29/12/2025
رفتار کے حاجی، گفتار کے پاجی:
پاکستان میں ہمارا میڈیا اتنا مادر پدر آزاد ہے کہ کسی پر کوئی بھی جھوٹا الزام لگایا جاسکتا ہے، اس سے نہ آپ کی ساکھ متاثر ہوتی ہے اور نہ ہی آپ کو کسی عدالتی کارروائی کا ڈر رہتا ہے، ہمارے عوام اپنی فطرت کے مطابق تجزیاتی صلاحیت سے بہت حد تک محروم ہیں، وہ سنسنی خیز کہانیوں کو بہت پسند کرتے ہیں اور اسے فوری طور پر سچ مان لیتے ہیں، دوسری طرف ہمارا نظام عدل اتنا گھٹیا اور خصی ہے کہ یہاں کسی کو انصاف ملنا ممکن ہی نہیں ہے۔
شروع شروع میں ہمارے میڈیا نے یہی کام یورپی ممالک میں بھی کرنا شروع کیا اور خاص طور پر اے آر وائے نے مختلف سیاستدانوں اور جیو کے میر خلیل الرحمان کی کردار کشی پر پوری مہم چلانا شروع کی لیکن وہ بھول گئے کہ ان ممالک میں انصاف کی کچھ رمق اب بھی باقی ہے، برطانیہ کی عدالت میں پاکستانی چینلوں کو بدترین ذلالت کا سامنا کرنا پڑا، جرمانے لگائے گئے، لائسنس کینسل ہوئے اور باقاعدہ چینل کی نشریات میں اپنے جھوٹ کا اعتراف کرنا پڑا تب جاکر ان کی جان چھوٹی، عادل راجہ کا کیس آپ کے سامنے ہے کہ اسے عدالت کی طرف سے بھاری جرمانے کا نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان کے اندر مقتدرہ نے سیاستدانوں کو بدنام کرنے کیلئے ہر دور میں باقاعدہ منظم ترین کوششیں کی ہیں، ہر مقبول سیاستدان کے مجسم شیطان بنا کر پیش کیا گیا، اس پر ایسے ایسے گھٹیا الزامات لگائے گئے کہ شریف بندہ سننے کی تاب نہیں رکھ سکتا۔ بدقسمتی سے اس معاملے میں سیاستدان بھی ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوتے رہے ہیں۔
ظاہری سی بات ہے جب سیاستدان کا کردار مجروح ہوگا تو ان کا اثر و رسوخ عوام میں کم ہوگا اور اصطبلشمنٹ کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب سیاستدان صادق، امین اور فرشتہ صفت ہیں لیکن جھوٹ تو بہرحال جھوٹ ہی ہے وہ پانچ لاکھ بار دہرانے سے بھی سچ نہیں بن سکتا ہے۔
پاکستان میں سب سیاستدانوں کو مینج کرلیا گیا ہے اور ان کی مقبولیت کا بھی جنازہ نکل چکا ہے لیکن عمران خان اور مولانا فضل الرحمان کی مقبولیت کو کوئی فرق نہیں پڑا ہے بلکہ مقتدرہ جتنا زیادہ سختی کرتی ہے لوگوں اسی شدت کے ساتھ کپتان اور مولانا سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اسی شے نے مقتدرہ کو عجیب مخمصے میں ڈال دیا ہے۔ کپتان کو جیل میں ڈال کر مقتدرہ نے اپنے دل کو مطمئن کرلیا ہے لیکن مولانا کی آزاد طبیعت اور آئین جواں مردی حق گوئی و بے باقی انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہی ہے۔
دھاندلی کے ذریعے جے یو آئی کی پارلیمان میں کمزور کرکے، مدارس میں افتراق ڈال کر اور مذہبی جماعتوں پر خونریز کریک ڈاؤن کے باوجود مولانا کی طرف سے کوئی لچک اور جھکاؤ نظر نہیں آتا اس لئے اب مقتدرہ اپنی زنبیل سے وہی پرانا ہتھیار لے کر برآمد ہوئی ہے کہ جھوٹے الزامات اور پروپیگنڈے کے ذریعے مولانا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔
کچھ عرصہ قبل فرحان ملک کو گرفتار کرکے ’رفتار‘ کی بے لاگ رفتار کو کنٹرول کیا جاچکا ہے اور اب اسے اسی رفتار پر چلنا ہوگا جس رفتار پر چلنے کی ہدایات دی جائیں گی۔
پوری ڈاکیومینٹری سنی سنائی باتوں، دلی بھڑاس اور بدنامی کے مخصوص ایجنڈے پر مبنی ہے۔ نہ کوئی ثبوت ہے، نہ کوئی شواہد ہیں اور نہ جن پر الزامات ہیں ان کا مؤقف شامل کیا گیا ہے۔ سوائے نامور صحافی ضیاء الرحمان اور سلیم جاوید چن چن کر ایسے افراد کے منھ سے من پسند رپورٹ بنائی گئی جن کی تاریخ ہی مذہبی سیاست اور مولانا کی ذات سے الرجک نظر آتی ہے۔
لیکن الزامات چاہے جتنے بھی گھٹیا، سطحی اور گھسے پٹے ہوں، ان کا ازالہ کرنا ضروری ہوتا ہے، جمعیت کی ڈیجیٹل میڈیا ٹیم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شائستہ، متوازن اور مدلل انداز میں ان بے بنیاد باتوں کا رد کریں، یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے اور اگر ایسا نہیں ہوا افواہوں اور جھوٹ پر پلنے والی قوم اس ڈاکیومینٹری کو بھی سچ کی معراج سمجھ لے گی اور آئندہ کئی دہائیوں تک اس کا ڈھول پیٹا جاتا رہے گا۔
(شیخ نوید)