عالمِ دین یا کسی ایسے شخص سے ضرور بات کریں جس پر آپ اعتماد کرتے ہوں۔
یاد رکھیں، تکلیف بانٹنے سے کم ہوتی ہے، جبکہ دل میں دفن کرنے سے بڑھتی جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، نماز کی پابندی کریں، قرآنِ کریم کی تلاوت کریں اور یقین رکھیں کہ ہر رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے۔ دنیا کی کوئی آزمائش ہمیشہ نہیں رہتی۔
آخر میں ہر نوجوان کے نام ایک پیغام:
اپنی زندگی کو ایک لمحے کی مایوسی پر قربان مت کریں۔ آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں، بلکہ آپ کے والدین کی امید، بہن بھائیوں کی خوشی اور اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ اگر آج آپ مشکل میں ہیں تو یاد رکھیں، یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ مگر اگر آپ خودکشی کر لیتے ہیں تو آپ اپنے پیچھے ایسا درد چھوڑ جائیں گے جو شاید کبھی ختم نہ ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں صبر، امید، ایمان اور ہر حال میں اپنی رحمت پر بھروسہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے نوجوانوں کو مایوسی، تنہائی اور خودکشی جیسے گناہ سے محفوظ رکھے۔ آمین۔